سات سوافراد کی وجہ سے دنیا پریشان

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 18, 2012)

اس وقت دنیا میں سات مشہور ادیان و مذاہب ہیں یعنی اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت،سکھ ازم اور پارسی ازم جن کے پیروکاروں کی اچھی خاصی تعداد ہے اور جن کے ماننے والوں کی دنیا میں حکومت و اثرو رسوخ ہے۔ باقی ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد بھی برائے نام ہے اور ان کے ماننے والوں کی نہ تو کوئی علیحدہ حکومت ومملکت ہے اور نہ ہی دنیا پر خاص اثرورسوخ ہے۔
مذکورہ سات ادیان و مذاہب میں سے اگر ہر ایک دین و مذہب میں سے چوٹی کے ماہر ترین مذہبی رہنماؤں،پیشواؤں اور اپنے اپنے دین و مذہب پر مکمل عبور رکھنے والوں کو منتخب کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ ان کی تعداد تقریباً 100ہوگی اورساتوں ادیا ن و مذاہب کے مشہور پیشواؤں کی مجموعی تعداد تقریباً700ہوگی جن کے دم سے اُن سب کا دین و مذہب قائم و دائم اور زندہ ہے۔ کیونکہ اِنہی ماہر پیشواؤں کے ماننے والے، ان کی باتوں پر عمل کرنے والے اور ان سے عقیدت رکھنے والے دنیا میں کثیر تعداد میں ہیں جبکہ باقی ہر دین و مذہب کے جو چھوٹے چھوٹے رہنما و پیشواء ہیں نہ تو ان کے ماننے والوں کی کثیر تعداد ہے اور نہ ہی ان کی باتوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے۔
غرضیکہ اگر تجزیہ کرکے دیکھا جائے تو ان سات سو افراد کی وجہ سے دنیا کے کم ازکم تین چوتھائی انسان اپنے اپنے دین و مذہب پر عمل پیرا ہیں اور اُن کے اوپر اِن سات سوافراد کا اثرورسوخ ہے یعنی دنیا کے اکثر انسانوں پر اِن کی حکومت و سلطنت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ سات سو افراد مل کر دنیا کی کسی بات پر متفق ہوجائیں تو ان کی بات رد نہیں کی جاسکے گی اور یہ سات سو افراد مل کر دنیا میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔
اس وقت اگر دنیا کے انسانو ں کی حالت دیکھی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے اکثر بہت پریشان ہیں اور بہت کم تعداد میں خوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ غربت وافلاس، جہالت و بدامنی اور جنگوں کے شکار ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تقریباً پانچ ہزار ایٹم بموں کی دنیا میں تیار حالت میں موجود ہونے کی وجہ سے دنیا تباہی و بربادی کے کنارے پہنچی ہوئی ہے اور ایک اشارے پر ایٹمی جنگ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
ان مذکورہ مسائل اور پریشانیوں سے نجات اور چھٹکارے کیلئے دنیا کے انسانوں کی پاس کوئی ابدی حل اور لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ یہ سات سو افراد جن کا تعلق دنیا کے سات مشہور ادیان و مذاہب سے ہے ،ایک پلیٹ فارم پرجمع ہوکر سوچیں اور پھر متفق ہوکرکوئی لائحہ عمل ترتیب دیں۔ مگریہ لوگ ابھی اس طرح نہ تو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں اور نہ ہی آسانی سے یہ لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونگے کیونکہ یہ سات سو افراد وہ ہیں جن کو کوئی پریشانی نہیں ہے اور وہ ہر طرح سے اس دنیا میں عیش کی زندگی بسر کر رہے ہیں لہذا ان کو کیا ضرورت پڑی کہ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں؟اسی وجہ سے میں نے اوپر عنوان میں کہا ہے کہ’سات سو افرادکی وجہ سے دنیا پریشان‘ نیز اسی وجہ سے میں نے ’مذہبی اقوام متحدہ‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے تاکہ ان سات سو افراد کو اس پلیٹ پر جمع کرسکوں اس لئے کہ دنیا میں جوبھی حالات ہیں وہ صرف اِن ادیان و مذاہب کے آپس میں اختلاف اور تصادم کی وجہ سے ہیں ورنہ اگر تمام انسانوں کادین و مذہب ایک ہوجائے تو یہ حالت کیوں باقی رہے اور انسان پریشان کیوں ہو؟بلکہ یہ دنیا تو جنت نما بن جائے گی۔ لہذا اِن سات سو افراد کو مذکورہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کیلئے اُنہی لوگوں کو اٹھنا پڑے گا اور ساتھ دینا ہوگاجوغربت و افلاس، جہالت و بدامنی کی وجہ سے پریشان ہیں اور پریشان رہیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غریب کہلاتے ہیں ورنہ یہ سات سو افراد اور دنیا کے مالدار طبقہ کومذکورہ حالات و مسائل سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
لہذا میں اولاً تو اِن سات سو افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے آپ سب ’مذہبی اقوام متحدہ‘کا ساتھ دیتے ہوئے اس ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں ورنہ دنیا جب ایٹمی جنگوں کی وجہ سے تباہ ہوگی تو آپ اور آپ کے رشتہ دار اور بیوی بچے بھی اس آگ میں جلیں گے۔نیز مرنے کے بعد جو ناکامی اور رسوائی ہوگی وہ علیحدہ ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اِن پیشواؤں سے (خواہ یہ پیشوامسلم ہوں یا غیر مسلم)قیامت کے روزاس بارے میں ضرور پوچھے گاکہ تم لوگوں نے انسانوں کو پریشانیوں سے بچانے کیلئے کوششیں کیوں نہیں کی تھیں اور اپنے اپنے دائرہ میں رہ کر صاف نیت سے کام کیوں نہیں کیا تھا یا فکر کیوں نہیں کی تھی؟
ثانیاً میں غریبوں اور مفلسوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اِن افراد کو اپنے اپنے حلقہ و علاقہ سے ادارہ کے ساتھ دینے کو اور اس پلیٹ فارم پر جمع ہونے کو کہیں کیونکہ ضرورت دنیا کے غریبوں کو ہے ، امیروں کو نہیں۔
میں آخر میں دنیاکے اِن ساتوں ادیان ومذاہب کے سات سو مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سب’مذہبی اقوام متحدہ‘کے تحت جمع ہوکر اس بارے میں سوچیں کہ آخر کروڑوں کی تعداد میں صرف مسلمانوں اور مسلمان فوجوں کی لاشیں صدیوں اور سالوں سے قبروں میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے تروتازہ حالت میں صحیح و سالم اور محفوظ کیوں ہیں ؟جبکہ دوسری طرف کھربوں مسلمانوں کی لاشیں بوسیدہ ہوکر گل سٹر چکی ہیں۔نیز آخر کیا وجہ ہے کہ غیر مسلموں یعنی یہودیوں، عیسائیوں،ہندؤں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں سے کسی ایک کی بھی لاش تروتازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ اور صحیح و سالم نہیں ہے؟
دنیا کے تمام غیر مسلم پیشوا اِس بات پر غور کیلئے’مذہبی اقوام متحدہ‘کے تحت جمع ہوں اور سوچ کر جواب دیں کہ آخر ایسا کیوں ہے اورمرنے کے بعد والی زندگی پر غور کریں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ تمام مذاہب والے غلط راستے پر چل رہے ہوں؟اس لئے کہ غیر مسلم پیشوا زندگی میں جتنا بھی کرتب دکھالیں اور جتنی بھی طاقت کا مظاہرہ کرلیں لیکن حقیقت یہ کہ مرنے کے بعد ان کی لاشوں میں کوئی جان نہیں رہتی نیز وہ ترو تازہ حالت میں بھی نہیں رہتیں اور گل سٹر کرختم ہوجاتی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد والی زندگی میں یہ سب ہمیشہ کیلئے ناکام ہیں۔لہذا آپ سب میری مذکورہ باتوں پر کان دھریں تاکہ دنیا بھی جنت نما بن جائے اور مرنے کے بعد ہمیشہ کی جنت بھی مل جائے ورنہ دنیا میں اپنی مرضی کرنے اور کچھ سال عیش و آرام میں گزارنے کے بعدہمیشہ کیلئے جہنم کے دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے ۔

Coronavirus Cure Pakistan