تمام شہدائے اسلام کی نعش ہائے مبارکہ محفوظ ہیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

میری روحانی تحقیق کے مطابق حضرت محمدﷺکے زمانہ بعثت سے لے کر اب تک یعنی ۲۰۱۱ء بمطابق ۱۴۳۱ھ تک تمام شہیدوں کی نعش ہائے مبارکہ بالکل تر و تازہ حالت میں صحیح و سالم اور محفوظ ہیں اور تاقیامت وہ مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کئے جائیں گے ان کی نعشیں بھی محفوظ رہیں گی۔ اس بارے میں شرعی ثبوت سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۱۵۴ ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جولوگ اللہ کے راستے میں قتل کر دیئے جائیں ان کو مردہ مت کہوبلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اُن کی زندگی کاشعور نہیں ۔
اسی طرح سورۃ آل عمران آیت نمبر ۱۶۹ میں اللہ تعالیٰ فر ماتاہے کہ ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کر دیئے گئے وہ مردہ ہیں بلکہ وہ سب زندہ ہیں اور اُن کے رب کے پاس سے ان کو رزق دیا جاتا ہے۔
قارئین گرامی مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے شہداء اسلام کو واضح طور پرنہ صرف یہ کہ زندہ کہا ہے بلکہ ان کے زندہ نہ ہونے کے بارے میں سوچنے حتی کہ گمان کرنے کوبھی منع کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام شہداء اسلام کی نعشہائے مبارکہ بالکل صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔
اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ میں تو قرآن کریم کو کلام الٰہی نہیں مانتا تو آپ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ تمام شہداء اسلام کی نعشیں محفوظ ہیں اور صحیح و سالم ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ لاکھوں شہداء اسلام جو اپنی اپنی قبروں میں ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ یہ اُن شہیدوں ہی کی قبریں ہیں ، تو وہ غیر مسلم ان قبروں کو کھولے بغیر زمین کے اندر دیکھنے والے سائنسی آلات کے ذریعے دیکھ لے اور اس غرض سے دنیا کے تمام مسلم قبرستانوں کو چیک کر لے انشاء اللہ تعالیٰ میری یہ تحقیق ۱۰۰ فیصد صحیح ثابت ہوگی نیز ہزاروں مسلمانوں کی چشم دید گواہی ہے جنہوں نے شہداء اسلام کے جسموں کے محفوظ رہنے کے واقعات کو دیکھا ہے اور آج بھی ایسے لوگ گواہی دے سکتے ہیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے واقعات کو بعد میں پیش کروں گانیز میں غیر مسلم خواتین و حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے چوٹی کے مذہبی پیشواؤں اور روحانی ماہرین سے دریافت کر لیں کہ جو دعویٰ میں نے اوپرکیا ہے انشاء اللہ تعالیٰ وہ لوگ بھی جب گیان و دھیان کریں گے تو میرے اس دعوے کی تصدیق کردیں گے کیونکہ ہر مذہب میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ریاضت و چلّہ کشی سے بہت سی حقیقت کی تصدیق کر سکتے ہیں ۔
غرضیکہ قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیات،روحانی تحقیق و استخارہ اور مشاہداتی طور پر شہداء اسلام کی نعشوں کے محفوظ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں ان کی نعشیں محفوظ ہیں۔ ان شہداء اسلام میں سے بعض کی قبر کو کھولا گیا تو پورا قبرستان خوشبو سے معطر ہوگیا جیسا کہ مولانا عبدالعزیز صاحب لال مسجد والے کے بھائی مولانا عبدالرشید غازی صاحب کے ساتھ ہوا۔ اسی طرح جامعہ بنوریہ العامیہ سائٹ ایریا کے حضرت مولانا و مفتی عتیق الرحمان صاحب کیْ قبر کو کھولا گیا تو خوشبو سے قبرستان معطر ہو گیااور وہاں پر موجود لوگوں نے واضح طور پر محسوس کیا بلکہ مفتی صاحب کے صاحبزادے عزیز جمال عتیق کا کہنا تھا کہ ان کے خون سے بھی خوشبو آرہی تھی۔اسی طرح بعض شہداء کے جسم سے صدیوں بعد بھی تازہ خون نکلا جیسا کہ مولاناتقی عثمانی نے اپنی کتاب’’جہان دیدہ‘‘میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ عبداللہ بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے داداحضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہواتھا اور یہ واقعہ میں نے صحابہ کرام کے عنوان کے تحت ذکر کر دیا ہے وہاںآپکو تفصیل سے مل جائے گا۔
بہرحال میں کچھ باتیں اُن دونوں آیات سے متعلق عرض کردوں جن میں شہداء اسلام کو زندہ کہا گیا ہے۔قارئین گرامی!جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اور غالباً دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اس بات سے واقف ہیں کہ انسان کی روح کبھی فنا نہیں ہوتی بلکہ انسانی جسم کے فنا ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ ہے۔کیونکہ روح اگر فنا ہو جائے تو پھر انسان کو مرنے کے بعد جزا یا سزا کیسے دی جائے گی؟نیز اسلامی عقیدے کے مطابق یہ بات بھی مسلّم ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں منکر نکیر آکر مردے سے چند سوال کرتے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ جب روح باقی نہیں اور یہ کہ روح میں جان نہیں تو پھر سوال و جواب کے کیا معنی؟لہذا ثابت ہوا کہ انسان دو جسموں سے مرکّب ہوتا ہے ایک روحانی جسم اور دوسرا یہ حِسی جسم ۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی مرگیا یا فلاں کا انتقال ہو گیا تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جسم مر گیا اور اس کاحِسی جسم بے جان ہوگیاکہ اب وہ شادی بیاہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی زندہ انسان کی طرح حرکات و سکنات کا مرتکب ہو سکتا ہے۔
ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے سوچیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے شہداء اسلام کو زندہ کہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی روح زندہ ہے جسم نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن شہیدوں کی جسم و روح دونوں زندہ ہیں ورنہ پھر شہداء اسلام کی کیا خصوصیت جبکہ مرنے کے بعد روح تو تمام انسانوں کی بھی باقی رہتی اور زندہ ہوتی ہے؟ لہذا جب صرف شہیدوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جسم مع روح کے ساتھ زندہ ہیں۔
لیکن یہاں پر ایک سوال اٹھ رہا ہے کہ جب شہداء کی روح کے ساتھ جسم بھی زندہ ہے تو زندہ انسانوں کی طرح زندگی کے آثار مثلاً حرکت وغیرہ اس میں کیوں نہیں پائے جاتے؟ تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا کہ اُن کی زندگی ایسی ہے کہ تم اس کا شعوریا ادراک نہیں کر سکتے کہ وہ کس طرح سے زندہ ہیں۔
اس کی مثال یوں لیجئے کہ کوئی زندہ انسان نیند میں سویا ہوا ہوتو ہم اس کو زندہ کہتے ہیں کیونکہ اس کی نبض چل رہی ہے حالانکہ زندہ انسان کی طرح نہ وہ چل پھر رہا ہے اور نہ ہی وہ زندہ انسانوں کی طرح حرکت میں ہے مگر وہ جس زندگی میں مصروفِ عمل ہوتا ہے اسے ہم خواب کہتے ہیں اور خواب کی زندگی کا شعور ہر انسان کو ہوتا ہے کیونکہ وہ روزانہ خود اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ لہذا بالکل اسی طرح شہداء بھی زندہ انسانوں کی طرح اپنی قبروں میں سوئے ہوئے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی نبض نہیں چل رہی مگر جس طرح کی زندگی وہ گزار رہے ہیں اسکے بارے میں ہمیں کوئی تجربہ یا علم نہیں اس لئے ہمیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے۔ 
دوسری چیزجو ان کے زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ صدیاں گزرجانے کے باوجود قبروں میں زمین کے اندرزندہ انسانوں کی طرح صحتمند حالت میں ان کا فانی جسم تر و تازہ ، نرم و ملائم ، محفوظ اور صحیح و سالم ہے حالانکہ ظاہری جسم کوکھانا نہیں دیا جا رہا جبکہ زندہ انسان کو اگر چند دن بھی کھانا وغیرہ نہ دیا جائے تو اس کا جسم کمزور و لاغرہونا شروع ہوجاتا ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کایہ فرمان کہ شہداء اسلام زندہ ہیں بالکل بجا ہے۔
غرضیکہ زندہ انسان جو نیند کی حالت میں اور شہداء اسلام جو نعش کی حالت میں ہوں ان دونوں میں حرکت و سکون کے اعتبار سے جسمانی طور پر کوئی فرق نظر نہیں آتا کہ وہ دونوں بے حرکت لیٹے ہوتے ہیں۔ دیکھنے اور تجربہ کے اعتبار سے سوئے ہوئے زندہ انسان اور شہداء اسلام میں فرق ہے کہ زندہ انسان کی نبض چل رہی ہے لیکن شہداء اسلام کی نبض نہیں چل رہی ہوتی۔مگر ان دونوں کی موجودہ زندگی میں سے ہم صرف زندہ انسان کی خواب کی حالت سے تجربہ کی بناء پر واقف ہیں مگر شہید کی حالت سے ناواقف ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ شہداء اسلام کی زندگی کا تم لوگوں کو شعور نہیں ہو سکتا ۔
ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو شہداء اسلام کی زندگی زندہ انسانوں کی زندگی سے زیادہ قوی ہے کیونکہ زندہ انسان اگرکھانا نہ کھائے تو وہ صحت مند نہیں رہ سکتا جبکہ شہداء اسلام جس حال میں قتل ہوئے تھے وہ اسی صحت مند حالت میں رہتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے شہداء کی زندگی زندہ انسانوں کی زندگی سے قوی تر ہے اور یہ اس لئے ہے کہ شہداء کے جسم کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے باطنی غذا دی جاتی ہے جس کی طاقت و قوت کا کوئی انسان اندازہ نہیں لگا سکتا جبکہ زندہ انسان کے جسم کو بلاواسطہ اللہ تعالیٰ غذا نہیں دیتا بلکہ دنیاوی کھانا دیا جاتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ دنیاوی کھانا اللہ تعالیٰ کے پاس سے آئے ہوئے کھانے کا کہاں سے مقابلہ کر سکتا ہے؟یہی وجہ ہے کہ شہداء اسلام کے جسم سے بغیر خوشبو لگائے بھی خوشبو نکلتی ہے بلکہ ان کا خون بھی بسا اوقات معطر ہو جاتا ہے جبکہ عام زندہ انسانوں کے جسم سے خوشبو لگائے بغیر خوشبو نہیں آسکتی۔کیونکہ شہداء کا کھانا پینا اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہوتا ہے جو پاکیزگی اور طہارت میں بے مثال ہوتا ہے۔جبکہ دنیاوی کھانے پینے کی چیز میں وہ پاکیزگی نہیں رہتی لہذا اس کے کھانے والے کے جسم میں بھی اُس طرح کی روحانیت پیدا نہیں ہوتی کہ خود بخود ان کے جسم سے خوشبو آئے۔ہاں انبیاء کے معاملات اس سے جدا ہوتے ہیں اسی لئے حضرت محمدﷺکے پسینے سے بھی خوشبو آتی تھی کیونکہ یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی پاکیزہ بندے ہوتے ہیں۔
مذکورہ دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے شہداء اسلام کے بارے میں یہ سوچنے اور خیال کرنے سے بھی منع کیا ہے کہ وہ مردہ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ انکی نبض متحرک نہیں ہوتی اس لئے عام انسان یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ تو مرگئے اور مردہ ہیں اور وہ انہیں مردہ کہتے مگر چونکہ وہ شہداء زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے ان کو کھانا پینا فراہم کیا جاتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ ان کا جسم فانی نہیں ہوتا یعنی سڑتا گلتا نہیں ہے اس لئے ان کو مردہ کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اور وہ مردہ ہو بھی کیسے سکتے ہیں؟ان کی زندگی تو زندہ انسانوں کی زندگی سے قوی تر ہے کہ بغیر ظاہری کھانا پانی استعمال کئے ہوئے ان کا جسم محفوظ ہے۔
بہرحال قارئین گرامی! شہداء اسلام کی محفوظ نعشیں گویا اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہے کہ دیکھئے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کے دین کے لئے مر مٹتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے اتنا خوش ہوتا ہے کہ ان کے فانی جسموں کو بھی لا فانی اور نامٹنے والا بنا دیتا ہے۔بھلا بتائیے کہ ان کی روحوں کا کیا عالم ہوگا اور وہ کن کن خوشبوؤں اور راحتوں میں ہوں گے۔
نیز اِن محفوظ نعشوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام کے عقائد و اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہیں کہ ان عقائد اور اعمال کو اختیار کرنے والے جب اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے قتل ہوجاتے ہیں تو ان کو یہ مقام ملتا ہے کہ ان کے جسم بھی باقی رہتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے رزق بھی دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کہا ہے جیسا کہ بیان کردہ دونوں آیات سے ثابت ہوتا ہے۔ورنہ بہت سے مسلمان جو دنیاوی اغراض کے لئے قتل ہو جاتے ہیں اللہ پاک نے ان کو زندہ کا لقب نہیں دیا۔ اسی لئے اگر عقائد و اعمال درست ہوں یعنی دین اسلام کا ماننے والا ہو لیکن دین اسلام کے لئے قتل نہ ہوا تو ا س کو شہیداور زندہ نہیں کہا ۔ نیز اگر عقائد و اعمال درست نہ ہوں تب بھی صرف قتل ہوجانا بے کار ہے جیسا کہ منافق،فاسق و فاجر مسلمانوں یا غیر مسلموں کا قتل ہونا۔
قارئین گرامی! شہداء اسلام سے متعلق چند باتیں ذکر کرنے کے بعد جو کہ آیات سے ثابت تھیں اب میں شہداء اسلام کے جسموں کے محفوظ رہنے کے واقعات جو کہ باوثوق ذرائع سے مجھ تک پہنچے ہیں اپنے اگلے مضامین میں ذکر کروں گاتاکہ روحانی اور قرآنی تحقیق کے بعد واقعاتی طور پر بھی ثابت ہو جائے کہ شہداء اسلام کی نعش ہائے مبارکہ حضرت محمدﷺکے زمانے سے لے کر اب تک محفوظ ہیں اور ان کی تعداد کروڑوں میں ہے کیونکہ اُس وقت سے لے کر اب تک اسلام و کفر کے درمیان جتنی بھی جنگیں ہوئیں اور ان میں جتنے بھی مسلمان قتل کئے گئے قرآن کی روشنی میں وہ سب زندہ ہیں لہذا اُن سب کی نعشیں محفوظ اور صحیح و سالم ہیں۔

Coronavirus Cure Pakistan