شہداء کرام کے فضائل کا بیان​

تحریر: واجدحسین (May 22, 2017)

شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : 

فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سورہ النساء ۔ 69)
تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔
٭ ایک صحیح حدیث میں بھی آیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام شہداء سے صرف درجہ نبوت کی وجہ سے افضل ہیں ۔
ممکن ہے یہ حدیث کچھ مخصوص شہداء کے بارے میں ہو جبکہ آیت کریمہ میں عام شہداء کا مقام بیان کیا گیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔
اللہ تعالی کے راستے میں قتل ہونے والوں کو شہید کیوں کہتے ہیں ؟ [ اس بارے میں کئی اقوال ہیں ]
( 1 ) کیونکہ اس کے لیے جنت کی شہادت [ یعنی گواہی ] دے دی گئی ہے [ کہ وہ یقیناً جنتی ہے ]
( 2 ) کیونکہ ان کی روحیں جنت میں شاہد [ یعنی حاضر ] رہتی ہیں کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں جبکہ دوسرے لوگوں کی روحیں قیامت کے دن جنت میں حاضر ہوں گی نضر بن شمیل فرماتے ہیں کہ شہید بمعنی شاہد ہے اور شاہد کا مطلب جنت میں حاضر رہنے والا ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں یہی قول صحیح ہے ۔ ( التذکرہ للقرطبی )
( 3 ) ابن فارس کہتے ہیں الشہید بمعنی القتل یعنی اللہ کے راستے میں قتل کیا جانے والا ۔
( 4 ) کیونکہ فرشتے اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں ۔
( 5 ) جب اللہ تعالی نے جنت کے بدلے اس کی جان کو خرید لیا اور اس پر لازم کیا کہ وہ اس عہد کو پورا کرے تو شہید نے جان دے کر گواہی دے دی کہ اس نے یہ عہد پورا کردیا ہے اور اس کی گواہی اللہ کی گواہی کے ساتھ مل گئی اللہ کے حضور اپنی جان پر گواہی [ شہادت ] کی وجہ سے اسے شہید کہا جاتا ہے ۔
( 6 ) ابن انبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اور فرشتے اس کے لیے جنت کی شہادت [ یعنی گواہی ] دیتے ہیں اسی لیے اسے شہید کہا جاتا ہے ۔
( 7 ) اس کی روح نکلتے وقت اس کا اجر اور مقام اس کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے اس وجہ سے اسے شہید کہتے ہیں ۔
( 8 ) کیونکہ رحمت والے فرشتے اس کی روح لینے کے لیے شاہد [ یعنی حاضر] ہوتے ہیں ۔
( 9 ) اس کے پاس ایک شاہد [ گواہ ] ہے جو اس کی شہادت کی گواہی دیتا ہے اور وہ ہے خون کیونکہ قیامت کے دن شہید جب اٹھے گا تو اس کی رگوں میں سے خون بہہ رہا ہوگا ۔
شہید کے فضائل اور مقامات بے شمار ہیں یہاں میں ان میں سے وہ فضائل بیان کروں گا جن تک میری قلیل علم اور ناقص سمجھ کی رسائی ہوئی ہے ۔

( 1 ) شہداء زندہ ہیں
اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ (سورہ البقرہ ۔ 154 )
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :
وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ( سورہ آل عمران ۔ 169۔171 )
جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں کھاتے پیتے ہیں وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطاء فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتےہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے ۔
٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہداء جنت کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک محل میں رہتے ہیں اور ان کے لیے صبح شام جنت سے رزق لایا جاتا ہے ۔ ( مسنداحمد ۔ مصنف ابن ابی شیبہ ۔ المستدرک ۔ صحیح علی شرط مسلم )
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ان سے خون بہہ رہا ہوگا وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے پوچھا جائے گا یہ کون ہیں ۔ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی ۔ ( الطبرانی۔ مجموعہ الزوائد )
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پر کھڑے ہوئے تھے اور حضرت مصعب زمین پر شہید پڑے تھے اس دن انہی کے ہاتھ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی :
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا ( الاحزاب 23)
ایمان والوں میں کچھ مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیاتھا اسے سچ کر دکھلایا پھر بعض تو ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر لیا اور بعض ان میں سے ( اللہ کی راستے میں جان قربان کرنے کے لیے ) راہ دیکھ رہے ہیں اور وہ ذرہ (برابر ) نہیں بدلے ۔
بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے لیے گواہی دیتے ہیں کہ تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے شہداء میں سے ہو پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگوں تم ان کے پاس آیا کرو ان کی زیارت کیا کرو ان کو سلام کیا کرو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ اسے جواب دیں گے ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک مرسلا )
٭ حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص جوحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیا کرتے تھے احد کے دن ان کو کسی نے بتایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوچکے ہیں تو انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پہنچا دیا چنانچہ اب تم سب [مسلمان ] ان کے دین کے لیے جہاد کرو پھر وہ تین بار اٹھے اور ہر بار موت کے منہ تک پہنچے اور بالآخر تیسرے حملے میں شہید ہو گئے جب ان کی اللہ تعالی سے ملاقات ہوئی اور اپنے [ شہداء ] ساتھی بھی ملے تو وہ وہاں کی نعمتیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار کیا کوئی قاصد نہیں ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری یہ حالت بتا سکے اللہ تعالی نے فرمایا میں تمھارا قاصد ہوں ۔ پھر اللہ تعالی نے جبرئیل کو حکم دیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر یہ آیات سنائیں ولاتحسبن سے آخر تک ۔ ( اخرجہ المنذری فی تفسیرہ )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان آیات کی شان نزول میں اور بھی کئی صحیح احادیث ہیں جو ان شاء آگے آئیں گی۔
٭ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے دیکھا تو فرمایا اے جابر کیا بات ہے تم فکر مند نظر آتے ہو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور اپنے اوپر قرضہ اور اہل و عیال چھوڑ گئے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالی نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردے کی پیچھے سے کی لیکن تمھارے والد سے آمنے سامنے بات فرمائی اور کہا مجھ سے جو مانگو میں دوں گا تمھارے والد نے کہا مجھے دنیا میں واپس بھیج دیجئے تاکہ دوبارہ شہید ہو سکوں ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا میری طرف سے پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ کسی کو واپس نہیں جانا تمھارے والد نے کہا اے میرے پروردگار پیچھے والوں کو ہماری حالت کی اطلاع دے دیجئے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں : ولا تحسبن الذین سے آخر تک ۔ ( ترمذی۔ ابن ماجہ ۔ المستدرک )

فصل
شہداء کی زندگی [ یعنی حیاۃ الشہداء ] کے بارے میں علماء کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔
( 1 ) علامہ قرطبی اور اکثر علماء کرام فرماتے ہیں کہ شہداء کی حیات یقینی چیز ہے اور بلا شبہہ وہ جنت میں زندہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے اور ان کی موت بھی ہو چکی ہے اور ان کے جسم مٹی میں ہیں اور ان کی روحیں دوسرے ایمان والوں کی ارواح کی طرح زندہ ہیں البتہ شہداء کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ ان کے لیے شہادت کے وقت سے جنت کی روزی جاری کر دی جاتی ہے تو گویا کہ ان کے لیے ان کی دنیوی زندگی جاری ہے اور وہ ختم نہیں ہوئی ۔
( 2 ) علماء کی ایک جماعت کا فرمانا ہے کہ قبروں میں شہداء کرام کی ارواح ان کے جسموں میں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہ عیش و آرام کے مزے کرتے ہیں جیسا کہ کافروں کو ان کی قبروں میں زندہ کر کے عذاب دیا جاتا ہے ۔
( 3 ) مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کی روحیں سبز پرندوں میں ڈال دی جاتی ہیں اور وہ جنت میں رہتے ہیں اور وہ کھاتے پیتے اور عیش کرتے ہیں ۔ قرطبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قول قرار دیا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کے لیے ہر سال ایک جہاد کا اجر لکھا جاتا ہے اور وہ اپنے بعد قیامت کے دن تک کے جہاد میں شریک رہتے ہیں ۔
( 5 ) ایک قول یہ ہے کہ ان کی روحیں عرش کے نیچے قیامت تک رکوع سجدے میں مشغول رہتی ہیں جیساکہ ان زندہ مسلمانوں کی روحیں جو باوضو سوتے ہیں ۔
( 6 ) ایک قول یہ ہے کہ ان کے جسم قبر میں خراب نہیں ہوتے اور انہیں زمین نہیں کھاتی یہی ان کی زندگی ہے ۔
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک [واللہ اعلم ] شہداء کی حیات کا مطلب یہ ہے کہ شہداءکو ایک طرح کی جسمانی زندگی بھی حاصل ہوتی ہے جو دوسرے مردوں کی زندگی سے زیادہ ممتاز ہوتی ہے اور ان کی ارواح کو بھی اللہ کے ہاں مختلف مقامات حاصل ہوتے ہیں یعنی ان کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں سے بھی رہتا ہے اور ان کی ارواح کو اللہ تعالی کے ہاں بھی مختلف مقامات ملتے ہں ان میں سے بعض کی ارواح سبز پرندوں میں ہوتی ہیں اور وہ جنت میں کھاتے پیتے ہیں اور عرش کے سائے میں بنی ہوئی قندیلوں میں بیٹھتے ہیں جیسا کہ صحیح احادیث کے حوالے سے ان شاء اللہ آگے آئے گا اوران میں سے کچھ جنت کے دروازے کے پاس دریا کے کنارے والے محل میں ہوتے ہیں اور جنت سے صبح اور شام ان کی روزی آتی ہے جیسا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں گذر چکا ہے اور کچھ ان میں سے فرشتوں کے ساتھ جنت میں اور آسمانوں میں اڑتے پھرتےہیں جیسا کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی روایت میں آئے گا اور کچھ ان میں سے جنت کی اونچی مسہریوں پر ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آئے گا ان کے مقامات کا یہ فرق دنیامیں ان کے ایمان اخلاص اور جان دینے کے جذبے کے فرق کی وجہ سے ہوگا شہادت سے پہلےجس کا ایمان و اسلام میں جتنا بلند مقام ہوگا شہادت کے بعد اللہ کے ہاں اس کا اتنا بلند مقام ہوگا آیئے اب شہداء کی جسمانی زندگی پر کچھ دلائل پڑھتے ہیں ۔
٭ حضرت امام مالک رحمہ اللہ عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں انصاری صحابی تھے ۔ سیلاب کی وجہ سے ان کی قبریں کھولی گئیں تاکہ ان کی جگہ بدلی جاسکے یہ دونوں حضرات ایک قبر میں تھے جب ان کی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسموں میں کوئی فرق نہیں آیا تھا گویا کہ انہیں کل دفن کیا گیا ہوں ان میں سے ایک کا ہاتھ شہادت کے وقت ان کے زخم پر تھا اور وہ اسی حالت میں دفن کئے گئے تھے دیکھا گیا کہ اب تک ان کا ہاتھ اسی طرح ہے لوگوں نے وہ ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر وہ ہاتھ واپس اسی طرح زخم پر چلا گیا غزوہ احد کے دن یہ حضرات شہید ہوئے تھے اور قبریں کھودنے کا یہ واقعہ اس کے چھیالیس سال بعد کا ہے ۔ ( مؤطاامام مالک رحمہ اللہ ۔ سیر اعلام النبلاء )
یہ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے براہ راست بھی آئی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کتاب الجہاد میں سند کے ساتھ ذکر فرمایا ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہر کظامہ جاری کرنے کا اردہ فرمایا تو اپ نے اعلان کروایا کہ جس شخص کا کوئی شہید ہوتو وہ پہنچ جائے پھر ان شہداء کے اجسام نکالے گئے تو وہ بالکل تر و تازہ تھے یہاں تک کہ کھودنے کے دوران ایک شہید کے پاؤں پر کدال لگ گئی تو خون جاری ہو گیا ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک )
٭ عبدالصمد بن علی رحمہ اللہ [ جو بنو عباس کے خاندان میں سے ہیں ] کہتے ہیں کہ میں اپنے [ رشتے کے ] چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبرپر آیا قریب تھا کہ سیلاب کا پانی ان کو ظاہر کر دیتا میں نے انہیں قبر سے نکلا تو وہ اپنی سابقہ حالت پر تھے اور ان پر وہ چادر تھی جس میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفنایا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر [گھاس ] تھی ۔ میں نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا تو وہ پتیل کی ہانڈی کی طرح [ چمک رہا] تھا میں نے گہری قبر کھدوائی اور نیا کفن دے کر انہیں دفنا دیا ۔ ( ابن عساکر )
٭ قیس بن حازم فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو ان کے کسی رشتہ دار نے خواب میں دیکھا تو انہوں نے فرمایا تم لوگوں نے مجھے ایسی جگہ دفن کر دیا ہے جہاں پانی مجھے تکلیف پہنچاتا ہے میری جگہ یہاں سے تبدیل کرو ۔ رشتے داروں نے قبر کھو دی تو ان کا جسم نرم و نازک چمڑے کی طرح تھا اور داڑھی کے چند بالوں کے علاوہ جسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ( مصنف عبدالرزاق )
ترمذی [ حدیث کی کتاب ] میں اصحاب الاخدود [ خندوقوں میں شہید کئے جانے والے جن کا تذکرہ قرآن مجید کی سورہ بروج میں ہے ] کا واقعہ مذکور ہے اس میں یہ بھی ہے کہ لڑکا جسے بادشاہ نے شہید کرکے دفن کر دیا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قبر سے نکالا گیا تو اس کی انگلی اس کی کنپٹی پر تھی [ کیونکہ یہیں اس کو تیر لگا تھا ] ۔ ( ترمذی )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیانی فترۃ والے زمانے کا ہے ۔
علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ تمام اہل کوفہ یہ بات نقل کرتےہیں کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضئہ اقدس کی دیوار گر گئی اور یہ ولید بن عبدالمالک کا دور حکومت تھا اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اس وقت مدینہ منورہ کے گورنر تھے تو روضہ مبارک سے ایک پاؤں کھل گیا لوگ ڈر گئے کہ شاید یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں مبارک ہے چنانچہ لوگ سخت غمگین ہوئے اس وقت حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر نے آکر وہ پاؤں دیکھا تو فرمایا یہ میرے دادا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں مبارک ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے ۔ ( التذکرہ للقرطبی )
حضرت ثابت بن قیس بن شماس کا واقعہ بہت مشہور ہے اور یہ واقعہ کئی صحابہ کرام اورمفسرین نے ذکر فرمایا ہے ۔ حضرت ثابت کی بیٹی فرماتی ہیں کہ جب قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ [ اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کر و ۔ ( الحجرات ۔ 2 )]
تو میرے والد گھر کے دروازے بند کرکے اندر بیٹھ گئے اور رونے لگے جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ پایا تو بلا کر گھر بیٹھ رہنے کی وجہ پوچھی انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری آواز [ طبعی طورپر ] بلند ہے میں ڈرتا ہوں کہ میرے اعمال ضائع نہ ہو جائیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں ہیں بلکہ آپ خیر والی زندگی جئیں گے اور خیر والی موت مریں گے ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ : [ کہ اللہ تعالی کسی اترانے والے خودپسند کو پسند نہیں کرتا ۔ ( لقمان ۔ 18 ) ]
تو میرے والد نے پھر دروازہ بند کر دیا گھر میں بیٹھ گئے اور روتے رہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں نہ پایا تو انہیں بلوایا اور وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تو خوبصورتی کو پسند کر تا ہوں اور اپنی قوم کی قیادت کو بھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں [ جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے ] بلکہ آپ تو بڑی پسندیدہ زندگی گزاریں گے اور شہادت کی موت پاکر جنت میں داخل ہوں گے۔ جنگ یمامہ کے دن جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں نے مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا تو ابتداء میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اس وقت حضرت ثابت بن قیس اور حضرت سالم رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو اس طرح نہیں لڑتے تھے۔ پھر دونوں حضرات نے اپنے لیے ایک ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہوکر ڈت کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اس دن حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک قیمتی زرہ پہن رکھی تھی ان کی شہادت کے بعد ایک مسلمان نے وہ زرہ اٹھالی ۔ اگلے دن ایک مسلمان نے خواب میں دیکھاکہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ اسے فرما رہے ہیں میں تمھیں ایک وصیت کر رہا ہوں تم اسے خیال سمجھ کر ضائع نہ کر دینا میں جب کل شہید ہوا تو ایک مسلمان میرے پاس سے گزرا اور اس نے میری زرہ اٹھالی وہ شخص لوگوں میں سب سے دور جگہ پر رہتا ہے اور اس کے خیمے کے پاس ایک گھوڑا رسی میں بندھا ہوا کود رہا ہے اور اس نے میری زرہ کے اوپر ایک بڑی ہانڈی رکھ دی ہے اور اس ہانڈی کے اوپر اونٹ کا کجاوہ رکھا ہوا ہے تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ کسی کو بھجوا کر میری زرہ اس شخص سے لے لیں پھر جب تم مدینہ منورہ جانا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ [ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ] سے کہنا کہ میرے زمے اتنا اتنا قرضہ ہے اور میرے فلاں فلاں غلام آزاد ہیں [ پھر اس خواب دیکھنے والے کو فرمایا ] اور تم اسے جھوٹا خواب سمجھ کر بھلا مت دینا ۔ چنانچہ [ صبح ] وہ شخص حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان تک پیغام پہنچایا تو انہوں نے آدمی بھیج کر زرہ وصول فرمالی ۔ پھر مدینہ پہنچ کر اس شخص نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پورا خواب سنایا تو انہوں نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی وصیت کو جاری فرما دیا ۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے مرنے کے بعد وصیت کی ہو اور اس کی وصیت کو پورا کیا گیا ہو سوائے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے ۔ ( المستدرک )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح کا ایک واقعہ علامہ حزولی رحمہ اللہ نے ابو محمد عبد اللہ بن زید رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے یہ واقعہ کچھ معتمد لوگوں نے حضرت ابو محمد رحمہ اللہ سے خود سناہے ابومحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں عبدالرحمن بن ناصر اندلسی کے زمانے میں خندق والے سال جہاد میں نکلا ۔ لڑائی میں مسلمانوں کو شکست ہوگئی اور بچ جانے والے مختلف اطراف میں بکھر گئے میں بھی بچ جانے والوں میں شامل تھا میں دن کو چھپ جاتا تھا اور رات کو چلتا تھا ایک رات اچانک میں ایک ایسے لشکر میں پہنچ گیا جس نے پڑاؤ ڈالا تھا ۔ ان کے گھوڑے بندھے ہوئے تھے آگ جل رہی تھی اور جگہ جگہ قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی تھی میں نے شکر اداء کہ مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گیا ہوں چنانچہ میں ان کی طرف چل پڑا اچانک میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی اس کا گھوڑا قریب بندھا ہوا تھا اور وہ بنی اسرائیل کی تلاوت کر رہاتھا میں نے اسے سلام کیا اس نے جواب دیکر کہا کیا آپ بچ جانے والوں میں سے ہیں میں نے کہا جی ہاں اس نے کہا آپ بیٹھے اور آرام کیجئے پھر وہ میرے پاس بے موسم کے انگور دو روٹیاں اور پانی کا پیالہ لے آیا میں نے ایسا لذیذ کھانا کبھی نہیں کھایا تھا پھر اس نے کہا کیا آپ سونا چاہتے ہیں میں نے کہا جی ہاں اس نے اپنی ران پر میرا سر رکھا اور میں سو گیا یہاں تک کہ سورج کی شعاعوں نے مجھے جگایا میں نے دیکھا کہ اس میدان میں کوئی بھی نہیں ہے اور میرا سر ایک انسانی ہڈی کے اوپر پڑا ہوا ہے میں سمجھ گیا کہ وہ سب شہداء کرام تھے میں اس دن چھپا رہا جب رات ہوئی تو پھر میں نے دیکھا کہ ایک لشکر وہاں سے گزر رہا ہے اور وہ گزرتے ہوئے مجھے سلام کرتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے ان سب کے آخر میں ایک آدمی لنگڑے گھوڑے پر سوار تھا اس نے مجھے سلام کیا تو میں نے کہا اے بھائی یہ کون لوگ ہیں اس نے کہا یہ شہداء ہیں اور اپنے گھر والوں سے ملنے جا ر ہے ہیں میں نے کہا تمھارا گھوڑا لنگڑا کیوں ہے اس نے کہا اس گھوڑے کی قیمت میں سے میرے ذمے دو دینار باقی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم اگر میں مسلمانوں کے ملک پہنچ گہا تو تمھارے یہ دو دینار ادا کروں گا یہ گھڑسوار گھوڑا چلاتا ہوا لشکر میں شامل ہو گیا پھر وہ واپس لوٹا اور اس نے مھے اپنے پیچھے بٹھالیا جب صبح مرغوں کی اذان سنای دی تو ہم مدینہ سالم [نامی جگہ] پہنچ چکے تھے اس شھر اور اس جگہ جہاں سے میں سوار ہوا تھا کے درمیان دس دن کی مسافت تھی اس شہید نے مجھے کہا تم اس شہر میں چلے جاؤ میں اسی میں رہتا تھا وہاں جاکر تم محمد بن یحییٰ غافقی کے گھر کا پوچھنا اس گھر میں جاکر تم میری بیوی جس کا نام فاطمہ بنت سالم ہے کہ میرا سلام کہنا اور اسے یہ پیغام دینا کہ طاقچے میں ایک تھیلی ہے جس میں پانچ سو دینار رکھے ہوئے ہیں تم ان میں سے دو دینار فلاں آدمی کو پہنچا دو کیونکہ میرے ذمے گھوڑے کی قیمت میں سے یہ دو دینار باقی ہیں میں شہر میں داخل ہوا اور میں نے اس کے کہنے کے مطابق کیا ۔ اس کی بیوی نے وہ تھیلی نکالی پھر مجھے کھانا کھلایا اور دس دینار دے کر کہا یہ سفر میں آپ کے کام آئیں گے۔ ( شرح دیباجۃ الرسالہ )
محمود وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایک کالے رنگ کا مبارک نامی شخص تھا ہم اسے کہتے تھے کہ اے مبارک کیا آپ شادی نہیں کرتے تو وہ کہتے تھے میں اللہ سے دعاء کرتا ہوں کہ وہ حورعین سے میری شادی کر دے ۔ محمود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم جہاد میں نکلے ہوئے تھے کہ دشمنوں نے ہم پر حملہ کردیا اس میں مبارک شہید ہوگیا ہم نے اسے دیکھا تو اس کا سر الگ پڑا ہواتھا اور باقی جسم الگ اور اس کے ہاتھ اس کے سینے کے نیچے تھے ۔ ہم اس کے پاس کھڑے ہوئے اور ہم نے کہا اے مبارک اللہ تعالی نے کتنی حوروں سے آپ کی شادی کرائی ہے انہوں نے اپنا ہاتھ سینے کے نیچے سے نکالا اور تین انگلیاں بلند کرکے اشارہ کیا [ کہ تین حوروں سے شادری ہوئی ہے ] ( روض الریاحین )
سعیدالعجمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سمندر میں جہاد کے لیے نکلے ہمارے ساتھ ایک بہت عبادت گزار نوجوان بھی تھا جب سخت لڑائی شروع ہوئی تو وہ بھی لڑتا ہوا شہید ہو گیا اور اس کی گردن کٹ گئی ہم نے دیکھا کہ وہ سر پانی کے اوپر آیا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر یہ آیت پڑھنے لگا:
ترجمہ [ وہ ( جو) آخرت کا گھر ( ہے ) ہم نے اسے ان لوگوں کے لیے ( تیار ) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام ( نیک ) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے ] (قصص ۔ 38 ) ( شوق العروس و انس النفوس )۔
عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ملک شام میں اندر [ نامی مقام ] پر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا اس کا ایک بیٹا شہید ہو چکا تھا ایک بار اس نے دیکھا کہ اس کا وہی بیٹا گھوڑے پر بیٹھ کر آرہا تھا اس نے اپنی بیوی کو بتایا تو بیوی نے کہا توبہ کرو کیونکہ شیطان تمہیں ورغلا رہا ہے ہمارا بیٹا تو شہید ہو چکا ہے وہ توبہ کرنے لگا مگر اس نے پھر دیکھا کہ واقعی اس کا بیٹا آرہا ہے اس نے بیوی کو بتایا تو اس نے بھی دیکھ کر کہا بخدا یہ تو ہمارا بیٹا ہے وہ نوجوان جب ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا بیٹا آپ تو شہید ہو چکے تھے اس نے کہا جی ہاں لیکن ابھی ابھی حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہوا ہے اور کچھ شہداء نے اللہ تعالی سے ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت لے لی ہے میں بھی ان میں سے ہوں اور میں نے آپ دونوں کو سلام کرنے کی اجازت بھی لے لی تھی پھر اس نے ان دونوں کے لیے دعاء کی اور لوٹ گیا۔ اسی دن حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال ہوا تھا اور اس بستی والوں کو ان کے انتقال کی خبر اسی بزرگ [ یعنی شہید کے والد] نے دی ورنہ انہیں معلوم نہیں تھا۔
ایسا ہی ایک واقعہ علامہ ابو علی حسین بن یحییٰ بخاری خنفی رحمہ اللہ نے اپبی کتاب " روضۃ العلماء " میں ذکر فرمایا ہے کہ ایک کوفی نوجوان جہاد میں نکلا پھر اس نے خواب میں اپنا محل اور حوریں دیکھیں پھر رومیوں نے اسے مسجد میں گھس کر شہید کر دیا کچھ عرصے کے بعد اس کے والد نے اسے گھوڑے پر سوار دیکھا تو پوچھا بیٹے آپ تو شہید ہوئے تھے اس نے کہا جی ہاں مگر آج ہم لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہیں ۔ ( روضۃ العلماء )
ابو عمران الجونی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے فرمایا مسلمانوں میں ایک شخص بطال نامی تھا وہ رومیوں کے علاقے میں چلا جاتا اور ان کا حلیہ اپنا لیتا اور اپنے سر پر انہیں کی ٹوپی پہن کر انجیل گلے میں لٹکا لیتا تھا پھر اگر اسے دس سے پچاس تک رومی کہیں مل جاتے تو انہیں قتل کر دیتا تھا اور اگر اس سے زیادہ ہوتے تو انہیں کچھ نہیں کہتا تھا چونکہ رومی اسے اپنا پادری سمجھتے تھے اس لیے انہیں کچھ نہیں کہتے تھے اس طرح سے سالہا سال تک وہ رومیوں کے اندر گھس کر [ یہ خفیہ ] کاروائیاں کرتا رہا ۔ ہارون الرشید کے زمانے میں وہ واپس آیا تو ہارون الرشید نے اسے بلایا اور فرمایا اے بطال رومیوں کے ملک میں جو سب سے عجیب واقعہ تمھارے ساتھ پیش آیا ہو وہ سناؤ اس نے کہا حاضر اے امیر المؤمنین [ لیجئے سنئے ]
میں ایک بار کسی سبزہ زار سے گزر رہا تھا کہ ایک نیزہ بردار مسلح شہسوار میرے پاس آیا اور اس نے مجھے سلام کیا میں سمجھ گیا کہ یہ مسلمان ہے میں نے اسے جواب دیا اسے نے مجھے کہا کیا آپ بطال کو جانتے ہیں میں نے کہا میں بطال ہوں تمہیں کیا کام ہے اس نے گھوڑے سے اتر کر مجھے گلے لگایا اور میرے ہاتھ پاؤں چومے اور کہا میں اس لیے آیا ہوں تاکہ زندگی بھر آپ کا خادم بن کر رہوں میں نے اسے دعاء دی اور ساتھ لے لیا ایک بار ہم جارہے تھے کہ رومیوں نے ہمیں دور سے ایک قلعے سے دیکھ لیا وہاں سے چار مسلح سپاہی گھوڑے دوڑاتے ہوئے ہمارے طرف بڑھے اس نوجوان نے کہا اے بطال مجھے اجازت دیجئے کہ میں ان کا مقابلہ کروں میں نے اجازت دے دی وہ ان کے مقابلے پر نکلا اور تھوڑی دیر بعد شہید ہوگیا وہ چاروں میری طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھے اور کہنے لگے تم خود کو بچاؤ اور جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ چھوڑ جاؤ میں نے کہا میرے پاس تو یہی ٹوپی اور انجیل ہے اگر تم مجھ سے لڑنا چاہتے ہو تو مجھے مہلت دو تاکہ میں اپنے ساتھی کا اسلحہ پہن لوں اور اس کے گھوڑے پر سوار ہو جاؤں انہوں نے کہا ٹھیک ہے تمہیں اجازت ہے میں جب تیار ہو گیا تو وہ پھر آگے بڑھے میں نے کہا یہ کیسا انصاف ہے کہ چاروں مل کر ایک پر حملہ کر رہے ہو تم بھی ایک ایک کرکے میرا مقابلہ کرو ۔ انہوں نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو چنانچہ وہ ایک ایک کرکے میرے مقابلے پر آتے رہے میں نے تین کو تو مار گرایا مگر چوتھے کے ساتھ مقابلہ سخت رہا لڑتے لڑتے ہمارے نیزے تلواریں اور ڈھالیں ٹوٹ گئیں پھر دونوں میں کشتی شروع ہوگئی مگر کوئی غالب نہ آسکا میں نے اسےکہا اے رومی میری نماز قضا ہو رہی ہے اور تمھاری عبادت بھی چھوٹ رہی ہوگی کیوں نہ ہم اپنی اپنی عبادت کو اداء کریں اور رات کو آرام کریں اور کل صبح پھر مقابلہ کریں اس نے کہا یہ ٹھیک ہے وہ خود ایک پادری تھا ہم نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا میں نے اپنی نمازیں پڑھیں اور وہ کافر بھی کچھ کرتا رہا ۔ سوتے وقت اس نے کہا تم عرب لوگ دھوکے باز ہوتے ہو پھر اس نے دو گھنٹیاں نکا لیں ایک اپنے کان پر اور ایک میرے کان پر باندھ دی اور کہا تم اپنا سر میرےاوپراور میں اپنا سر تمھارے اوپر رکھوں گا ہم میں سے جو بھی حرکت کرے گا اس کی گھنٹی بجے گی تو دوسرا متنبہ ہو جائے گا ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ صبح میں نے نماز پڑھی اور کافر بھی کچھ کرتا رہا ۔ پھر ہم کشتی میں مشغول ہو گئے میں نے اسے پچھاڑ دیا اور اس کے سینے پر بیٹھ کر اسے ذبح کرنے کا ارادہ کیا ۔ اس نے کہا اس بار مجھے چھوڑ دو تاکہ ہم پھر مقابلہ کریں میں نے اسے چھوڑ دیا جب دوبارہ مقابلہ ہوا تو میرا پاؤں پھسل گیا وہ مجھے گرا کر میرے سینے پر بیٹھ گیا اور اس نے خنجر نکال لیا میں نے کہا میں تمہیں ایک بار موقع دے چکا ہوں کیا تم مجھے موقع نہیں دو گے اس نے کہا ٹھیک ہے اور مجھے چھوڑ دیا ۔ تیسری بار کی لڑائی میں اس نے مجھے پھر گرا دیا اور میرے کہنے پر مجھے چھوڑ دیا جب چوتھی بار اس نے مجھے گرا یا تو کہنے لگا میں تمہیں پہچان چکا ہوں کہ تم بطال ہو اب میں تمہیں لازماً ذبح کروں گا اور زمین کو تجھ سے راحت دوں گا۔ میں نے کہا اگر میرے اللہ نے مجھے بچانا چاہا تو تم نہیں مار سکو گے اس نے کہا تم اپنے رب کو بلاؤ کہ وہ تمہیں مجھ سے بچائے یہ کہہ کر اس نے خنجر بلند کیا تاکہ میری گردن پر وار کرے اے امیر المؤمنین اسی وقت میرا شہید ساتھی اٹھا اور اس نے تلوار مار کر اس رومی کا سر اڑا دیا اور اس نے یہ آیت پڑھی:
لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء
تم شہیدوں کو مردہ گمان نہ کرو بلکہ تو زندہ ہیں۔
پھر وہ دوبارہ گر گیا یہ وہ عجیب ترین واقعہ ہے جو میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے ۔ ( روضۃ العلماء )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بطال کا نام عبداللہ تھا ۔ اور ان کی کنیت ابو محمد یا ابو یحییٰ تھی اور وہ تابعی تھے علامہ ابن ذھبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بطال بہادروں اور جانبازوں کے سردار اور شامی امراء میں ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ رومی ان کے نام سے خوف اور ذلت محسوس کرتے تھے چنانچہ انہوں نے حضرت بطال کی طرف بہت غلط اور جھوٹی باتیں مشہور کر رکھی ہیں ۔ ان کے عجیب و غریب واقعات مشہور ہیں ان میں سے ایک واقعہ وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم ایک بستی پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو ایک گھر میں چراغ جل رہا تھا اور ایک بچہ رو رہا تھا اس بچے کی ماں نے کہا چپ ہو جاؤ ورنہ تمہیں بطال کو دے دوں گی بچہ پھر بھی روتا رہا تو عورت نے اسے چار پائی سے اٹھا کر کہا اے بطال اسے لے لو میں اندر داخل ہوا اور میں نے کہا لاؤ دے دو۔
شہداء کی حیات کے واقعات بے شمار ہیں ہم نے ان میں سے چند واقعات ذکر کئے ہیں ۔
اور ان کی اسی حیات کو دیکھتے ہوئے کئی ائمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ شہید زندہ ہے اس لیے اس پر نمازجنازہ نہیں پڑھی جائے گی جبکہ دوسرے ائمہ فرماتے ہں کہ برکت کے لیے نماز جنازہ پڑھی جائے گی اسی طرح اکثر [بلکہ تقریبا تمام ] ائمہ کے نزدیک شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کے خون کے ساتھ انہیں دفن کیا جائے گا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں فرمایا تھا کہ انہیں خون کے ساتھ دفن کر دو چنانچہ انہیں غسل نہیں دیا گیا ۔ ( بخاری )
اور اس کی وجہ دوسری حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے دن شہداء اپنے خون کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔
[ حیات شہداء پر اس بحث کے بعد اب دوبارہ ہم شہداء کے فضائل کی طرف لوٹتے ہیں شہید کی پہلی فضیلت بیان ہو چکی ہے کہ شہداء زندہ ہوتے ہیں ]

 

( 2 ) جنت سے نکل کر دوبارہ شہید ہونے کی تمنا​
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ تمنا نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹایا جائے یا دنیا کی کوئی چیز دی جائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کریگا کہ وہ دنیا میں لوٹایا جائے اور دس بار شہید کیا جائے یہ تمنا وہ اپنی [یعنی شہید کی ] تعظیم [ اور مقام ] دیکھنے کی وجہ سے کر یگا ۔ ( بخاری ۔ مسلم )
[ اس بارے میں بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں سے بعض پیچھے گزر چکی ہیں ] ۔
(3 ) تمام گناہوں کا کفارہ​
٭ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرض کے سوا شہید کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ایک روایت میں الفاظ اس طرح ہیں اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا قرض کے سوا ہر گناہ کا کفارہ ہے ۔ ( مسلم شریف )
لیکن علامہ ابن رشد فرماتے ہیں کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ شہید کے لیے قرض کا معاف نہ ہونا ابتداء اسلام میں تھا بعد میں یہ فرما دیا گیا کہ اللہ تعالی اس کا قرضہ اداء کر دے گا ۔ ( مقدمات ابن رشد )
علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ جو قرضہ جنت میں جانے سے روکتا ہے وہ قرضہ ہے جو کسی نے لیا ہو اور اس کے پاس ادائیگی کی گنجائش بھی ہو مگر نہ وہ اسے اداء کرے اور نہ مرنے کے بعد اداء کرنے کی وصیت کرے یا وہ قرضہ ہے جو بے وقوفی اور اسراف کے کاموں کے لئے لیا ہو اور پھر بغیر اداء کئے مرگیا ہو لیکن اگر کسی نے کوئی حق واجب اداء کرنے کے لئے قرضہ لیا ہو مثلا فاقے سے بچنے کے لئے یا زیادہ تنگ دستی کی وجہ سے قرضہ لیا اور اس نے ادائیگی کے لئےبھی کچھ نہ چھوڑا ہو تو امید ہے کہ انشاءاللہ یہ قرضہ اس کے لئے جنت سے روکنے کا باعث نہیں بنے گا وہ مقروض شہید ہو یا غیر شہید کیونکہ مسلمانوں کے حاکم کے ذمے اس طرح کے قرضے اجتماعی مال سے اداء کرنا لازم ہے۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس نے کوئی قرضہ یا حق چھوڑا وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا وہ اس کے ورثہ کے لیے ہے ۔ (بخاری )
اور اگر مسلمانوں کے حاکم نے یہ قرضے ادا نہ کئے تو اللہ تعالی خود یہ قرضہ قیامت کے دن اداء فرمائے گا اور قرض خواہ کو اس کی طرف سے راضی کر دے گا۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس نے لوگوں سے مال لیا اور وہ ادائیگی کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے اداء فرما دے گا اور جس نے مال لیا اور وہ اسے ضائع کرنے کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالی اسے ضائع کر دے گا ۔ ( بخاری )
علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے اس کے علاوہ بھی دلائل لکھے ہیں ( التذکرہ للقرطبی )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علامہ قرطبی رحمہ اللہ کے اس فرمان کی تصدیق حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد کے واقعے سے بھی ہوتی ہے کیونکہ جب وہ غزوہ احد کے دن نکلےتھے تو ان پر قرضہ تھا پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر کو پریشان دیکھا تو خوشخبری سنائی کہ تمھارے والد کے ساتھ اللہ تعالی نے آمنے سامنے بغیر پردے کے بات کی ہے ۔ اب اگر ہر قرضہ جنت سے روکنے کا باعث ہوتا ہے تو حضرت جابر بن عبداللہ کے مقروض والد کو اتنا بڑا مقام کیسے ملتا اسی طرح حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی گزر چکا ہے کہ انہوں نے شہادت کے وقت بائیس لاکھ کا قرضہ چھوڑا تھا ۔
( 4 ) فرشتوں کے پروں کا سایہ​

٭ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب میرے شہید والد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور ان کے ناک کان مشرکوں نے کاٹ دیئے تھے تو میں نے ارادہ کیا کہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا دو تو لوگوں نے مجھے منع کر دیا اسی دوران ایک چیخنے والی عورت کی آواز سنائی دی لوگوں نے کہا یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں روتی ہو ابھی تک فرشتوں نے ان پر [ یعنی شہید پر ] اپنے پروں کا سایہ کیا ہوا ہے ۔
( 5 ) جنت میں داخلے کی پکی ضمانت​
اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ( التوبہ ۔ 111 )
بے شک اللہ تعالی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے خرید لیا ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :
وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (محمد ۔ 4 ۔ 5 ۔ 6 )
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اللہ کے ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا اللہ تعالی ان کو مقصود تک پہنچائے گا اور ان کی حالت سنوارے گا جس کی ان کو پہچان کرادے گا ۔ ( یا وہ جنت ان کے لیے خوشبو سے مہکا دی گئی ہے ) ۔
٭ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کو میں نے دیکھا کہ دو آدمی آئے اور انہوں نے مجھے ایک درخت پر چڑھایا پھر مجھے ایک گھر میں داخل کیا جو بہت حسین اور بہت اعلی تھا میں نے اس جیسا حسین محل پہلے نہیں دیکھا ان دونوں نے مجھے بتایا کہ یہ شہداء کا گھر ہے ۔ ( بخاری )
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے سامنے ان تین آدمیوں کو پیش کیا گیا جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے ( 1 ) شہید ( 2 ) حرام سے اور شبہات سے بچنے والا ( 3 ) وہ غلام جس نے اچھی طرح اللہ تعالی کی عبادت کی اور اپنے مالک کے ساتھ بھی خیر خواہی کی ۔ ( ترمذی )
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی دو آدمیوں پر [خوشی سے ] ہنستا ہے ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا اور دونوں جنت میں داخل ہوگئے صحابہ کرام نے پوچھا وہ کس طرح اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھ سے قتل ہو کر جنت میں داخل ہو گیا پھر دوسرے کو اللہ تعالی نے ہدایت دی اور وہ مسلمان ہو گیا اور جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ ( بخاری ۔ مسلم )
٭ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ کی رضا جوئی میں مارا گیا اللہ تعالی اسے عذاب نہیں دیگا ۔ ( مجمع الزوائد )
٭ حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے اس میں پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار حوریں ہیں ۔ اس محل میں نبی ، صدیق اور شہید داخل ہوں گے ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ موقوفاً رجالہ ثقات )
٭ حضرت اسلم بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں کون جائےگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی جنت میں جائیں گے شہید جنت میں جائیں گے وہ بچہ جسے زندہ درگور کر دیا گیا ہو وہ جنت میں جائے گا ۔ ( ابوداؤد)
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ام ربیع بن براء رضی اللہ عنہما حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ مجھے [ میرے بیٹے ] حارثہ کے بارے میں نہیں بتائیں گے ؟ وہ بدر کے دن ایک گمنام تیر سے مارے گئے تھے اگر وہ جنت میں ہیں تو میں صبر کر لوں گی اور اگر اس کے علاوہ کچھ ہے تو پھر میں ان پر خوب روؤں گی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حارثہ کی ماں جنت میں تو کئی باغات ہیں تیرا بیٹا تو فردوس اعلی [ یعنی جنت کے اعلی ترین درجے ] میں ہے ۔ ( بخاری)
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالے شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایک بد بودار جسم والا بدصورت کالا آدمی ہوں اور میرے پاس مال بھی نہیں ہے اگر میں ان [ کافروں ] سے لڑتا ہوا ماراجاؤں تو میں کہاں جاؤں گا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں چنانچہ وہ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تو حضور اکرم صلی اللہ ان کے پاس آئے اور ارشاد فرمایا : اللہ نے تمھارے چہرے کو سفید جسم کو خوشبودار اور مال کو زیادہ فرما دیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یا کسی اور کے لیے فرمایا میں نے اس کی بیوی حور عین کو دیکھا کہ ان کے اونی جبے کو کھینچ رہی تھی اور ان کے اور جبے کے درمیان داخل ہو رہی تھی ۔ ( المستدرک ۔ بیہقی)
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کالے شخص کا نام جعال رضی اللہ عنہ ہے ۔
٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جعفر رضی اللہ عنہ بن ابو طالب کو جنت میں دو پروں والا فرشتہ دیکھا جو جنت میں جہاں چاہیں اڑے پھرتے ہیں اور ان کے پروں کے اگلے حصے پر خون لگا ہوا ہے ۔ ( الطبرانی ۔ مجمع الزوائد )
(6 ) شہداء کی ارواح سبز پرندوں میں​

٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمھارے بھائی [ احد کے دن ] شہید ہو گئے تو اللہ تعالی نے ان کی روحیں سبز پرندوں میں داخل فرما دیں وہ جنت میں نہروں پر اترتے ہیں اور جنت کے میوے کھاتے ہیں اور وہ عرش کے سائے کے نیچے سونے کی قندیلوں پر بیٹھتے ہیں جب انہوں نے بہترین کھانا پینا اور آرام گاہ پالی تو انہوں نے کہا کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہماری خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور کھا پی رہے ہیں تاکہ وہ جہاد کو نہ چھوڑیں اور لڑائی میں بزدلی نہ دکھائیں اللہ تعالی نے فرمایا میں تمھاری خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں جنانچہ اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں ولا تحسبن الذین قتلو فی سبیل اللہ امواتا ۔ الی آخرہ ۔ ( ابوداؤد ۔ مستدرک )
صحیح مسلم شریف میں ایسی ہی روایت موجود ہے اور دوسری کتابوں میں اس مفہوم کی کئی احادیث موجود ہیں ۔
( 7 ) قبر کے فتنے اور قیامت کے دن کی بے ہوشی سے نجات​
احادیث صحیحہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اللہ تعالی کے راستے میں اسلامی سرحدوں کی پہرے داری کرنے والا [ مرابط ] قبر کے فتنے سے محفوظ رہے گا جب اس کے لیے یہ نعمت ہے تو شہید اس نعمت کا بدرجہ اولی مستحق ہے ۔ کیونکہ وہ مرابط سے افضل ہے ، مرابط کو یہ نعمت اس وجہ سے ملتی ہے کہ وہ اپنی جان اللہ کے راستے میں قربانی کے لیے پیش کرتا ہے تو وہ شخص جس کی جان قبول کر لی گئی ہو وہ اس نعمت کا کس طرح سے مستحق نہیں ہو گا ۔
٭ راشد بن سعد کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو قبر کے فتنے کا سامنا ہوتا ہے سوائے شہید کے [ کہ اسے قبر کے فتنے سے نجات مل جاتی ہے ] حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے سرپر تلواروں کی چمک اسے ہر فتنے سے بچانے والی ہے ۔ ( نسائی )
اس حدیث شریف کا معنی یہ ہے کہ قبر میں دو فرشتوں کا آدمی سے سوال کرنا قبر کا فتنہ ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے تاکہ مؤمن کے ایمان اور یقین کا امتحان لیا جاسکے لیکن وہ شخص جو میدان قتال میں نکلتا ہے اور وہ تلواروں کو چمکتا اور کاٹتا ، نیزوں کو کودتا اور پھاڑتا تیروں کو چلتا اور جسموں سے پار ہوتا دیکھتا ہے اور اس کے سامنے سر جسموں سے اڑائے جاتے ہیں اور خون کے فوارے بہتے ہیں اور جسموں کے ٹکڑے بکھیرے جاتے ہیں اور ہر طرف مقتول اور زخمی پڑے ہوئے لوگ اسے نظر آتے ہیں مگر پھر بھی وہ میدان میں ڈٹا رہتا ہے اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی بجائے اپنی جان اللہ کو سپرد کرنے کے لئے مکمل ایمان اور یقین کے ساتھ جما رہتا ہے تو یہی اس کے ایمان کے امتحان کے لیے کافی ہے کیونکہ اگر اس کے دل میں شک یا تردد ہوتا تو وہ میدان سے بھاگ جاتا اور ثابت قدمی سے محروم ہوجاتا اور منافقوں کی طرح شکوک میں پڑجاتا مگر ایسا نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ اس کا ایمان مکمل اور یقین مضبوط ہے تو پھرایسے شخص سے مزید کسی پوچھ تاچھ کی کیا ضرورت ہے ۔
[ اسی طرح قبر میں فرشتے جو کچھ پوچھتے ہیں شہید تو انہیں چیزوں کی عظمت اور حفاظت کے لیےجان کی قربانی دیتا ہے اور توحید ، رسالت اور دین اسلام کی خاطر مرمٹتاہے جب اس کی یہ حالت ہے تو پھر اس سے قبر میں کسی طرح کی پوچھ تاچھ کی ضرورت ہی نہیں رہتی ]
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اس آیت کے بارے میں پوچھا :
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ (لزمر ۔ 68 )
اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر وہ جس کو اللہ چاہے۔
کہ وہ لوگ کون ہیں جنہیں اللہ تعالی بے ہوشی سے بچائے گا جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا وہ شہداء ہوں گے ۔ ( المستدرک )
٭ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے اس آیت کے بارے میں پوچھا [وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ] جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا یہ شہداء ہوں گے اللہ تعالی انہیں اس طرح کھڑا فرمائے گا کہ وہ اپنی تلواریں لئے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گےفرشتے ان کے لیے یاقوت کے بنے ہوئے عمدہ گھوڑے لائیں گے جن کی لگام سفید موتی کی اور زین سونے کی ہوگی ان کی لگام کی رسی باریک اور موٹے ریشم کی ہوگی ان پر ریشم سے نرم کپڑے بچھے ہوں گے ان گھوڑوں کا قدم تاحد نظر پڑتا ہوگا شہداء ان گھوڑوں پر جنت میں گھومیں پھریں گے پھر لمبی تفریح کے بعد کہیں گے چلو دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی لوگوں کا کس طرح فیصلہ فرماتا ہے [ جب وہ آئیں گے تو ] اللہ تعالی ان پر [خوشی سے ] ہنسے گا اور حشر کے میدان میں اللہ تعالی جس کے لیے ہنسے گا اس سے کوئی حساب نہیں ہوگا ۔ ( رواہ ابن ابی الدنیا ۔ الجامع الصغیرللسیوطی )
٭ شہر بن حوشب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی [ قیامت کے دن ] بادلوں میں فرشتوں کے ساتھ تشریف لائے گا پھر ایک پکارنے والا آواز لگائے گا تمام اہل محشر ابھی جان لیں گے کہ آج اللہ کا کرم کن پر ہونے والا ہے اللہ تعالی فرمائے گا تم میرے ان دوستوں کو لے آؤ جنہوں نے میری رضا کے لیے اپنا خون بہایا تھا پھر شہداء آئیں گے اور قریب ہو جائیں گے ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک)
( 8 ) اپنے گھر والوں میں سے ستر کی شفاعت​

٭ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید اپنے گھر والوں میں سے ستر کی شفاعت کرے گا ۔ ( ابوداؤد ۔ بیہقی)
٭ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید کے لیے اللہ تعالی کے ہاں سات انعامات ہیں ( 1 ) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے ( 2 ) اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے ( 3 ) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے ( 4 ) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے ( 5 ) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ ( 6 ) بہتر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے ( 7 ) اور اپنے اقارب میں ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔ ( مسند احمد )
امام قرطبی رحمہ اللہ نے ایک بہت ہی عجیب و غریب حدیث ذکر فرمائی ہے وہ حدیث اس طرح ہے ۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی شہداء کو ایسے پانچ اعزازات عطاء فرماتا ہے جو نہ کسی نبی کو ملےہیں اور نہ خود مجھے۔ ( 1 ) ان میں سے پہلا یہ ہے کہ تمام انبیاء کی ارواح کو ملک الموت نے قبض کیا ہے اور وہی میری روح کو بھی قبض کرے گا لیکن شہداء کی روح کو اللہ تعالی خود اپنی قدرت سےجس طرح چاہتا ہے قبض فرماتا ہے اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت کو مقرر نہیں فرماتا ۔ ( 2 ) دوسرا یہ کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو موت کے بعد غسل دیا گیا اور مجھے بھی دیا جائے گا لیکن شہداء کو غسل نہیں دیا جاتا اور انہیں دنیا کی کسی چیز کی حاجت نہیں ہوتی۔ ( 3 ) تیسرا یہ کہ تمام انبیاء کو موت کے بعد کفن دیا گیا اور مجھے بھی دیا جائے گا لیکن شہداء کو کفن نہیں دیاجاتا بلکہ انہیں ان کے کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے ( 4 ) چوتھا یہ کہ انبیاء علیہم السلام کو موت کے بعد انتقال کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے اور میرا شمار بھی انتقال کرنے والوں میں کیا جائے گا لیکن شہداء کو موت کے بعد مردہ نہیں کہا جاتا ۔ ( 5 ) اور پانچواں یہ کہ انبیاء کو قیامت کے دن شفاعت کا اختیار ہوگا لیکن شہداء ہر دن کسی کی شفاعت کر سکتے ہیں ۔ ( تفسیر القرطبی )
[ یہ حدیث اگر سند کے اعتبار سے درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شہداء کرام کو یہ پانچ جزوی اعزازات نصیب ہوں گے جو بظاہر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء علیہم السلام کو حاصل نہیں ہیں لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء کرام کو جو اعزازات حاصل ہیں وہ ان اعزازات سے بے حد بلند ہیں اور ان کا رتبہ اور مقام بلاشبہہ شہداء سے بڑھ کر ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو مخلوق میں سب سے اعلی و افضل ہیں چنانچہ اس طرح کے جزوی فضائل کی وجہ سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ شہداء کا مقام نعوذ باللہ انبیاء سے بلند تر ہو گیا ہے اور نہ اس طرح کی احادیث سے یہ سمجھنا چاہئے کہ جزوی فضائل کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کی شان میں نعوذ باللہ کوئی کمی یا بے ادبی لازم آتی ہے ۔ اگر کسی دفتر کا آفیسر یہ کہے کہ فلاں کلرک کو حسن کارکردگی پر ایک موٹر سائیکل انعام میں دی گئی ہے اور یہ ایسا اعزاز ہے جو مجھے بھی نہیں ملا تو یہ بات درست ہوگی ۔ کلرک کو انعام میں موٹر سائیکل ملنا اگرچہ ایک خصوصیت ہے کیونکہ یہ موٹر سائیکل آفیسر کو نہیں ملی ہوتی لیکن اس موٹر سائیکل کی وجہ سے وہ کلرک اپنے آفیسر سے زیادہ مقام والا نہیں ہوجاتا اور نہ اس کی موٹر سائیکل آفیسر کی کا ر کے برابر ہو سکتی ہے ۔ عام مسلمانوں کو جب اس طرح کی احادیث سنائی جائیں تو ساتھ مذکورہ بالا وضاحت بھی ضرور کر دی جائے تاکہ فضائل بیان کرنے کے نشے میں اسلام کے اہم قوانین پامال نہ ہوں جیسا کہ اکثر فضائل بیان کرنے والوں کا طریقہ بنتا جا رہا ہے ] ۔

( 9 ) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے نجات​
٭ حضرت مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید کے لیے اللہ تعالی کے ہاں چھ خصوصی انعامات ہیں۔
( 1 ) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور جنت میں اس کا مقام اس کو دکھلا دیا جاتا ہے ( 2 ) اسے عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے ( 3 ) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے وہ محفوظ رہتا ہے ( 4 ) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے ( 5 ) بہتر ( 72 ) حور عین سے اس کا نکاح کرا دیا جاتا ہے ( 6 ) اور اس کے اقارب میں ستر ( 70) کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔ ( ترمذی ۔ مصنف عبدالرزاق ۔ ابن ماجہ)
( 10) خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی بخشش اور جنت کامقام آنکھوں کے سامنے :​
[ اس بارے میں کئی روایات پہلے بھی بیان ہو چکی ہیں مزید روایات ملاحظہ فرمائیں ]
٭ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اللہ کے راستے میں قتل کیا جاتا ہے تو زمین پر اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش کر دی جاتی ہے پھر اس کی طرف جنت کا رومال بھیجا جاتا ہے جس میں اس کی روح کو ڈال کر ایک جنتی جسم میں داخل کر دیا جاتا ہے پھر وہ فرشتوں کے ساتھ اس طرح اوپر چڑھتا ہے گویا کہ وہ پیدا ہوتے وقت سے فرشتوں کے ساتھ رہتا ہو پھر اسے آسمانوں پر لے جایا جاتا ہے وہ آسمانوں کے جس دروازے سے گزرتا ہے وہ دروازہ کھول دیا جاتاہے اور جس فرشتے کے پاس سے گزرتا ہے وہ فرشتہ اس کے لیے رحمت کی دعاء اور استغفار کرتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ تعالی کے حضور پیش کیا جاتا ہے جہاں پہنچ کر وہ فرشتوں سے پہلے سجدہ کرتا ہے پھر اس کے بعد فرشتے سجدہ کرتے ہیں پھر اللہ تعالی کی طرف سے اسے بخشش اور پاکی عطاء فرمائی جاتی ہے پھر اسے دوسرے شہداء کے پاس لایا جاتا ہے وہ ان شہداء کو ہرے بھرے باغات میں سبز کپڑے پہنے ہوئے دیکھتا ہے ان شہداء کے پاس ایک بیل اور مچھلی ہوتی ہے جس سے وہ کھیل رہے ہوتے ہیں اور انہیں ہر دن کھیلنے کے لیے نئی چیزیں دی جاتی ہیں دن کو مچھلی جنت کے نہروں میں تیرتی رہتی ہے شام کے وقت بیل اسے سینگ مار کر کاٹ دیتا ہے اور شہداء اس مچھلی کا گوشت کھاتے ہیں اور اس کے گوشت میں جنت کی تمام نہروں کا مزہ پاتے ہیں اور بیل رات کو جنت میں چرتا رہتا ہے اور وہاں کے پھل کھاتا ہے جب صبح ہوتی ہے تو مچھلی اسے اپنی دم سے ذبح کر دیتی ہے شہداء اس کا گوشت کھاتے ہیں اور جنت کے سب پھلوں کا مزہ اس میں پاتے ہیں وہ اپنے مقامات کو دیکھتے رہتے ہیں اور اللہ تعالی سے قیامت قائم کرنے کی درخواست کرتے ہیں ۔ ( الطبرانی ۔ مجمع الزوائد )
( 11) خون خشک ہونے سے پہلے حور عین کی زیارت​
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہداء کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہوا ہوتا کہ اس کی دونوں بیویاں [ یعنی حوریں ] اس طرح اس کی طرف دوڑتی ہیں جس طرح دودھ پلانے والی اونٹنیاں کھلے میدان میں اپنے بچے کی طرف دوڑتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایسا جوڑا ہوتا ہے جو دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہوتا ہے ۔ ( مصنف عبدالرزاق ۔ مصنف ابن ابی شیبہ ۔ ابن ماجہ )
٭ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو اور اپنے مالک کے ہاں پسندیدہ ہو ۔ میں نے عرض کیا سب سے افضل جہاد کون سا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس میں مجاہد کا گھوڑا بھی مارا جائے اور خود اس کا خون بھی بہہ جائے [ یعنی وہ شہید ہو جائے ] ( مسند احمد )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہو گئی جو یہ کہتے ہیں کہ جہاد میں غالب رہنے والا شہید ہونے والے سے افضل ہے ۔
٭ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن العاص سے پوچھا گیا کہ آپ افضل ہیں یا حضرت ہشام ابن العاص ؟ انہوں نے فرمایا ہم دونوں [ بھائی ] غزوہ یرموک میں شریک تھے رات کو میں بھی شہادت کی دعاء مانگتا رہا اور وہ بھی جب صبح ہوئی تو انہیں شہادت نصیب ہوگئی جبکہ میں محروم رہ گیا ۔ پس اسی س تمہیں ان کی فضیلت معلوم ہو جانی چاہئے ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک )
( 12 ) چیونٹی کے کاٹنے جیسا درد اور سکرات الموت سے حفاظت​
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید کو قتل ہوتے وقت صرف اتنا درد ہوتا ہے جتنا تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ۔ ( ترمذی ۔ نسائی ۔ ابن ماجہ ۔ ابن حبان ۔ بیہقی )
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب لڑائی شروع ہو جاتی ہے اور صبر نازل ہوتا ہے تو مجاہد کے لیے قتل ہونا گرمی کے دن ٹھنڈا پانی پینے سے زیادہ آسان ہوتا ہے ۔ ( شفاء الصدور )
٭ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : موت کا درد تلوار کی دس لاکھ ضربوں سے زیادہ سخت اور فلاں پہاڑ کو سر پر اٹھانے سے زیادہ بھاری ہے اور یہ [موت ] شہید پر اور مظلوم قتل کئے جانے والے پر مچھر کے کاٹنے کے درد سے بھی زیادہ آسان ہے اللہ تعالی کا ایک فرشتہ ہر رات سحری کے وقت آواز لگاتا ہے ۔ اے قبر والوں! تم کسی پر رشک کرتے ہو ؟ وہ کہتے ہیں شہید پر اور شہید ہر روز دو بار اپنے رب عزوجل کی زیارت کرتا ہے اسے نہ دنیا کی رغبت ہوتی ہے اور نہ اس کے چھوٹنے کا غم ۔ ( ابن عساکر )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ کے والد محترم کی طرف منسوب کتاب مجموع اللطائف میں پڑھا ہے کہ ایک شخص یہ دعاء کیا کرتا تھا کہ یا اللہ میری روح جلدی سے قبض فرمایئے گا اور مجھے درد سے بچایئے گا ایک دن وہ شخص تفریح کے لیے نکلااور ایک باغ میں جاکر سو گیا اچانک وہاں کافروں کا ایک گروہ آگیا اور انہوں نے اس کا سر کاٹ دیا ۔ اس شخص کے جاننے والوں میں سے کسی نے اسے خواب میں دیکھا تو اس کا حال پوچھا اس نے جواب دیا میں باغ میں سویا تھا جب میں نے آنکھ کھولی تو میں جنت میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے بھی اس حکایت کو کچھ تفصیل سے بیان فرمایا ہے ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک)
اس بارے میں کچھ واقعات پچھلے ابواب میں بھی گزر چکے ہیں۔
( 13 ) فرشتوں کا داخلہ اور سلام​
٭ پہلے روایت گزر چکی ہے کہ جب اللہ تعالی شہداء کو بلا کر بغیر حساب کتاب جنت میں داخل فرما دے گا تو فرشتے آکر اللہ تعالی کو سجدہ کریں گے اور عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ہم رات دن آپ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے تھے یہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے ہم پر ترجیح دی ہے ۔ اللہ تعالی فرمائے گا ۔ یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال کیا اور انہیں میرے راستے میں تکلیفیں پہنچائی گئیں پھر [ یہ سن کر ] فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو اس وجہ سے کہ تم نے صبر کیا پس آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے ۔ ( مسند احمد ۔ المستدرک صحیح الاسناد )
مطلب بن حنطب فرماتے ہیں کہ شہید کے لیے جنت میں ایک بالا خانہ ہے جو صنعا [ یمن ] سے جابیہ [ شام ] کی مسافت جتنا ہے اس کے اوپر کا حصہ موتیوں اور یاقوت سے بنا ہوا ہے اور اس کے اندر مشک اور کافور ہے ۔ فرشتے شہید کے پاس اللہ تعالی کا ہدیہ لے کر آئیں گے اور ابھی یہ فرشتے وہاں سے نہیں نکلے ہوں گے کہ مزید فرشتے دوسرے دروازے سے اللہ تعالی کا ہدیہ لے کر آجائیں گے۔ ( کتاب الجہاد الابن المبارک )
(14) اللہ کی ایسی رضا اور خوشنودی جس کے بعد ناراضگی نہیں ہوگی​
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ ایسے آدمی بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ انصار میں سے ستر( 70) حضرات جو قراء کہلاتے تھے بھیج دیئے ان میں میرے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ بھی تھے [ مدینہ منورہ میں ]یہ لوگ قرآن پڑھتے تھے اور راتوں کو قرآن مجید سیکھتے سیکھاتے تھے اور صبح کے وقت مسجد میں آکر پانی ڈالتے تھے پھر لکڑیاں کاٹ کر انہیں بیچتے اور اصحاب صفہ اور دوسرے فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کو ان لوگوں کے ساتھ روانہ فرما دیا راستے میں ان پر حملہ کردیا گیا اور انہیں اپنے مقام پر پہنچنے سے پہلے شہید کر دیا گیا انہوں نے [شہادت کے بعد] عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہماری خبر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیجئے کہ ہمیں اللہ تعالی کی ملاقات نصیب ہو چکی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں اور وہ ہم سے راضی ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ کافروں میں سے ایک شخص حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور نیزہ ان کے جسم سے پار کردیا حضرت حرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے [ صحابہ کرام سے ] فرمایا : تمھارے بھائی شہید کر دیئے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے اے ہمارے پروردگار ہماری خبر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیجئے کہ ہمیں اللہ تعالی سے ملاقات نصیب ہو چکی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں اور وہ ہم سے راضی ہے ۔ ( بخاری ۔ مسلم )
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ جب بئر معونہ پر [ ستر 70 قراء ] حضرات شہید ہو گئے اور حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ گرفتار ہوگئے تو کافروں کے سردار عامر بن طفیل نے ان سے ایک شہید کی طرف اشارہ کرکے پوچھا یہ کون ہیں تو انہوں نے فرمایا یہ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اس نے کہا میں نے انہیں قتل ہونے کے بعد دیکھا کہ انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا ۔ یہاں تک کہ مجھے آسمان ان کے اور زمین کے درمیان نظر آرہاتھا ۔ پھر انہیں واپس زمین پر رکھ دیا گیا ۔ ( بخاری)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بئر معونہ پر شہید ہونے والے [ ستر 70] حضرات کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی جو ہم پڑھا کرتے تھے :
ترجمہ : ہماری قوم کو خبر دے دو کہ ہم اپنے رب سے ملاقات کا شرف پاچکے ہیں
اور وہ ہم سے راضی ہو چکا ہے اور ہم اس سے راضی ہو چکے ہیں ۔ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی ( بخاری)۔

 

(15) شہادت کی قبولیت کے لیے ماضی میں نیک اعمال شرط نہیں ہیں ۔​
٭ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص لوہے کی [جنگی ] ٹوپی پہن کر آئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں قتال کروں یا اسلام لاؤں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام لاؤ پھر قتال کرو ۔ چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کیا پھر [اسی وقت ] جہاد میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے عمل تھوڑا کیا اور اجر زیادہ پاگیا۔ ( بخاری )
[ یہ وہ خوش قسمت شخص تھے جنہوں نے ایک نماز بھی نہیں پڑھی اور جنت کے اعلی مقامات کے مستحق بن گئے ۔ رضی اللہ عنہ ]
٭ ایک اور روایت میں ہے کہ اس شخص نے اسلام قبول کرنے یعنی کلمہ پڑھنے کے بعد پوچھا کیا میرے لیے یہ بہتر ہے کہ میں لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ اس نے کہا اگرچہ میں نے اللہ کے لیے نماز نہ پڑھی ہو ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں پھر وہ لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ ( کتاب السنن لسعید بن منصور )
٭ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جہاد میں تشریف لے گئے ۔ مشرکوں کی طرف سے ایک آدمی نے مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی ایک مسلمان اس کے مقابلے کے لیے نکلے تو مشرک نے انہیں شہید کر دیا ۔ پھر دوسرے مسلمان شخص نکلے مشرک نے انہیں بھی شہید کر دیا پھر وہ مشرک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کھڑا ہوا اور کہنے لگا آپ لوگ کس بات پر قتال کرتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارا دین یہ ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتےہیں ۔ جب تک وہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور ہم اللہ تعالی کے حقوق کو پورا کرتے ہیں اس شخص نے کہا بخدا یہ تو بہت اچھی بات ہے میں بھی اس پر ایمان لاتا ہوں پھر وہ مسلمانوں کی طرف ہوگیا اور اس نے مشرکوں پر حملہ کردیا اور لڑتے ہوئے شہید ہو گیا [ شہادت کے بعد ] اسے اٹھا کر ان دو مسلمانوں کے ساتھ رکھا گیا جن کو اس نے شہید کیا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تینوں جنت میں سب سے زیادہ آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ۔ ( مجمع الزوائد)
کیونکہ مقتول یہ سمجھے گا کہ یہ قاتل اس کے لیے بلند مقامات اور عظیم نعمتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنا ہے ۔
٭ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ خیبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مسلمانوں کا ایک دستہ نکلا تو واپسی پر اپنے ساتھ ایک چرواہے کو لے آیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چرواہے سے اللہ نے جو چاہا بیان فرمایا تو وہ چرواہا کہنے لگا میں آپ پر اور آپ کے دین پر ایمان لاتا ہوں اب میں ان بکریوں کا کیا کروں یہ تو میرے پاس امانت ہیں اور ایک ایک دو دو بکریاں مختلف لوگوں کی ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے چہروں پر کنکریاں مارو یہ اپنے مالکوں کے پاس چلی جائیں گی اس نے ایک مٹھی کنکریاں یا مٹی لی اور بکریوں کے منہ پر ماری وہ بکریاں دوڑتی ہوئی اپنے گھروں کو چلی گئیں ۔ پھر وہ چرواہا میدان جہاد میں آیا جہاں اسے تیر لگا اور وہ شہید ہو گیا ۔ اور اس نے اللہ تعالی کو ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خیمے میں لے آؤ چنانچہ اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں لایا گیا آپ اس کے پاس گئے اور پھر وہاں سے باہر نکل آئے اور ارشاد فرمایا: تمھارے ساتھی کا اسلام بہت خوب رہا ابھی جب میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور عین اس کے پاس تھیں ۔ ( المستدرک صحیح الاسناد )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شہید کا نام یسار تھا اور وہ عامر یہودی کا غلام تھا البتہ ابن ٰاسحٰق نے اس کا نام اسلم بتایا ہے ۔ ( واللہ اعلم )
( 16) شہید پر انبیائے کرام کی فضیلت درجہ نبوت کی وجہ سے ہے۔​
[ اس بارے میں ایک روایت پہلے گزر چکی ہے مزید روایات یہاں ذکر کی جاتی ہیں ]
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہداء تین طرح کے ہیں ( 1 ) وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں نکلا وہ نہ لڑنا چاہتا ہے اور نہ شہید ہونا وہ تو مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے لیے آیا ہے اگر وہ [دوران جہاد ] انتقال کر گیا یا شہید کر دیا گیا تو اس کے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اسے عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا اور حور عین سے اس کی شادی کرائی جائے گی اور اعزاز و اکرام کا لباس اسے پہنایا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھ دیا جائے گا ( 2) دوسرا وہ شخص جو اپنی جان ومال کے ساتھ اجر کی نیت سے نکلا وہ چاہتا ہے کہ دشمنوں کو قتل کرے لیکن خود قتل نہ کیا جائے یہ شخص اگر [دوران جہاد ] انتقال کر گیا یا شہید کر دیا گیا تو اس کا گھٹنہ اللہ کے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہو گا : فِی مَقعَدِ صِدقِ عِندَ مَلِیکِ مُقتَدِر ( قمر ۔ 55 ) پاک مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں۔
( 3 ) تیسرا وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ اجر کی نیت سے نکلا وہ چاہتا ہے کہ دشمنوں کو قتل کرے اور خود بھی شہید ہو اگر [ دوران جہاد ] اس کا انتقال ہو گیا یا ہو شہید ہوگیا تو وہ قیامت کے دن اپنی کھلی تلوار اپنی گردن پر رکھے ہوئے آئے گا اور لوگ اس وقت گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے ۔ وہ کہے گا ہمارے لیے راستہ کھول دو ہم وہ ہیں جنہوں نے اپنا خون اور مال اللہ کے لیے لٹا دیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر وہ یہ بات حضرت ابراھیم خلیل اللہ یا کسی اور نبی سے کہیں گے تو وہ بھی ان کے حق کو لازم سمجھتے ہوئے ان کے لیے راستہ چھوڑ دیں گے یہاں تک کہ وہ شہید عرش کے نیچے نور کے منبروں پر آئیں گے اور ان پر بیٹھ کر دیکھیں گے کہ اللہ تعالی لوگوں کے درمیان کس طرح فیصلہ فرماتے ہیں انہیں نہ موت کا غم ہوگا اور نہ برزخ کی تنگی ، انہیں نہ صور کی آواز خوفزدہ کرےگی اور نہ انہیں حساب کتاب ، میزان اور پل صراط کی فکر ہوگی وہ دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کس طرح سے فیصلہ کیا جاتا ہے وہ جو کچھ مانگیں گے انہیں دیا جائے گا اور جس چیز کی سفارش کریں گے وہ قبول کی جائے گی وہ جنت میں جو پسند کریں گے اسے پا لیں گے اور جہاں رہنا چاہیں گے وہاں رہیں گے۔ ( البزار ۔ بیہقی ۔ الترغیب والترہیب )
( 17) حور عین سے شادی​
[ اس بارے میں بہت ساری روایات پہلے گزر چکی ہیں مزید چند کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے ] ۔
٭ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہید کے لئے جنت سے بہت حسین جسم لایا جاتا ہے اور اس کی روح کو اس جسم میں داخل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے شہید اس جسم میں داخل ہوکر اپنے پرانے جسم کو دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا اچھا کیا برا کیا جاتا ہے اور کون اس پر غمگین ہوتا ہے اور کون غمگین نہیں ہوتا اور وہ باتیں کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ لوگ اس کی بات سن رہے ہیں اور وہ ان کی طرف دیکھتا ہے اور سمجھتاہے کہ وہ بھی اسے دیکھ رہے ہیں پھر اس کی بیویاں حورعین آجاتی ہیں اور اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہیں ۔ ( شفاء الصدور )
[ اس بارے میں روایات بے شمار ہیں اور ان میں سے کئی ایک آپ پیچھے پڑھ بھی چکے ہیں ]
خوب اچھی طرح سے یاد رکھئے کہ کبھی کبھار حور عین جہاد میں زخمی ہونے والوں کو بھی بے ہوشی کی حالت میں نظر آجاتی ہیں تاکہ اسے یہ بشارت دیں کہ اللہ تعالی نے اس کے لیے شہادت کی خلعت فاخرہ تیار کر رکھی ہے ۔ اس بارے میں کچھ سچے واقعات پہلے گزر چکے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الجہاد میں کئی واقعات اس بارے میں ذکر فرمائے ہیں ان میں سے ایک واقعہ ابو ادر یس نامی بزرگ کا ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار میرے ساتھ جہاد میں مدینہ منورہ کے دو مجاہد تھے ان میں سے ایک کا نام زیاد تھا ایک دن محاصرے کے دوران انہیں منجنیق کے گولے کا ایک ٹکڑا گھٹنے پر لگا اور وہ بے ہوش ہوگئے اور پھر بے ہوشی میں کبھی ہنستے اور کبھی روتے تھے جب انہیں ہوش آیا تو ہم نے ہنسنے اور رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جنت کا نقشہ اور حور عین کا حلیہ بیان کرکے بتایا کہ میں نے یہ سب کچھ دیکھا ہے اس پر میں ہنسا پھر جب میں نے حور کا قرب پانے کی کوشش کی تو اس نے کہاظہر تک انتظار کرو اور اس پر میں رو پڑا ۔ ابوادریس کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھا ہوا بات چیت کر رہاتھا کہ ظہر کی اذان ہوئی اور اس کی روح نکل گئی۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک)

فصل​
بعض اوقات حور عین کسی مجاہد کو حالت بیداری میں بھی نظر آجاتی ہے ۔ تاکہ وہ شہادت پانے کے لیے بھر پور جدو جہد کرے ۔
واقعہ نمبر 1 : ​
یزید بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن یزید نے مجھے بتایا کہ ایک جہاد کے دوران ہم انگوروں کے ایک باغ سے گزر ے ہم نے اپنے ایک نوجوان ساتھی کو ایک کپڑا دیا کہ اس میں انگور بھر کر لے آؤ جب وہ باغ میں داخل ہوا تو اس نے سونے کی پلنگ پر حور عین کو دیکھا اس نے [ کوئی غیر عورت سمجھ کر ] اپنی نظریں جھکا لیں پھر اس نے دوسری جانب دیکھا تو وہاں بھی ویسی ہی عورت تھی اس نے پھر نظر یں جھکا لیں اس عورت نے کہا تمھارے لیے ہمیں دیکھنا حلال ہے اور تم اپنی حورعین بیویوں کو دیکھ رہے ہو اور آج تم ہمارے پاس آنے والے ہو وہ نوجوان انگور لیے بغیر اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آگیا ہم نے اسے کہا کیا ہوا ؟کیا تم ڈر گئے ہو ہم نے دیکھا کہ اس کے چہرے کا نور اور حسن پہلے سے بڑھا ہوا ہے ۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ انگور کیوں نہیں لائے۔ وہ بالکل خاموش رہا یہاں تک کہ ہم نے اسے قسم دیکر پوچھا تو اس نے پورا ماجرا سنا دیا ۔ تھوڑی دیر بعد جب لڑائی کا اعلان ہوا تو وہ بہت جلدی دشمنوں کی طرف بڑھنے لگا ہم نے ایک آدمی مقرر کیا کہ وہ اس کی سواری کو روکے رکھے تاکہ ہم تیار ہوکر اکٹھے نکل سکیں پھر ہم سب شہادت کی تمنا کے ساتھ دشمن کی طرف بڑھے وہ ہم میں سب سے آگے تھا اور اس دن وہی سب سے پہلے شہید ہوا ۔ ( کتاب الجہاد لابن المبارک )
جہاں تک ان حوروں کی خواب میں زیارت کا تعلق ہے تو اس کے قصے اور واقعات بے شمار ہیں [ جن میں سے بعض پچھلے ابواب میں گزر چکے ہیں ]۔
واقعہ نمبر 2 :​
شیخ عبدالواحد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن جہاد کے لیے روانگی سے پہلےمیں نے تلاوت قرآن پاک کا اعلان کیا اور ہم میں سے ایک نے یہ آیات پڑھیں : ان اللہ اشتری من المؤمنین (الی آخرہ ) کہ اللہ تعالی نے ایمان والوں کی جان و مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے ۔ یہ آیات سن کر ایک پندرہ سالہ نوجوان جس کا والد اس کے لیے بے شمار مال چھوڑ کر انتقال کر چکا تھا مجھے کہنے لگا اے شیخ عبدالواحد کیا اللہ تعالی نے ایمان والوں سےان کی جان و مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں بیٹا اس نے کہا میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی جان و مال کو جنت کے بدلے اللہ تعالی کو بیچ دیا ہے ۔ میں نے کہا بیٹا تلوار اٹھانا آسان کام نہیں ہے ایسا نہ ہو کہ تم پیچھے ہٹ جاؤ ۔ اس نے کہا میں اللہ کے ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کر کے پیچھے ہٹ جاؤں یہ کیسے ممکن ہے ۔ اس نوجوان نے اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیا اور اپنے پاس صرف گھوڑا ، اسلحہ اور جہاد کے لیے خرچہ رکھا اور کوچ کے دن ہمارے ساتھ شامل ہو گیا میں نے اسے نفع مند سودے پر مبارک باد دی وہ ہمارے ساتھ روانہ ہو گیا دن کو وہ روزے سے ہوتا تھا اور رات اس کی سجدوں میں گزرتی تھی وہ ہماری اور ہمارے گھوڑوں کی خدمت میں لگا رہتا تھا اور بڑی چوکسی سے ہمارا پہرہ دیتا تھا جب ہم روم پہنچ گئے تو ایک دن وہ بے تابانہ آوازیں لگانے لگا : اے میری حور عینا ! ساتھیوں نے کہا شاید اس کی عقل میں کچھ فرق آگیا ہے میں نے اس سے پوچھا اے بیٹے کہاں ہے تمھای حور عینا ۔ اس نے کہا کہ آج میں اونگھ رہا تھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور مجھے ایسے باغات سے گزرتا ہوا لے گیا جن میں صاف ستھرے پانی ، سفید دودھ اور شراب کی نہریں تھیں اور ان کے کنارے حسین و جمیل بے مثال لڑکیاں تھیں میں ان میں سے ہر ایک سے حور عینا کا پوچھتا تو وہ کہتیں کہ وہ آگے رہتی ہے ہم تو اس کی خادمائیں ہیں ۔ یہاں تک کہ میں شہد کی نہر تک پہنچا اور وہاں موتی کے محل میں میری ملاقات حور عینا سے ہوئی گفتگو کے بعد جب میں نے اسے گلے لگانا چاہا تو اس نے کہا ابھی نہیں ہاں آج ہمارے ساتھ افطار کرنا پھر میں بیدار ہوگیا اور اب مجھ سے شام تک صبر نہیں ہو رہا ۔ شیخ عبدالواحد فرماتے ہیں کہ ابھی ہماری یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ دشمن کا ایک گروہ آپہنچا ہم میں سے سب سے پہلےاسی نوجوان نے حملہ کیااور نو دشمنوں کو مارکر خود شہید ہو گیا ۔ آخری بار میں نے اسے دیکھا کہ خون میں لت پت پڑا ہوا بھر پور طریقے سے مسکرا رہا ہے اور اسی حال میں اس نے دنیا فانی کو خیرباد کردیا۔ ( کتاب الوعظ والرقاق )
اس واقعے اور اس طرح کے دوسرے واقعات میں حور عینا کا ذکر ہے حور عینا حور عین کا مفرد ہے یعنی ایک حور عینا ۔ حور عینا کا معنی ہے گورے رنگ اور بڑی کالی آنکھوں والی عورت۔
یہ حسین مخلوق جنت میں مردوں سے زیادہ ہے کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ ایک ایک جنتی کو کئی کئی حوریں ملیں گی قرآن مجید میں ان کی صفت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔
ترجمہ : [ گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں ] ( لرحمن ۔ 58 )
دوسری جگہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
ترجمہ : [ اور بڑی آنکھوں والی حوریں جیسے ( حفاظت سے ) تہہ کئے ہوئے ( آب دار ) موتی ] ۔ ( واقعہ 22 ۔ 23 )
اور احادیث میں ان حوروں کی جو شان بیان کی گئی ہے وہ تو عقلمندوں کو حیران کرنے والی اور بصیرت والوں کو تعجب میں ڈالنے والی ہے ۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے اور ان کے بعد والے آسمان کے سب سے روشن ستارے سے زیادہ نور والے ہوں گے اور ہر جنتی کو دو بیویاں ملیں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا [ لطافت کی وجہ سے ] ان کے گوشت کے باہر سے نظر آئے گا اور کوئی بھی جنت میں کنوارہ نہیں رہے گا ۔ ( بخاری ۔ مسلم )
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین پر جھانک لے تو آسمان و زمین کا درمیان خوشبو سے بھر جائے گا اور ان دونوں کے درمیان روشنی پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے ۔ ( بخاری ۔ مسلم )
٭ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنتی عورت کی پنڈلی کا گودا ستر ( 70 ) جوڑوں کے باہر سے نظر آئے گا اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے فرمایا :
کانھن الیاقوت والمرجان [ گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں ] ( الرحمن ۔ 58 )
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر جنت کی ایک عورت اوپر سے جھانک کر دیکھ لے تو زمین مشک کی خوشبو سے بھر جائے اور سورج اور چاند اپنی روشنی کھو دیں ۔ ( البزار ۔ الطبرانی ۔ الترغیب والترہیب )
٭ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت : کانھن الیاقوت والمرجان کے بارے میں فرمایا کہ جنتی اپنا چہرہ اس حور کے آئینےسے زیادہ شفاف رخسار میں دیکھے گا اور اس کے زیر استعمال موتیوں میں ادنی موتی مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کر سکتا ہے اور اسکے خاوند کی نگاہ اس تک ستر جوڑوں سے گزر کر پہنچے گی ۔ یہاں تک کہ وہ اس کی پنڈلی کے گودے کو دیکھے گا ۔ ( مسند احمد ۔ ابن حبان ۔ ترمذی )
٭ ایک روایت میں آیا ہے کہ اگر وہ حور سات سمندر میں اپنا لعاب ڈال دے تو یہ سمندر شہد سے زیادہ میٹھے ہو جائیں گے ۔ ( الترغیب والترہیب )
٭ ایک روایت میں ہے کہ جنتی جب جنت میں داخل ہو گا تو ستر سال تک تو وہاں کے بستروں پر تکیہ لگا کر سکون حاصل کرے گا پھر اس کی حسین و جمیل حوریں اس کے پاس آجائیں گی ۔ ( ابن حبان ۔ مواردالظمآن)
٭ ایک روایت میں آیا ہے کہ وہ ان حوروں کو چالیس سال تک تو دیکھتا ہی رہے گا اور اپنی نظریں نہیں پھیرے گا ۔ ( الترغیب والترہیب )
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں سب سے ادنی مقام والا شخص وہ ہوگا جو ہزار سال کی مسافت سے اپنے باغات ، اپنی بیویوں، اپنے عیش و آرام کی چیزوں اور اپنے خادموں کو دیکھے گا ۔ اور اہل جنت میں سے اللہ کے نزدیک سب سے اعلی مقام والا وہ ہو ہوگا جو صبح شام اللہ تعالی کی زیارت کرے گا ۔ ( ترمذی ۔ ابو یعلی)
صحیح احادیث میں آیا ہے کہ دوزخ سے نکلنے والے آخری شخص کو دنیا سے دس گنا بڑی جنت ملے گی ۔ یعنی جس دن سے دنیا پیدا ہوئی اس سے فنا ہونے کے دن تک کی دنیا سے دس گنا بڑی جنت تمام تر نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالی اسے عطاء فرمائیں گے ۔ جب ادنی جنتی کا یہ مقام ہے تو پھر اعلی جنتی کا مقام کیا ہوگا اور پھر مجاہد کا مقام کیا ہوگا جو کہ اللہ کو بہت محبوب ہے ۔ بس اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اللہ تعالی کے اس فرمان کو پڑھئے جو شہید سے کم درجے والوں کے لیے بیان ہوا ہے :
فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( السجدہ ۔ 17 )
کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اس کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے ۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھاہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ اس کا کھٹکا کسی دل پر گزرا ہے ۔ ( بخاری ۔ مسلم )
[ جنت کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث بے شمار ہیں اور ان میں سے ہر حدیث میں جنت کے عجیب و غریب اور اعلی ترین فضائل اور احوال بیان کئے گئے ہیں مصنف رحمہ اللہ نے بھی کئی احادیث ذکر فرمائی ہیں ۔ ہم ان میں سے مزید ایک حدیث کو ذکر کرتے ہیں ] ۔
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت اور اس کی عمارتوں کے متعلق کچھ بیان فرمایئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی اینٹیں سونے اور چاندی کی ، اس کا گارا مشک ، اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت اور اسکی مٹی زعفران ہے جو اس میں داخل ہوگا ہمیشہ نعمتیں پائے گا اور کبھی نہیں مرجھائے گا ۔ ہمیشہ اس میں رہے گا کبھی نہیں مرے گا ۔ جنت والوں کے کپڑے میلے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی سدا بہار رہے گی ۔ ( ترمذی ۔ ابن حبان ۔ مسند احمد )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنت تو ہم مسافروں کا وطن ہے اور وطن کی باتیں انسانوں کو اکتاہٹ میں مبتلا نہیں کرتیں بلکہ محبوبوں سے ملاقات کی جگہ کا تذکرہ توشوق کی آگ کو بھڑکا دیتا ہے جنت اور اسکی حوروں اور نعمتوں کا تذکرہ ایسا ہے کہ اگر ہم اس میں لگ گئے تو اصل مقصود کا ذکر رہ جائے گا ۔ بس شوق شہادت پیدا کرنے کے لیے اتنا تذکرہ بھی کافی ہے اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور اس باب کا اختتام ایک سچے واقعے پر کرتے ہیں۔
واقعہ ! رافع بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ہشام بن یحییٰ کنانی نے کہا میں تمہیں ایک ایسا واقعہ سناتا ہوں جو میں نے خود یکھا ہے اور اس واقعے کی بدولت اللہ تعالی نے مجھے بہت نفع پہنچایا ہے اور میں تمہیں اس لیے سنا رہا ہوں تاکہ تمہیں بھی فائدہ پہنچے ۔ میں نے کہا ضرور سنایئے انہوں نے کہا ہم نے 38 ھ میں جہاد روم میں حصہ لیا اس وقت ہمارے امیر مسلمہ بن عبدالمالک اور عبداللہ بن ولید تھے یہی وہ جنگ ہے جس میں اللہ تعالی نے طوانہ [ نامی مقام ] مسلمانوں کے ہاتھوں فتح فرمایا ۔ اس جہاد میں ہم اہل بصرہ اور اہل جزیرہ اکھٹے تھے اور ہم نے خدمت، پہرے داری، اور جانوروں کا چارہ لانے کے لیے باریاں مقرر کر رکھی تھیں ہماری جماعت میں سعید بن حارث نام کے ایک شخص بھی تھے وہ دن کو روزہ رکھتے تھے اور رات بھر سجدوں میں لگے رہتے تھے ۔ ہم چاہتے تھے کہ خدمت میں ان کی باری ہلکی رکھیں اور ان کی جگہ ہم خدمت کر لیا کریں تو وہ اس بات کو نہیں مانتے تھے۔ بس صبح شام رات دن ہو محنت ہی محنت میں لگے رہتے تھے ۔ رات کو سعید بن حارث کے پہرے کی باری تھی انہوں نے اس رات عبادت اور پہرے میں اتنی مشقت اور صبر کا مظاہرہ کیا کہ میں خود کو ان کے سامنے حقیر سمجھنے لگا ۔ میں نے رات گزرنے کے بعد کہا اے سعید ! آپ کے نفس اور آپ کی آنکھوں کابھی آپ پر حق ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو میں نےیہ اور اسی طرح کی کئی احادیث انہیں سنائیں ۔ انہوں نے فرمایا اے میرے بھائی ہمارے پاس چند گنے چنے سانس ، فنا ہونے والی عمر اور گزر جانے والے دنوں کے علاوہ اور کیا ہے ۔ میں تو موت کے انتظار میں ہوں ۔ یہ سن کر میں رونے لگا اور میں نے انہیں ثابت قدمی کی دعاء دی پھر ان سے کہا آپ تھوڑی دیر آرام کر لیجئے تاکہ اگر دشمنوں سے لڑائی ہو تو آپ اس کے لیے تیار ہوں وہ خیمے کے ایک کونے میں سوگئے ۔باقی تمام ساتھی مختلف کاموں میں بکھر گئے اور میں کھانا تیار کرنے لگ گیا ۔ اچانک مجھے خیمے میں باتیں کرنے کی آواز آئی میں حیران ہوا اور جلدی سے اندر گیا تو وہاں سعید سو رہے تھے ۔ وہی نیند میں باتیں کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے انہوں نے نیند ہی میں اپنا ہاتھ آگے بڑھایا پھر آرام سے واپس کھینچ لیا ۔ اور پھر کہا رات تو وہی رات ہوگی پھر وہ اوچھل کر جاگ گئے اور وہ کانپ رہے تھے میں نے انہیں سینے سے لگا لیا وہ برابر تڑپتے رہے پھر آہستہ آہستہ ان کا ذہن واپس آگیا اور وہ ذکر کرنے لگ گئے ۔ میں نے کہا کیا ہوا ۔ انہوں نے کہا سب ٹھیک ہے۔ میں نے نیند کے دوران ان کے باتیں کرنے اور ہنسنے کا تذکرہ کرکے پوچھا کہ یہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا آپ مجھے معاف رکھئے اور کچھ نہ پوچھئے۔ مگر جب میں نے زیادہ اصرار کیا اور اپنی دوستی کا حق بتلایا تو وہ کہنے لگے جب میں سو گیا تو میں نے دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے لوگ قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہے اچانک دو خوبصورت ترین شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے خوش ہو جاؤ اے سعید اللہ نے تمہیں بخش دیا ہے اور تمھاری محنت کی قدر فرمائی ہے اور تمھارے اعمال اور دعاؤں کو قبول کر لیا ہے اور تمہیں زندگی ہی میں بشارت دے دی ہے آؤ ہم تمہیں وہ نعمتیں دیکھائیں جو اللہ تعالی نے تمھارے لیے تیار فرمائی ہیں وہ مجھے تمام لوگوں سے الگ کرکے دائیں جانب لے گئے جہاں پر ایک گھوڑا موجود تھا جو ہمارے گھوڑوں جیسا نہیں تھا وہ تو بجلی کی چمک کر طرح تیز رفتار تھا وہ ہمیں لے کر ہوا کی طرح تیز اڑتا ہوا ایک ایسے بڑے محل کے پاس لے آیا جس کے اول آخر اور بلندی کی انتہا پر نظر نہیں پڑتی تھی وہ محل گویا کہ شفاف چاندی کا تھا اور نور کی طرح چمک دمک رہا تھا ہم اس کے پاس پہنچے تو وہ خود بخود کھل گیا اور ہم نے اس میں داخل ہو کر وہ چیزیں دیکھی جن کی تعریف کوئی بیان نہیں کر سکتا اور نہ ان کا کھٹکا آدمی کے دل پر گزر سکتا ہے ہم نے اس محل میں ستاروں کی تعداد میں ایسے خدمتگار بچے دیکھے جو موتیوں کی طرح تھے جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو خوبصورت آواز میں پکارنے لگے یہ اللہ کا ولی ہے اللہ کا ولی آگیا خوش آمدید اے اللہ کے ولی پھر ہم آگے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں سونے کے پلنگ بچھے ہوئے تھے ان موتیوں سے جڑے پلنگوں پر ایسی لڑکیاں بیٹھی تھیں جن کی شان مخلوق میں سے کوئی بیان نہیں کرسکتا ۔ ان کے درمیان میں ایک بلند پلنگ پر ان میں سب سے زیادہ حسین و جمیل اور سب سے زیادہ کمالات والی لڑکی تھی ۔ ان دونوں آدمیوں نے مجھے کہا یہ تیر اگھر ہے یہ لڑکی تیری بیوی ہے یہی تیرا ٹھکانہ اور منزل ہے یہ کہہ کر وہ دونوں آدمی چلے گئے اور لڑکیاں بے تابی کے ساتھ بڑھیں اور مجھے خوش آمدید کہنے لگیں اور اس طرح استقبال کرنے لگیں جس طرح گھر والے اپنے کسی سفر سے واپس آنے والے کا کرتے ہیں پھر انہوں نے مجھےدرمیان والے پلنگ پر اس لڑکی کے پہلو میں بٹھا دیا اور کہنے لگیں یہ تیری بیوی ہے اور اس جیسی ایک بیوی اور بھی ہے اور ہم بہت عرصے سے تیرے انتظار میں تھے ۔ پھر میں اس لڑکی سے باتیں کرتا رہا وہ بھی میرے ساتھ باتیں کرتی رہی اس نے بتایا کہ میں تیری ہمیشہ رہنے والی بیوی ہوں تو ایک دن میرے پاس رہے گا اور دوسرے دن دوسرے محل میں دوسری بیوی کے پاس ۔ پھر میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے نرمی سے میرا ہاتھ واپس کر دیا اور کہنے لگی آج نہیں آج تو تمہیں دنیا میں واپس جانا ہے میں نے کہا میں واپس نہیں جانا چاہتا اس نے کہا ابھی تو آپ کو جانا ہے اور تین دن وہاں رہ کر آپ نے تیسری رات ہمارے ساتھ روزہ افطار کرنا ہے ان شاء اللہ ۔
میں نے کہا رات تو وہی رات ہوگی اس کے بعد میں جاگ گیا ۔
ہشام کہتے ہیں میں نے کہا تم اللہ کا شکر کرو جس نے تمہیں آخرت کا بدلہ جیتے جی دیکھا دیا انہوں نے کہا میری زندگی میں آپ یہ بات کسی کو نہ بتایئے گا میں نے کہا ٹھیک ہے ۔ انہوں نے پوچھا ساتھی کہاں ہیں ؟ میں نے کہا بعض جنگ کرنے گئے ہیں اور بعض دوسرے کاموں کے لیے گئے ہوئے ہیں یہ سنکر وہ اٹھے، انہوں نے غسل کیا خوشبو لگائی اور اسلحہ اٹھا کر میدان جنگ میں چلے گئے وہ روزے کی حالت میں تھے سارا دن وہ لڑتے رہے اور شام کو واپس آگئے واپسی پر ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ آج انہوں نے [ یعنی سعید نے ] وہ کام کیا جو ہم نے کبھی نہیں دیکھا انہوں نے آگے بڑھ کر حملے کئے اپنے آپ کو دشمنوں کے تیروں اور پتھروں کے درمیان ڈالا مگر انہیں کوئی تیر یا پتھر نہیں لگ رہا تھا میں نے دل میں کہا اگر تمہیں اصل بات معلوم ہوجائے تو تم بھی اسی کی طرح آگے بڑھو گے اسکے بعد سعید نے کسی چیز سے روزہ افطار کیا اور رات بھر مصلے پرکھڑے رہے اور صبح پھر روزہ رکھا اور پچھلے دن کی طرح جہاد کیا تیسرے دن میں بھی ان کے ساتھ نکلا تاکہ ان کا پورا معاملہ دیکھ سکوں وہ سارا دن بہادری کے ساتھ لڑتے رہے مگر دشمن کا کوئی ہتھیار اور کوئی تدبیر ان پر کار گر نہیں ہو رہی تھی یہاں تک کہ سورج کے غروب کا وقت قریب آگیا اور وہ پہلے سے زیادہ چست نظر آنے لگے۔ اس وقت قلعے کے اوپر سے ایک کافر نے تاک کر انہیں تیر مارا جو ان کی گردن میں لگا اور وہ زخمی ہوکر گرپڑے۔ ساتھیوں نے جلدی بڑھ کر اٹھایا اور پیچھے لے آئے اس وقت ان کے جسم میں کچھ جان تھی میں نے انہیں کہا مبارک ہو اس چیز کی جو آپ کو افطار کے وقت ملنے والی ہے کاش میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۔ انہوں نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر مجھے سے آنکھ سے اشارہ کیا اور ہنس پڑے گویا کہ مجھے واقعہ خفیہ رکھنے کا وعدہ یاد دلایا۔ میں نے اس پر اللہ تعالی کا شکر اداء کیا کہ میں وعدہ خلافی سے بچ گیا پھر ان کی روح پرواز کر گئی اس کے بعد میں نے بلند آواز سے پکار کر کہا اے لوگو! ہمیں بھی اسی طرح عمل کرنا چاہئے آؤ میں تمہیں تمھارے اس بھائی کا واقعہ سناؤں ۔لوگ جمع ہوگئے میں نے انہیں پورا واقعہ سنایا تو لوگ رونے لگے میں نے اس دن سے زیادہ کبھی لوگوں کو روتے نہیں دیکھا پھر انہوں نے تکبیر کا نعرہ بلند کیا جس سے میدان گونج اٹھا دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر ہر طرف پھیل گئی اور ہمارے امیر مسلمہ بن عبدالمالک تک بھی پہنچ گئی ہم نے ان سے کہا آپ کا انتظار ہے آیئے جنازہ پڑھایئے انہوں نے کہا ان کا جنازہ وہی شخص پڑھائے گا جس کو اس واقعے کا علم ہوا ہے ۔ ہشام کہتے ہیں کہ میں نےجنازہ پڑھایا اور اسی جگہ ان کو دفن کرکے ان کی قبر کے نشان کو مٹا دیا ۔ رات کے وقت سارے لوگ انہیں کی باتیں کرتے رہے اور ایک دوسرے کو جہاد پر ابھارتے رہے اور صبح کے وقت سب نے ایک نئے عزم اور اللہ سے ملاقات کے والہانہ جذبے کے ساتھ قلعے پر حملہ کر دیا اور سورج چڑھتے ہی اللہ تعالی نے ان کی برکت سے قلعہ فتح فرما دیا ان پر اللہ تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں ۔ ( کتاب الجہادلابی الحسن علی بن الخضرالسلمی )
[ شہادت کے فضائل اور شہداء کے واقعات ہم نے تفصیل کے ساتھ پڑھ لیے اور احادیث میں جو فضائل بیان کئے گئے ہیں ان کے سچا ہونے میں کوئی شبہہ نہیں ہے اور اسی طرح اس میں بھی کوئی شبہہ نہیں ہے کہ یہ فضائل صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم یا امت کے پہلے لوگوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ فضائل قیامت تک کے انسانوں کے لیے بیان کئے گئے ہیں چنانچہ جس طرح ماضی کے خوش قسمت افراد نے ان فضائل کو پڑھا اور سمجھا اور ان پر یقین کیا اور پھر میدانوں میں نکل کر بھر پور محنت کرکے ان فضائل کو پالیا اسی طرح آج ہمیں بھی یقین اور عمل کی آنکھوں سے ان فضائل کو پڑھنا چاہئےاور ان کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہئے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے جب تک یہ فضائل حاصل نہ ہو جائیں اور اگر یہ فضائل حاصل ہوگئے تو پھر ہمارے لیے چین ہی چین ہوگا مزے ہی مزے ہوں گے اور ہم بھی اللہ تعالی کی ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے جواللہ تعالی نے شہداء کرام کے لیے خصوصی طور پر تیار فرمائی ہیں ۔ اسی طرح ہم نے اس باب میں حضرات شہداء کرام کے جو واقعات پڑھے ہیں وہ کوئی دیومالائی کہانیاں یا کوہ قاف کے جنات کے واقعات نہیں ہیں یہ سارے لوگ ہماری طرح گوشت پوست کے بنے ہوئے تھے جن کے سینے میں ہماری طرح دل اور ان کی رگوں میں ہماری طرح خون تھا ان کے اردگرد دنیا کے تقاضے مجبوریاں اور دنیا کی پرکشش چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ ان کے دلوں میں بھی ہماری طرح امیدیں اور ارمان پیدا ہوتے تھے اور انہیں بھی اپنے بیوی بچوں اور اہل وعیال سے پیار تھا لیکن جب انہوں نے یہ سنا کہ اللہ تعالی نے ہماری جان و مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے تو خوشی سے جھوم اٹھے کہ واہ اللہ تعالی ہمارا خریدار بن گیا ہے چنانچہ انہوں نے پوچھاکہ ہم جان و مال کا یہ سودا کہاں جاکر اللہ تعالی کے سپرد کریں تو جواب ملا کہ تم میدان جہاد میں نکل کر یہ سودا پیش کرو چنانچہ وہ دیوانہ وار میدان جہاد کی طرف دوڑے ان کے گوشت پوست کے جسم فولاد بن گئے ان کے سینے میں دھڑکنے والا دل صرف اللہ کے لیے دھڑکنے لگا اور اس میں اللہ تعالی کی ملاقات کا شوق ایسا سمایا کہ اس میں سے ہر طرح کا خوف اور ڈر نکل گیا اور یہ دل بزدلی اور دنیا کی محبت سے پاک ہوگیا ۔ ان کے جسم میں چلنے والا خون جوش مارنے لگا اور بیوی بچوں کی محبت نے انہیں یہ سکھایا کہ وہ جلد از جلد اپنی جان اللہ تعالی کو دیکر اپنے بیوی بچوں کی شفاعت کا انتظام کریں چنانچہ انہوں نے اللہ کی محبت میں اور کفر سے نفرت کرتے ہوئے تلوار اٹھائی اور پھر ان کی تلوار خون اگلنے لگی اور اس وقت تک خون اگلتی رہی جب تک خود ان کی گردن نے اپنا سارا خون زمین پر نہیں بہا دیا ان لوگوں نے خود کو اللہ کے پاس بیج دیا تھا اور جو چیزخریدی جاتی ہے اس سے پیار ہوتا ہے۔
اللہ تعالی نے انہیں بنایا پھر خود انہیں خریدا اور پھر ان پر اپنا پیار نچھاور فرما دیا اور ان کے ہرعمل کو عبادت اور ہر اداء کو اطاعت بنادیا اور ان پر فخر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف میرے ہیں صرف میرے اور میری خاطر جان دیتے ہیں میری خاطر کٹ مرتے ہیں میرے دشمنوں سے زمین کو پاک کرتے ہیں اور میرے نام کی بلندی کے لیے خود اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرتے ہیں چنانچہ اللہ تعالی نے ان کے لیے اپنی رحمت اور اپنے فضل کے سارے دروازے کھول دیئے ۔ یہ دروازے آج بھی کھلے ہوئے ہیں آج بھی شہادت کا بازار گرم ہے اللہ تعالی آج بھی خریدنے کے لیے تیار ہے اور خوش قسمت لوگ آگے بڑھ بڑھ کر خود کو بیچ رہے ہیں دنیا والوں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ اپنے رب کے ہاتھوں میں ۔ آج پھر افغانستان ، کشمیر فلسطین عراق میں شہداء کے استقبال کے لیے حوریں اتر رہی ہیں وہ تمام کرامات جو ہم نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے شہداء اور کے بعد کے شہداء کی پڑھی ہیں ایک ایک کرکے اس زمانے کے شہداء کو بھی نصیب ہو رہی ہیں اور ایسے عجیب و غریب واقعات بھی ظاہر ہو رہے ہیں جن کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں اگر ہمارے لیے ممکن ہوتا تو ہم آپ کے سامنے اس زمانے کے شہداء کرام کی کچھ کرامات کا تذکرہ کرتے جو افغان جہاد کے دوران ظاہر ہوئیں ۔ جو کشمیر میں کھلی آنکھوں سے دیکھی گئیں اور جو فلسطین فلپائن بوسنیا عراق میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو دکھائیں مگر اس وقت ہمارے لیے ان واقعات کو لکھنا ممکن نہیں ہے ۔ لیکن جس اللہ تعالی نے ماضی کے شہداء کو کرامتوں سے نوازا وہی اللہ تعالی آج کے شہداء کرام پر بھی وہی فضل فرما رہا ہے بلکہ اس زمانے میں ایمان کی کمزوری کی وجہ سے بعض اوقات زیادہ فضل و کرم فرماتا ہے تاکہ ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کے دل مضبوط ہو جائیں۔
اے مسلمانو ! یہ سودا کچھ مہنگا نہیں ہے جان تو جسم سے نکلتی ہی ہے اور ایک رات قبر میں سونا ہی ہے پھر ہم کس چیز سے ڈریں اور کس چیز سے گھبرائیں آج ہم سے وہ چیز مانگی جارہی ہے جو ہم نے ایک نہ ایک دن دینی ہے اور ہم کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جارہی ہے جس سے بچنا کسی کے بس میں نہیں ہے تو پھر جب مرنا ہی ہے تو پھر کیوں نہ اپنی جان اللہ کے راستے میں قربان کرنے کے لیے پیش کریں اور اس جان کو جہاد کے میدان میں لے جاکر پاک کریں اور اسے اس قابل بنائیں کہ یہ اللہ کے حضور پیش ہو سکے اور جنت کی نعمتوں کی مستحق ہو سکے۔
شہادت سے ڈرنا ایک غفلت اور بیوقوفی ہے کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے اور شہادت سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے کیونکہ حقیقی مؤمن وہی ہے جو اللہ تعالی کو اپنی جان اور مال دے کر اس کی رضا کا طلب گار ہوتا ہے اور وہ اسے بھی اللہ کا فضل سمجھتا ہے کیونکہ جان دینے والا بھی اللہ تعالی ہے اب اس کی دی ہوئی چیز واپس اس کو دے کر اس کی رضا اور جنت کی نعمتیں پانا نفع کا سودا نہیں تو اور کیا ہے ؟ ]

Coronavirus Cure Pakistan