دنیا میں غربت و افلاس کی وجہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

غربت و افلاس بہت بری بلا اور مصیبت ہے۔ یہ کتنی پریشان کن چیز ہوتی ہے یہ غریب اور مفلس و محتاج لوگ ہی جانتے اور محسوس کرتے ہیں۔ جو لوگ مالدار ہیں اور جنہیں غربت و افلاس کی ہوا تک نہیں لگی ہے وہ کیا جانیں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟

جب انسان غریب اور مفلس بن جاتا ہے تو یہی نہیں کہ اس کی عزت و آبرو داؤ پر لگ جاتی ہے بلکہ اس کا دین و دھرم اور ایمان بھی خطرے میں پڑجاتاہے۔اسی لئے حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ انسان فقر و فاقہ کی وجہ سے کافر بن جائے۔

چناچہ آئے دن ہم اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں شخص نے بیروزگاری سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔

آپ اندازہ لگائیں کہ خود کشی کرنے والوں پر فقر و فاقہ اور مالی پریشانی کی وجہ سے کیا کیفیت طاری ہوئی ہوگی کہ مجبور ہوکر جان دینا اچھا سمجھا؟

اسی لئے اللہ نے قرآن کریم کی سورۂ النساء، پارہ نمبر4، آیت نمبر5میں فرمایا ہے کہ اپنا وہ مال جو اللہ نے تمہارے کھڑا رہنے اور زندہ رہنے کا ذریعہ بنایا ہے، بیوقوفوں کو مت دو۔

مطلب اس بات کا واضح ہے کہ بیوقوفوں کو مال دوگے تو وہ اسے ضائع کردیں گے اور پھر تم مالی تنگی کی وجہ سے پریشان ہوجاؤگے لہذا اپنا مال اپنے پاس سنبھال کر رکھو اور مناسب جگہ پر خرچ کرو۔

اسی طرح سورۃالماعون میں اللہ نے قریش کو کہا کہ یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے تم کو بھوک کی حالت میں کھانا دیا۔ معلوم ہواکہ بھوک بہت ہی تکلیف دہ چیز ہے، ہم سب انسانوں کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

یہ بات تو منجانب اللہ ہے کہ دنیا والے کچھ بھی کرلیں تمام انسان مالدار نہیں بن سکتے اور نہ ہی تمام انسان غریب و فقیر بن سکتے ہیں۔

دنیا کا نظام چلانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ دنیا میں غریب و امیردوطرح کے انسان رہیں گے اور یہ ایک قابل فہم بات ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ غربت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

آج تو دنیا کے دیہاتوں اور دیہی آبادیوں میں خصوصاً کم از کم 50فیصد انسان غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان کے پاس بنیادی ضرورت کو بھی پورا کرنے کے بھی وسائل نہیں ہیں۔ انھیں پیٹ بھر کر کھانا، صاف پانی اور موسم کے اعتبار سے لباس و مکان تک دستیاب نہیں ۔ اگربیمار ہوجائیں تو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بغیر علاج کے تڑپ تڑپ کر آہوں اور سسکیوں میں جان دیدیتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال تک نہیں ہوتا۔

میں نے بہت ہی غور و خوض کیا کہ آخر اس حد تک غربت ، فقر و فاقہ کی وجہ کیا ہے؟

تو میرے سامنے یہی بات آئی کہ دراصل دنیا کے تمام ممالک اپنی آمدنی میں سے کم از کم 80فیصد مال و دولت ایٹم بم، ہائیڈروجن بم، میزائیل، جدید سے جدید تر آلات حرب، اسلحہ جات، فوج، انٹیلی جینس کے خفیہ اداروں اور دفاع پر خرچ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس اتنا پیسہ باقی ہی نہیں رہتا جس سے اپنے غریب و مفلس عوام کی مدد کرسکیں۔ 

مجھے کسی نے بتایا کہ ایک ایٹم بم بنانے پر تقریباً 20ملین ڈالر خرچ ہوتا ہے۔

اب آپ ہی اندازہ لگائیں کہ امریکہ کے پاس کتنے ایٹم بم ہوں گے۔ میں نے اخبارات میں پڑھا تھا کہ صرف امریکہ کے پاس لگ بھگ 1100ایٹم بم ہیں۔ دیگر اسلحہ جات کا بھی اندازہ لگائیں کہ اس نے کتنے پیسے خرچ کئے اور کئے جارہاہے جبکہ اس کے بینک دیوالیہ کا شکار ہو رہے ہیں۔

اسی طرح بھارت نے ایٹم بم بنائے جنکی تعداد اگر 100بھی ہو تو کتناخرچہ ہوا؟

دیگر اسلحہ جات پر کتنے پیسے خرچ ہوئے اور ہو رہے ہیں؟ اسکے ساتھ ساتھ انکے عوام کی حالت بھی سامنے رکھئے تو آپ بخوبی نقصان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان نے بھی مجبور ہوکر دشمنوں سے بچنے کیلئے ایٹم بم بنالئے تاکہ بھارت یا کوئی اور دشمن ملک اس کو ہڑپ نہ کرجائے نیز یہاں کے عوام کی حالت بھی سامنے رکھئے۔ غرضیکہ اسی طرح دنیا کا ہر ملک اپنے وسائل کے مطابق دفاع پر اربوں ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔

اس ناچیز کی رائے کے مطابق وہ مال و دولت جو ایٹم بم، میزائیل اور دیگر اسلحہ جات پر خرچ ہو رہا ہے اسے اگر دنیا کے تمام مسلم و غیر مسلم غریبوں پر خرچ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ غربت میں کمی نہ آئے اوریہ دنیا جنت نما نہ بن سکے۔

یہ کام ناممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔ وہ اس طرح کہ دنیا کے تمام انسانوں کا مذہب ایک بنادیا جائے۔ خود بخود ممالک کے درمیان دشمنی اور عداوات ختم ہوجائے گی اور ہر ملک آپس میں شیر و شکر ہوجائے گا۔

میں نہیں کہتا کہ دنیا کا نقشہ تبدیل کیا جائے۔

ممالک بھی اسی طرح قائم و دائم رہیں،آپس کی ہلکی پھلکی لڑائی و بغاوت کو نمٹانے کیلئے فوج اور عدالتیں بھی کام کریں مگر اس طریقہ سے ایٹمی جنگ کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا اور دنیا تباہی سے بچ جائے گی اور غریب انسان سکھ کا سانس لے گا۔

یہ ایٹم بم اور میزائیل بالکل بے حس اور بے جان چیز ہے۔ ان میں کوئی احساس اور محبت نہیں لہذا ان پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے غریب و مفلس انسانوں پر خرچ کریں تو ان سے دعائیں، محبتیں اور مسکراہٹیں ملیں گی اور خالق کائنات بھی ہم سے خوش ہوگا کہ اس کی مخلوق کو بھوک و افلاس سے نجات ملی۔

جہاں تک یہ سوال کہ کس ایک مذہب کو دنیا کے تمام انسانوں کا مذہب قرار دیا جائے تو میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ صرف دین اسلام کو نافذ کیا جائے کیونکہ حضرت محمدﷺ کے نبی و رسول بنائے جانے کے بعد دوسرے تمام ادیان و مذاہب منسوخ ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس نے اس کائنات کو بنایا وہ دین اسلام کے علاوہ کسی بھی دین و مذہب سے راضی و خوش نہیں ہے۔

میں دین اسلام کی صداقت و حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے قرآن و حدیث سے دلیل نہیں دے رہا ہوں کیونکہ غیر مسلم اس کو نہیں مانتے۔

میں زمین کے اندر قبروں میں کروڑوں کی تعداد میں محفوظ انبیاء کرام سمیت شہداء اسلام اور سچے مومنین و مومنات کی نعشوں سے ثابت کرتا ہوں کہ دین اسلام واقعی اللہ تعالیٰ کا سچا اور پسندیدہ مذہب ہے کیونکہ زمین میں بذات خود مردہ جسموں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ حفاظت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔

زمین کے اندر کیڑے مکوڑوں نے بھی ان جسموں کو نہ کھاکر ثابت کردیا کہ مسلمانوں کے عقائد اور اعمال سچے اور درست ہیں جبکہ دوسری جانب ایک بھی غیر مسلم پوپ، پادری، پنڈت وغیرہ کا مردہ جسم بغیر کیمیکل کے محفوظ اور تازہ حالت میں نہیں ہے۔

لہذا دین اسلام کو تمام انسانوں کا مذہب قرار دیا جائے تو دنیا سے خود بخود غربت ختم ہوجائے گی، امن قائم ہوگا اور مرنے کے بعد والی زندگی بھی کامیاب ہوجائے گی۔

Coronavirus Cure Pakistan