پانچ ارب انسان جہنم کے راستے پر

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 20, 2012)

میں اللہ کا نہایت ہی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ اس نے مجھے یہ طرزِ فکر عطا کی اور اولاد آدم علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ کے مسلم و غیرمسلم امتیوں کے بارے میں کچھ سوچنے اور لکھنے کی توفیق دی ورنہ یہ بندہ اس لائق بالکل نہ تھا۔ اس وقت میری تحقیق کے مطابق دنیا میں لگ بھگ سات ارب انسان ہیں جن میں سے تقریباً دو ارب مسلمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ایک معبود، حضرت محمدﷺ کو آخری نبی و رسول اور قرآن کریم کو کلام الٰہی تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے عقائد اسلام پربھی ایمان رکھتے ہیں نیز جتنا کوشش بھر ہوپاتا ہے عمل کرتے ہیں۔ان میں سے جس کا انتقال دین اسلام پر ہوتا ہے وہ چاہے کتنا ہی گناہگار ہو ، اسلامی عقائد کی رو سے وہ جہنم میں سزا بھگتنے کے بعد حضرت محمدﷺ کی سفارش سے ایک نہ ایک دن اللہ کے فضل سے ضرور جنت میں داخل ہوگا ۔ جبکہ وہ مسلمان جس کا انتقال دین اسلام پر نہیں ہوتا اوروہ مرتے وقت کفر و شرک کا مرتکب ہوا تو پھر اس کی مغفرت نہیں ہوگی جیساکہ قرآن کریم اور حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر و شرک پر مرنے والے کو معاف نہیں کرے گا اور اسکا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
بقیہ تقریباً پانچ ارب انسان وہ ہیں جو قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے یعنی اس پر ایمان نہیں لاتے اور حضرت محمدﷺ کو بھی آخری نبی و رسول نہیں مانتے۔اگرچہ ایسے لوگ باقی دین اسلام کے عقائد کو بھی مانتے ہوں تب بھی یہ لوگ کافر ہیں اور یہ پانچ ارب انسان جہنم کے راستے پر ہیں۔اگر ان کا انتقال اسی کفر و شرک کی حالت میں ہوجاتا ہے تو ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم ہوگا۔اِن پانچ ارب انسانوں میں سے بہت ہی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مرنے سے پہلے کفروشرک سے توبہ کرکے دین اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں اور ایمان پر ان کا خاتمہ ہوتا ہے ورنہ 99فیصدایسے ہی کفرکی حالت میں اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ دین اسلام کی سچائی اور دوسرے ادیان و مذاہب کے باطل و منسوخ ہونے پر ایسے دلائل جو کہ ناقابل انکار ہیں ان لوگوں تک نہیں پہنچے ہیں ۔کسی کو دین اسلام میں داخل ہونے کی توفیق دینااگرچہ اللہ کا کام ہے مگر حضرت محمدﷺکے بعد ان کے وارثین علماء کرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ دین اسلام کے ناقابل انکار دلائل کو غیر مسلموں تک پہنچائیں۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ اللہ نے ان کو عقل دی ہے لہذا وہ خود عقل سے چیک کرلیں کہ دین اسلام ہی سچا مذہب ہے اور دیگر ادیان و مذاہب باطل ہیں تو یہ بات درست نہیں ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ اگر عقل سے ہی دین اسلام کو پاناہے اور پایا جاسکتا ہے تو پھر حضرت محمدﷺ ، دیگر انبیاء کرام اورصحابہ کرام دین اسلام کی تبلیغ کیلئے لوگوں کے پاس کیوں جاتے تھے اور خطوط کیوں لکھے؟نیز قرآن کریم کے مطابق شیطان صراطِ مستقیم پر بیٹھا ہوا ہے لہذا عام انسان اپنے باطل مذہب کو چھوڑ کردین اسلام میں خود اپنی عقل سے کیسے داخل ہوسکتا ہے اوروہ ابلیس کا کیونکرمقابلہ کرسکتا ہے؟ جبکہ یہ بات طے ہے کہ کوئی خواہ کتنا ہی صاحب علم و عمل ہو، شیطان کے وسوسوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اورنہ ہی اللہ کے سوا کوئی انسان کو شیطان سے بچا سکتا ہے۔ایسی صورت میں عام غیر مسلم خواتین و حضرات جو کھیتی کا کام کرتے ،دیہاتوں میں رہتے اور دیگرکاروبار میں مصروف ہوتے ہیں ان کا دین اسلام کی راہنمائی خود حاصل کرلینا کتنا دشوار ہوگا یہ اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ لہذا علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جان و مال لگا کران تک دین سلام کے ناقابل انکار دلائل پہنچائیں تاکہ وہ لوگ بھی باآسانی دین اسلام میں داخل ہوسکیں۔غور کریں کہ اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی کافر ہواور باقی سارا گھرانہ مسلمان ہوتو آپ کسی طرح بے چین ہوجائیں گے کہ کسی طرح ان کو اسلام میں داخل کیا جائے تا کہ وہ مرنے کے بعد جہنم سے بچ سکیں۔ بالکل اسی طرح اِن پانچ ارب غیرمسلموں کیلئے بھی علماء کرام اور حضرت محمدﷺ کے مسلمان امتیوں کو بے چین ہونا ہوگا اوراللہ تعالیٰ کے سامنے رونا ہوگاکہ وہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل ہونے کی توفیق دے جیسا کہ حضرت محمدﷺ اپنے امتیوں کیلئے روتے تھے۔
میرے نزدیک دین اسلام کی سچائی پر دو ناقابل انکار دلائل ہیں جن کاکوئی کافر جواب نہیں دے سکے گا اور نہ ہی اس کیلئے تیار ہوگا۔ پہلی دلیل تو یہ ہے کہ ابو داؤد شریف ، جلد اول، باب ابواب ،تفریع الجمعہ میں حدیث ہے جو حضرت انس بن انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع و منقول ہے اور یہ حدیث جمع الفوائد، جلد نمبر اول میں حدیث نمبر1924میں بھی ہے کہ انبیاء کرام کا جسم مرنے کے بعد بھی محفوظ رہتا ہے اور یہ کہ اللہ نے زمین کومنع کردیا ہے کہ وہ ان کے جسموں کو نہ کھائے۔اس حدیث کی روشنی میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کے نعشہائے مبارکہ سوائے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے (کیونکہ اللہ نے انہیں زندہ حالت میں آسمان پر اٹھالیا تھا اور وہ قیامت سے پہلے واپس تشریف لائیں گے) صدیوں سے تازہ حالت میں محفوظ ہیں۔یہ سارے انبیاء کرام مسلمان تھے۔ اسی طرح سورۂ البقرہ،آیت نمبر154اور سورۂ آل عمران،آیت نمبر169میں ہے کہ شہدائے اسلام زندہ ہیں۔ اس کی تفسیر میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان القرآن میں لکھا ہے کہ ان تمام شہداء کے نعہشائے مبارکہ محفوظ ہیں۔ہجرت کے بعد سے لے کر1433 ؁ھ تک کروڑوں مسلمان اللہ کے راستے میں قتل ہوئے لہذا ان سب کے جسم قبروں میں محفوظ ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کسی بھی غیر مسلم کی لاش تازہ حالت میں پہلی صدی ہجری سے لے کر1433 ؁ھ تک تازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ نہیں ہے۔ نیز اس وقت تک کروڑوں غیر مسلم اسلام و کفر کے درمیان جنگوں میں قتل ہوئے مگر ان میں سے کسی ایک کی بھی لاش محفوظ نہیں ہے۔جس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ صرف دین اسلام ہی سچا اور خالق کائنات یعنی اللہ کا پسندیدہ مذہب ہے اور باقی تمام ادیان و مذاہب باطل اور منسوخ ہیں کیونکہ مسلمانوں کی نعشوں کا محفوظ رہنا اللہ کے حکم سے ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے فضل سے جنتی ہیں۔ مزید ثبوت کیلئے میری ویب سائٹ www.RightfulReligion.comکا مطالعہ کیجئے۔ لہذا اِس علم کو لے کر غیر مسلموں کے پاس جایا جائے اور ان سب سے اس بارے میں بات کی جائے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ آج بھی اگر اعلان کے ذریعہ ڈھونڈا جائے تو ایسے بہت سے اولیاء اللہ دنیا میں مل جائیں گے جو بغیر کسی کیمیکل کا استعمال کئے آگ میں داخل ہونے کے باوجود جل نہیں سکیں گے۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اور انکے استاد حضرت عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ثبوت موجود ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے نبی ہونے کی حالت میں آگ میں داخل کئے گئے اوراللہ کے حکم سے نہیں جلے۔ اسی طرح مذکورہ دونوں افراد امتی ہیں لیکن اللہ کے دوست ہونے کی وجہ سے اللہ کے حکم سے یہ دونوں بھی آگ میں نہیں جلے تھے۔میرے پاس ان دونوں حضرات کا تفصیلی واقعہ موجود ہے۔ کوئی بھی غیر مسلم بغیر کسی کیمیکل کا استعمال کئے آگ میں جانے کے بعد صحیح و سالم نہیں رہ سکتا جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واقعی دین اسلام ہی سچا مذہب ہے کیونکہ اگر کوئی مسلمان دین اسلام کی کامل پیروی کرتا ہے تو اللہ کے حکم سے وہ آگ میں بھی نہیں جل سکتا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جادو یا کسی عمل کے زور پر مسلمان آگ میں نہیں جلتاکیونکہ اگر کسی کو اس بات پر شک ہے تو کوئی بھی غیر مسلم ایسا جادو یا عمل کرکے دیکھ لے۔
بہرحال یہ دونوں دلیلیں ایسی ہیں جن میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں ہے اور کوئی بھی غیر مسلم (جسے اللہ ہدایت دینا چائے گا)بہ آسانی دونوں دلائل سے مطمئن ہوجائے گا۔اگر فرداً فرداً کافروں کے پاس نہیں جاسکتے تو اس کا آسان راستہ آجکل یہ ہے کہ یہ دور ٹی وی، انٹرنیٹ، موبائلز، میڈیا اور اخبارات کا ہے۔ان ذرائع سے اِن دونوں دلائل کو ہر زبان میں دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچادیا جائے۔ کسی کو اسلام کی ہدایت دینا یا نہ دینا اللہ کا کام ہے۔ ہمارا کام صرف بات کو بہتر انداز میں پہنچانا یا سمجھانا ہے۔لہذا میں تمام علماء حق سے گزارش کرتا ہوں اور مخلص اہل ثروت مسلمانوں سے بھی کہ اِن دونوں دلائل کو ہر زبان میں دنیا کے تقریباً سات ارب انسانوں تک پہنچادیں تاکہ مسلمانوں کی اصلاح ہو اور غیرمسلموں کو اسلام میں داخل ہونے کا راستہ مل جائے ۔یہ کام بالاتفاق تمام انبیاء کرام کا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یا اللہ ہمیں اس کام کو کرنے کی توفیق و ہمت دے، آمین۔

Coronavirus Cure Pakistan