گستاخانِ محمدﷺکو دعوتِ غور و فکر

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 17, 2012)

اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام انسان اصل کے اعتبار سے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کی اولاد ہیں کیونکہ اس دنیا میں سب سے پہلے مرد و عورت وہی دونوں تھے اور انہی دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔ یہ نظریہ بالکل غلط اور باطل ہے کہ انسان پہلے بندر تھا۔ اس لئے کہ انسان اور بندر میں بنیادی طور پر ایک ایسا فرق ہے کہ اس کی بناء پر یہ تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا کہ انسان ابتداء میں بندر تھا اور وہ فرق یہ ہے کہ کروڑوں مسلمانوں کی نعشیں زمین میں صدیوں اور سالوں سے محفوظ ہیں اورتاقیامت رہیں گی لیکن آج تک یہ ثابت نہیں ہوسکاکہ کسی بھی بندرکی لاش محفوظ ہے بلکہ یہ میری جانب سے ایک چیلنج ہے کہ کسی بھی بندر کی لاش کبھی بھی محفوظ نہیں رہے گی کیونکہ بندر کسی بھی مذہب کے مطابق عبادت کے مکلف نہیں رہے اور نہ ہی ہیں۔ لہذا انسان کی ابتداء اگر بندر سے ہوتی یعنی بندر اصل اور انسان فرع ہوتا تو یہ اتنا بڑا ناقابل انکار فرق اصل اور فرع میں نہ ہوتا۔اس لئے ثابت ہوا کہ مذکورہ نظریہ باطل ہے اور حقیقت میں نسل انسانی کی ابتداء حضرت آدم و حوا علیہماالسلام سے ہوئی ہے۔ جب یہ ثابت ہوا کہ تمام انسان دراصل آپس میں ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں(یہ الگ بات ہے کہ ادیان و مذاہب کی بناء پر کوئی یہودی، عیسائی، ہندو ، مسلمان وغیرہ بن گیا) تو یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم تمام انسان ایک دوسرے کی صحیح رہنمائی کریں اور دنیا و آخرت کی ناکامی سے بچنے میں بھی ایک دوسرے کی مدد کریں جیسا کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا طرزفکر اور مشن تھا۔
آج یہ خبر پڑھ کربہت افسوس ہوا کہ شاتم رسولﷺ سلمان رشدی بھارت آرہا ہے اور مسلمانان ہند اسے بھارت آنے سے روکنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اس لئے میں نے مناسب سمجھاکہ سلمان رشدی ہو یا اسکے علاوہ دیگر گستاخان ہوں خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، ان سب کو دعوتِ غورو فکر دیتا ہوں کہ شاید ان کے ذہن سے شبہ ختم ہوجائے اور وہ لوگ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کی اخروی زندگی بھی سنور جائے ۔ ویسے بھی کسی کو ہدایت دینا صرف اللہ کا کام ہے، ہمارا کام صرف انہیں سمجھانا ہے۔
اگر یہ لوگ قرآن کریم کو خالق کائنات کا کلام مانتے ہیں تو ہمارے پیارے نبی ﷺ کے متعلق مندرجہ ذیل آیات کو ہی پڑھ لیں انشاء اللہ انہیں یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ واقعی حضرت محمدﷺ اللہ کے نبی و رسول ہیں اور یہ کہ حضرت محمدﷺ کو اللہ کا آخری نبی مانے بغیرکوئی بھی اللہ کے نزدیک نیک و پسندیدہ نہیں بن سکتا خواہ وہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے۔ سورہ الصٰف ، سورہ نمبر 61، آیت نمبر6میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جن کا نام احمد ہوگا۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ ان کا دوسرا نام احمد ہے۔ نیز عالمی افق پر آپﷺ کے بعد آپﷺ کے سوا کوئی بھی رسول نہیں آیا جس کی سچائی پر قطعی دلیل موجود ہو۔ سورہ آل عمرآن، سورہ نمبر3،آیت نمبر144میں ہے کہ محمد ﷺ صرف اللہ کے رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ سورہ الاحزاب، سورہ نمبر33، آیت نمبر40میں ہے کہ محمدﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور نبیوں(کی نبوت)کی مہر(یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں۔سورہ محمد، سورہ نمبر47، آیت نمبر2میں ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اوراس(کتاب)پر ایمان لائے جو محمدﷺپرنازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی جانب سے حق ہے،اللہ نے ان کے گناہ ان سے مٹا دئیے اور ان کا حال سنوار دیا۔ اسی طرح سورہ الفتح،سورہ نمبر48،آیت نمبر29میں ہے کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
حضرت محمدﷺ کی گستاخی کرنے والوں اگر آپ قرآن کریم کو اللہ کا کلام مانتے ہو تو مندرجہ بالا آیات ہی آپﷺ کی رسالت اور ختم نبوت کے ثبوت کیلئے کافی ہیں کیونکہ اللہ نے جب محمدﷺ کو اپنا رسول، نبی، قاصد اور پیغمبر بنایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعی اللہ کے نیک بندے، قابل ادب و احترام اور تمام بے ادبی و گستاخی کی باتوں سے پاک و منزہ ہیں۔ لیکن اگر آپ لوگ قرآن کریم کو کلام الٰہی مانتے ہی نہیں تو پھر آپ لوگوں کو قرآن کریم کے اس چیلنج کا جواب دینا چاہئے جو سورہ البقرہ،سورہ نمبر2، آیت نمبر23-24میں ہے کہ اوراگر تم اس(کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہوجو ہم نے اپنے بندے(محمدﷺ) پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی سورت ہی بنا لاؤ،اوراللہ کے سوا اپنے تمام مددگار وں کوبلالواگر تم سچے ہو ۔ پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو اور ہر گز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔
تقریباً چودہ سوسال سے زائد کا عرصہ گزرگیا لیکن کوئی کافر جو قرآن کریم کو کلام الٰہی نہیں مانتا مندرجہ بالا آیت میں مذکورہ چیلنج جواب نہیں دے سکا۔ لہذا اگر گستاخانِ محمدﷺ اپنی گستاخیوں سے باز نہیں آتے تو مذکورہ چیلنج کا جواب دیں یا پھر قرآن کریم نے محمدﷺ کی جو پاکیزگی و رسالت بیان کی ہے اسے قبول کرلیں تاکہ مرنے کے بعد جہنم میں جانے سے بچ جائیں۔
مگر اگر پھر بھی آپ لوگوں کا دل مطمئن نہ ہو تو آخر میں ایک مشاہداتی اور ناقابل انکار دلیل پیش کرتا ہوں جسکا کوئی بھی غیر مسلم یا گستاخِ رسول نہ جواب دے سکا اور نہ ہی جواب دے سکتا ہے۔ وہ دلیل یہ ہے جسے میں مکمل یقین کے ساتھ کہتا ہوں اور یہ بات ثابت بھی ہوچکی ہے کہ ہمارے آخری نبی محمدﷺ کا جسم مبارک چودہ سو سال سے زائد عرصہ سے قبر مبارک میں زندہ انسان کی طرح بالکل صحیح و سالم اور تروتازہ حالت میں محفوظ ہے اور اسی بنا پر دو یہودیوں نے نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے میںآپﷺ کے جسم مبارک کو باہر نکالنے کیلئے سرنگ کھودنے کی ناپاک جسارت اور سازش کی تھی۔ جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ یہودیوں کو بھی اس بات کا علم تھا(اور ہے) کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کا جسم مبارک صدیوں سے محفوظ ہے۔
لہذا میں دنیا بھر کے تمام غیرمسلم پنڈتوں، پادریوں،پیشواؤں سمیت حضرت محمدﷺ کے گستاخوں خصوصاً سلمان رشدی کو بھی چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ثابت کرے کہ آپﷺکا جسم مبارک محفوظ نہیں ہے۔ کیونکہ صرف محمدﷺ ہی نہیں بلکہ انکے ماننے والے کروڑوں مسلمانوں کی نعشیں بھی صدیوں اور سالوں سے زمین میں تروتازہ حالت میں محفوظ ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمدﷺ واقعی اللہ کے سچے نبی و رسول اور اسکے بندے ہیں اور اس بات کا علم قبر کی مٹی اور اس کے کیڑے مکوڑوں کو بھی ہے۔ نعوذباللہ اگر آپﷺجھوٹے نبی ہوتے یا اللہ کے محبوب و پسندیدہ بندے نہ ہوتے تو آپﷺ کا جسم مبارک صدیوں سے محفوظ نہ ہوتا کیونکہ مردہ جسم کا زمین میں محفوظ رہناباعث غرور و افتخار ہے اور زمین میں گل سڑ جاناذلت کی بات ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ زمین میں بذات خودانسانی جسم کو محفوظ رکھنے کی طاقت و صلاحیت نہیں ہے لہذامحمدﷺ اور انکے ساتھیوں یا ان پر ایمان لانے والوں کی نعشوں کامحفوظ رہنا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ یہ حفاظت منجاب اللہ ہے اور آپﷺ کا معجزہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ آپﷺجنتی ہیں۔
لہذا میں تمام غیرمسلموں اورمحمدﷺ کے گستاخوں کو دعوتِ غور و فکر دیتا ہوں تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوں اور محمدﷺکی گستاخی سے توبہ کریں اور تمام گستاخوں اور غیرمسلم پیشواؤں کو چیلنج دیتاہوں کہ اگر ان کی موت کفر پر ہوئی تو ان میں سے کسی کی لاش بھی تروتازہ حالت میں کبھی محفوظ نہیں رہے گی ۔یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ محمدﷺ کو نہ ماننے والوں، ان پر ایمان نہ لانے والوں اور ان کی گستاخی کرنے والوں سے خالق کائنات ناراض ہے اِس لئے وہ لوگ اس بارے میں غوروفکر کریں تاکہ حقیقت اور سچ ان پر واضح ہوجائے۔

Coronavirus Cure Pakistan