شہید ذندہ ہیں یا مردہ؟ (ڈاکٹر ذاکر نائیک کے جواب پر تبصرہ)

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 30, 2017)

محترم ڈاکٹر ذاکر صاحب ۔۔اس ویڈیو میں آپ نے سوال کا جواب صحیح نہیں دیا جس پر بہت افسوس ہے۔ 

قرآن کریم کی سورہ نمبر 2 آیت نمبر 154 اور سورہ نمبر 3 آیت نمبر 169 میں ان مسلمانوں کے بارے میں بیان ہے جن کا جسم اللہ کے راستے میں قتل ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ بات طے شدہ ہے قتل کے قابل جسم ہے نہ کہ روح۔ لہذا قتل شہید کا جسم ہوتا ہے نہ کہ روح۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ ان دونوں آیات کا موضوع شہید کا جسم ہے یعنی ان کے جسم کو زندہ کہا گیا ہے اور ان کے جسم کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے نیز بقول قرآن کریم سورہ یاسین سورہ نمبر 36 آیت نمبر 51 ، 52 کے مطابق روح تو کسی کی بھی نہیں مرتی ورنہ پھر جزا و سزا کس کو دی جائے گی؟ 

یہاں اللہ تعالی نے شہداء اسلام کے جسم و روح کے امتیازی شان کو بیان کیا ہے بنسبت عام مردوں کے۔پہلے جسم پر بات کرتا ہوں پھر روح پر بات ہوگی۔

یہاں پر اللہ تعالی نے شہداء اسلام کے جسم کو مردہ کہنے سے صراحتا منع کیا ہے اور انکے جسم کو زندہ کہا ہے۔ 

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ جب کوئی انسان مر جاتا ہے تو اسکا جسم بھی مر جاتا ہے یعنی اسکے جسم میں اب زندہ جسم کے آثار نہیں پائے جائیں گے۔ زندہ جسم کے آثار یہ ہیں کہ ان میں تازہ خون ہوگا، جسم نرم ہوگا اور غذا و پانی استعمال کر نے کی وجہ سے صحتمند ہوگا۔ اس کا بال اور ناخن بڑھے گا۔ نیز زندہ جسم انسانی سڑ نے گلنے سے محفوظ رہے گا۔

یہ سارے آثار شہداء اسلام کے جسم میں پائے جاتے ہیں اس لیے ان کے جسم کو زندہ کہا ہے۔

صرف ان کی نبض حرکت نہیں کرتی اور نہ ہی وہ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اس لئے اللہ تعالی نے کہا کہ تم انکی اس حیات کو اپنے حواس خمسہ سے ادراک نہیں کرسکتے۔اور جسم کا چلنا پھرنا کسی انسان کے زندہ ہونے کے لیے لازمی امر نہیں کیونکہ ہم کبھی بھی نیند، قومہ اور بے ہوشی میں مبتلا انسان کو مردہ نہیں کہتے ۔

لہذاشہدائے اسلام کے جسم میں ان آثار حیات کی موجودگی کی وجہ سے ان کو مردہ کہنا قطعی درست نہ ہوگا اور اللہ تعالی کا یہ کہنا کہ ان کا جسم زندہ ہے درست ہوگا۔

ہماری بات کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ان کے بارے میں یہاں کہا گیا ہے کہ ان کے جسم کو غذا یعنی کھانا پانی مہیا کیا جا تا ہے۔ مسلم شریف کی صحیح حدیث کے مطابق شہیداء اسلام جنت کے پھلوں کو کھاتے اور اسکے پانی کو پیتے ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے کہ غذا زندہ جسم کو دی جاتی ہے نہ کہ مردہ جسم کو۔

اب رہ گئی بات روح کی تو روح تو کسی کی بھی نہیں مرتی چاہے مسلمان کی ہو یا کافر کی جیسا کہ سورہ یاسین سورہ نمبر 36 آیت نمبر 51، 52 میں ہے کہ کافر بھی قبروں سے اٹھیں گے۔

مگر شہداء کی روح میں عام انسانوں کی روح کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت ہوتی ہے اس لئے ان کی روح کو بھی زندہ کہا گیا ہے کیوں کہ مسلم شریف کی صحیح حدیث کے مطابق ان کی روح اللہ کے پاس اس کے عرش کے نیچے لٹکے قندیلوں میں ہوتی ہیں۔

یہ مذکورہ بالا آیات شہداء کاصحیح مفہوم ہے ۔ہماری تحقیقات کے مطابق شہداء اسلام کے ایسے بہت سے اجسام مبارک پائے گئے ہیں جو سڑنے گلنے سے محفوظ ہیں ، ان کے اجسام زندہ انسان کی طرح تروتازہ ہیں اور ان کے جسم میں تازہ خون بھی پایا گیا ہے۔ 

تفصیل کے لیے www.rightfulreligion.com دیکھیے۔

Coronavirus Cure Pakistan