مذہبی اقوام متحدہ کے قیام کی وجہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 17, 2012)

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے اہم ترین مسائل میں سے غربت وافلاس، جہالت وبدامنی اور ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ جب میں نے اللہ کی توفیق سے اِن اہم مسائل کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں اِن مسائل کی وجہ دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب کا وجود اور اُن کا آپس میں اختلاف و تصادم کا ہونا ہے۔
اسی اختلاف کی وجہ سے ماضی میں ممالک کے درمیان بڑی بڑی جنگیں ہوئیں، اب بھی ہورہی ہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور اسی کے نتیجے میں دنیا تباہی و بربادی کے کنارے پر پہنچی ہوئی ہے کیونکہ دنیا میں اس وقت تقریباً پانچ ہزار ایٹم بم موجود ہیں اور کسی وقت بھی ممالک کے درمیان عداوت و دشمنی کی وجہ سے ایٹمی جنگ شروع ہوسکتی ہے جس سے یہ دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ اگر جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگا ساکی کے باشندے عیسائی ہوتے تو کبھی بھی امریکہ ان پر ایٹم بم نہیں گراتا کیونکہ امریکہ ایک عیسائی ملک ہے اور کوئی بھی ملک اپنے ہم مذہبی ملک پر حملہ نہیں کرتا اور نہ ہی کبھی کوئی کرے گا۔
اسی طرح جس وجہ کو بنیاد بناکر امریکہ نے عراق پر حملہ کرکے لاکھوں انسانی جان ضائع کیں اگر وہ عیسائی ملک ہوتا تو امریکہ کبھی بھی اس کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتا۔ اسی طرح افغانستان پر ماضی میں روس اور حال میں امریکہ نے جس وجہ کو بنیاد بناکر حملہ کیا اگر افغانستان اسلامی ملک نہیں ہوتا تو یہ دونوں اِس پر حملہ کرکے اِس کو تباہ و بربادکرنے کی کوششیں نہ کرتے۔ اسی طرح اگرہندوستان اسلامی ملک ہوتاتو اس کے اور پاکستان کے درمیان 1965ء کی جنگ نہ ہوتی اور نہ ہی دونوں ممالک اپنے غریبوں کو گھاس کھلاکر ایٹم بم بناتے۔ غرضیکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر ذی شعور جانتا، مانتا اور سمجھتا ہے۔
یہ بات ماننا پڑے گی کہ دنیا میں ادیان و مذاہب کے آپس میں اختلاف و ٹکراؤ کی وجہ سے ہر ملک اپنے مخالف مذہبی ملک سے خوفزدہ ہے اور عداوت و دشمنی کا شکار ہے لہذا ہر ملک مجبور ہوکر اپنی آمدن اور وسائل میں سے کم از کم تقریباً70% صرف ملک کے دفاع کیلئے ایٹم بم، میزائل اور دیگر جدید سے جدید تر اسلحہ جات پر خرچ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں بدامنی ہے اور دنیا کے اکثر انسان غربت و افلاس اور جہالت میں مبتلا ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر دنیا میں صرف ایک ہی سچا دین و مذہب ہوتا تو آج دنیا کے اکثر انسانوں کی یہ حالت نہ ہوتی بلکہ یہ دنیا تو جنت نمابنی رہتی اور ہر طرف آزادی ہی آزادی اور سکون ہی سکون نظر آتا۔ اس بنا پر میرے نزدیک دنیا میں ابدی طور پر امن قائم کرنے، غربت و افلاس اور جہالت کے خاتمے نیز ایٹمی جنگ کو روکنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جس طرح تمام انسان اصل کے اعتبار سے ایک ہی ماں باپ یعنی حضرت آدم و حوا علیہماالسلام کی اولاد ہیں اور جس طرح اس کائنات کا خالق ایک ہی ہے اسی طرح دنیا کے تمام انسانوں کا دین و مذہب بھی ایک ہی ہونا چاہئے تاکہ اس دنیا کو مذکورہ اور دیگر مسائل و مشکلات سے نجات دلاکر جنت نما بنایا جاسکے اور انسانوں کو بے جامظالم اور پریشانیوں سے نجات ملے۔
میرامقصد یہ نہیں کہ دنیا کا نقشہ تبدیل کیا جائے بلکہ دنیا کا نقشہ یہی ہو، ممالک بھی اسی طرح کام کریں۔ آپس کے معمولی لڑائی جھگڑے اور دیگر مسائل کو حل کرنے کیلئے عدالتیں، فوج ،پولیس اور دیگر ادارے اسی طرح کام کرتے رہیں مگر دنیا کے تمام انسانوں کے عقائد و اعمال کو صرف ایک دین و مذہب کے مطابق کردیا جائے جو خالق کائنات یعنی اللہ تعالی کے نزدیک سچا اور پسندیدہ ہو۔اس وجہ سے اس بندے نے ’مذہبی اقوام متحدہ‘کے نام سے ادارہ قائم کیا تاکہ دنیا میں جتنے بھی ادیان و مذاہب پائے جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک مذہب میں سے تقریباً ایک ایک سو ماہر ترین مذہبی پیشواؤں اور رہنماؤں کو اس ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے دنیا کے 100ماہر ترین ججوں اور 100ماہر ترین وکیلوں کے سامنے اُنہیں اپنے اپنے دین و مذہب کی سچائی پر مکمل دلائل دینے کو کہاجائے۔
یہ تمام دلائل الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ عوام الناس تک بھی پہنچائے جائیں۔ ان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد یہ تمام ججز اور وکلاء کسی ایک مذہب کو منتحب کرنے کیلئے ووٹنگ کریں۔اکثریتی بنیاد یا متفقہ طور پر جس مذہب کے حق میں ووٹ ملے اس مذہب کو دنیا کے تمام انسانوں کا مذہب قرار دیا جائے۔ مجھے پو را یقین ہے کہ انشاء اللہ اس طرح بہت سے ادیان و مذاہب میں سے حق و سچے مذہب کی صداقت و حقانیت دنیا کے انسانوں کے پاس آجائے گی اور اس طرح دنیا کے انسان اس ایک مذہب کو قبول کرلیں گے اور اس طرح دنیا کے تمام یا اکثر انسانوں کے ایک مذہب پر ہونے کی وجہ سے دنیا کے اہم ترین مسائل حل ہوجائیں گے اور دنیا ایٹمی جنگوں کی تباہی سے بچ جائے گی اور جنت نما بن جائے گی۔
یہ میری سوچ اور نظریہ ہے۔ نیزآپس میں بحث و مباحثہ کرکے اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے مگر دنیا کو تباہی و بربادی سے بچانے اور انسانوں کو دنیوی اور دینی پریشانیوں سے نجات دلانے کا ابدی طور پر یہی ایک راستہ ہے اور باقی تمام راستے عارضی ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اس لئے حضرت آدم علیہ اسلام کی اولاد اور حضرت محمدﷺ کے مسلم و غیر مسلم امتیوں کی فکر کرنے والے اگر اب بھی فکر نہیں کریں گے تو دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اور اُن سب سے بروزِ قیامت باز پرس بھی کی جائے گی۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اگر دنیا کے مشہور سات مذاہب (اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، سکھ ازم اور پارسی ازم ) کے مشہور سات سو مذہبی پیشواء ’ مذہبی اقوام متحدہ ‘ کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مذکورہ کوشش کریں توکامیابی ہوسکتی ہے ۔ مجھے اس بات پر بھی یقین کامل ہے کہ جیت دین اسلام ہی کی ہوگی کیونکہ قرآن کریم کے دین اسلام پر قطعی دلائل رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسری اور ناقابل انکار دلیل بھی ہے جو کسی بھی دین و مذہب کے پاس نہیں ہے اور وہ یہ کہ کروڑوں مسلمانوں کی لاشیں صدیوں اور سالوں سے قبروں میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے بالکل تروتازہ حالت میں خون سمیت صحیح و سالم اور محفوظ ہیں جبکہ کسی دوسرے ادیان و مذاہب کے ماننے والوں میں سے کسی ایک کی بھی لاش تروتازہ حالت میں موجود و محفوظ نہیں ہے ۔ اگرکوئی لاش محفوظ بھی ہے تو اُس پر کیمیکل استعمال ہوا ہے نیز وہ تروتازہ حالت میں نہیں ہے اور نہ ہی اس میں تازہ خون ہے ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین نے ایک غیر جانبدار جج کے روپ میں یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ دین اسلام ہی ایک مکمل اور سچا مذہب ہے اور خالق کائنات یعنی اللہ تعالیٰ اس دین سے راضی ہے اور اِس کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب نامکمل اور منسوخ ہیں۔
یہ نہیں کہا جاسکتا کہ زمین نے مسلمانوں سے رشوت لے کر صرف مسلمانوں کی لاشیں محفوظ کی ہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ زمین متعصب اور فرقہ پرست ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو زمین دوسرے اربوں عام مسلمانوں کی لاشوں کو بھی محفوظ رکھتی جبکہ یہ بات ثابت ہے کہ جو مسلمان دین اسلام پر اخلاص کے ساتھ عمل نہیں کرتے اور فاسق و فاجر جیسی زندگی گزارتے ہیں ان کی لاشیں بھی زمین میں سڑ گل کر فنا ہوجاتی ہیں۔ یہ انکے اپنے اعمال کی کوتاہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ زمین میں یہ صلاحیت ہرگز نہیں کہ خود اپنی مرضی سے کسی کی بھی لاش کو محفوظ رکھ سکے کیونکہ زمین صرف اللہ کی مرضی اور اسکے حکم پر لاشیں محفوظ رکھتی ہے۔لہذا ثابت ہوا کہ یہ دلیل مشاہداتی اور قطعی ناقابل انکار ہے اور اس دلیل کی روشنی میں عوام الناس بھی بات کو سمجھ جائیں گے او رانشاء اللہ اسلام میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔
لہذا میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے سچے دلائل و نظریات سے متفق ہیں تو’مذہبی اقوام متحدہ‘کا ہر ممکن طور پر ساتھ دیں اور اگر اس بارے میں سوالات ہوں تو آگاہ کریں۔انشاء اللہ آپکے سوالات اور شک و شبہات کو دور کردیا جائے گا۔

Coronavirus Cure Pakistan