شہیدوں کی محفوظ نعشوں کے سچے واقعات

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

میں ان شہدائے اسلام کے چند واقعات کو قارئین کے سامنے پیش کررہاہوں جو باوثوق ذرائع سے مجھ تک پہنچے ہیں اور خود قارئین گرامی ان واقعات اور ان کے علاوہ حضرت محمدﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک کے تمام شہدائے اسلام کے جسموں کے محفوظ واقعات کی چھان بین کرسکتے ہیں کہ ان سب کی نعش ہا ئے مبارکہ محفوظ ہیں یا نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ میری بات بالکل سچ ثابت ہوگی۔

67 صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی محفوظ نعشیں:
یہ واقعہ تو سب کو معلوم ہے کہ غزوۂ احد میں 70صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوئے تھے جن میں سے ایک آپﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ تھے۔ علامہ بنوری حج گروپ کے ہمراہ2008ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے حج پر جانے کی توفیق ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ادائیگی حج سے پہلے گروپ لیڈر جناب بھائی رفیق شیخ صاحب نے ایک دن ہم لوگوں کو زیارات مقدسہ کیلئے بذریعہ بس لے جانے کا اعلان کیا۔

چناچہ مکہ مکرمہ کے مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے ہم لوگ میدانِ احد پہنچے جہاں اسلام و کفر کے مابین دوسری جنگ لڑی گئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس میدان میں ایک چار دیواری ہے جس کا دروازہ لوہے کی جالی دار چادر سے بنا ہوا ہے اوردروازہ کے علاوہ دیگر اطراف میں بھی زائرین کی سہولت کیلئے لوہے کی جالی دار کھڑکی بھی لگی ہوئی ہے۔اس چار دیواری کے اندر چند قبریں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں موجود ترجمان نے بتایا کہ اس چار دیواری میں 67شہید صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی نعش ہائے مبارکہ محفوظ اور صحیح و سالم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ان تمام شہیدوں کی قبریں مختلف جگہ پر واقع تھیں ۔ سعودی حکومت نے بعد میں ان تمام قبروں سے لاشوں کو منتقل کرکے اس چار دیواری کے اندر یکجا طور پر دفن کیا جن کی تعداد 67تھی۔ جب ان شہیدوں کی نعشیں موجودہ جگہ منتقل کی جارہی تھیں تو بعض کا جسم کٹا ہوا تھا اور بعض کا جسم زخمی تھا اور جسم کے ٹکڑے ہونے کے باوجود بھی وہ صحیح و سالم تھا حالانکہ ان کو دفن کئے ہوئے بھی صدیاں بیت گئی تھیں۔ قارئین گرامی!یہ واقعہ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے۔آج بھی آپ لوگ ان حجاج کرام سے پوچھ سکتے ہیں جو غزۂ احد کی زیارت کرچکے ہوں۔

لالک جان شہید رحمتہ اللہ علیہ:
باوثوق ذرائع سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے درمیان کارگل میں جو جنگ ہوئی تھی اس میں پاکستان کے مالک جان رحمتہ اللہ علیہ شہید ہوگئے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے انباوثوق ذرائع سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے درمیان کارگل میں جو جنگ ہوئی تھی اس میں پاکستان کے لالک جان رحمتہ اللہ علیہ شہید ہوگئے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کے بھائی سے انٹرویو کو ایک پروگرام میں نشر کیا تھا جس کا خلاصہ بقول ان کے بھائی یہ ہے کہ لالک جان رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کر رکھی تھی کہ مجھے فلاں قبرستان میں دفن کیا جائے۔

چناچہ ان کی وصیت کے مطابق 6ماہ بعد جب ان کی قبر کھولی گئی تاکہ ان کو دوسری جگہ دفنایا جائے تو ان کا جسم بالکل صحیح و سالم اور ترو تازہ حالت میں محفوظ پایا گیا۔نیز جو گلاب کی پتیاں ان پر چھڑکی گئی تھیں وہ پتیاں تک بالکل ترو تازہ تھیں اور کفن بھی بوسیدہ نہیں ہوا تھا۔ حتی کہ ان کے چہرے پرڈاڑھی بھی نکل آئی تھی حالانکہ شہادت سے پہلے انکی ڈاڑھی نہیں تھی۔قارئین 

گرامی!یہ وہ سچا واقعہ ہے جس کی تصدیق آپ (P.T.V) پاکستان ٹیلی ویژن سے باآسانی کرسکتے ہیں۔جہاں تک ڈاڑھی نکل آنے کی بات ہے تو میری سمجھ کے مطابق اس کی توجیح یہ ہے کہ قبر میں ایک عام آدمی یا ان پڑھ مسلمان سے بھی عربی زبان میں سوال کیا جائے گا حالانکہ عام آدمی عربی زبان نہیں جانتا۔ نیز اگر اسکے اعمال صالح ہونگے تو وہ عربی زبان میں جواب دے گا نیز اگر اسکے اعمال فاسق و فاجرہونے کے سبب برے ہوں گے تو منکر نکیر کے سوالوں کے جواب نفی میں دے گا کہ اسے معلوم نہیں۔

اسی طرح کرامتاً ڈاڑھی والی بات بھی ممکن ہے کیونکہ شہیدجب میدانِ جنگ میں اترتاہے تو اپنی جان کو اللہ کے حوالے کردیتا ہے تو اسکے بدلے میں اللہ اسے جنت دے دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ڈاڑھی رکھنے کی سنت تو وہ پوری نہ کرسکے لیکن شہادت چونکہ بہت بڑا عمل ہے لہذا اس کی وجہ سے شہید کو اللہ تعالیٰ سنت پر عمل کرنے والے کا درجہ بھی دے دیتا ہو اور اس بنا پر جب ان کو وہ مقام مل گیا تو انکی ڈاڑھی بھی نکل آئی ہو۔ 

بہرحال یہ باتیں میری طرف سے ایک قیاس ہے ورنہ اس کی توجیح میری نظر سے نہیں گزری۔ شہید جنتی ہوتا ہے اور جنتی کی ہر خواہش پوری کی جاتی ہے لہذا ممکن ہے کہ لالک جان شہید رحمتہ اللہ علیہ کواپنی زندگی میں ڈاڑھی رکھنے کی خواہش ہو لیکن کسی وجہ سے نہ رکھ سکے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے انکی یہ خواہش ان کی شہادت کے بعد پوری کردی ہو۔ یہ کوئی ناممکن بات نہیں کیونکہ جنتی کا جسم لمبائی اور چوڑائی میں بہت بڑھ جاتا ہے یعنی جسمانی طور پر تبدیلی آتی ہے تو ڈاڑھی آنا بھی ایک تبدیلی ہی ہے ۔تروتازہ لاشیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی حکومت غیرمسلموں کی ہے اور پاکستان کی حکومت مسلمانوں کی ہے چاہے جیسی بھی ہولیکن کفر کے مقابلے میں تو بدرجہا بہتر ہے۔ اسی بنا پر لالک جان رحمتہ اللہ علیہ چونکہ اسلامی حکومت کی طرف سے جنگ میں شریک ہوئے تھے اور مقصد دین اسلام اور اس کے ماننے والوں کی مدد و نصرت تھی لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے صحیح ہونے کی بنا پر ان کو شہادت کا مقام دے دیا اور ان کا جسم بھی محفوظ و سالم رہا۔ ان کے علاوہ اس جنگ میں دوسرے شہداء کے جسم بھی محفوظ ہوں گے لیکن چونکہ ان کے واقعات عوام کے سامنے رونما نہ ہوسکے اس لئے ہمیں ان لوگوں کے جسموں کے محفوظ ہونے کے بارے میں مشاہداتی علم نہیں۔

1965ء کی پاکستان بھارت جنگ میں مسلمانوں کی تازہ اور ہندوؤں کی بدبودار لاشیں:
مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے دوران 1965ء میں پاکستانی فوجیوں کی نعشیں بھی میدان میں پڑی ہوتی تھیں اور ہندوستانیوں یعنی ہندوؤں کی بھی۔ مسئلہ یہ ہورہا تھا کہ پاکستانیوں کو اپنے شہیدوں کو پہچاننا مشکل ہوجاتا تھا تو اس موقع پر علماءِ کرام نے پہچان کی یہ صورت بتائی تھی کہ جن کی نعشیں تازہ نظر آرہی ہوں گی وہ مسلمانوں کی ہونگی اور جن کی لاشیں تازہ نہیں ہوں گی اور ان سے بدبو آرہی ہو تو وہ ہندوستانیوں اور کافروں کی ہوں گی۔ کیونکہ جو مسلمان قتل ہوئے وہ شہید ہیں اور شہید زندہ ہوتا ہے لہذا انکے جسموں سے زندگی کے آثار نمایاں ہونگے۔

بہرحال چونکہ شہداء کے حوالے سے جنگ کی بات چھڑگئی ہے تو اس حوالے سے ایک اور بات قارئین کے گوش گزار کردیتا ہوں۔
افغانستان میں طالبان کی تازہ اور امریکیوں کی بدبودار لاشیں:
جامعہ بنوریہ العامیہ سائٹ ایریا کراچی کے ڈرائیور، جناب وصی احمد صاحب کے توسط سے یہ معلوم ہواکہ افغانستان میں جتنے بھی طالبان قتل ہوئے ان سب کی نعشیں بالکل صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔ جبکہ امریکی اور نیٹو کے فوجی جب قتل ہوتے ہیں تو ان کی لاشیں محفوظ نہیں رہتیں اور یہ کہ اگر انہیں سرد خانے میں نہ رکھا جائے تو ان کے جسموں سے چند دن بعد ہی بدبو آنے لگتی ہے۔

اس بات کا فرق امریکی فوجیوں نے واضح طور پر دیکھا تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آخر یہ کیا بات ہے کہ طالبان کے جسم کئی کئی دن تک میدان میں پڑے ہوتے ہیں لیکن سڑتے گلتے نہیں اورنہ ہی ان سے بدبو آتی ہے۔جبکہ ہمارے فوجیوں کی لاشیں بدبودار ہوکر سڑنے گلنے لگتی ہیں اگر انہیں چند دن نہ اٹھایا جائے۔
ان میں سے کسی نے سوچا ہوگا کہ شاید ماحول کا اثر ہو کہ طالبان چونکہ یہاں کے ماحول میں رہنے والے ہیں اس بنا پر ان کے جسم سڑتے گلتے نہیں اور ہم لوگ چونکہ اس ماحول کے عادی نہیں ہیں اس بناپرہمارے فوجیوں کی لاشیں چند دن بعد ہی سڑنے لگتی ہیں۔
چنانچہ ان لوگوں نے اپنے فوجیوں کی لاشوں کو افغانستان کے ماحول سے نکالا تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ماحول کے بدلنے سے کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں۔ مگر یہ بات غلط ثابت ہوئی اور افغانستان کے ماحول سے باہر لے جانے کے بعد بھی ان کی لاشیں خراب ہونے لگیں تب ان پر یہ حقیقت کھلی کہ یہ حفاظت ماحول کے فرق کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہب کے فرق کی بنا پر ہے۔ 
مجھے یہ واقعہ بیان کرنے والے وصی احمد صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اس حقیقت کے جاننے کے بعد وہ امریکی فوجی مسلمان ہوئے یا نہیں؟ بہرحال ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے لہذا میرے خیال کے مطابق ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض خفیہ طور پر مسلمان بھی ہوجاتے ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
بہر کیف!قارئین گرامی بات جنگ کی ہورہی تھی۔انشاء اللہ اگر آپ شہداء کے قبرستانوں کی روحانی طورپر اور استخارہ کے ذریعہ بھی چھان بین کریں گے تو ہفتہ نہیں تو ہفتوں میں ضرور اللہ تعالیٰ آپ کو یہ بتائے گا کہ وہاں جتنے بھی مسلمان جنگوں میں شہید ہوئے ان سب کے جسم مبارک بالکل صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔

حضرت مفتی عتیق الرحمان شہید رحمتہ اللہ علیہ:
جامعہ بنوریہ العامیہ سائٹ ایریاکراچی کے مشہور و معروف استاذ الحدیث حضرت مولانا و مفتی عتیق الرحمان صاحب کا واقعہ بیان کرنے جارہا ہوں۔ 2001ء تک میں بھی جامعہ بنوریہ میں پڑھاتا رہا ہوں۔ ان دنوں حضرت مفتی صاحب سے میری ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ چونکہ حضرت بنین و بنات دونوں شعبوں میں پڑھاتے تھے اور میں بھی ان دونوں شعبوں میں پڑھاتا تھا۔
نیز مفتی صاحب کا ایک فرزند جمال عتیق ان دنوں میرا شاگرد بھی تھا۔ مفتی صاحب کی شہادت کے بعد جب میں ان کے موصوف فرزند سے ملااور مفتی صاحب کی شہادت کے بارے میں اور اس کے بعد کے حوالہ سے جاننا چاہا تو موصوف عزیزم نے جو مجھے بتایا مخصراً اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ مفتی صاحب برنس روڈ پر مسجد سے آرہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر گولیاں برسا کر شہید کردیا۔ مفتی صاحب کے بارے میں بتایا گیاکہ اکثر خصوصی طور پر امریکہ کے خلاف اور عمومی طور پرحق و باطل کے موضوع پر ان کا بیان ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنازے میں عبدالستار ایدھی تشریف لائے تو ان سے سوال کیا گیاکہ آپ مفتی صاحب کے بارے میں کچھ بتائیں تو ایدھی صاحب نے بتایا کہ میری مفتی صاحب سے کوئی رشتہ داری اوردوستی نہیں لیکن میں جنازہ میں شرکت کیلئے اس لئے آیا ہوں کہ ان کا جنازہ میرے سرد خانے میں تقریباً دس گھنٹے سے زیادہ رہا۔ میں نے دیکھا کہ مفتی صاحب کے زخموں سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات حقیقت ہے کہ کسی بھی زخم سے خون زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے اسکے بعد خون بہنا بند ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ میری زندگی کا عجیب واقعہ ہے کہ مفتی موصوف کا خون دس گھنٹوں تک مسلسل بہہ رہا تھا جس سے میں نے سمجھ لیا کہ ضرور یہ کوئی نیک آدمی ہیں اور انکے جنازے میں ضرور شرکت کرنی چاہئے کہ شاید ان کے صدقے میں میری مغفرت بھی ہوجائے۔

قارئین گرامی !میں پہلے بھی کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ شہید زندہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کے حوالے سے میں نے عرض کیا ہے اور انکو اللہ تعالیٰ کے پاس سے رزق دیا جاتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ان کی شہادت کے بعد رزق ملنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ دنیاوی رزق سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور رزق کھانے کے بعد خون کا بننا ضروری ہے۔ لہذا انکے زخموں سے مسلسل خون بہتا رہاکیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے روحانی طور پرکھانے پینے کی فراہمی شروع ہوگئی تھی۔ شہیدزندہ ہوتا ہے اور زندہ جسم میں خون کا ہونا ضروری ہے اور جب جسم میں خون بڑھتا ہی جائے گا تو یقینازخم سے مسلسل نکلناتو ضروری ہے۔اسی لئے کرامتاً مسلسل دس گھنٹوں تک خون بہتا رہا۔

بہرحال اسکے بعد عزیزم جمال عتیق صاحب نے بتایا کہ پھر تقریباً 13ماہ بعد کراچی میں بہت موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجہ میں مفتی صاحب کی قبر جو کہ کچی تھی وہ کھل گئی اور مرمت کی ضرورت پڑگئی۔ چناچہ جامعہ بنوریہ کے علماء و طلباء مرمت کی غرض سے گئے اور مفتی صاحب کے فرزندجمال عتیق قبر میں اترے تاکہ مرمت کرسکیں اور قبر کی صفائی بھی ہوجائے۔تو ان کا مجھ سے بیان ہے کہ قبر سے خوشبو آرہی تھی جو کہ موجود علماء و طلباء نے بھی محسوس کی۔ نیز جب میں نے جسم کو ہاتھ لگایا تو وہ زندہ انسان کی طرح نرم و ملائم اور گرم تھا جبکہ مفتی صاحب کے خون سے بھی خوشبو آرہی تھی اور جو خون صفائی کے دوران میرے ہاتھ پر لگ گیا تھا اسے دھونے کے پندرہ دن بعد بھی ہاتھ سے خوشبو آرہی تھی۔مفتی صاحب کے صاحبزادے اور دیگر علماء کرام و طلباء نیز خود مفتی محمد نعیم صاحب جامعہ بنوریہ ممتہم نے دیکھا کہ مفتی صاحب کا جسم سوا سال بعد بھی بالکل ترو تازہ حالت میں محفوظ اور صحیح و سالم تھا۔مزید تصدیق کیلئے میری ویب سائٹwww.RightfulReligion.comدیکھئے جس پر مفتی عتیق صاحب کے صاحبزادے سے لئے گئے انٹرویو کی ویڈیو موجود ہے۔ اس بارے میں جامعہ بنوریہ فون کرکے یا ای-میل کے ذریعے یا وہاں کے علماء و طلباء سے ملاقات کرکے بھی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

مفتی صاحب کی قبر جامعہ بنوریہ کے ذاتی قبرستان میں ہے جہاں بمشکل چھ یا سات قبر یں ہی میں نے دیکھی تھیں۔ قبرستان سے متصل مکان میں مزدور قسم کے لوگ بھی رہتے ہیں اور اس مکان کی بالکونی قبرستان کی جانب ہے۔وہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ جب ہم لوگ رات کو عشاء کے بعد بالکونی میں آتے ہیں تو مفتی صاحب کی قبر سے تلاوت قرآن کی آواز آرہی ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی محفل منعقد ہے۔

یہ باتیں مفتی صاحب کے صاحبزادے نے مجھے بتائی ہیں۔ یہ بات تو شریعت سے ثابت ہے کہ نیک لوگ اپنی قبروں میں عبادت بھی کرتے ہیں جیسا کہ نماز وغیرہ پڑھنا۔ چناچہ مفتی صاحب چونکہ شہیدہوئے اور شہید زندہ ہوتاہے اس بنا پر جس طرح زندہ انسان کی آواز سنی جاسکتی ہے اسی طرح مفتی صاحب کی تلاوت قرآن کی آواز بھی وہاں کے لوگوں نے سنی اور کرامتاً یہ بات ممکن ہے۔

بہرحال ،قارئین گرامی!یہ ممتاز عالم دین اورمفتی جناب عتیق الرحمان صاحب کے جسم کے محفوظ ہونے کا واقعہ اور اس سے متعلقہ باتیں تھیں۔مفتی صاحب چونکہ حق کی بات کرتے تھے اور باطل کے خلاف تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انھیں شہادت سے نوازا۔جب میں حج کیلئے مکہ مکرمہ گیا تو میں نے مفتی صاحب کو خواب میں دیکھاتو میں نے ان سے کہا کہ مفتی صاحب چلیں میں آپ کو آپکے گھر پہنچادیتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ نہیں مجھے یہیں رہنے دیں ، میں یہیں ٹھیک ہوں۔یہ خواب میں نے انکے صاحبزادے عزیزم جمال عتیق سے بھی ذکر کیا۔معلوم ہواکہ مفتی صاحب اللہ کے فضل و کرم سے جنتی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Coronavirus Cure Pakistan