تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشیں مبارکہ محفوظ ہیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا جسم مبارک صدیوں سے زندہ انسانوں کی طرح صحیح و سالم اور محفوظ ہے ۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی محمدﷺ تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے جن میں سے تمام کا انتقال ہوا سوائے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے کہ بقول قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ ہی آسمان پر اٹھالیا ہے۔
مزکورہ دعویٰ کی دلیل حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک مرفوع حدیث ہے جو ابو داؤد شریف اور نسائی شریف کے حوالے سے جمع الفوائد جلد نمبر ۱ حدیث نمبر۱۹۲۴ کے تحت مذکور ہے۔اس حدیث کا ترجمہ و مفہوم یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے کیونکہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن ان کا انتقال ہوا۔اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن تمام انسان بے ہوش ہوجائیں گے لہذا جمہ کے دن تم لوگ میرے اوپر کثرت سے درود بھیجنا کیونکہ تم لوگوں کا درودمجھ پر پیش کیا جائے گا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺ ہم سب کا درود آپﷺ پر کیسے پیش کیا جائے گا حالانکہ آپﷺ تو زمین میں گل سڑ چکے ہونگے؟آپﷺ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشوں کوسڑانے گلانے سے منع کردیا ہے۔
قارئین گرامی! مذکورہ حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نعش ہائے مبارکہ زمین میں صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔نیز حدیث مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ زمین میں بذات خود انسانی نعشوں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت و استعداد نہیں ہے کیونکہ حفاظت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اجسام انبیاء کرام علیہم السلام کے کھانے سے منع کیا ہے۔اور حقیقت بھی یہی ہے جیسا کہ ہم سب ہی کو معلوم ہے کہ اربوں کھربوں دیگر مسلمانوں کی نعشیں زمین میں سڑ گل گئیں اور گورکنوں کامشاہدہ بھی ہوتا رہتا ہے کہ پرانی قبروں سے صرف انسانی ہڈیاں ہی نکلتی ہیں لہذا ثابت ہوا کہ اگر زمین میں مردہ جسم انسانی کو محفوظ رکھنے کی بذات خودصلاحیت ہوتی تو انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح دیگر عام مسلمانوں کی بھی ساری نعشیں محفوظ رہتیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔
اربوں کھربوں عام مسلمانوں کی نعشوں کا محفوظ نہ رہنا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشوں کا محفوظ رہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ انبیاء کرام علیہم السلام سے انکی عبادت و ریاضت،زہد و تقویٰ اور پرہیزگاری سے راضی اور خوش ہے۔ اسی لئے اللہ نے ان کے جسموں کو بھی مٹی اور قبر کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ کردیاجو کہ ایک طرح سے ان کا اعزاز و اکرام ہے اس لئے کہ جسم کا پھولنا،پھٹنا اور پھر اس سے بدبو آنا اچھی بات نہیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے منتخب اور چنیدہ بندے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کومن و عن اس کے بندوں تک پہنچاتے ہیں اور چونکہ بچوں اور فرشتوں کی طرح معصوم ہوتے ہیں اس لئے ایسی ہستیوں کیلئے یہ مناسب نہیں تھا کہ ان کا جسم خاکی مٹی میں مل جائے۔
لیکن عام مسلمانوں کی نعشیں اس لئے سڑ گل جاتی ہیں کہ ان میں سے اکثر جھوٹے ،منافق،فاسق و فاجر اور اللہ تعالیٰ کے نا فرمان بھی ہوتے ہیں لہذایہ لوگ اللہ تعالیٰ کہ اس معیار پرپورے نہیں اترتے جس کی وجہ سے اللہ راضی ہوتاہے۔اسی لئے ایسے لوگوں کی نعشیں سڑ گل جاتی ہیں۔جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ زمین نعشوں کو صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے محفوظ رکھتی ہے۔
اگر کوئی غیر مسلم یہ سوال کرے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشوں کو محفوظ ثابت کرنے کیلئے آپ نے جو دلیل دی ہے وہ ایک حدیث ہے جبکہ ہم لوگ(غیر مسلم)حدیث کو مانتے ہی نہیں؟تو اسکے تین جواب ہیں:
۱) پہلا جواب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا مقام و رتبہ شہیدوں سے بہت ہی بلند و بالا ہے۔ لہذاجو مسلمان دین اسلام کیلئے قتل ہوئے جب ان کی نعشیں محفوظ ہیں(جیسا کہ میرے دیگر مضامین میں شہداء اسلام کے سچے واقعات سے ثابت ہے)توپھر انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشیں کیوں محفوظ نہ ہونگی؟
۲)دوسرا جواب یہ ہے کہ آجکل ایسے سائنسی آلات موجود ہیں کہ جن کے ذریعہ زمین کے اندر محفوظ جسموں کو با آسانی دیکھا جا سکتا ہے لہذا جہاں کہیں بھی یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ نبی کی قبر ہے اسے کیمرہ کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے۔
۳)تیسرا جواب یہ ہے کہ غالباً نورالدین زنگی رحمتہ اللہ کے زمانے میں یہ واقعہ بہت ہی مشہور ہوا تھا کہ دو یہودی سرنگ کھود حضرت محمدﷺکی نعش کے قریب پہنچ گئے تھے کہ آپﷺنے نورالدین زنگی رحمتہ اللہ کے خواب میں آکر بتایا کہ دو شخص میری قبر تک پہنچ رہے ہیں اور ان دونوں کا حلیہ بھی دکھا دیا۔چنانچہ مذکورہ بادشاہ نے جب مدینے منورہ کے تمام افراد کا معائنہ کیا اور مسجد نبوی میں موجود لوگوں کا بھی تو دو یہودی پکڑے گئے اور سرنگ بھی کھودی ہوئی ملی۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کو بھی اس بات کا علم اور یقین تھا کہ آپﷺکا جسم مبارک محفوظ ہے ۔
چنانچہ جب آپﷺکا جسم مبارک اللہ تعالیٰ کے حکم سے محفوظ ہے تو دیگرانبیاء کرام کا جسم مبارک بھی محفوظ ہوگاکیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمدﷺسے خوش ہے اسی طرح دیگر انبیاء کرام سے بھی خوش ہے۔
اس واقعہ سے آپﷺکی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ آپﷺنے اپنی حیات میں بارہا دعویٰ کیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا نبی و رسول ہوں۔لہذا اگر وہ جھوٹے (نعوذباللہ) نبی اور رسول ہوتے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے کیو ں صدیوں سے آپﷺ کا جسم مبارک محفوظ رکھا؟
لہذا غیر مسلموں کوچاہیے کہ اس واقعہ کی حکومت سعودی عرب سے تحقیق کر کے حضرت محمدﷺکے لائے ہوئے سچے دین اسلام میں شامل ہوجائیں ورنہ اس سوال کا جواب دیں کہ حضرت محمدﷺ کا جسم محفوظ کیوں ہے؟

Coronavirus Cure Pakistan