دنیا کے سامنے جلتی آگ میں داخل ہونے کا مظاہرہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 14, 2012)

دنیا میں سات مشہور ادیان و مذاہب ہیں ۔ اسلام ، عیسائیت ، یہودیت ، ہندو مت، بدھ مت ، سکھ ازم اور پارسی ازم، ان تمام ادیان و مذاہب کے پیروکار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف ان کا دین و مذہب ہی درست اور سچا ہے اور باقی تمام ادیان و مذاہب غلط اور باطل ہیں یا نامکمل و منسوخ ہیں ۔ گویا ان تمام مذاہب کے پیروکار قولاً اور عملاً اس بات پر متفق ہیں کہ سچا مذہب ان ساتوں میں سے کوئی ایک ہی ہے ۔ یہ بات ویسے عقلاً بھی محال اور ناممکن ہے کہ بیک وقت دو یا دوسے زائد ادیان و مذاہب اللہ تعالیٰ یعنی خالق کائنات کے نزدیک سچے اور درست ہوں کیونکہ ہر دو مذہب میں عقائد اور عبادت و معاملات میں تضاد پایا جاتاہے۔ مثلاًاگر کوئی یہ کہے کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں ایک ہی تاریخ کو ایک ہی جگہ پر موجود بھی ہے اور نہیں بھی ہے تو تضاد کہلائے گا اور کوئی بھی عقلمند آدمی اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اسی طرح ان تمام ادیان و مذاہب میں عقائد و عبادات اور طرز معاشرت میں مکمل تضاد پایا جاتا ہے اس لئے کسی بھی دین و مذہب کا پیروکار یہ نہیں کہتا کہ ان ساتوں ادیان و مذاہب میں سے ہر ایک اپنی جگہ درست اور سچا ہے ۔ اسلام کے علاوہ دوسرے تمام ادیان و مذاہب میں نہ تو صرف ایک اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا عقیدہ ہے اور نہ ہی صرف ایک اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ۔ ان ساتوں مذاہب کے اندر بہت سی چیزیں حلال اور قابل استعمال ہیں جبکہ وہی چیزیں دوسرے ادیان و مذاہب میں حرام اور ممنوع ہیں۔ یہ چند مثالیں میں نے یہاں پر نہایت ہی اختصار کے ساتھ ذکر کی ہیں ورنہ تضادات کی تفصیل بہت ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ اسی وجہ سے تمام ادیان و مذاہب کے پیروکار صرف اپنے ہی دین و مذہب کو درست و سچا مانتے ہیں اور باقی تمام ادیان و مذاہب کو غلط ، منسوخ یا نامکمل مانتے ہیں ۔ 
اس لئے میں نے مسلمان ہوتے ہوئے یہ سوچا کہ کیوں نہ ان تمام ادیان و مذاہب کو ایسی دلیل کی روشنی میں چیک کیا جائے جو تمام ادیان و مذاہب کے پیروکار وں کے نزدیک مسلم اور ناقابل انکار ہو تاکہ تمام پیروکار چیکنگ کے اس طریقہ کار کو دل سے قبول کریں اور پھر جوبھی دین و مذہب سچا ثابت ہو اسی کو تمام انسانوں کا دین و مذہب قرار دیا جائے تاکہ دنیا میں صرف ایک دین و مذہب باقی رہے اور یہ دنیا جنت نما بن جائے۔اسطرح دنیا غربت و افلاس ، جہالت و بدامنی نیز دیگر پریشان کن مسائل سے نجات حاصل کرلے گی نیز ایٹمی جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹل جائے گااور یہ دنیا بلاوجہ تباہ و برباد ہونے سے محفوظ رہ جائیگی۔ 
دین و مذہب کو چیک کرنے کا سب سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے پیروکار وں کو چیک کیا جائے کہ کسی بھی دین و مذہب پر عمل کرنے سے اس کے پیروکاروں کو اس دنیا میں کیا طاقت و قوتیں اور مدد ملتی ہیں اور مرنے کے بعدانہیں کونسی طاقت و قوتیں اور مدد ملتی ہیں لہٰذا میں نے دو طریقے منتخب کئے جو ہر مذہب کے پیروکاروں کو چیک کرنے کے لئے ہیں۔ پہلا طریقہ تو انسان کے زندہ ہونے کی صورت میں اختیار کیا گیا ہے جبکہ دوسرا طریقہ انسان کے مرنے کے بعد کا اختیار کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ زندگی میں اسے کیا ملا اور مرنے کے بعد جبکہ روح اس کے جسم سے نکل چکی ہے اسے کیا ملتا ہے ۔
(1) پہلا طریقہ: آگ
پہلا طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے سات براعظم ہیں۔ان ساتوں میں سے ہر ایک براعظم میں تین ماہ پہلے سے مندرجہ ذیل عمل کا اعلان کیا جائے اور پھرمقرر شدہ تاریخ اور وقت پر ایک میدان میں مندرجہ ذیل عمل کیا جائے جبکہ اس وقت دنیا کے تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا وہاں پر موجود ہوں نیز تمام ادیان و مذاہب میں سے پندرہ پندرہ ماہر ترین ججز اورماہر ترین وکلاء ہوں جو مندرجہ ذیل عمل کی نگرانی کریں اور تصدیق کریں کہ کہیں دھوکہ نہ ہورہا ہو اور نہ ہی کسی دین ومذہب کے پیروکاروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو۔ بالفرض اگر دنیا کے غیر مسلم اس عمل کے لئے ساتھ نہ دیں تو صرف مسلمان ہی ساتھ دیں تاکہ ’’مذہبی اقوام متحدہ ‘‘ کے پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے کہ ان ساتوں ادیان و مذاہب میں سے کون سا مذہب درست اور سچا ہے تاکہ پھر کوئی بھی دنیا کے انسانوں کو دھوکے میں رکھنے یا گمراہ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ 
عمل یہ ہے کہ ایک بڑے میدان میں جہاں تک عوام الناس کی رسائی آسانی سے ہو سکے مذکورہ تاریخ اور وقت پر ٹنوں من لکڑیاں اکٹھی کرکے جلائی جائیں اوردنیا کے سچے مسلمان اپنے جسم پر بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے اس جلتی ہوئی آگ میں چلے جائیں ، 5منٹ تک اسی آگ میں رہنے کے بعد باہر آجائیں اور پھر اسلام کی سچائی پر تقریر کریں نیز دوسرے ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کو بھی اسی آگ میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے داخل ہونے اور 5منٹ تک اس میں رہنے کی دعوت دی جائے۔جب بھی کسی مذہب کا پیروکار اس آگ میں جانا چاہے گا تو اس کا باضابطہ اعلان ہو گا کہ وہ فلاں مذہب و عقائد کا پیروکار ہے تاکہ لوگوں سے کوئی بات مخفی اور پوشیدہ نہ رہ سکے۔ اگر وہ باحفاظت سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر آجاتا ہے تو یہ اس مذہب کے سچا ہونے پر دلیل ہوگی اور اگر وہ آگ میں جل گیایا جلتے ہوئے باہر آیا تو یہ اس کے مذہب کے باطل ہونے پر ثبوت ہوگا نیز پھر وہ پیروکار یہ دعویٰ نہیں کرسکے گا کہ اس کا مذہب سچا ہے ۔ یہ عمل ساتوں بر اعظم میں سے ہر ایک میں کیاجائے اور جگہ کسی اسلامی ملک میں ہو ۔ 
یہ طریقہ کسی بھی مذہب کو چیک کرنے کیلئے اس لئے نا قابل انکار ہے کہ آگ ایک غیر جانبدار شئے ہے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کی بات مانتی اور اس کی فرمانبردار کرتی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے نیز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی مخلوق یعنی انسان کی آگ پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی اور نہ ہی کسی انسانی جسم میں ذاتی طور پر یہ طاقت ہے کہ اس کا جسم آگ میں نہ جلے اس لئے مسلمانوں کو ایسا ضرور کرنا چاہئے ۔ نیز غیر مسلم بھی اس بات کو تسلیم کریں گے کہ آگ کوئی اسلام پسند ، فرقہ فرست اور متعصب شئے نہیں ہے کہ اس کے بارے میں اسلام سے جانبدار ہونے کا سوچا جائے کیونکہ آگ سے تمام ادیان و مذاہب کے لوگ کھانا پکاتے اور دوسرے فوائد حاصل کرتے ہیں لہٰذا کسی بھی غیر مسلم کو اس چیکنگ پر اعتراض نہ ہوگااور اگر کوئی یہ کہے کہ ادیان و مذاہب کی چیکنگ کے لئے آگ کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کئے جائیں توپھر مٹی کے طریقے کو اختیارکیا جائے گا جوکہ میں نے دوسرے طریقے میں ذکر کیا ہے۔ ان دونوں طریقوں کے علاوہ دیگر طریقوں پر شبہ ہوسکتا ہے لہٰذا اس تفصیل میں نہ جایا جائے ورنہ وقت کا ضیاع ہوگا ۔نیز اگر کوئی آگ اور مٹی کے طریقوں پر اعتراض کرتا ہے تو اس کا یہی مطلب سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اِن اعتراض کرنے والوں کو دراصل ہدایت نہیں دینا چاہتا لہٰذا ہمیں ان کی فکر نہیں ۔کیونکہ اگرحقیقت کوہزاروں یا لاکھوں انسانوں کے سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود غیر جانبدار جج یعنی آگ کے انصاف کو کوئی نہ مانے تو اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں پر کفر کی مہر لگادی ہے لہٰذا انہیں بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ 
جب کسی بر اعظم میں مذکورہ عمل کیا جائے، اسی وقت دوسرے بر اعظم میں عمل کرنے کی تاریخ اور وقت کااعلان بھی وہیں کردیا جائے اور تین ماہ بعد وہاں منعقد کیا جائے۔ اس طرح تقریباً اکیس ماہ میں ساتوں براعظم کے اندر مذکورہ عمل مکمل کرلیا جائیگا اور دنیا میں صرف ایک ہی مذہب باقی رہ جائے گا اور باقی ادیان و مذاہب باطل و منسوخ قرار پائیں گے ۔نیزمجھے یقین ہے کہ ہر صورت میں جیت دین اسلام کی ہی ہوگی ۔ 
(2) دوسرا طریقہ: مٹی
دوسرا طریقہ آگ سے بحفاظت با ہر آنے کے بعد کا ہے کہ یہ لوگ اعلان کریں کہ کروڑوں کی تعداد میں ترو تازہ حالت میں صرف سچے مسلمانوں اور شہید وں کی نعشیں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے صدیوں اور سالوں سے قبروں میں مسلم قبرستانوں میں صحیح و سالم اور محفوظ ہیں اور تا قیامت سچے مسلمانوں اور شہیدوں کی نعشیں محفوظ ہوتی رہیں گی جو اس بات کاکھلا ثبوت ہے کہ صرف دین اسلام ہی خالق کائنات یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے سچا مذہب ہے اور اس کے علاوہ دیگر تمام ادیان و مذاہب جو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے کے ہیں وہ باطل، نا مکمل اور منسوخ ہیں۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اب تک یعنی 1433 ؁ھ تک یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کی لاش ترو تازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ نہیں رہی اورہمیشہ کیلئے یہ ایک چیلنج ہے کہ آئندہ بھی تا قیامت محفوظ نہیں رہے گی نیز آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی ہندو کی لاش جلنے سے محفوظ رہی ہویا آگ میں جلاتے وقت نہ جلے جبکہ مسلمانوں کی نعشوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ وہ آگ میں جلنے سے محفوظ رہی ہیں نیز اُن غیر مسلموں میں سے کسی کی لاش پانی میں بھی سٹرنے گلنے سے محفوظ نہیں رہتی جبکہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے ۔ 
بہر حال مذکورہ خطاب اسی آگ کے مظاہرے کے وقت کیا جائے، ویب سائٹ کا پتہ دیا جائے ، ویڈیو دکھائی جائے اورجن لوگوں نے لاشوں کو محفوظ دیکھا ہے ان کا ای میل اور فون نمبر زدئیے جائیں نیز تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا جائے تاکہ غیر مسلم جس طرح چاہیں اس بات کی تصدیق کرلیں ۔لہٰذا ثابت ہوا کہ دین اسلام میں یہ طاقت ہے کہ اپنے سچے پیروکاروں کی نعشوں کومرنے کے بعدخاک میں بھی قیامت تک محفوظ رکھتا ہے جو اس مذہب کی سچائی پر اسی دنیا میں ایک ناقابل ثبوت اور ناقابل انکار دلیل ہے ۔

Coronavirus Cure Pakistan