اسرائیلی ربیوں اور راہبوں کے نام ایک پیغام

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 23, 2012)

میں اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے اسرائیل کے تمام ربیوں اور راہبوں کے نام یہ پیغام بذریعہ اس ویب سائٹ (یا ای میل)لکھ رہا ہوں کیونکہ روزنامہ’امت‘کراچی میں ایک مضمون نظر سے گزراجو 25/12/2011کو شائع ہواتھا۔جس میں ہے کہ اسرائیلی ربیوں نے فلسطینیوں کا قتل جائز قرار دے دیا ہے۔ میں یہ پڑھ کر بہت حیران ہوا کہ کاش ربی و راہب حضرات یہ فتوی جاری کرنے سے قبل اس بات پر غور کرلیتے کہ مرنے کے بعد نہ تو اسرائیلی سرزمین کام آئے گی اور نہ ہی اسرائیلی فوج جس کیلئے انہوں نے یہ فتوی جاری کیا۔
میں اسرائیل کے میڈیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے اس خط کوان راہبوں اور ربیوں تک پہنچائیں تاکہ انہیں کچھ ہوش آئے اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فتویٰ کو واپس لے کر آخرت کی فکر کریں۔
جناب ربی و راہب حضرات سلامتی ہو آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر آپ لوگ دین حق کی اتباع کریں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام انسان خواہ وہ کسی بھی دین و مذہب سے تعلق رکھتے ہوں حقیقت میں اصل کے اعتبار سے ایک ہی ماں باپ یعنی حضرت آدم و حواعلیہم السلام کی اولاد ہیں۔ اس اعتبار سے تمام انسان آپس میں بھائی بہن کی طرح ہیں۔کیا مذہب کے اختلاف کی وجہ سے آپ لوگوں میں اتنی نفرت ہونی درست ہے کہ آپ لوگ معصوم بچوں اور نہتی خواتین کے قتل کو بھی جائز قرار دیدیں ؟نیز وہ بھی صرف اسرائیلی زمین اور اسکی فوج کیلئے؟
آپ لوگوں نے کتاب یعنی’توریت‘ کی بات کی ہے تو سنئے ہم تمام مسلمان سمیت فلسطینی مسلمان بھی اصل توریت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اس پر ایمان لائے بغیرمسلمان نہیں ہوسکتے مگر آج آپ لوگ جس ’توریت‘کتاب کی بات کرتے ہیں ہم مسلمانوں کے نزدیک وہ منسوخ ،تبدیل و تحریف شدہ ہے۔ اگر صرف کتاب کی بات مانی جائے تو دنیا میں جتنے بھی ادیان و مذاہب والے ہیں وہ سب اپنی اپنی کتابوں کو سچا اور مرنے کے بعد نجات دلانے والی کتاب سمجھتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کی یہ دلیل مان لی جائے کہ آپ کی کتاب میں کوئی بات ہے تو کیا آپ بھی دوسرے ادیان و مذاہب کی کتابوں کی باتوں کو مانیں گے؟ اگر نہیں تو پھر آپ یہ امید کیسے کرسکتے ہی کہ دوسرے ادیان و مذاہب والے آپ کی کتاب کی دلیل سے مطمئن ہوجائیں چاہے وہ بات انسانی حقوق اورحقیقت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو؟
توسنئے کہ صرف کتابوں سے فیصلہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر مذہب کا پیروکاراپنی کتاب کو صحیح اور دوسرے ادیان و مذاہب کی کتابوں کا نامکمل اور منسوخ سمجھتا ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان تمام آسمانی اور مذہبی کتابوں میں سے ایسی کونسی کتاب ہے جو خالق کائنات یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچی اور پسندیدہ ہے مگر یہ فیصلہ بہت مشکل ہے جب تک کہ تمام ادیان و مذاہب کے پیشواایک پلیٹ فارم پرجمع ہوکر نہ سوچیں کہ اِن کتابوں میں سے کس کتاب سے اللہ تعالیٰ راضی ہے اور کس کتاب کے احکام اس کے نزدیک قابل قبول ہیں۔
اس لئے میں اس وقت آپ کے سامنے مسلمانوں کی مذہبی کتاب یعنی قرآن مجید کی بات نہیں کروں گاکیونکہ آپ اس کی باتوں کو نہیں مانیں گے۔بلکہ میں آپ لوگوں کی توجہ اپنی ایک تحقیق کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں تاکہ آپ اپنے دل میں غور کریں اور ہوسکے تو خفیہ طور پر ورنہ اگر مزید ہمت ہوسکے تو اعلانیہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔
میں نے یہ تحقیق کی ہے کہ جس طرح انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشہائے مبارکہ صدیوں اور سالوں سے قبر وں میں زمین کے اندر بالکل تروتازہ حالت میں صحیح و سالم اور محفوظ ہیں(سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کیونکہ اللہ نے ان کو زندہ ہی آسمان پر اٹھالیا تھا اور وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے)۔اسی طرح ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے زمانہ نبوت سے لے کر آج تک (اور قیامت تک)جتنے بھی ان کے ساتھی یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور شہدائے اسلام جو دین اسلام کیلئے اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہوئے اور دیگر سچے اور مخلص مسلمان خواتین و حضرات کی نعشہائے مبارکہ کروڑوں کی تعداد میں اپنی اپنی قبروں میں صدیوں اور سالوں سے بالکل تروتازہ حالت میں صحیح و سالم اور محفوظ ہیں ۔ حالانکہ ان کی نعشوں پر نہ کوئی کیمیکل اور مسالہ استعمال کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی قبروں میں ان کے جسموں کی حفاظت کیلئے کوئی مشین نصب کی گئی ہے۔ان میں سے بعض کی آنکھوں میں روشنی دیکھی گئی ہے، بعض کے جسموں میں تازہ خون موجود ہے، بعض کے جسموں میں سے خوشبو آرہی ہے اور بعض کے جسموں کے ٹکڑے ہونے کے باوجودجسم کے وہ ٹکڑے بھی محفوظ اور صحیح و سالم ہیں۔
مذکورہ دعویٰ کی تصدیق کیلئے میری ویب سائٹ www.RightfulReligion.comدیکھئے جہاں پر ان سچے واقعات سے متعلق نعشوں کے رشتہ داروں و متعلقین کے پتے اورفون نمبرز بھی موجود ہیں۔اسکے علاوہ قبروں کی ویڈیو بھی موجود ہیں جن میں ان قبروں کی تفصیل اور جگہ دکھائی گئی ہے جہاں مسلمانوں کی نعشیں میری ریسرچ کے دوران محفوظ حالت میں پائی گئیں۔ان سب ذرائع سے آپ لوگوں کو تحقیقات کرنے میںآسانی ہوگی۔
نیزآپ لوگ بھی اپنے مذہب کے مطابق بہت ہی ریاضت و مجاہدہ کرتے ہیں اور جنات و موکلات سے رابطہ رکھتے ہیں لہذا آپ ان ذرائع سے بھی تصدیق کرسکتے ہیں کہ میری تحقیق اور دعویٰ سچاہے یا نہیں؟یقین کریں کہ آپ تمام غیر مسلم مل کر بھی میرے دعویٰ کو جھوٹا ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ اگر پھر بھی آپ لوگوں کو یقین نہ آئے تو سعودی عرب کے وزارت مذہبی امور کے توسط سے میدانِ احد کے قبرستان کے ترجمان سے پوچھ لیں وہ بتائیں گے کہ وہاں 67صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی نعشیں مختلف جگہوں سے اکٹھا کرکے(اس واقعہ کے وقت لاکھوں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے ان نعشو ں کی منتقلی کو دیکھا تھا اور کئی غیر مسلموں نے اسلام بھی قبول کیا تھا) اس قبرستان میں دفن کی گئی ہیں اور ان سب شہداء کی نعشیں محفوظ اور صحیح و سالم ہیں۔نیز حضرت محمدﷺ کے زمانے سے لے کر آج1433ھ ؁یعنی چودہ سو تینتیس سالوں کے درمیان اسلام و کفر کی جتنی بھی جنگیں ہوئیں اور ان میں جتنے بھی خلوص نیت سے شریک ہونے والے مسلمان قتل ہوئے ان سب کی نعشیں بھی محفوظ ہیں۔ آج توسائنس کی ترقی کادور ہے اور ایسے آلات موجود ہیں جن کے ذریعے زمین کے اندر تک باآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔ لہذا آپ ان آلات کے ذریعے جن جگہوں اور قبروں کی میں نے نشاندہی کی ہے وہاں جاکر چیک کرلیں یا پھر بذریعہ ٹی وی دنیا بھر کے مسلم قبرستانوں کے گورکنوں سے رابطہ کریں کہ وہ لوگ خود فون کرکے آپ لوگوں کو بتائیں کہ واقعی ان لوگوں نے پرانی قبروں کی کھدائی کے دوران بہت سی نعشوں کو بالکل صحیح و سالم اور محفوظ پایا ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یقین رکھئے کہ میرا دعویٰ سو فیصد سچ ثابت ہوگا کہ کروڑوں مسلمانوں کی نعشیں صدیوں سے محفوظ ہیں۔اسکے علاوہ اگر آپ چاہیں تو یہی طریقہ دنیا بھر کے غیر مسلم قبرستانوں کے گورکنوں کے ساتھ بھی استعمال کرسکتے ہیں اور میرا دعویٰ ہے کہ ظہور اسلام کے بعد سے لے کر اب تک(اور قیامت تک) مرنے والے کسی ایک غیر مسلم کی لاش بھی بغیر کیمیکل استعمال ہوئے محفوظ اور تروتازہ حالت میں نہیں ملے گی۔
ان واقعات سے واضح طورپر ثابت ہوتا ہے کہ صرف دین اسلام ہی حضرت محمدﷺ کے زمانے سے مکمل اور سچا مذہب رہ گیا ہے۔ کیونکہ زمین کی مٹی نے فیصلہ کردیا ہے کہ دین اسلام سے اللہ تعالیٰ راضی ہے۔اس لئے کہ خود زمین میں مردہ جسم انسانی کو محفوظ رکھنے کی طاقت نہیں ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تمام انسانوں کی نعشیں محفوظ رہ جاتیں جبکہ ایسا نہیں ہے یہاں تک کہ جھوٹے، فاسق و فاجر مسلمانوں کی نعشیں بھی مرنے کے بعد زمین میں سٹر گل کر ختم ہوجاتی ہیں ۔آپ لوگ یہ نہیں کہ سکتے کہ زمین نے رشوت لے کرشہید اور سچے مسلمانوں کی نعشوں کو محفوظ کیا ہے یا یہ معتصب و فرقہ پرست ہے۔ اس لئے کہ زمین ایک غیر جاندار مخلوق ہے۔ یہ تو ایک لیبارٹری کی طرح ہے کہ جس نے سچے اور منسوخ و باطل ادیان و مذاہب کے مابین ایک خط امتیاز کھینچ دیا ہے۔
سمجھنے والے اگر چاہیں تو باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟کیونکہ دوسری جانب حیران کن بات یہ ہے کہ حضرت محمدﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک یہودی، عیسائی، ہندو یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں سے کسی کی بھی لاش زمین میں تروتازہ حالت میں صحیح و سالم اور محفوظ نہیں ہے اور اگر چند افراد کی ہیں بھی تو ان پر کیمیکل اور مسالہ استعمال کیا گیا ہے مگر اس کے باوجود وہ تازہ حالت میں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں تازہ خون موجود ہے۔نیز اسلام و کفر کی جنگوں میں جتنے بھی غیر مسلم فوجی مارے گئے ان کی لاشیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور نہ ہی رہتی ہیں۔ جس سے واضح طور پر ثابت ہوگیا کہ دین اسلام ہی سچا مذہب اور خالق کائنات یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے اور باقی تمام ادیان و مذاہب اگرچہ اپنے اپنے دور میں حضرت محمدﷺ کے زمانے سے پہلے سچے رہے ہیں لیکن حضرت محمدﷺ کے ذریعے دین اسلام مکمل ہونے کے بعدتمام ادیان و مذاہب منسوخ ہوگئے ۔
اب اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو یہودی مذہبی پیشوا حضرات موسیٰ علیہ السلام سے، عیسائی پیشوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اور ہندو مذہبی پیشوا رام سے اپنی ریاضت و مجاہدہ اور گیان و دھیان کے ذریعے پوچھ لیں تویہ سب حضرات روحانی یا استدراجی طور پر تصدیق کریں گے کہ واقعی دین اسلام کے سوا تمام ادیان و مذاہب منسوخ ہوگئے ہیں۔ ان حقائق سے آپ لوگ فائدہ اٹھانے کیلئے تیار ہیں تو اشارہ ہی کافی ہے ورنہ میں اور کیاتفصیل دوں؟ اگر پھر بھی آپ لوگ حقیقت کی طرف نہیں آنا چاہتے تو میں دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی ہدایت دے تاکہ آپ لوگ فلسطینیوں کے خلاف قتل عام کا فتویٰ واپس لیں۔

Coronavirus Cure Pakistan