دنیا میں بدامنی کی وجہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

میرے نزدیک دنیا میں بدامنی کی وجہ دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب کی موجودگی ہے۔

جسکی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہر مذہب میں چند عقائدو اعمال ہیں جو دوسرے ادیان و مذاہب کے عقائد و اعمال سے یکسر متصادم ہیں۔

مثلاً دین اسلام میں خالق کائنات یعنی خدا کا تصور یہ ہے کہ وہ اکیلا اور ایک ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا ۔

جبکہ عیسائیت میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانا جاتا ہے اور یہودیت میں حضرت عزیز علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانا جاتا ہے۔

ہندو مذہب میں تو کھلے عام خالق کائنات یعنی 'ایشوا' کے ساتھ دوسرے بھگوانوں کی بھی عبادت کی جاتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت میں بہت سے خداؤں کو شریک کیا جاتا ہے۔

اسی طرح اعمال میں تمام مذاہب میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چناچہ ہندو مذہب میں خنزیر کھانا حلال اور دین اسلام میں حرام ہے وغیرہ وغیرہ۔غرضیکہ دنیا کے تمام مذاہب کے عقائد و اعمال ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

لہذا جب ادیان و مذاہب کے درمیان اختلاف ثابت ہے تو لازمی سی بات ہے کہ ان کے ماننے والوں اور پیروکاروں میں اختلاف بھی پیداہوہی جائے گا۔

چناچہ اسی اختلاف کی وجہ سے ہر مذہب کا پیروکاراپنے مذہب کو سچا مانتا ہے اور دوسرے مذاہب کو باطل و منسوخ سمجھتا ہے۔

ہر مذہب کا پیروکار اپنے آپ کو جنتی اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو جہنمی سمجھتا ہے۔

معلوم ہواکہ ادیان و مذاہب کے مابین اختلافات کی وجہ سے ان کے پیروکاروں میں بھی اختلاف کی وجہ سے ہی دنیا میں مختلف مذہبی ممالک بھی وجود میں آگئے۔ چناچہ کوئی اسلامی ملک، کوئی عیسائی ملک، کوئی یہودی ملک، اور کوئی ہندو ملک وغیرہ کہلاتا ہے۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ہر مذہبی ملک اپنے مخالف مذہبی ملک کو دشمن سمجھنے لگا اور نتیجہ کے طور پر ہر ملک نے اپنی فوج، انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے بنالئے تاکہ دوسرا ملک اِسکے ملک پر قبضہ نہ کرے یا جب جنگی صورتحال پیدا ہوجائے تو اپنا دفاع اور حفاظت کرسکے۔

قارئین گرامی!عراق، افغانستان، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر وغیرہ میں جو بدامنی اور جنگ ہے وہ مذاہب ہی کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔

امریکہ کبھی بھی جاپان کے شہر ہیرو شیما پر ایٹم بم نہیں گراتا اگر وہاں کے باشندے عیسائی ہوتے۔ نیزاگر پاکستان عیسائی ملک ہوتا تو آج امریکہ پاکستان کے ساتھ جو سلوک کررہا ہے وہ نہیں کرتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں یا ہورہی ہیں یا ہوں گی ، اس کی وجہ مذاہب کا اختلاف ہی ہے۔

لہذا دنیا والے اگر دنیا میں ہمیشہ کے طور پر امن چاہتے ہیں تو تمام انسان ملکر خالق کائنات کاجو پسندیدہ اور سچا مذہب ہے اسے قبول کرکے دیگر ادیان و مذاہب کو باطل یا منسوخ قرار دیں ورنہ دنیاتباہ ہوجائے گی مگر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔

اگر اقوام متحدہ کے ذریعہ ممالک کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ بھی ہوجائے تب بھی امن قائم نہیں ہو سکے گا ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے اوپر کہاہے کہ مذاہب کے پیروکاروں میں شدید تصادم پایا جاتا ہے۔

دنیاتباہی سے اسی وقت بچ سکتی ہے جبکہ تمام انسانوں کا مذہب صرف ایک ہو جو اس کائنات کے خالق کے نزدیک سچااور پسندیدہ ہے۔ کیونکہ ایک وقت میں کوئی ایک ہی مذہب سچا ہوگا۔

سارے مذاہب ایک ہی وقت میں خالق کائنات کے نزدیک سچے کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ ان کے عقائد و اعمال میں بے انتہا اختلافات اور تصادم پائے جاتے ہیں؟

اس ناچیز کے نزدیک حضرت محمدصلى الله عليه وسلم کے زمانہ سے سچا مذہب جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے وہ صرف دین اسلام ہی ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ میری تحقیق کے مطابق انبیاء کرام علیہ السلام سمیت کروڑوں کی تعداد میں شہداء اسلام اور سچے مومنین و مومنات کے جسم مبارک قبروں میں صدیوں اور سالوں سے صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔

جبکہ فرعون کے علاوہ کسی بھی غیرمسلم یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ کی لاش محفوظ نہیں ہے اور اگر کوئی ہے بھی تو اس پرکیمیکلز استعمال ہورہے ہیں نیز اس کے باوجود وہ زندہ انسان کی طرح تازہ حالت میں نہیں ہے۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام کے عقائد و اعمال سچے ہیں اور دیگر ادیان و مذاہب کے عقائد و اعمال باطل یا منسوخ ہیں۔

واللہ اعلم باالصواب۔

Coronavirus Cure Pakistan