دنیا سے ہمیشہ کیلئے غربت وبدامنی ، دہشت گردی اور جنگ ختم کرنے کاعالمی امن فارمولہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 25, 2011)

دنیا میں انسانوں کی حالت:
اس وقت ہمارے تجزیئے کے مطابق دنیا میں انسانوں کی حالت دیہی علاقوں میں یہ ہے کہ لگ بھگ 70ـفیصدانسان مسلم و غیر مسلم دونوں غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیںکہ رہائش کیلئے ذاتی مکان نہیں، کھانے کو مناسب غذا نہیں، پہننے کو مناسب کپڑا نہیں، بیماری کے علاج کیلئے پیسے نہیں، بچوں کی تعلیم کیلئے سِرے سے کوئی سہولت ہی نہیں نیز شہروں میں بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کی بیروزگاری اور ان پڑھ بیروزگاروں کی خودکشی کے واقعات آئے دن پڑھنے کو ملتے ہیں۔ جب دنیا کی مسلم و غیر مسلم حکومتوں سے بات کریں کہ بیوائوں، مسکینوں اور غریبوںکے ان مذکورہ مسائل کو حل کریں تو وہ کہتے ہیں کہ انکے پاس اِن مسائل کے حل کیلئے پیسے نہیں کیونکہ تقریباًدنیا کی مسلم و غیر مسلم ہر حکومت اپنے وسائل میں سے تقریباً 70فیصد اپنے اپنے ملک کے دفاع پرمجبوراً خرچ کرتی ہے تاکہ دوسرے دشمن ممالک کے حملے سے اپنے ملک کو بچا سکیں۔

دنیا میں ایٹم بموں، میزائلوں اور جدید ہتھیاروں کی مقدار:
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایٹم بموں، میزائلوں اور جدید ہتھیاروں کی اتنی مقدار موجود ہے کہ پوری دنیا کو ان ہتھیاروں سے دس بار تباہ و برباد کیا جاسکتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق تمام انسان حقیقت میں ابتدائی طور پر ایک ہی ماں باپ یعنی حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی اولاد ہیں اگرچہ دینی و مذہبی اعتبار سے ہم کسی کو یہودی، عیسائی، ہندو اور مسلمان وغیرہ کہتے ہیں ، اس اعتبار سے دنیا کے تمام انسان خواتین و حضرات آپس میں بھائی بہن کی طرح ہیں۔ 

لیکن بجائے اسکے کہ ایک ماں باپ کی اولاد کے درمیان الفت و محبت اور اتفاق و اتحاد ہوتا،آج حالت یہ ہے کہ آپس ہی میں دست و گریبان اور ایک دوسرے کو ختم کرنے کیلئے بھاری مقدار میں ایٹم بم، میزائل اور دیگر خطرناک ہتھیار بناکر بیٹھے ہوئے ہیں۔

عالمی امن فارمولہ: 
میری تحقیق اور تجزئیے کے مطابق مذکورہ تمام حالات کی وجہ دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب کی موجودگی اور انکے درمیان شدید اختلافات کا پایا جانا ہے۔ اسی وجہ سے ماضی میں بھی بہت سی جنگیں ہوئیں اور آج بھی خود کش حملے اور پس پردہ مذہبی جنگیں جاری ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ یہ مذہبی جنگیں ہمیشہ کیلئے بھی مستقبل میں جاری رہیں گی اور دنیا تباہ ہونے کو جارہی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔

میرے نزدیک ہمیشہ کیلئے عالمی امن فارمولا یہ ہے کہ پوری دنیا میں صرف ایک ہی سچا دین ومذہب (جو اس کائنات کے خالق کے نزدیک پسندیدہ ہے) نافذ کیا جائے اور باقی تمام ادیان و مذاہب کو منسوخ قرار دیا جائے کیونکہ دین و مذہب خالقِ کائنات کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ تمام ادیان و مذاہب کا اتفاق ہے کہ اس کائنات کا خالق صرف ایک ہی ہے جسے ہم عربی میں اللہ، فارسی میں خدا، انگریزی میں Godاور ہندی میں بھگوان کہتے ہیں۔ لہذا سچا دین و مذہب بھی ایک وقت میں ایک ہی ہوگا۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں اس کائنات کے خالق نے اپنی عبادت و فرمانبرداری کیلئے آپس میں شدید اختلاف رکھنے والے بہت سے ادیان و مذاہب کواپنی خوشنودی کی اجازت دے دی ہو؟ سچی بات تو یہ ہے کہ اس دینی ومذہبی اختلاف کی شدت نے تو ہم انسانوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے مگر افسوس پھر بھی ہمارے دانشورانِ قوم، مفکرین اور سیاسی ومذہبی راہنماؤں کو ذرہ برابر بھی اس طرف توجہ نہیں۔لہذا آئیے ہم سب انسان ملکر اب اِن مذاہب کو چیک کریں کہ ان میں سے کونسا دین و مذہب خالقِ کائنات کے نزدیک سچا اور پسندیدہ ہے کہ ہم اسکو اختیار کریں اور کونسا غلط ہے تا کہ ہم ان سے جان چھڑائیں اور ددنیا کی حالت درست ہواور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔

لہذا آیئے ہم سب انسان ملکر خالقِ کائنات کے اس ایک سچے مذہب کو تلاش کریں تاکہ دنیا میں ایک ہی مذہب کو نافذ کیا جائے اور ہمیشہ کیلئے ایٹمی جنگ کا خطرہ ختم ہوجائے۔ایٹم بموں اور میزائلوں پر ہونے والے اخراجات بچ جائیں اور یہی اخراجات دنیا کے70فیصد بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم انسانوں پر خرچ کئے جائیں اور ایک ماں باپ کی اولاد آپس میں شیر و شکر ہوکر زندگی بسر کرنے لگے۔ 

دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں:
مذکورہ تحریر سے خدا نخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ میں دنیا کے انسانوں کو دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہا ہوں ، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا کا دین و مذہب صِرف ایک کردیا جائے۔لیکن دنیا کے تمام ممالک کے عوام ایک مذہب پر ہوتے ہوئے اپنے اپنے ملک کے حکمرانوں کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب کریں گے اور جمہوری طریقے پریا جس ملک میں بادشاہی نظام چل رہا ہے تو وہاں بادشاہی طریقے پر ہر ملک اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے گا۔ البتہ آپس کے معمولی جھگڑوں اور اختلافات کو نمٹانے کیلئے فوج، پولیس اور عدلیہ یہ سب ادارے اسی طرح کام کرتے رہیں گے۔

دنیا کے انسانوں سے ایک اپیل:
میں دنیا کے تمام انسانوں سے آخر میں ایک اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ میری مذکورہ تحریر سے متفق ہیں تو آیئے ہم سب مل کر اس ایک سچے مذہب کی تلاش کیلئے آپس میں گفت و شنید کریں اور آپس میں تبادلہ خیال کریں تاکہ آپکی آرا ء سے دنیا میں صرف ایک سچے مذہب کو قائم کیا جائے ورنہ دنیا کے انسان قیامت تک کچھ بھی کرلیں دنیا میں ہمیشہ کیلئے امن قائم نہیں کرسکیں گے، نہ ہی پس پردہ جنگوں کو روک سکیں گے اور نہ ہی دنیا کے تقریباً70فیصد غریب و مفلس انسانوں کی داد رسی کرسکیں گے۔

دنیا کے تما م انسان میری باتوں پر کان دھریں قبل اس کے کہ دنیا میں ایٹمی جنگ شروع ہوجائے۔ دینی و مذہبی اختلاف کو ختم کئے بغیر اور دنیا میں ایک ہی مذہب کو رائج کئے بغیر ہمیشہ کیلئے دنیا میں امن قائم کرنے کا میرے پاس دوسرا کوئی فارمولا نہیں اور نہ ہی آپکے پاس ہے۔ لہذا قدم بڑ ھا ئیے اور مندرجہ ذیل روابط کے ذریعہ ہمارے انٹرنیشنل امن فارم پر کھل کر بحث کیجئے۔

اللہ تعالیٰ حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی اولاد کو صحیح سوجھ بوجھ اور بصیرت عطا کرے تاکہ اس کی مخلوق کی بے لوث ہوکر خدمت کرنے کے قابل ہوجائے اور اپنے حقیقی اور سچے دین کی جانب ہم سب انسانوں کی رہنمائی کرے، آمین ثم آمین۔

Coronavirus Cure Pakistan