سوالات کے لیے رابطہ نمبر: 00923116622218
انگریزی زبان

سچا دین

شیاطین کے مقابلے میں اکثر انسان بے وقوف ہیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (December 14, 2019)

شیاطین کے مقابلے میں ہم میں سے اکثر انسان بیوقوف ہیں کیوں کہ شیاطین آپس میں اس طرح نہیں لڑتے اور نہ ہی ایک دوسرے سے اس طرح نفرت کرتے ہیں جس طرح ہم میں سے اکثر شیاطین کی باتوں میں آکر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اور نفرتیں کرتے ہیں۔

ہر انسان کو اس دھرتی پر عارضی زندگی ملی ہوئی ہے جو کہ دس سیکینڈ سے 60 سے 70 سال یا زیادہ سے زیادہ 100 وغیرہ سال تک کے لئے ہے۔ اتنی سی وقت کے لئے کیا کسی سے نفرت کرنی یا لڑنا جھگڑنا ہے؟
اس دنیا سےجاتے وقت یہ زمین کوئی اپنے جیب میں لے کر نہیں جاتا۔ لہذا مودی صاحب جیسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ وہی کام کرے جس سے دنیا کے اکثر انسان اس کے مرنے کے بعد اسے اچھے نام اور کردار سے یاد کرے نہ کہ برے الفاظ سے یاد کرے۔

اپنے وقت کو قیمتی سمجھو، زندگی کی قدر کرو کیوں کہ سب کچھ چھوڑ کر اچانک کسی بھی وقت یہاں سے چلے جانا ہے اور پہر کبھی نہیں آنا۔
اس لئے سب سے پہلے اس کائنات کے خالق کی تلاش کرو اگر نہی کیا ہے۔ اور اگر کرلیا ہے جو کہ اللہ ہے تو اس سے پیار کرو، اس کو یاد کرو اور اسی کی عبادت کرو کیوں کہ صرف وہی ہمیشہ کے لئےآنکھ بند ہونے کے بعد کام آئےگا۔
لہذا ہر آدمی اپنی آخرت کی فکر کرے اور بے فائدے کے کام نا کرے۔

اکیلے میں روزانہ صرف 15 منٹ سوچیں کہ کیا آپ شریف ہیں؟

اگر ہاں تو آپ کامیاب ورنہ ناکام ہیں اور آپ کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی اس دنیا میں یا مرنے کے بعد۔

انسان اپنے آپ کو جتنا جانتا ہے اتنا اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔

لہذا یہ تجرباتی نکتہ یاد رکھیں کہ انسان کی نیت اگر خراب ہوجائے تو اس سے بڑا کوئی شیطان اور جانور نہیں بھلے دنیا کے تمام انسان اسے فرشتہ سمجھیں لیکن اگر صرف اس کی نیت اور اس کے ارادے پاک ہو جائیں تو یہ فرشتہ سے بھی افضل ہے اگرچہ سارے انسان اسے شیطان، جانور یا برا کہیں۔

عدالت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے آپ کی بات کو نہیں مانتا ورنہ ہر انسان اگر خود اپنے ضمیر کی عدالت کے فیصلے کو مان لے تو نہ تو کسی عدالت کی ضرورت ہے، نہ کسی جج کی اور نہ ہی کسی وکیل کی۔ لہذا آپ جو بھی کچھ کریں کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کی عدالت سے پوچھ لیں کہ کیا آپ شریفانہ کام کر رہے ہیں یا رذیلانہ؟

اب آپ لوگ خود ہی اکیلے میں 15 منٹ میں اپنے آپ سے پوچھ لیں کہ آپ شیطان ہیں، شیطان اکبر ہیں، شیطان اصغر ہیں، جانور ہیں، درندہ ہیں، سانپ ہیں، بچھو ہیں، انسان ہیں یا فرشتہ ہیں وغیرہ وغیرہ؟

ایک شعر ہی پر عمل کرلیں تو آپ بھی بالکل بدل جائیں گے بلکہ فرشتہ بن جائیں گے اور پہر پوری دنیا کو بھی بدل سکتے ہیں۔

شعر:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی-
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن؟

نوٹ: نیک اور ایماندار صرف مسلم ہی ہوسکتا ہے کیوں کہ صرف دین اسلام ہی اس وقت خالق کائنات یعنی اللہ تعالی کے نزدیک مکمل ہے۔ لہذا غیر مسلم خالق کائنات کے مکمل ہدایات پر عمل ہی نہیں کرسکتا تو وہ نیک و ایماندار کیسے ہو سکتا ہے۔

البتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آسمانی کتاب کے ذریعہ جو بھی ہدایات دیئے گئے تھے اس وقت کے اعتبار وہ ہدایا ت خالق کائنات کو راضی کرنے کے لئے مکمل تھے اور اس وقت جو ان ہدایات پر عمل کرتے تھے وہ نیک اور شریف ہوجاتے تھے۔ آخر میں آسمانی کتاب قرآن کریم اتارا گیا ہے لہذا اسے مانے بنا کوئی بھی شریف اور ایماندار نہیں بن سکتا۔ اس لئے مندرجہ بالا مضمون پر عمل کرکے کوئی بھی کافر اللہ تعالی کے نزدیک ایماندار اور کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ دین اسلام کو قبول کرلے۔ کیوں کہ کفر کی حالت میں موت کی صورت میں عذاب قبر اور جہنم ہے۔ اسے کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔

 


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

ٍ
Coronavirus Cure Pakistan