دنیا میں یا کسی بھی ملک میں مسقل طور پر امن کی صرف ایک ہی صورت ہے

تحریر: مولانا ابرار عالم (February 27, 2019)

وہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام یا اکثر انسانوں کا دین و مذہب صرف ایک ہو جائے۔

اس کے علاوہ دنیا یا کسی بھی ملک میں مستقل طور پر امن کے قیام کی کوئ بھی صورت نہیں ہے۔

کیوں کہ ماضی میں جتنی بھی بڑی جنگیں ہوئیں یا ابھی ہو رہی ہیں یا ہوں گی ان سب کی بنیادی وجہ بہت سے حق و باطل ادیان و مذاہب کی موجودگی ہے۔ مفادات دوسرے نمبر پر ہیں۔ اسی بنا پر اب تک دنیا میں مستقل طور پر امن کے قیام کی ساری کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔ مثال کے طور پر آج اگر ہندوستان کے سارے ہندو مسلمان ہو جائے تو کشمیر کا جھگڑا ختم ہو جائےگا۔ سارے یہودی مسلمان بن جائیں تو فلسطین پر جھگڑا ختم ہو جائےگا۔ سارے افغانی عیسائی بن جائیں تو ساری غیر مسلم فوجیں وہاں سے نکل جائیں وغیرہ وغیرہ

لہذا دنیا کے عقل مند انسانوں سے گزارش ہے کہ اندھے بہرے ہو کر امن کے قیام کے لئے کام نہ کریں ورنہ کوئ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر واقعی آپ لوگ مستقل طور پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو عالمی میڈیا کے ذریعہ دنیا کے تمام انسانوں کو اطلاع دیں کہ وہ دنیا میں مستقل طور پر امن قائم کرنے کے لئے صرف اس ایک دین و مذہب پر متحد ہوجائیں جن کے سچے پیروکاروں کی لاشیں فطری حالت میں بوسیدہ نہیں ہوتیں اور جن کے شہداء اور صوفیوں کی روحیں مرنے کے بعد بھی لوگوں کا علاج کرتیں اور ان کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

جب تک دنیا کے تمام یا اکثر انسان ایک دین و مذہب پر متحد نہیں ہوں گے مستقل طور پر امن قائم نہیں ہو سکتا اور جب تک امن قائم نہیں ہوگا جنگوں پر لا محدود پیسے خرچ ہونے کی وجہ سے کروڑوں معصوم انسانوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ دنیا کے اکثر انسانوں میں غربت رہےگی جو جہالت، جرائم، خوکشی، بیماری اور جسم فروشی وغیرہ کی وجہ ہے۔

یعنی دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب کی موجودگی کی وجہ سے دنیا کے اکثر انسانوں کے لئے مستقل امن اور ترقی عارضی ہی ثابت ہوگا۔

ایک دوسری صورت ہے امن کے قیام کی اور وہ یہ کہ دنیا کے تمام ممالک اقوام متحدہ کے ذریعہ آپس میں پکا معاہدہ کر لیں کہ وہ سب کسی بھی صورت میں جنگیں نہیں لڑیں گے۔ مگر یہ صورت بھی امن کے قیام کی عارضی ہی ہے جیسا کہ ہم لوگ دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور ممالک ان معاہدوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھتے۔

بہر حال دنیا کے وہ لوگ جو انسانیت اور دین و مذہب سے پیار کرتے ہیں اور مستقل طور پر امن کے قیام کا خواہاں ہیں ان سے گزارش ہے کہ اگر وہ مخلص ہیں تو میرے دیئے گئے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے امن اور ترقی لانے کی خود کوشش کریں یا ہمارا ساتھ دیں ورنہ کولہو کے بیل کی طرح ساری زندگی ایک ہی دائرہ میں چکر کاٹتے رہیں۔

مانئے نہ مانئے اب آپ جانئے۔

Coronavirus Cure Pakistan