حضرت محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر دو ناقابل انکار دلائل

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 23, 2012)

حضرت محمدﷺکے آخری نبی ہونے پر دلائل قرآن و حدیث سے موجود ہیں لیکن اگر کوئی اِن دلائل سے مطمئن نہیں ہوتا تو میں ایسے لوگوں کے اطمینان کیلئے دو غیر جانبدار اور ناقابل انکار دلائل پیش کرتا ہوں جن سے یہ واضح طور پر ثابت ہوجائے گا کہ واقعی حضرت محمدﷺآخری نبی ہیں اور یہ کہ ان کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا( البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے لیکن وہ حضرت محمدﷺکے دین کے مطابق چلیں گے اور اپنی شریعت یا کوئی جدید شریعت کا نفاذ نہیں کریں گے۔یہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے اور اس کا منکر کافر اور غیر مسلم ہوگا)۔وہ دو دلائل خاک اور آگ ہیں۔
پہلی دلیل خاک ہے جو کہ ایک غیر جانبدار مخلوق ہے اور تمام انسانوں کے عقیدے کے مطابق یہ خالق کائنات کے ماتحت ہے اور اس کی بات مانتی ہے اور فرمانبردار ہے۔نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ معتصب اور فرقہ پرست ہے اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ رشوت لے کر ناانصافی کرتی ہے۔لہذا ہم سب سے پہلے خاک سے پوچھتے ہیں کہ آپ یہ بتائیے کہ محمد بن عبداللہ(ﷺ) اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں یا نہیں؟ تو خاک یہ جواب دیتی ہے کہ ہاں واقعی محمد بن عبداللہ(ﷺ)اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں اور ان کے بعداب کوئی نبی و رسول نہیں آئے گا۔کیونکہ وہ چودہ سو بائیس سال سے ہمارے اندر بالکل صحیح و سالم اور تروتازہ حالت میں محفوظ ہیں ۔ حتی کہ ان کا کفن تک جو ان کے جسم مبارک سے لگا ہوا ہے وہ بھی محفوظ اور صحیح و سالم ہے۔اگر وہ جھوٹے نبی ہوتے یا آخری نبی و رسول نہ ہوتے اور یہ دعوی آخری نبی ہونے کا(نعوذباللہ)غلط ہوتا تو ان کا جسم مبارک صدیوں سے زندہ انسان کی طرح میرے اندر محفوظ نہ ہوتا بلکہ ان کا جسم سٹر گل کر اور بوسیدہ ہوکر ختم ہوچکا ہوتا۔اس لئے کہ اس صورت میں ان کا عقیدہ غلط ہوتا اور کسی غلط عقیدہ کا حامل شخص یا جھوٹا آدمی میرے اندرمحفوظ رہ ہی نہیں سکتا جیسے کہ کسی بھی غیر مسلم یعنی غلط عقائد والوں اور جھوٹے ، فاسق و فاجر مسلمانوں کی نعشیں محفوظ نہیں رہتیں اور نہ ہی بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے تروتازہ حالت میں محفوظ رہ سکتی ہیں۔
قارئین گرامی!یہ ہے خاک کا فیصلہ کہ واقعی حضرت محمدﷺاللہ کے آخری نبی ہیں اوران کے بعداب کوئی نیا نبی نہیں آئے گااور یہ کہ آپ ﷺ کا عقیدہ بالکل درست ہے۔آپ لوگ جس طرح اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں کرسکتے ہیں کہ واقعی حضرت محمدﷺ کا جسم مبارک ابھی تک قبر مبارک میں تروتازہ حالت میں محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے میں دو یہودی سرنگ کھود کرآپﷺکی قبراطہر تک پہنچ گئے تھے تاکہ آپﷺ کا جسم مبارک نکال کر لے جائیں لیکن برقت آپﷺ نے موصوف حکمران کو بذریعہ خواب اطلاع دے دی جس کی وجہ سے وہ دونوں یہودی پکڑے گئے۔اس واقعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہودی بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ آپﷺکا جسم مبارک ابھی تک محفوظ ہے۔لیکن افسوس کہ اس بات سے وہ لوگ ہدایت نہیں پاسکے۔ یہ ایک بہت مشہور واقعہ ہے۔سعودی عرب کے وزارت خارجہ سے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
نیز حضرت محمدﷺکے سچے اور مخلص امتی خواہ وہ صحابہ کرام، اولیا ء اللہ یا شہدائے اسلام ہوں ، ان سب کی نعشہائے مبارکہ بھی صدیوں اور سالوں سے زمین میں قبر کے اندر بالکل صحیح و سالم اور تروتازہ حالت میں محفوظ ہیں حالانکہ مذکورہ تمام افراد کایہ عقیدہ رہا ہے اور اب بھی آپﷺکے امتیوں کا ہے کہ آپﷺ آخری نبی و رسول ہیں اور آپﷺ کے بعد اب کوئی نبی و رسول کسی نئی شریعت کو نافذ کرنے کیلئے نہیں آئے گا۔ اگر ان مذکورہ افراد کا مذکورہ عقیدہ غلط ہوتا تو ان کی نعشیں بھی محفوظ نہیں رہتیں۔ لہذا زمین یعنی خاک کا فیصلہ آگیا کہ مسلمانوں کا عقیدۂ ختم نبوت بالکل درست ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس عقیدہ کے منکر ہیں کیا ان میں سے کسی کی نعش بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ ہے یا نہیں؟تو اس بارے میں حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہو یا اس کے پیروکاریا اس کے علاوہ جو کوئی بھی آپﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہوگا تو ایسے لوگوں کی نعشیں نہ تو محفوظ ہیں اور نہ ہی کبھی محفوظ رہیں گی۔وجہ بالکل صاف ہے کہ جب اوپر میں ثابت کرچکا ہوں کہ حضرت محمدﷺخود اور آپﷺ کے وہ امتی جو عقیدۂ ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور کامل مومن ہیں اِن سب کی نعشیں محفوظ رہتی ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ جولوگ بھی اس عقیدۂ ختم نبوت کے منکر ہیں ان میں سے کسی کی لاش کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ کیونکہ دونوں عقائد میں تضاد ہے لہذا اس تضاد کے اثرات بھی مختلف مرتب ہوں گے۔یعنی جب حضرت محمدﷺاور آپ کے امتیوں کی نعشیں محفوظ ہیں تو لازمی بات ہے کہ جو لوگ اس عقیدے کے منکر ہوں انکی نعشیں ہرگز محفوظ نہ ہوں ورنہ اجتماع ضد لازم آئے گا کہ دونوں عقائد اللہ کے نزدیک درست ہیں حالانکہ ایساہونا اللہ کی جانب سے محال ہے۔
غرضیکہ قارئین گرامی!میں قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں کہتا ہوں کہ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر کافر ہیں لہذا دوسرے غیرمسلم یعنی یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ کافروں کی طرح اِن کی لاشیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور نہ ہی رہیں گی۔میرے مذکورہ دعویٰ کی تصدیق جس طرح بھی کرنا چاہیں کرلیں انشاء اللہ جیسا میں نے کہا ہے وہی درست ہوگا۔پھر بھی اگر تصدیق کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کیمرہ لیں جس سے زمین کے اندرتقریباً 10فٹ تک دیکھ سکیں(جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت ایسے کیمرے موجود ہیں جو زمین کے اندر دیکھ سکتے ہیں نیز تصاویر اور ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں)پھر مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں کی قبروں کا معائنہ کریںآپ دیکھیں گے کہ ان میں سے ہر ایک کی لاش سڑ گل چکی ہوگی جو اس بات کا واضح ثبوت ہوگا کہ اِن سب کا عقیدۂ ختم نبوت کے انکار کا دعویٰ اور عقیدہ بالکل باطل ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ منکرین ختم نبوت میں سے ہر ایک کی لاش محفوظ ہوگی بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک کی بھی لاش محفوظ نہیں ہوگی۔یہ پہلی دلیل تھی جس کی وضا حت میں نے کردی اور خاک نے بھی فیصلہ کردیا کہ ختم نبوت والوں کا عقیدہ درست اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے اور منکرین ختم نبوت کا عقیدہ باطل اور ناپسندیدہ ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ اس وقت بھی عقیدۂ ختم نبوت کے اقرار کرنے والوں میں سے چند لوگ ایسے ضرور مل جائیں گے جو اگر آگ میں بھی بغیر کسی کیمیکل استعمال کئے ہوئے داخل ہوجائیں تو نہ جلیں جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہ عقیدہ بالکل درست ہے۔اگر یقین نہ آئے تودنیا میں الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے یہ اعلان کریں کہ ہمیں ایسے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ضرورت ہے جو آگ میں داخل ہونے کے بعد نہ جل سکیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح سے آگ سے صحیح و سلامت نکل آئیں۔یہ میرا چیلنج ہے کہ آج بھی اسلام اور اس ختم نبوت کے عقیدہ کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے اللہ کے کچھ بندے ضرور رابطہ کریں گے اور آپ دیکھیں گے کہ وہ آگ میں بھی نہیں جلیں گے۔جس سے یہ ثابت ہوگا کہ ان کے عقائدواعمال درست ہیں اور جب وہ اس دنیا کی آگ میں نہیں جل پائے تو انشاء اللہ مرنے کے بعد بھی وہ جہنم کی آگ میں جلنے سے محفوظ رہیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ(اگر ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ) مرنے کے بعد جہنم میں داخل ہی نہیں ہوں گے لہذا آگ میں جلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بہرحال میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ دنیا کی آگ میں نہ جلنا اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ان کے عقائد و اعمال درست ہیں۔ البتہ اس سے یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ سب کے سب مسلمان آگ میں نہ جلیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پرفتن اور گمراہ کن دور میں مکمل دین اسلام پر عمل کرناچونکہ ہر ایک مسلمان کیلئے بہت دشوار ہے اس بنا پر ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا وہ خاص موقع نہیں مل پاتا جس کی وجہ سے وہ آگ میں نہ جل سکے۔ مگر پھر بھی چند لوگ ضرور مل جائیں گے۔
جبکہ دوسری جانب میرا دعویٰ ہے کہ ختم نبوت کے منکرین میں سے ایک بندہ بھی ایسا نہیں ملے گا جو کھلم کھلا عقیدۂ ختم نبوت کا انکار کرتا ہو اور پھر بھی وہ آگ میں جانے کے بعد جل نہ سکے۔ یہ ہرگز ناممکن ہے۔اگر کسی غیرمسلم کو یہ چیلنج قبول ہے تو میڈیاکے ذریعے اعلان کرے اور مسلمان بھی اعلان کریں اور ایک دہکتی ہوئی بڑی سی آگ جلائی جائے اور عوام الناس کے سامنے دونوں عقائد کے ماننے والے آگ میں داخل ہوکر صحیح و سلامت واپس باہر نکل آنے کا مظاہرہ کریں۔ خودبخود دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح ہوجائے گا۔اور اس بارے میں زیادہ بحث و مباحثہ اور مصیبت پالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Coronavirus Cure Pakistan