انسان آج بھی اندھیرے میں ہے

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 14, 2012)

کافی غور و غوض کے بعد اللہ تعالیٰ (خالق کائنات ) کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے یہ راز منکشف ہوا کہ انسان ابھی بھی اندھیرے میں ہے اور عقل پرپردہ پڑا ہوا ہے کہ نہ اسے یہ دکھائی دیتا ہے کہ کہاں جارہا ہے اور نہ ہی اس کی عقل کام کررہی ہے کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے اور وہ اس لئے کہ میں نے تقریباً ایک لاکھ سے زائد ای میل دنیا میں تمام مسلم و غیر مسلم ایمبسیوں کو بھجوائیں جو کہ اپنے اپنے ملک کے نمائندہ و ترجمان ہوتے ہیں ۔ اسکے علاوہ امریکہ کے صدر جناب باراک اوباما کے نام وہائٹ ہاؤس ، اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بانکی مون ، انڈیا کے وزیر اعظم منموھن سنگھ ، پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی صاحب و دیگر اہم سیاستدانوں کے نام بذریعہ پوسٹ خطوط بھی بھیجے یہاں تک کہ مختلف ٹی وی چینلز اور اخبار والوں کو فون تک کیا گیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان ابھی بھی اندھیرے میں ہے اور اسکی عقل مکمل طور پر کام نہیں کررہی ہے۔ 
اس لئے کہ تمام ای میلز ، خطوط اور فون کالز میں ایک چونکا دینے والی حیران کن خبر ضرور موجود تھی اور وہ یہ کہ کروڑوں کی تعداد میں ترو تازہ حالت میں صدیوں اور سالوں سے زمین میں قبروں کے اندر صرف مسلمانوں کی نعشیں محفوظ ہیں اور یہ کہ کسی بھی غیر مسلم کی لاش ترو تازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے صحیح و سالم اورمحفوظ نہیں ہے ۔ صرف یہی بات ہی انسانوں کو چونکا دینے اور حیرت در حیرت میں ڈال دینے کے لئے کافی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی ایک تحقیق ہمیشہ کیلئے امن قائم کرنے ، غربت و افلاس میں کمی لانے اور اس دنیا کو ایٹمی جنگوں سے روکنے کا ایک نایاب فارمولا بھی ہے۔ ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام دنیا کے انسانوں تک یہ خبر آگ کی طرح پھیل جاتی اور تمام انسان مزید تحقیق و تفصیل کے لئے رابطہ کرتے لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ ہم نے اکثر جناتوں اور انسانوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے۔ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یعنی دل سے سمجھنے بوجھنے کا کام نہیں لیتے ، آنکھوں سے صحیح راستہ کو نہیں دیکھتے اور کانوں سے حق بات کو نہیں سنتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اکثر جناتوں اور انسانوں کے بارے میں مذکورہ خبر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ قلیل جن و انس ایسے ہیں جو جنت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور وہ لوگ اپنے دلوں ، آنکھوں اور کانوں کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ قرآن کریم کی دوسری آیات بتاتی ہیں کہ یہ اولیاء اللہ ہیں یعنی صاحب بصیرت افراد مگر ان اولیاء کرام کو بھی یہ توفیق نہیں ملی کہ اس دور میں اس حیران کن تحقیق کو دنیا والوں کے سامنے لائیں حالانکہ ان کے علم میں بھی یہ بات ہے ۔ یہ توفیق اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے اور میں اس پر اللہ تعالیٰ کا لامحدود شکر ادا کر تا ہوں کہ اس نے یہ کام میرے حصہ میں ڈالا تا کہ میں اس کے فضل و توفیق سے یہ تحقیق جو اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچاؤں تاکہ اللہ یہ دیکھے کہ اب یہ لوگ کیا کرتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی حجت تمام ہوجائے کہ وہ بلاوجہ اکثر انسانوں اور جناتوں کو مرنے کے بعد جہنم میں نہیں ڈالے گا اور یہ کہ یہ ظلم نہیں بلکہ عین انصاف ہوگا۔ 
اس دور میں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اس راز کو اس لئے کھول کر دنیا والوں کے سامنے لانا چاہا ہے کہ آج کے انسان نے بصیرت و بصارت اور عقل کو استعمال کرکے بہت ترقی کرلی اور اس حد تک پہنچ گیا کہ وہ چاند پر پہنچ چکا ہے، سمندر کی تہوں تک غوطے لگارہا ہے ، گھر بیٹھے دنیا کے انسانوں سے بذریعہ موبائل بات کررہا ہے اور ایسے ایسے سوفٹ وےئرز ایجاد ہوچکے ہیں کہ عام انسانی دماغ محو حیرت ہے ۔ نیز طب کے میدان میں آج آپریشن کرکے لڑکی کو لڑکا بنایا جارہا ہے اور تصحیح جنس کا آپریشن بھی کامیابی سے ہمکنار ہے۔ غرضیکہ حیران کن ایجادات نے ہر میدان میں تہلکہ مچایا ہوا ہے اور انسانی دماغ نے آج تک اتنی ترقی نہیں کی تھی جتنی کہ آج کرلی ہے اور مستقبل میں کیا کچھ ترقی ہونے والی ہے وہ الگ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔یہ ایک نہایت ہی حقیر اور چھوٹا سا خاکہ عقل انسانی کی ترقی کا ہے ورنہ تفصیل بیان کرنے کیلئے یہ چند صفحات کافی نہیں ہیں۔ 
اب عقل انسانی کی اس حد تک ترقی کے دور میں دیکھنا ہے کہ انسان اس راز کی گتھی سلجھانے کے لئے کیا کرتا ہے اور کس حد تک وہ اپنے ساتھ ،دنیا کے انسانوں کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کتنا انصاف کرتا ہے ؟ اگر اس راز کے دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ جانے کے باوجود بھی یہ انسان و جنات قرآن کریم کواللہ تعالیٰ کا کلام مان کر دین اسلام میں مکمل طور پر داخل نہ ہوئے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ واقعی اس دنیا کو اب تباہ ہوجانا ہے اور قیامت اب سر پرآچکی ہے ۔ اس لئے کہ اس وقت اکثر انسان خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم اتنا بگڑ چکے ہیں کہ ان کی اصلاح اور سدھار کیلئے اب کوئی بھی دلیل مؤثر ثابت نہیں ہورہی ہے سوائے قلیل انسانوں اور جنات کے جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسکے دوست اور ولی ہیں۔ 
آٹھویں پارہ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر ہم ان غیر مسلموں کے سامنے فرشتوں کو اتار کرلے آئیں اور مردے زندہ ہو کر ان سے باتیں کریں اور ہر چیز ان کے سامنے آجائے تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے کافروں کے بارے میں اس لئے کہی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے آنکھوں پر جادو کردیا گیا ہے اس لئے یہ سب چیز یں نظر آرہی ہیں یا مردے جادو کی بنا پر بات کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بھلا بتائیے اب اللہ تعالیٰ ان غیر مسلموں کی رہنمائی کے لئے کون سی ایسی دلیل لائے جس سے ان کا دل مطمئن ہوجائے اور سارے شہبات دور ہوجائیں؟
انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کے ساتھ مکمل ہدایت و رہنمائی دے کر بھیجا مگر کافروں نے یہ کہہ کر کہ یہ تو ہمارے جیسابشر اور انسان ہے وغیرہ وغیرہ ان کو بھی ماننے سے انکار کردیا اور کبھی ان پر جادوگر کا الزام لگا یا تو کبھی انہیں مجنوں اور دیوانہ کہہ دیا حالانکہ وہ چالیس سال سے اِنہی کافروں میں صادق و امین کے لقب سے مشہور چلے آرہے تھے اور تمام کفار اس بات کو تسلیم بھی کرتے تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت اور قرآن پاک کے کلام الٰہی ہونے کی بات کی تو سوائے قلیل کے اکثر کفار نے رد کردیا اور قبول نہیں کیا۔ 
مگر آج سے پہلے تمام سابقہ دلائل جن سے دین اسلام کی سچائی کو ثابت کیا جاتا تھا ان سب میں سے یہ دلیل جو اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ دنیا کے سامنے لایا ہے سب سے قوی، سب سے واضح ، مشاہد بھی ، محسوس بھی اور ہر اعتبار سے قابل اعتبار بھی ہے۔اب انسانوں کے پاس خواہ وہ بگڑے ہوئے فاسق و فاجر مسلمان ہوں یا غیر مسلم ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں سوائے اس کے کہ یہ سب فاسق و فاجر مسلمان یا غیر مسلم اس دلیل کی روشنی میں سدھر جائیں اور جتنے بھی غیر مسلم ہیں وہ سب دین اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوجائیں ورنہ پھر اس دنیا کی تباہی و بربادی یعنی ایٹمی جنگوں کی صورت میں قیامت کے برپا ہونے کے لئے تیار ہوجائیں نیز آج جو غربت و افلاس اوربدامنی و جہالت ہے اس میں دن بدن اضافے کو جھیلنے کے لئے بھی تیار ہوجائیں۔ 
اس لئے کہ کروڑوں مسلمانوں کی تر وتازہ حالت میں نعشوں کے محفوظ ہونے سے گویا مرنے کے بعد والی زندگی ، برزخی زندگی ، مرنے کے بعد والی غذا، مرنے کے بعد والی اسلام کی روحانی طاقت، اللہ تعالیٰ کی رضا کے اثرات وغیرہ یہ سب کچھ بلکہ جنت بھی ایک طرح سے جو کہ غیب اور پردے کی چیز تھی انسانوں کے سامنے آچکی ہے اور گویا انسانوں نے جنت کو دیکھ لیا ہے ۔ یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جب سورج بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع ہوگا ، یا جانور زمین سے نکل کر انسانوں سے بات کرے گا تو پھر تو بہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور اس کے بعد قیامت آجائے گی ۔ اس لئے کہ یہ دونوں نشانیاں ایسی ہیں جو کہ مشاہد ہیں اور محسوس بھی ہیں اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جادو کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے لہٰذا انسانوں کو اس وقت یقین آجائے گا کہ واقعی کوئی ذات وحدہ لاشریک ہے جو ایسا کررہی ہے اور اس وقت قرآن کی باتوں پر یقین آجائے گا مگر اس وقت یقین آنے کا کوئی فائدہ اس لئے نہیں ہوگا کہ لوگ قیامت کی ان دو نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو ماننے لگیں گے اور دین اسلام میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے مگر اُس وقت اِس کو ایمان بالغیب نہیں کہا جاسکتا جو کہ انسانوں سے مطلوب تھا ۔اس لئے اب کافروں کی توبہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح کروڑوں مسلمانوں کی نعشوں کا محفوظ ہونا کہ ان میں سے بعض کے جسم سے خوشبو آرہی ہو، بعض کے جسم میں تازہ خون ہو ، اور صدیوں اور سالوں سے ان کا کفن تک صحیح و سالم ہو ، یہ انکے جنتی ہونے کی دلیل نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ نیز اس دلیل کے بارے میں کوئی شبہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اس دلیل کو آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی تصدیق کی جاسکتی ہے ۔ یہ مردہ نعشیں صرف حرکت نہیں کررہی ہیں ورنہ جنتی ہونے یا جنت کی غذاؤں اور روحانی طاقتوں سے محفوظ ہونے کی تمام علامتیں ان میں موجود ہیں۔ لہٰذا اگر دنیا کے انسان اب بھی اس پر غور کرکے دین اسلام کو دنیا کا واحد مذہب بنا کر دنیا کے تمام مسائل کو حل نہیں کرتے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ انسان آج بھی اندھیرے میں ہے ۔

Coronavirus Cure Pakistan