تمام صحابہ کرام علیہم اجمعین کی نعشیں محفوظ ہیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

جن ہستیوں کی ایمان کی حالت میں حضرت محمدصلى الله عليه وسلم سے ملاقات ہوئی اگرچہ تھوڑی ہی دیر کیلئے ہوان کو صحابی یعنی آپ صلى الله عليه وسلم کا ساتھی کہا جاتا ہے بشرطیکہ ان کا خاتما ایمان پر ہوا ہو۔

امتّ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ادنیٰ درجہ کے صحابی کے مقام کو غیر صحابی نہیں پا سکتا۔

اور یہ کہ امتّ مسلمہ میں ان کا شمار سب سے افضل ہستیوں میں ہوتا ہے نیز انبیاء کرام علیہم السلام تو معصوم ہوتے ہیں لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں اور اگر ان میں کسی سے گناہ کا ارتکاب بھی ہوا تو انہوں نے توبہ کر لی تھی۔

قرآن کریم میں جا بجا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف و توصیف مذکور ہے۔

مثلاً سورۃ الفتح، سورہ نمبر48، آیت نمبر29 میں ہے کہ محمدصلى الله عليه وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو انکے ساتھی ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔تم انہیں رکوع و سجود کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور خوشنودی کو تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے وغیرہ وغیرہ۔

نیز قرآن کریم سورۃالمائدہ، سورہ نمبر5، آیت نمبر119میں واضح طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور یہ مقام و مرتبہ ان کو کیوں نہ حاصل ہو کہ جتنی بھی قربانیاں انہوں نے محمدصلى الله عليه وسلم اور دین اسلام کیلئے دیں اتنی قربانیاں کسی نے بھی نہیں دیں۔

نیز وہ لوگ صاف گو،صاف دل اور گفتار و کردار کے پکے تھے کہ اللہ نے بھی ان کی تعریف کی اور یہی تعریف ان کے لئے کافی ہے۔

بہرحال میری روحانی تحقیق کے مطابق تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نعشیں مبارکہ محفوظ ہیں۔ صاحب نظر بزرگان دین جب روحانی طور پر تحقیق کریں گے تو انشاء اللہ میری اس تحقیق اوردعوے کو سچ پائیں گے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ محمدصلى الله عليه وسلم کے بلا واسطہ شاگرد تھے اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ جیسا کہ میں یہ بات انبیاء کرام علیہم السلام کے ضمن میں بتا چکا ہوں کہ زمین نعشوں کو بذات خود محفوظ نہیں رکھتی بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی سے زمین کو حفاظت کا حکم کرتا ہے۔

لہذا جب اللہ تعالیٰ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خوش ہے تو لا محالہ ان کی نعشیں بھی محفوظ ہوں گی۔نیز جب کروڑوں کی تعداد میں سچے مومنین ومومنات کی نعشیں محفوظ ہیں تو اُن افضل ہستیوں کی بدرجہ اولیٰ محفوظ ہوں گی۔

فی الحال میں صرف پانچ صحابہ کرام کی نعشوں کے محفوظ رہنے کے واقعات ذکر کروں گا۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو کہ مرادِ رسول صلى الله عليه وسلم،خسر رسول صلى الله عليه وسلم اور عدل و انصاف کے پیکر تھے ان کا جسم مبارک بھی بالکل صحیح و سالم اور محفوظ ہے۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب دو یہودی محمدصلى الله عليه وسلم کا جسم مبارک سرنگ کھود کر نکال لے جاناچاہتے تھے تووہ دونوں پکڑے گئے ۔

اس واقعہ کے بعد اُس وقت کی حکومت نے آپ صلى الله عليه وسلم اور آپ صلى الله عليه وسلم کے دونوں عظیم خلفاء حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبروں کے چاروں طرف شیشہ پلائی دیوار قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس مقصد کیلئے جب چاروں اطراف میں کھدائی کی جا رہی تھی تو کھدائی کے دوران دو پاؤں صحیح و سالم نظر آئے اور یہ دونوں پاؤں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے تھے جس سے ثابت ہوا کہ ان کا جسم مبارک بھی محفوظ ہے۔

ایک مرتبہ میں کمپیوٹر پر انگریزی زبان میں محفوظ نعشوں کے واقعات لکھ رہا تھا لیکن اتفاق سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ لکھنا بھول گیا تھاکہ انہی دنوں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بس کی ڈرائیونگ کر رہا ہوں اور بس اسٹاپ پر پہنچ چکا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میری بس کا پچھلا ٹائر کسی شخص کی دونوں پنڈلیوں پر سے گزر گیا ہے ۔

جب میں بس کے بائیں جانب والا سائیڈ کا شیشہ دیکھتا ہوں تو ایک شخص لیٹا ہوا نظر آیا جس کی دونوں پنڈلیوں سے میری بس گزر گئی تھی ۔

بعد میں جب میں نے روحانی طور پر معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی تھے جو مجھے یاد دلا رہے تھے کہ تم مجھے بھول کر گزر گئے ہو۔

قارئین گرامی!اگرچہ آپ اس خواب اور روحانی تحقیق کو نہ مانیں لیکن کھدائی کے دوران جو نظر آیا تھا اس کو ہی مان لیں میرا مدّعا ثابت ہے۔

کچھ لوگ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب سے اپنے دل میں بغض رکھتے ہیں۔

ان سے میں صرف اتنا کہنا چاہوں گااگر(نعوذباللہ تعالیٰ)وہ دونوں اتنے ہی برے تھے تو جس طرح محمدصلى الله عليه وسلم نے خواب کے ذریعہ دونوں ملعون یہودیوں کو پکڑ وایا تھا توآپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے ان دونوں خلفاء کو اپنے پہلو میں خواب کے ذریعہ دفن کرنے سے منع کیوں نہیں کیا تھا؟

نیز اگر دونوں دفن ہو بھی گئے تھے تو آج چودہ سو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی آپ صلى الله عليه وسلم نے کسی کو مذکورہ حکم نہیں دیا۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے دل میں ان دونوں صحابیوں کے خلاف بغض رکھتے ہیں وہ نہایت ہی سنگین جرم کر رہے ہیں اور محمدصلى الله عليه وسلم پر اس حد تک بے خبری کا الزام ہے کہ چودہ سو سال کا عرصہ گزر گیا اور آپ صلى الله عليه وسلم کو روحانی طور پر پتہ نہ چل سکا کہ ان کے پہلو میں دو ایسے شخص مدفون ہیں جن سے میں اور میرا رب ناراض ہیں؟(نعوذ باللہ من ذالأ)

بہرحال اب آگے میں مزید چارصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات کو ذکر نے جا رہا ہوں جن میں سے دو صحابہ حضرت حذیفہ بن یمان اور عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ ہیں۔

حضرت مولانا محمد تقی عثمانی جو میرے ترمذی شریف کے استادبھی ہیں نیز جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی کے نائب صدر اور سابق چیف جسٹس شریعت اَ پیلیٹ بینچ آف پاکستان ہیں اور دنیا میں مستند عالم دین و مفتی مانے جاتے ہیں۔

ان کی ایک کتاب بنام’’جہان دیدہ‘‘ جو دراصل ایک سفر نامہ ہے اور مکتبہ ادارۃ المعارف کورنگی کراچی کی جانب سے ۱۹۸۹ء میں شائع ہوئی ہے ۔اسکے صفحہ نمبر ۵۵ پر(ایک ایمان افروز واقعہ)کے تحت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ کے جسموں کے محفوظ رہنے کا واقع ہے جومیں یہاں بیان کرنے جارہا ہوں۔

تاکہ قارئین گرامی تک پوری بات سامنے آجائے اور کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ کے مزارات کے ساتھ اِسی صدی میں ایک عجیب و غریب اور ایمان افروز واقعہ رونما ہوا جو آجکل بہت کم لوگوں کو معلوم ہے ۔

یہ واقعہ میں نے پہلی بار جناب مولانا ظفر احمد صاحب انصاری سے سنا تھا پھر بغداد میں وزارت اوقات کے ڈائیریکٹر تعلقات عامہ جناب خیراللہ حدیثی صاحب نے بھی اجمالاًاس کا ذکر کیایہ ۱۹۲۹ء کا واقعہ ہے۔

اس وقت عراق میں بادشاہت تھی۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ کی قبریں اُس وقت یہاں(مسجدسلمان کے احاطے میں)نہیں تھیں بلکہ یہاں سے کافی فاصلے پر دریائے دجلہ اور مسجد سلمان کے درمیان کسی جگہ واقع تھیں۔

۱۹۲۹ء میں بادشاہ وقت نے خواب میں دیکھا کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ فرمارہے ہیں کہ ہماری قبروں میں پانی آرہا ہے اس کا مناسب انتظام کرو۔

بادشاہ نے حکم دیا کہ دریائے دجلہ اور قبروں کے درمیان کسی جگہ گہری کھدائی کر کے دیکھا جائے کہ دجلہ کا پانی اندرونی طور پر قبروں کی طرف رس رہا ہے یا نہیں۔

کھدائی کی گئی لیکن پانی رسنے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے چنانچہ بادشاہ نے اس بات کو ایک خواب سمجھ کر نظر انداز کر دیا لیکن اس کے بعد پھر غالباً ایک سے زیادہ مرتبہ وہی خواب دکھائی دیا جس سے بادشاہ کو بڑی تشویش ہوئی اور اس نے علماء کو جمع کر کے ان کے سامنے یہ واقع بیان کیا۔

ایسا یاد پڑتا ہے کہ اُس وقت عراق کے کسی عالم نے بھی بیان کیا کہ انہوں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے۔ لہذامشورے اور بحث و تمہید کے بعد یہ بات قرار پائی کہ دونوں بزرگوں کی قبر مبارک کو کھود کر دیکھا جائے اور اگر پانی وغیرہ آرہا ہو تو ان کے جسموں کو منتقل کیا جائے ،اُس وقت کے علماء نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا۔

چونکہ قرونِ اولیٰ کے دو عظیم بزرگوں اور صحابی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی قبروں کو کھولنے کا تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھااس لئے حکومت عراق نے اس کا بڑا زبردست اہتمام کیا اور اس کے لئے ایک تاریخ مقرر کی تاکہ لوگ بھی اس عمل میں شریک ہو سکیں۔

اتفاق سے وہ تاریخ ایام حج کے قریب تھی لہذا جب اس ارادے کی اطلاع حجاز پہنچی تو وہاں حج پر آئے ہوئے لوگوں نے حکومت عراق سے درخواست کی کہ اس تاریخ کو قدرے مؤخر کر دیا جائے تاکہ حج سے فارغ ہو کر جو لوگ عراق آنا چاہیں آ سکیں۔

چنانچہ حکومت عراق نے حج کے بعد ایک تاریخ مقرر کر دی۔کہا جاتا ہے کہ مقرر تاریخ پر نہ صرف اندرون عراق بلکہ دوسرے ملکوں سے بھی خلقت کا اس قدر ازدہام ہوا کہ حکومت نے سب کو یہ عمل دکھانے کے لئے بڑی بڑی اسکرینیں دور تک فٹ کیں تاکہ جو لوگ براہ راست قبروں کے پاس یہ عمل نہ دیکھ سکیں وہ ان اسکرینوں پر اس کا عکس دیکھ لیں۔

اس طرح یہ مبارک قبریں کھولی گئیں اور ہزارہاافراد کے سمندر نے یہ حیرت انگیز منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تقریباً تیرہ صدیاں گزرنے کے باوجود دونوں بزرگوں کی نعش ہائے مبارکہ صحیح و سالم اور تروتازہ تھیں۔

ایک غیر مسلم ماہر امراض چشم بھی وہاں موجود تھا۔اس نے نعش مبارک کہ دیکھ کر بتایا کہ ان کی آنکھوں میں ابھی تک وہ چمک موجودہے جو کسی مردے کی آنکھوں میں انتقال کے کچھ دیر بعد بھی موجود نہیں رہ سکتی چنانچہ وہ غیر مسلم یہ منظر دیکھ کر اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ہو گیا۔

نعشہائے مبارکہ کو منتقل کرنے کیلئے پہلے سے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے قریب جگہ تیار کر لی گئی تھی۔وہاں تک جانے کیلئے نعشہائے مبارکہ کو جنازے پر رکھا گیا ،اس میں لمبے لمبے بانس باندھے گئے اور ہزارہاافراد کو کندھا دینے کی سعادت نصیب ہوئی اور اس طرح اب ان دونوں بزرگوں کی قبریں موجودہ جگہ پر بنی ہوئی ہیں۔

حضرت مولانا ظفر احمد صاحب انصاری کا بیان ہے کہ ۱۹۲۹ء کا واقعہ مجھے یاد ہے۔اُس زمانے میں اخبارات کے اندر اس کا بڑا چرچا ہوا تھا۔اور اُس وقت ہندستان سے ایک ادبی گھرانے کا ایک جوڑا عراق گیا ہوا تھا۔اُن دونوں میاں بیوی نے یہ واقعہ بچشم خود دیکھا اور غالباً بیوی نے اپنے اِس سفر کی روادادکواپنے سفر نامے میں تحریر کیا جو کتابی شکل میں شائع ہوا اور اس کی ایک کاپی حضرت مولانا کے پاس محفوظ ہے۔

اس سفر نامے میں یہ بھی مذکور ہے کہ اُس وقت کسی غیر ملکی فرم کے ذریعے اس پورے عمل کی عکس بندی بھی کی گئی تھی اور بہت سے غیر مسلم بھی یہ واقعہ خاص طور پر دیکھنے آئے تھے وہ اس اثر انگیز منظر سے نہ صرف بہت متاثر ہوئے بلکہ بہت سے لوگوں نے اس منظر کو دیکھ کردین اسلام قبول کرلیا۔

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنے دین کی حقانیت کیلئے ایسے معجزے کبھی کبھی دکھاتا ہے ۔قرآن کریم میں ہے کہ ہم ان کوآفاق میں بھی اور خود ان کے وجود میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے تا کہ ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ حق صرف وہی ذات باری تعالیٰ ہے۔( فصلت، سورہ نمبر41، آیت نمبر 53)

یہاںیہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں تو یہ عجیب و غریب اتفاق ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ان کے دادا کے ساتھ بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ غزوۂ احد کے سب سے پہلے شہید تھے اورحضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے ان کو عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن فرمایا تھا۔

اُس وقت مسلمانوں کی تنگدستی کا یہ عالم تھا کہ شہداء کو دفن کرنے کیلئے کفن تک میّسر نہ تھے۔اس لئے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر میں کفن دیا گیاجس میں چہرہ تو چھپ گیا لیکن پاؤں کھلے رہے جن پر گھاس ڈالی گئی تھی۔

یہ قبر نشیب میں واقع تھی ۔اتفاق سے چالیس سال بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہاں سیلاب آگیا اور وہاں سے ایک نہر نکالنی پڑی۔ اُس موقع پر قبر کو حضرت جابررضی اللہ عنہ کی موجودگی میں کھولا گیا تو دونوں بزرگوں کے اجسام بالکل صحیح و سالم اور تر و تازہ تھے۔

بلکہ ایک روایت یہ ہے کہ اُن کہ چہرے پر جو زخم تھا اُن کا ہاتھ اُ س زخم پر رکھا ہوا تھا۔لوگوں نے ہاتھ وہاں سے ہٹایا توتازہ خون بہنے لگاپھر ہاتھ دوبارہ وہاں رکھاتو خون بند ہو گیا (طبقات ابن سعد صفحہ ۵۶۲،۵۶۳ج۔۳)

حضرت مولانا و مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا بیان کردہ واقعہ جو میں نے ان کی کتاب’’جہان دیدہ‘‘ سے نقل کیاہے اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ کے اجسام مبارک بالکل تر و تازہ، صحیح و سالم اورمحفوظ ہیں۔

نیز ان دونوں کے ساتھ مولانا موصوف نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے اجسام محفوظ ہونے کا بھی واقعہ بیان فرمایا اور قرآن کریم کی آیت سے استدلال کیا کہ یہ ایک معجزہ ہے جو دین حق کی صداقت کے لئے اللہ تعالیٰ کبھی کبھی دکھاتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو ان واقعات سے دین اسلام کے بارے میں مسلمانوں کا یقین مزیدمضبوط ہوگا اور وہ اپنے اعمال و کردار کی اصلاح کریں گے نیز غیر مسلم خواتین و حضرات اسلام میں داخل ہوں گے۔

Coronavirus Cure Pakistan