مسکراتے چہرےاور گرم لہو

تحریر: مولانا قاری عبدالرشید۔اولڈہم (مرکزی رہنما جمعیت علمائے برطانیہ) (November 17, 2015)

قارئین! آج کے کالم میں امریکن ریڈکراس کی ویب سائٹ سے نشر ایک رپورٹ، آپ کو بھی پڑھا کر اس پر اظہار رائے کروں گا۔ یہ رپورٹ سوشل میڈیا کے ذریعہ مجھ تک پہنچی ہے اور اردو میں ہے جس کی کاپی میرے سامنے ہے۔ میری ذاتی رائے میں یہ رپورٹ مسلمانوں اور غیرمسلموں تمام کے لئے سامان نصیحت اور مقام عبرت پوری طرح مہیا کرتی ہے۔ رپورٹ کی سرخی یوں ہے: ”طالبان کی لاشیں خراب نہیں ہوتیں، امریکن ریڈکراس‘‘ واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ادارے ریڈکراس کی ویب سائٹ نے غیرملکی فوجیوں کے مقابلے میں طالبان کے شہداء کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی ہے۔ مذکورہ ادارہ مزار شریف میں مردوں کو جمع کرنے اور انہیں دفنانے کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ ادارے نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ”نہ تو طالبان کی لاشیں خراب ہوتی ہیں اور نہ ہی ان سے بدبو آتی ہۓ‘‘۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ماہرین نے اس کی وجہ موسم کے سرد ہونے کو بتایا تھا، مگر ان ماہرین کی رائے اس وقت غلط ثابت ہوئی جب اسی لڑائی میں طالبان مخالف لڑنے والے افغان اہلکاروں اور شمالی اتحاد کے مردوں کو دیکھا گیا جن کی لاشیں گل سڑ گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ اب ماہرین اس خوراک کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں جو طالبان مجاہین کھاتے ہیں۔ ماہرین اس بات کی تحقیق بھی کررہے ہیں کیونکہ بعض طالبان کا خون موت کے بعد بھی گرم رہتا ہے۔ صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل میں فوج سے بھاگ جانے والے ایک گروپ کے ایک فوجی اپنے بھاگنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ آمنے سامنے اور دوبدو جنگ میں طالبان نے پسپائی اختیار کی حالانکہ دونوں جانب سے لاشیں میدان میں رہ گئی تھیں۔ ہمیں حکم دیا گیا کہ صبح تک وہاں پر قیام کریں لیکن بہت ہی کم وقت گزرنے کے بعد ہمارے فوجیوں کی لاشوں سے ایسی بدبو آنے لگی جس سے وہاں ٹھہرنا ممکن نہیں تھا۔ اور دوسری جانب طالبان کی لاشوں سے انتہائی خوبصوت مہک اٹھ رہی تھی، یہی بات تھی کہ ہمارے ساتھیوں (افغان آرمی) نے اپنا کام شروع کیا، اپنی لاشیں چھوڑ کر طالبان کی لاشوں کے پاس کھڑے ہوگئے‘‘۔

قارئین کرام یہ تھی وہ رپورٹ جوکہ آپ کو من و عن پڑھائی گئی ہے۔ اب اس کا نتیجہ کیا اخذ ہوتا ہے، نصیحت کیا حاصل ہوتی ہے اور عبرت کیسے پکڑی جا سکتی ہے وہ اس آدمی کے لئے قطعاً مشکل نہیں جس کے سر میں دماغ اور دماغ میں معمولی سمجھ کا مادہ موجود ہو۔ اس رپورٹ کو ”مردوں کا پیغام زندوں کے نام‘‘ کے طور پر بھی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی رپورٹ کو سامنے رکھ کر ”کون حق اور کون راہ حق سے بھٹکا ہوا‘‘ کا فیصلہ کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ ہم اس کالم میں زندوں کی بات ہی نہیں کر رہے، طرفین کے مردوں کی بات ہو رہی ہے اور افغان آرمی کے جوان اپنے پیٹی بھائیوں کے بعداز مرگ کے حالات و مشاہدات کو خود نقل کر رہے ہیں۔ افغان آرمی بمقابلہ طالبان برسرمیدان ہے اور طالبان کے شہداء کے جسموں کی حالت کوئی طالب بیان نہیں کررہا بلکہ افغان آرمی کے یہ جوان یہ سچی اور کھری شہادت (گواہی) دینے پر مجبور ہیں اور اس حقیقت کو شائع امریکن ریڈکراس شائع خود کر رہی ہے۔ عربی میں کہتے ہیں ”الفضل ما شہدت بہ الاعدٰٓ‘‘ آدمی کا کمال و فضیلت یہ ہے کہ اس کا دشمن اس کی گواہی دے۔ اور اردو میں محاورہ ہے ”جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے‘‘۔ جنگیں چھیڑنے کے فیصلے حکومتیں کرتی ہیں اور میدانوں میں جاکر وہ جنگیں فوجی لڑتے ہیں اور کہاوت ہے جو جال دیکھتا ہے مچھیرا وہ نہیں دیکھ سکتا، کون سی فوج بہادر ہے اور کون سی بزدل، اس کا اندازہ بھی میدان میں موجود فوجیوں کو ہی ہوتا ہے۔ جنگوں کے فیصلے کرنے اور دینے والوں کو وہ حالات معلوم نہیں ہوتے جو افواج کے پیش نظر ہوتے ہیں۔مذکورہ بالا رپورٹ میں بھی حالات فوجی بیان کرکے سب کو بتا رہے ہیں۔ فرض کریں، یہی حالات جنگ چھیڑنے والے ممالک کے حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے اگر آجائیں، وہ خود اس چیز کا آنکھوں سے دیکھ کر اور ناک سے سونگ کر مشاہدہ کرلیں تو یقیناً وہ بھی مرنے کے بعد کے حالات کو مدنظر رکھ کر ہزار بار سوچیں کہ جو حشر ہمارے ان فوجیوں کا بعد از مرگ ہمیں نظر آرہا ہے اگر اس جگہ ان کی اپنی باڈی پڑی ہوتی تو اس کا حشر بھی ایسا ہی ہوتا جیسا کہ ان کی فوج کی لاشوں کا ہو رہا ہے۔کون چاہے گا کہ اس کے مردہ جسم سے بدبو آئے؟ کون پسند کرے گا کہ اس کی لاش کے پاس اس کے عزیز و اقارب چند لمحے کھڑے نہ ہوسکیں؟ کون چاہے گا کہ اس کا جسم جہنم کی آگ کا ایندھن بنے؟افغان آرمی ہو یا اس کی سرپرستی کرنے والی دیگر افواج یہ واقعہ اور رپورٹ تمام کیلئے سبق آموز ہے۔

بھلا سوچیں اور غور کریں جن کو دہشت گرد، انتہا پسند، انسانیت دشمن اور دیگر الزامات لگا کر مارا جا رہا ہے مرنے کے بعد ان کے خون کا گرم رہنا، بدن کا ترو تازہ نظر آنا، جسم سے خوشبو کے فواروں کا اٹھنا، ان کی قبروں سے خوشبوؤں کی مہک اٹھنا اور ان کو مارنے والے فوجیوں کی لاشوں سے وہ سارا معاملہ ہونا جو مذکورہ رپورٹ میں بیان ہے تو خدا کی قسم یہ موسم اور خوراک کا اثر نہیں ۔ جن کی خوراک بھی اچھی نہیں، جن کا لباس بھی عمدہ نہیں، جن کی رہائش بھی اعلیٰ نہیں، ان کے مخالفین کے پاس اس دنیا کا سب کچھ ہے، لیکن مرنے کے بعد چند لمحوں میں ہی بدن کا گل سڑ جانا اور بدبو کا اٹھنے لگ جانا یہ قدرت کا کرشمہ ہے۔ طالبان یا مجاہدین کا اس میں کوئی کمال نہیں۔ سوشل میڈیا کو کھولیں تو ہنستے مسکراتے چہرے مرنے کے بعد دکھائے جا رہے ہیں ان کی قبریں کھلیں تو خوشبو کے جھونکے دنیا خود سونگھے تو ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ کی بجائے صلح ہونی چاہئے۔ جنگیں بہت ہو چکیں، اب صلح و امن کا دور آنا چاہئے اب جنگ دنیا سے غربت کے خاتمے اور ظلم کے خلاف ہونی چاہئے، ہماری دولت اسلحہ اور بارود پر خرچ ہونے کی بجائے تعلیم اور دوائی پر لگنی چاہئے اب دور خدا کی مخلوق کی خدمت کا آنا چاہئے، ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کی مدد کی باری آنی چاہئے اگر ایسا نہ کیا تو پھر لاشیں دنیا میں سامان عبرت اور آخرت میں مستحق آگ ہوں گی، یہ سودا نقصان کا ہے۔

Source: http://urdu.pakistantv.tv/2015/11/73903

Coronavirus Cure Pakistan