سوالات کے لیے رابطہ نمبر: 00923116622218
انگریزی زبان

سچا دین

ایک کتے پر تین صدیاں نیچر کے قوانین بے اثر

تحریر: محمد نوح (January 18, 2020)

اللہ نے اصحاب کہف کے نوجوانوں کو تین سو سال سے ذائد نیچر کے قوانین سے بے اثر رکھا کہ ان کی عمر، جسم وغیرہ پر کوئی فرق نہ ہونے دیا یہاں تک کہ ان کے ساتھ رہنے والے کتے پر بھی نیچر کے قوانین کا اثر نہ ہوا۔

"تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی"
(سورہ کہف، آیت نمبر 18)

اگر قرآن کی اس آیت کو بہت غور سے تجزیہ کیا جائے تو پتہ لگتا ہے کہ اللہ نے نوجوانوں کے سونے کا ذکر کیا اور کروٹیں بدلنے کا بھی۔

جبکہ کتے کے بارے میں یہ بتایا کہ گویا ان کی حفاظت کے لیے دہانے پر ذندہ بیٹھا رہا۔

کیا یہ کتا تین سو سال سے ذائدہ عرصہ بنا کھائے پیئے ذندہ سلامت رہا؟

کیا کتے کے جسم پر زمانے اور موسم کا کوئی اثر نہ ہوا؟

اگر آپ کو یقینی علم ہے تو ہمیں ثبوت و دلائل بھیجیں۔

مجھے تو اس پر مزید غور و فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک مسلمانوں کی صحبت میں رہنے والے ایک کتے پر بھی اللہ کی ایسی رحمت تھی کہ اس پر بھی نیچر کے قوانین بے اثر کردیے۔

تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک و سچے غلاموں پر اللہ کی رحمت کا عالم کیا ہوگا کہ ان پر نیچر کے قوانین بے اثر نہ کرے؟

اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار، ان کی نبوت پر ڈکیتی مارنے والے مجرموں، انہیں برا بھلا کہنے والے غیرمسلموں، ان کی نبوت کا انکار کرنے والے ہٹ دھرموں اور ان کی امت میں فساد انگیزی پھیلانے والے نافرمانوں پر اللہ کی لعنت کا عالم کیا ہوگا؟ تبھی تو ان سب کی لاشوں کو بدبودار ہوکر گلنے سڑنے دیتا ہے۔

اصل کمال سڑنے گلنے میں نہیں۔ سڑی گلی غذا بھی کوئی انسان اچھی اور تروتازہ غذا کے برابر نہیں مانتا۔

بلکہ اصل کمال تو کسی چیز کے سڑنے گلنے سے محفوظ و سلامت رہنے میں ہیں۔

حیرت سڑنے گلنے والی چیز پر نہیں بلکہ سڑنے گلنے سے محفوظ رہنے والی چیز پر ہونی چاہیے۔

میں پوچھتا ہوں کہ:

اگر غیرنبی نوجوانوں کے ایک کتے کے جسم پر زمین کے اوپر تین سو سال سے ذائد عرصہ نیچر کوئی اثر نہ ڈال سکی اور اس زمانے بھر کے لوگ مرکھپ کر سڑگل گئے اور زمین کے اوپر ہی ان نوجوانوں کے جسم بھی سلامت رہے تو تروتازہ لاشوں پر شک کرنے والے مسلمانوں سے میں پوچھتا ہوں کہ تمہیں اس میں کیا تعجب کی بات ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک چودہ سو سال سے زمین کے اندر سلامت ہے جبکہ ان کا جسم مبارک تو انتقال کے بعد بھی کم از کم دو دن زمین کے اوپر بھی تدفین میں تاخیر کے سبب سلامت رکھا رہا؟

اگر اہل ایمان کو ماننے والے نوجوانوں کا ایک کتا بھی زمین پر کئی سو سال سلامت رہا تو اس میں کیا تعجب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے والے مجاہدین اسلام کی لاشیں زمین کے اوپر اور قبر کے اندر تروتازہ و سلامت رہتی ہیں؟

اگر اللہ اہل ایمان کے ایک کتے کو سلامت رکھ سکتا ہے تو اس میں کیا تعجب ہے کہ وہی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کو آخری نبی ماننے والوں کو سلامت رکھ رہا ہے؟

کیا ان مسلمانوں کی عقل کام نہیں کررہی یا ان کے دل و دماغ بداعمالیوں کے سبب ابلیس کے ہاتھوں مفلوج ہوگئے ہیں؟

یا حسد و جلن نے ان کے علوم و شعور کو جلاکر راکھ کر ڈالا ہے؟

یا دنیا کی بے پناہ محبت نے ان کی عقل سلب کرلی ہے؟

اگر ان مسلمانوں کو اصحاب کہف کے ایک کتے سے بھی اللہ کی اس نشانی کو سمجھنے کے لیے سبق اور یقین نہ مل سکے کہ تروتازہ رکھنا یا سڑاگلادینا صرف اللہ کا عمل ہے یا وہ اس پر اپنے اطمینان کے لیے تحقیق اور غوروفکر سے منہ پھیر لیں تو پھر ایسے بودے مسلمانوں کا ابلیس و دجال کے ہاتھوں پٹائی کھاتے رہنا اور ذندگی میں پریشان حال رہنا ہی بہتر ہے۔

جو اللہ کے لیے مخلص نہ ہو وہ نفس و شیطان کا مخلص ہی ہوسکتا ہے۔


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

ٍ
Coronavirus Cure Pakistan