ساری دنیا کے غیر مسلموں سے مقابلے کیلئے اولیاء اللہ سے اپیل

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 14, 2012)

اس بندہ کی تحقیق کے مطابق اس وقت لگ بھگ تقریباً 5ارب غیر مسلم ہیں جو یہودی ، عیسائی ، ہندو ، سکھ ، بدھ مت ، پارسی اور قادیانی وغیرہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اعتبار سے اُمّتی ہیں کہ ان کو دعوت دی جانی چاہئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان غیر مسلم اُمتیوں کے لئے روتے تھے اور بہت ہی فکر مند رہا کرتے تھے کہ کسی طرح یہ بھی دین اسلام میں داخل ہو کر جہنم سے بچنے والے بن جائیں ۔اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں پتھر کھائے، شعیب ابی طالب میں معاشرتی بائیکاٹ والی زندگی گزاری اور درختوں کے پتے اورجانوروں کی کھال کھائی۔نیز 27جنگوں میں بذات خود شریک ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگ احد میں دو دندان مبارک شہید ہوئے ، آپ ﷺ کا چہرہ زخمی ہوا ، آپﷺکی بیٹی کو طلاق دی گئی ،آپﷺؐ کو ترک وطن کرنا پڑا یعنی مکّہ کے پیدائشی ہونے کے باوجود آپ کو مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ تقریباً 42جنگوں میں صحابہ کرام شریک ہوئے اور ان میں سے کئی صحابہ کرام کو شہید ہونا پڑا۔ غرضیکہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے آپﷺنے نہایت ہی تکلیف دہ زندگی گزاری اور 23سال تک اسی جدوجہد میں رہتے ہوئے اس دار فانی سے پردہ کر گئے مگر اپنے مذکورہ مشن سے کبھی بھی باز نہ آئے اور نہ ہی کبھی ہمت ہاری۔ 
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج یہ غیر مسلم دنیا میں غالب ہیں اور اُمّت مسلمہ بہت پریشان ہے۔ظلم و جبر کی چکی تلے پستی جا رہی ہے اور کوئی بھی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے اور نہ ہی یہ مسلمان آپس میں متحد ہورہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں اِن غیر مسلموں سے ایسے دلائل کے ذریعہ مقابلہ کروں جن کا یہ لوگ جواب نہ دے سکیں ، ان پر دین اسلام کی حقانیت برسر عام روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے اور بال�آخر دنیا کے تمام غیر مسلم شکست کھا کراور شرمسار ہو کر اپنے باطل ادیان سے توبہ کریں ،دین اسلام میں جوق درجوق داخل ہوں ،فتح مکّہ کا منظر پیش ہو اور ایک بار پھر دین اسلام بحکم الٰہی پوری دنیا پر غالب ہوجائے ۔اس کے نتیجے میں دنیا سے غربت و افلاس ، جہالت و بد امنی اور ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹل جائے گا اور یہ دنیا ایک بار پھر جنت نما بن جائیگی۔اس لئے کہ مذکورہ سارے مسائل دنیا میں باطل ادیان و مذاہب کی موجودگی اور انکے دین اسلام پر غالب ہونے اور اس سے ٹکراؤ کی وجہ سے ہیں ۔ اگر دنیا میں صرف دین اسلام ہی نافذ و غالب رہے اور باقی نامکمل و منسوخ ادیان و مذاہب مغلوب ہوجائیں تو یقیناًدنیا کے تمام پریشان کن مسائل ختم ہوجائیں گے جن میں غربت و افلاس ، جہالت و بدامنی اور ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی شامل ہیں۔ 
اس وقت دین اسلام کو غالب کرنے کے لئے اگر ہم کافروں کے سامنے قرآنی دلائل پیش کرتے ہیں تو یہ لوگ نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ کلام الٰہی نہیں ہے نیز پھر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مذہب کی کتابوں کو اپنے مذہب کی سچائی پر پیش کرنے لگتا ہے اور اس طرح ایک نا ختم ہونے والی بحث شروع ہوجاتی ہے اور نتیجہ خاطر خواہ بر آمد نہیں ہوتا۔ نیز حقیقت میں چونکہ اکثر مسلمان دین اسلام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے دنیا بھر میں بد نام ہیں اوراکثر غیر مسلم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر دین اسلام واقعی سچا مذہب ہے تو اس پر مسلمان خود عمل کیوں نہیں کرتے؟
آج پوری دنیا جدید ٹیکنالوجی یعنی ٹی وی، ریڈیو ، انٹرنیٹ ، موبائیل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ ایک محلہ نما بن گئی ہے اور جب بھی کسی مسلمان سے کوئی غلطی سر زد ہوتی ہے تو اسے غیر مسلم ڈھنڈورا پیٹ کر مسلمانوں کو بد نام کرتے اور دین اسلام کے خلاف بھی پروپیگنڈا کرتے ہیں حالانکہ اس میں دین اسلام کا کوئی قصور نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی بد اعمالی کی وجہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدانخواستہ دین اسلام سچا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ بات تو غیرمسلم بھی مانتے ہیں کہ ان میں بھی بہت سے چور، جھوٹے، قاتل ،زانی و ظالم قسم کے لوگ موجود ہیں اور بہت سی گھناؤ نی حرکت بھی کرتے ہیں مگر اس کے باوجود غیر مسلم کبھی بھی اپنے مذہب کے خلاف کوئی پروپیگنڈانہیں کرتے ،اپنے اپنے مذہب کو سچا کہتے ہیں اور غلط لوگوں کی وجہ سے اپنے مذہب کو غلط نہیں کہتے ۔یعنی عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سارے عیسائی عیسائیت پر مکمل عمل نہیں کرتے اور ان میں بھی بہت گھٹیا حرکت کرنے والے اور فراڈ ی و دھوکہ باز ہوتے ہیں جن کی زندگی ہی جھوٹ پر بسر ہوتی ہے ۔ یہی حال دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکار وں کا بھی ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ غیر مسلم دنیا اپنے لوگوں کی غلط حرکتوں کی وجہ سے اپنے اپنے ادیان و مذاہب کو غلط نہیں کہتی لیکن اگر مسلمانوں سے اس قسم کی کوئی غلطی ہوتی ہے تو یہ لوگ فوراً دین اسلام پر کیچڑ اچھالنے لگتے ہیں اور اس کو بدنام کرنے لگ جاتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دلوں میں دین اسلام کیلئے حسد ، بغض و عداوت اور نفرت ہے جس کی بناء پر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ نیز دین اسلام اور مسلمانوں کے مغلوب ہونے کی وجہ سے پوری دنیا کے میڈیا پر چونکہ غیر مسلموں کو تسلط حاصل ہے اس بناء پر مسلمانوں کے میڈیا کو آزادی اظہار حق حاصل نہیں ہے ۔ غیر مسلم لوگ دین اسلام کی سچائی اور مسلمانوں کے اچھے کردار کو میڈیا پر کھل کر نہیں آنے دیتے اور حقیقت و صداقت پر پردہ ڈالتے ہیں اور غیر مسلموں کے اچھے کردار یا باطل ادیان و مذاہب کی اچھی باتوں کو میڈیا پر بھر پور انداز سے پیش کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے دنیا کی عوام الناس پر دین اسلام کی صداقت و حقانیت واضح نہیں ہوپاتی اور یہ لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کے ماتحت ہونے کی وجہ سے دین اسلام میں داخل نہیں ہوپاتے،اس لئے غیر مسلموں سے مقابلے کے لئے میں اولیاء اللہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حق کا ساتھ دینے کیلئے آگے بڑھیں اور میرا ساتھ دیں کیونکہ آپ لوگ ہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں اور آپ لوگ ہی دین اسلام کے غلبہ کے لئے میدان میں آسکتے ہیں۔ 
دین اسلام کو غالب کرنے کا ایک طریقہ میں نے یہ نکالاہے کہ کروڑوں کی تعداد میں جن مسلمانوں کی نعشیں صدیوں اور سالوں سے زمین میں ترو تازہ حالت میں محفوظ و صحیح و سالم ہیں ان کے واقعات کو دنیا کی عوام کے سامنے لایا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ کسی بھی غیر مسلم کی لاش نہ تو محفوظ ہے ، نہ ہی محفوظ رہتی ہے اور نہ ہی تا قیامت کسی بھی غیر مسلم کی لاش کے محفوظ رہنے کا واقعہ سامنے آسکتا ہے ۔ اگر کوئی غیر مسلم اس چیلنج کو قبول کرتا ہے تو سامنے آئے اور ثابت کرنے کے لئے بر سر عام مذکورہ چیلنج کو قبول کرے۔ جبکہ آج بھی ہزاروں اولیاء اللہ زندہ ہیں اور میں چیلنج کرتا ہوں اور ان اولیاء اللہ کے بارے میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ ان کی نعشیں قیامت تک محفوظ رہیں گی اور کروڑوں کی تعداد میں محفوظ رہ بھی چکی ہیں۔ اس طرح دنیا کی عوام الناس کے سامنے دین اسلام کی حقانیت واضح ہوجائے گی۔ 
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ٹنو ں من لکڑیوں کی آگ جلائی جائے پھر دنیا کے تمام میڈیا والوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اس کرامت کو ریکارڈ کرنے کے لئے حاضر ہوں۔ اس کے بعد دنیا کے تمام اولیاء اللہ جو آگ میں بحکم الٰہی نہیں جل سکتے وہ آگ میں داخل ہوں اور تقریباً 5منٹ تک ضرور اس میں رہ کر دنیا والوں سے خطاب کریں کہ دیکھو تم لوگ گواہ ہوجاؤ کہ ہم لوگ مسلمان ہیں کلمہ اسلام پڑھتے ہیں ، پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں ، دین اسلام کو اپنا مذہب مانتے اور اس پر چلنے کی بھر پور کوشش کرتے ، اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی و رسول مانتے اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام مانتے ہیں جس کی بدولت ہم آگ میں بھی نہیں جل پارہے ہیں ۔ اگر کوئی غیر مسلم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا مذہب سچا ہے تو اس وقت وہ بھی اپنے جسم پر کوئی کیمیکل استعمال کئے بغیراس آگ میں آکر دکھائے اور نہ جل کر اپنے مذہب کی سچائی کو ثابت کرے اور شرط یہ ہے کہ وہ زبان سے کہے کہ میں محمدﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا اور قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتا ۔ 
میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح ماضی میں ابراہیم علیہ السلام آگ میں نہیں جلے تھے اوربہت سے اولیاء اللہ نے بھی آگ میں زندہ کود کر غیر مسلموں کومسلمان بنایا جیسا کہ تاریخ شاہد ہے بالکل اسی طرح آج بھی جب اولیاء اللہ ایسا کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ یقیناًعوام الناس دین اسلام کو سچا مذہب سمجھ کر دین اسلام میں داخل ہونے لگیں گے۔ 
جتنے بھی غیر مسلم ہیں مرنے کے بعد ان کو جب جلایا جاتا ہے تو ان میں سے کوئی بھی جلنے سے محفوظ نہیں رہتا جبکہ میرے پاس ریکارڈ ہے کہ بعض مسلمانوں کو غیر مسلم سمجھ کر جلایا گیا تو وہ مرنے کے بعد بھی نہیں جلے۔ نیز یہ طریقہ اس لئے بھی صحیح ہے کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ بھی غیر مسلموں کو سزا دینے کے لئے جہنم میں آگ کی سزا دے گا اور وہ آگ میں جلیں گے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم خواہ کچھ بھی کرلے وہ آگ میں نہ جلنے کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جبکہ اولیاء اللہ ایسا کرسکتے ہیں ۔ اس طرح دین اسلا م اور دیگر ادیان و مذاہب کے مابین حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے گا۔ جیسا کہ اوپر میں نے ذکر کیا ہے کہ دنیا چونکہ جدید میڈیا و ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک محلہ کی طرح سے ہوگئی ہے اس لئے یہ خبر پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل جائے گی اور دنیا والے اس خبر کو خواہ جتنا بھی کوشش کرلیں چھپا نہیں سکیں گے اور اس طرح اللہ کے حکم اور اس کے توفیق سے لوگ جوق درجوق دین اسلام میں داخل ہونے لگیں گے اور دنیا جنت نما بن جائے گی اور انبیاء کرام خصوصاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام، شہد اء اسلام اور اولیاء اللہ نے ماضی میں دین اسلام کے لئے جوقربانیاں دیں اس کا پھل انشاء اللہ تعالیٰ بر آمد ہوجائے گا ۔
یہ کرامت روزانہ ہر ملک میں دنیا والوں کو دکھائی جائے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ صرف یہی آگ والی کرامت اور محفوظ لاشوں کے واقعات ہی کافی ہیں لہذا جن مسلمانوں تک میری یہ تحریر و پیغام پہنچ جائے میں اس کام کی اجازت تمام مسلمانوں کو دیتا ہوں ۔

Coronavirus Cure Pakistan