دنیا کے تمام غیر مسلموں کوبغیر کیمیکل استعمال کئے تروتازہ لاش کا چیلنج

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 14, 2012)

وہ لوگ جو قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں مانتے ، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی و رسول نہیں مانتے ، یا خالق کائنات یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک نہیں مانتے ، یا تمام آسمانی کتابوں جیسا کہ توریت ، زبور، انجیل ، قرآن اوردیگر صحف ابراہیم علیہ السلام کو نہیں مانتے ، یا فرشتوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ، یا تقدیر کو نہیں مانتے ، یا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے یا دیگر ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرتے ہوں ایسے خواتین و حضرات کو ہم قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق کافر و غیر مسلم کہتے ہیں ۔ اگر کوئی مرد و عورت مذکورہ تمام عقائد کو مانتا ہو مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی نبی و رسول یا کسی بھی آسمانی کتاب یا فرشتے کی بے ادبی یاگستاخی کرنے والا ہو تو اسے بھی ہم غیر مسلم اور کافر کہتے ہیں کیونکہ ان کی تعظیم و تکریم کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے لہٰذا اگر کوئی ان میں سے کسی کی بے ادبی و گستاخی کرتا ہے تو گویا وہ قرآن کریم کی اُن آیات کا انکار کررہا ہے جن سے اِن کی تعظیم و تکریم کرنا ثابت ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ جو کوئی قرآن کریم کی ایک آیت کا بھی انکار کرے گا یا بے ادبی کرے گا توقرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق وہ کافر و غیرمسلم ہوگا اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرنے والا ہے۔ 
میری تحقیق کے مطابق عیسائی ، یہودی ، ہندو ،قادیانی، گوتم بدھ کے ماننے والے ، سکھ اور پارسی خواتین و حضرات یہ سب غیر مسلم اور کافر ہیں کیونکہ یہ لوگ یا تو دین اسلام کے مذکورہ تمام عقائد پر ایمان نہیں لاتے ، یا ان میں سے اکثر پر ایمان نہیں لاتے یا کم از کم ان میں سے کسی ایک عقیدہ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں جیسا کہ مشاہدہ بھی بتاتا ہے ۔لہٰذا غیر مسلموں سے مراد وہ تمام مذکورہ افراد ہیں جو عیسائیت ، یہودیت ، ہندومت ، بدھ مت ، سکھ ازم ، پارسی ازم اور قادیانیت یا ان جیسے دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکار ہیں جو کہ دین اسلام کے مذکورہ عقائد پر ایمان نہیں رکھتے ۔ 
بہر حال جب مذکورہ تحریر سے ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق غیر مسلم و کافر کون ہیں تو اب میں ان تمام غیر مسلموں کو (جو دنیا میں اس وقت تقریباً 5ارب کی تعداد میں ہیں ) چیلنج دیتا ہوں کہ یہ سب مل کر کسی طرح بھی یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ان میں سے کسی بھی یہودی ، عیسائی ، ہندو ، بدھ مت ، سکھ ، پارسی یاقادیانی کی لاش قبرمیں یا زمین کے اوپر کہیں بھی ترو تازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے صحیح و سالم اور محفوظ ہے یا ان میں سے کسی کے مردہ جسم سے خود بخود خوشبو آرہی ہے یا ان میں سے کسی کے مردہ جسم میں تازہ خون موجود ہے یا ان میں سے کسی کے مردہ جسم کی آنکھ میں روشنی موجود ہے یا ان میں سے کسی کے مردہ جسم کا کفن صدیوں اور سالوں سے بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے صحیح و سالم اور محفوظ ہے ۔نیز میں یہ بھی چیلنج کرتا ہوں کہ آئندہ بھی تا قیامت ان میں سے کسی کی بھی لاش ترو تازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ و صحیح و سالم نہیں رہے گی اور نہ ہی ان میں سے کسی کی لاش سے خوشبو پھوٹے گی اور نہ ہی ان میں سے کسی کی لاش میں ترو تازہ خون موجود ہوگا اور نہ ہی ان میں سے کسی لاش کی آنکھ میں روشنی باقی رہے گی اور نہ ہی ان میں سے کسی مردہ جسم کا کفن محفوظ رہے گا۔ 
یہ چیلنج میں تمام غیر مسلموں اور کافروں کو اس لئے کررہا ہوں کہ یہ لوگ اپنے اپنے دین و مذہب کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آسمان میں اڑ سکتے ہیں ، پانی پر چل سکتے ہیں ، لاعلاج مریضوں کو اپنی طاقت سے شفایاب کرسکتے ہیں ،آگ برساسکتے ہیں ، پتھروں کی بارش کرسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور یہ سب کچھ حالات و واقعات اور تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ یہ لوگ ایسا کچھ کرسکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد ان سب کی لامافوق الفطرت طاقتیں کہاں چلی جاتی ہیں؟ اگر ان سب کا دین و مذہب سچا ہے تو مرنے کے بعد ایسا کوئی جسمانی ، جادوئی یا روحانی کرشمہ و کارکردگی دکھائیں تب مانا جائے گا کہ واقعی ان لوگوں کا بھی دین و مذہب سچا ہے اور ان کے دین و مذہب سے بھی اللہ تعالیٰ جس نے اس کائنات کو بنایا ہے راضی اور خوش ہے ۔ 
قرآنی تعلیمات کے مطابق مسلم ہو یا غیر مسلم و کافر جو بھی اس دنیا میں جیتے ہوئے کسی بھی قسم کی محنت و ریاضت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ و اجر اسی دنیا میں ضرور دے گا اور وہ دیتا بھی ہے۔ لہٰذا میرا موقف یہ ہے کہ چونکہ غیر مسلم و کافر بھی اس دنیا میں مجاہدہ اور دیگر ریاضت وعبادات کرتے ہیں جن میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنا، جھوٹ نہ بولنا ، ہمیشہ سچ بولنا ، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہ دینا وغیرہ وغیرہ یہ ایسے اعمال ہیں کہ جن کو کرنے سے انسان کو بہت سی کامیابیاں اور طاقتیں حاصل ہوجاتی ہیں جن کی بنا پر انسان مذکورہ فرق عادت افعال کو وجود میں لاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اتنی محنت کی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اسی لئے یہ لوگ جیتے جی اس دنیا میں ایسا کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں لیکن قرآنی تعلیمات کے مطابق جب یہ لوگ مرجاتے ہیں تو ان کی جسمانی طاقت ختم ہوجاتی ہے لہذا ان میں سے کسی کی لاش محفوظ نہیں رہتی ۔کیونکہ جو اعمال اور مجاہدے اس نے دنیا میں کئے ان کا صلہ اور بدلہ تو اللہ تعالیٰ اُن کو اِسی دنیا میں دے چکا ہوتا ہے اور بقول قرآن کریم کہ ایمان و اسلام سے خالی ہونے کی وجہ سے مرنے کے بعد اُن کو جہنم میں داخل کردیا جاتا ہے اور مرنے کے بعد کم سے کم کفر کے سبب جسمانی و روحانی دونوں اعتبار سے سزا شروع ہوجاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے ثابت ہے ۔ البتہ جس غیر مسلم نے دنیا میں اسلام کا یا مسلمانوں کا ساتھ دیا ہوگا ، اُ س کی اِس نصرت و اعانت کی وجہ سے جہنم میں جانے کے بعد اسکے جہنم کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا چچاابو جہل جو کہ کافر تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھاتو اس کے عوض جہنم میں اسے اس دن عذاب میں کمی کردی جاتی ہے جس دن اس نے لونڈی آزاد کی تھی ۔ یہ بات حدیث سے ثابت ہے ۔ لہٰذا دنیا میں جتنے بھی غیر مسلم ہیں خواہ انھوں نے دین اسلام کی مدد کی ہو یا مسلمانوں کی مدد کی ہو یا بری عادات سے اجتناب کیا ہو اور اچھی باتوں کو اختیار کیا ہو لیکن اگر ان کی موت حالت کفر میں ہوتی ہے تو ایسے تمام غیر مسلموں اور کافروں کو بقول قرآن کریم جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا اور یہ عذاب مرنے کے فوراً بعد ان کے جسم و روح دونوں کو شروع ہوجاتا ہے۔
اسی بنا پر میں نے اوپر چیلنج کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اُن میں سے کسی کی لاش ترو تازہ حالت میں نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی تا قیامت محفوظ رہے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مرنے کے بعد ہی اُن کو عذاب شروع ہوجاتا ہے تو اُن کے جسم میں ( دنیا میں ریاضت و مجاہد�ۂ نفس کی وجہ سے جو طاقت ملی تھی اس کا صلہ و بدلہ دنیا میں ہی مل جانے کی وجہ سے ) کوئی طاقت نہیں رہتی کہ وہ محفوظ رہ سکے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی مدد کی جاتی ہے کیونکہ وہ اُن سے کفر و شرک پر مرنے کی وجہ سے ناراض ہوتا ہے ۔ زمین بھی اُن کے جسم کی حفاظت نہیں کرتی کیونکہ ایک وجہ تو یہ ہے کہ زمین بھی اللہ تعالیٰ کی بات مانتی ہے لہٰذا اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم نہیں ہوتا کہ وہ ان لوگوں کی لاشوں کی حفاظت کرے۔دوسری وجہ یہ کہ زمین میں بذات خود کسی مردہ جسم کو محفوظ رکھنے کی طاقت و صلاحیت نہیں ہے ورنہ دوسرے فاسق و فاجر اور نام کے اربوں مسلمانوں کی لاشیں بھی محفوظ رہتیں جبکہ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ تمام مسلمانوں کی لاشیں محفوظ نہیں ہیں بلکہ صرف سچے مسلمانوں اور شہیدوں کی لاشیں محفوظ رہتی ہیں۔ 
بہر حال یہ باتیں جو میں نے غیر مسلموں کے بارے میں بتائی ہیں وہ دین اسلام کی تعلیمات سے ثابت ہیں اور اس کے ماہرین سے پوچھ کر تصدیق کی جا سکتی ہیں۔ البتہ میں مسلمانوں کے بارے میں بتادوں کہ وہ بھی اچھے اعمال اس دنیا میں کرتے ہیں تو اُن کو کچھ صلہ و بدلہ اس دنیا میں بھی مل جاتا ہے اور مرنے کے بعد تو پورا پورا صلہ و بدلہ ملتا ہی ہے کیونکہ اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے ان کے اعمال صرف دنیا ہی میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی کام آتے ہیں اور ان میں سے جو مسلمان فاسق و فاجر ہوتے ہیں اور گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہوتی ہیں تو ایسے مسلمان عارضی طور پر اپنے گناہوں کی سزا کاٹنے کیلئے جہنم میں جائیں گے اور بعد میں سزا بھگتنے کے بعد وہ لوگ جنت میں چلے جائیں گے ۔اگر مرتے وقت انکے گناہ معاف نہ ہوئے ہوں توان کومرنے کے بعد کچھ سزا شروع ہوجاتی ہے اور ان کے گناہوں کی کثرت کے سبب اللہ تعالیٰ ناراضی کی وجہ سے زمین کو ان کے جسموں کی حفاظت کا حکم جاری نہیں کرتا اس لئے ان کا جسم بھی مٹی میں سٹر گل جاتا ہے۔دوسری طرف ایسے مسلمان جن کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں جیساکہ انبیاء کرام علیہم السلام جو کہ گناہوں سے پاک و معصوم ہوتے ہیں یاپھر شہداء اسلام یا اولیاء کرام جن کے پاس نیکیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور گناہ بہت کم ہوتے ہیں ان سب سے اللہ تعالیٰ راضی و خوش ہوتا ہے اس لئے اُن سب کا جسم مبارک صدیوں اور سالوں کے بعد بھی سڑنے گلنے سے محفوظ رہتا ہے اور ان کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔ میں یہ بات حلفیہ کہتا ہوں کہ ان میں سے بعض کے جسموں سے خوشبو آتی ہے ، بعض کے جسموں میں ترو تازہ خون ہوتا ہے اور بعض کی آنکھ میں روشنی بھی باقی رہتی ہے اور زندہ انسانوں کی طرح ان کا جسم صحت مند رہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اُن کو روحانی غذا دیتا ہے ۔ 
بہر حال میں دنیا بھر کے تمام غیر مسلموں کو مذکورہ چیلنج دیتا ہوں کہ وہ دنیا کے سامنے اس چیلنج کو قبول کریں یا پھر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور اپنے آپ کو مرنے کے بعد والی زندگی میں جہنم سے بچائیں اور اولیاء کرام کی طرح زندگی گزار یں تاکہ اُن کا جسم بھی قبروں میں سٹرنے گلنے سے محفوظ رہے اور جنت میں بھی اعلیٰ مقام پائے۔
اُمید ہے کہ غیر مسلم خواتین و حضرات میری باتوں پر خلوص دل سے توجہ دیں گے اور ہٹ دھرمی و بغاوت کا رویہ اختیار نہیں کریں گے ۔

Coronavirus Cure Pakistan