حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ فکر و عمل

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہم سب مسلمانوں کیلئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاحزاب، آیت نمبر 21میں فرمایا ہے کہ تم سب کیلئے یعنی کہ ایسے شخص کیلئے جو اللہ اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
اس آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مومن کامل کیلئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی ایک بہترین نمونہ ہے۔ لہذا ہم سب مسلمانوں پر فرض ہوگا کہ ہمارا طرزِ فکر اور طرزِ عمل صرف اسی طرح ہو جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا تھا۔ورنہ ہم نہ تو اس دنیا میں مکمل کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی مرنے کے بعد والی زندگی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز فکر اور سوچنے کا انداز یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں مسلمانوں کی دنیوی و اخروی کامیابی کیلئے سوچا کرتے تھے وہیں غیر مسلموں کیلئے بھی فکر مند رہا کرتے تھے کہ کسی طرح یہ لوگ بھی دین اسلام میں داخل ہوجائیں تاکہ ان کی دنیوی زندگی کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی بھی کامیاب ہوجائے۔ اسی سوچ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسقدرفکرمند ہوجاتے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان دیدیں گے۔چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا نہ سوچیں کہ خود اپنی جان پر بات آجائے جیسا کہ سورہ الہکف، آیت نمبر 6میں ہے کہ اگر یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے تو شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے غم میں اپنی جان دیدیں گے۔اسی طرح سورہ الشعراء، آیت نمبر3 میں ہے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایمان نہ لانے پر اپنی جان دیدیں گے۔
مندرجہ بالا دونوں آیات کا مطلب بالکل واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کیلئے بہت فکر مند رہا کرتے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیات کے ذریعہ تسلی دی کہ اتنا نہ سوچئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہوکر ہلاک ہوجائیں۔ کیونکہ ایمان و کفر تو قیامت تک رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاکام ان کو تبلیغ کرنا اور سمجھانا ہے، ہدایت دینا یا نہ دینا میرا کام ہے۔یہ عالم، ابتلاء و امتحان کی جگہ ہے۔ یہا ں ہم آزماتے ہیں کہ کون میری باتوں پر ایمان لاتا ہے اور کون ایمان نہیں لاتا۔ ورنہ اگر جبراً کافروں کو مسلمان بنانا ہو تو یہ میرے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تبلیغ کردیں پھر بروزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ دین اسلام میں داخل کیوں نہیں ہوئے تھے۔
قارئین گرامی!مذکورہ دونوں آیات سے ثابت ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر مسلموں کے بارے میں کیا طرزِ فکر تھا۔ جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کا تعلق ہے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم قلبی طور پر پرسکون تو رہے لیکن جسمانی طور پر مختلف حالات کی وجہ سے پریشان بھی رہے جیسا کہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسکا مفہوم ہے کہ مجھے اللہ کے راستے میں اتنی تکلیف پہنچائی گئی جتنی تکلیف کسی اور کو نہیں پہنچائی گئی۔
اس حدیث سے ہم سب مسلمان اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کو پھیلانے کیلئے کتنی محنت کی ہوگی اور کس قدر سخت حالات کا سامنا کیا ہوگا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود ہجرت کے بعد 27جنگوں میں شریک ہوئے حتی کہ غزوۂ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک شہید ہوگئے اور رخسارِ مبارک بھی زخمی ہوا۔ غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز فکر و طرز عمل مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کیلئے بھی تھا۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کو بالکل چھوڑ دیا ہو اور ان سے منہ موڑ لیا۔ تقریباً یہی طرز فکر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام کا رہا۔حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال غیرمسلموں کو مسلمان بنانے کیلئے تبلیغ کی تھی۔
مگر افسوس صد افسوس کہ آج تقریباً 7ارب انسانوں میں سے 75فیصد غیرمسلم اور صرف 25فیصد مسلمان ہیں مگر آج انبیاء کے نائبین علماء کرام میں سے اکثر غیر مسلموں کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ ساری طاقت صرف مسلمانوں پر ہی خرچ کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہودی، عیسائی، ہندو اور بدھست وغیرہ بھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں۔اگر ہم لوگ ان لوگوں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر نہیں کریں گے تو اسلام کبھی بھی غالب نہیں ہوسکے گا۔ لہذا ہم مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ خود کو دین اسلام پر قائم رکھتے ہوئے ان غیر مسلموں کے بارے میں بھی سوچیں او ر ایسا طرز فکر و عمل اختیار کریں کہ یہ لوگ بھی آسانی سے دین اسلا م میں داخل ہوجائیں۔
یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ آج تقریباً 75فیصد مسلمان دین اسلام پر عمل نہیں کر رہے بلکہ دین اسلام کی بدنامی اور جگ ہنسائی کا بھی سبب بنے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے کہا کہ
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود یہ ہیں مسلماں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

بھلا بتائیے اس صورتحال میں کس منہ سے ہم غیر مسلموں کو دین اسلام کی جانب راغب کرسکیں گے؟ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز فکر و عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کو دین اسلام کے مطابق ڈھالیں تاکہ غیر مسلم ہماری گفتار و کردار سے متاثر ہوکر دین اسلام کی طرف بڑھ سکیں۔ اگر ہم خود ایسا نہیں کریں گے اور دین اسلام کی جگ ہنسائی کا سبب بنتے رہیں گے تو یہ مشکل ہے کہ غیر مسلم دنیا اسلام کو قبول کرے اور یہ دین غالب ہوسکے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود ہی دین کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے نمایاں طرز فکر و عمل یہ تھا کہ پہلے خود اچھا سوچتے، عمل کرتے پھر دوسروں کو وعظ کرتے تھے جبکہ آج معاملہ بالکل برعکس ہوتا جارہا ہے کہ ہم خود عمل نہیں کرتے اور دوسروں کو ہی وعظ کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز فکر وعمل اختیار کرنے کی توفیق دے، آمین!

Coronavirus Cure Pakistan