دنیا کے تمام ماہر ترین میڈیکل ڈاکٹروں سے چند سوالات

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 21, 2012)

ہر علم میں جس چیز کے بارے میں بحث کی جاتی ہے وہ اس علم کا موضوع ہوتا ہے جیسے علم سیاست کا موضوع سیاست ہے کیونکہ اس علم کے اندر ہر وقت سیاست سے متعلق ہی باتیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح علم حدیث کا موضوع چونکہ آپﷺ کا قول و فعل ہے لہذاعلم حدیث کا موضوع آپﷺ کا قول وفعل کہلائے گا۔
میں چونکہ جسم انسانی پر بحث کرنے جارہا ہوں اور یہ موضوع علم طب کا ہے اس لئے میں نے دنیا کے میڈیکل ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس راز کو کھولیں۔ کیونکہ آپ لوگ علم الابدان سے زیادہ واقفیت و مہارت رکھتے ہیں اس لئے میں آپ لوگوں کو اپنی ایک تحقیق کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، شہدائے اسلام اور اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر سچے مومنین و مومنات کی نعشیں صدیوں اور سالوں سے زمین کے اندر بغیر کسی کیمیکل استعمال کئے ہوئے بالکل تروتازہ حالت میں محفوظ اور صحیح و سالم ہیں۔ان میں سے بعض کی آنکھوں میں روشنی، بعض کے جسم میں تازہ خون اوربعض کے جسم سے تو خوشبوبھی آرہی ہے اور ان کا کفن تک صدیوں اور سالوں سے صحیح و سالم ہے۔میں مذکورہ باتیں ہر طرح سے تحقیق کرنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ آپ لوگوں کو اگر میری باتوں پر یقین نہ آئے تو جس طرح چاہیں تحقیق کرلیں۔نیز یہ بات بھی سچ ہے کہ کھربوں مسلمانوں کی لاشیں زمین میں سڑ گل کر فنا ہوگئیں اور فنا ہورہی ہیں کہ ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہوکر مٹی میں مل چکی ہیں۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺکے زمانے سے لے کر آج1433ھ ؁ تک کسی ایک بھی غیر مسلم یعنی یہودی، عیسائی،ہندو، بدھسٹ وغیرہ کی لاش ترو تازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ اور صحیح و سالم نہیں ہے۔میرے پاس تو اس بارے میں ثبوت بھی ہیں جو قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور انکی تفسیر بھی ہے۔قرآن کریم کی سورۂ البقرہ، سورہ نمبر2،آیت نمبر 154اور سورۂ آل عمران، سورہ نمبر3، آیت نمبر169میں ہے کہ جو لوگ شہدائے اسلام ہیں وہ سب زندہ ہیں ان کو مردہ مت کہو اور نہ ہی یہ گمان کرو کہ وہ لوگ مردہ ہیں۔ ان کو رب(اللہ)کے پاس رزق دیا جاتا ہے۔ ان دونوں آیات کی تفسیر کے تحت تفسیربیان القرآن میں ہے (جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے)کہ شہدائے اسلام کی نعشیں محفوظ ہیں۔ انبیاء کرام چونکہ شہدائے اسلام سے زیادہ افضل ہوتے ہیں لہذا ان کی نعشوں کا محفوظ رہنا بھی لازماً ثابت ہوگا۔نیز ابوداؤدشریف،جلد نمبرایک، باب ابواب تفریع الجمعہ میں حضرت اوس بن روس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انبیاء کرام کی نعشوں کو مٹی نہیں کھاتی۔ نیز اولیاء کرام کے بارے میں اسی تفسیر بیان القرآن میں ہے کہ یہ لوگ بھی چونکہ مجاہدۂ نفس میں زندگی گزاردیتے ہیں جو کہ جہادِ اکبر ہے لہذا ان کی نعشیں بھی محفوظ رہتی ہیں ۔نیز دیگرمسلمان مرد و عورت جو اولیاء کرام کے نقش قدم پر چلتے ہیں لیکن ولایت میں زیادہ مشہور نہیں ہوئے ان کی بھی نعشیں محفوظ ہیں۔ یہ تو قرآن کریم (کلامِ الٰہی )سے ثبوت ہوا اور حدیث جو کہ قرآن کریم کی تفسیر ہے اس سے بھی ثبوت دے دیا۔جو میڈیکل ڈاکٹر خواتین و حضرات مسلمان ہیں وہ قرآن و حدیث کے دلائل کو تو مانتے ہیں اور مان بھی لیں گے۔ لیکن غیر مسلم میڈیکل ڈاکٹر خواتین و حضرات چونکہ قرآن کریم کو کلامِ الٰہی مانتے ہی نہیں ہیں لہذا ان سے میری گزارش ہے کہ وہ جس طرح چاہیں میری تحقیق کی تصدیق کرلیں۔
بہرحال میں نے جو بات قرآن کریم کے دلائل اور کروڑوں مسلمانوں کی محفوظ لاشوں سے سمجھی وہ یہ ہے کہ صرف دین اسلام ہی ایک سچا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب ہے ۔ اس لئے جو مسلمان سچے دل سے اس کی مکمل پیروی کرتے ہیں اللہ ان سے خوش ہوکر مٹی کو حکم دے دیتا ہے کہ ان کی نعشوں کو سٹرنے گلنے سے محفوظ رکھو ۔ نیز جو مسلمان دین اسلام کی مکمل پیروی نہیں کرتے اللہ ان سے مکمل خوش نہیں ہوتا اس لئے ان کی نعشوں کو محفوظ رکھنے کا حکم نہیں دیتا۔اسی طرح بقول قرآن کریم تمام غیر مسلموں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی لاش بھی محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی محفوظ رہے گی۔میری سمجھ کے مطابق جن مسلمانوں کی لاشیں محفوظ ہیں گویا ان کو جنتی ہونے کا سرٹیفیکیٹ مل گیا ہے تاکہ ان کے ورثا مطمئن رہیں اور اپنی میت کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔
اب میں مسلم و غیر مسلم دونوں میڈیکل ڈاکٹروں سے سوال کرتا ہوں کہ کیاآپ میرے مذکورہ استدلال سے متفق ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو پھر دنیا والوں کو بتائیں تاکہ وہ لوگ بھی دین اسلام میں داخل ہوکر اپنی مرنے کے بعد والی زندگی کوکامیاب بنائیں اور اگرآپ خود غیر مسلم ہیں تو خود بھی اسلام میں داخل ہوجائیں۔ لیکن اگر آپ لوگ میرے استدلال سے متفق نہیں توبرائے مہربانی اس بات کی وضاحت کریں کہ بغیر کھانا کھائے، بغیر پانی پئے وہ لوگ مرنے کے بعد بھی صحتمند کیوں ہیں؟ اس کے جسموں میں خون کیوں ہے؟ان کے جسموں سے خوشبو کیوں آرہی ہے؟وہ کونسی غذا یا دوا ہے جس کے جسم میں جانے سے مردہ جسم انسانی میں بھی ایسی صلاحیت اور طاقت پیدا ہوتی ہے؟ آخر قبر کی مٹی اور اس کے کیٹرے مکوڑوں کو یہ شعور کہاں سے آیا؟نیز وہ کفن کا کپڑاجو ان کے جسم سے لگا ہوا ہے اس نے کونسی غذا یا دوا کھائی جس کی بنا پر وہ بھی صحیح و سالم اور محفوظ ہے۔یہ وہ چند سوالات ہیں جو حل طلب ہیں اور میڈیکل کے چوٹی کے ماہر ڈاکٹروں سے (خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم)اپیل ہے کہ وہ اس بارے میں وضاحت کریں اور اپنی ریسرچ سے دنیا کو آگاہ کریں۔ بیشک آپ لوگوں میں بہت ہی ذہین و فطین خواتین و حضرات ڈاکٹر موجود ہیں۔یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ آپ لوگ اس بارے میں گہرائی میں جاکر غوروخوض کریں تاکہ میڈیکل سائنس کی روشنی میں اللہ کا یہ راز کھلے۔ اگرآپ لوگوں نے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کی تو آپ لوگوں سے مرنے کے بعد اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی خواہ آپ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔

Coronavirus Cure Pakistan