دنیا کے95 فیصدانسانوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 10, 2016)

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے جب میں نے دنیا کے انسانوں کے حالات کا جائزہ لیا تو ان میں سے اکثر کو نہایت ہی پریشان کن پایا۔وہ اسطرح کہ مسلم یا غیر مسلم دونوں کو ملاکر دیکھا جائے تو ان میں سے اکثر مالی طور پر غریب ہیں اور نہایت ہی تنگدستی کی زندگی بسر کررہے ہیں یعنی بنیادی ضرورت مثلاً روٹی کپڑا اور مکان بھی پورا نہیں ہوتا۔مالی طور پر پریشان ہونے کی وجہ سے یہ لوگ تعلیم سے بھی خالی ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے اور غیروں کے دینی و معاشرتی حقوق سے بھی ناواقف و نابلد ہیں اور غیر انسانی حرکات و سکنات اور ظلم و جور میں ملوث ہیں یعنی زنا کاری، شراب نوشی، چوری، ڈکیتی، اغواء برائے تاوان اور نشہ وغیرہ ۔

سات ارب انسانوں میں سے تقریباً پانچ ارب انسان غربت و جہالت کی وجہ سے غیر انسانی و غیر اخلاقی اور ظلم و جور میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ بے سکون بھی ہیں خواہ بیماری کی وجہ سے، قرض کی وجہ سے، بے انصافی کی وجہ سے یا دیگر وجوہات سے یعنی خود کش حملے، بم دھماکے، ڈرون حملے اور جنگیں۔یہی نہیں بلکہ لگ بھگ پانچ ارب انسان جہنم کے راستے پر بھی چل رہے ہیں کیونکہ اس وقت دنیا میں غیر مسلموں کی تعداد تقریباًاتنی ہی ہے۔

اوپر انسانوں کے حالات پر میں نے نہایت ہی اختصار کے ساتھ گفتگو کی ہے ۔جب میں نے اس کی وجہ تلاش کی تو معلوم ہوا کہ اکثر انسانوں کے مذکورہ حالات کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ خالق کائنات جو کروڑوں مسلمانوں کی لاشوں کو صدیوں سے تازہ حالت میں محفوظ رکھا ہوا ہے اور جسے ہم اللہ تعالیٰ کہتے ہیں وہ دنیا کے اکثر انسانوں سے ناراض ہے اور بالکل خوش نہیں ہے ۔اس وجہ سے دنیا کے انسانوں کی اکثریت پریشان اور بے چین ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران آیت نمبر19میں واضح الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اور صرف اسلام ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ آیت نمبر3میں واضح الفاظ میں ارشاد فرمادیا ہے کہ میں نے دین اسلام کو مکمل کردیا ہے اور میں اس دین سے راضی اور خوش ہوں۔اس کا مطلب بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے جو بھی دین اسلام کے عقائد و اعمال میں اخلاص کے ساتھ مکمل پیروی کرے گا میں ان سب سے خوش رہونگا۔ظاہر سی بات ہے کہ قرآن کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دین اسلام کو مکمل کرچکا ہوں اوران کے دین سے راضی ہوں۔دین اسلام تو حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے مختلف نام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آیا مگر وہ تب تک نامکمل تھا۔اللہ تعالیٰ نے آخری نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس دین اسلام کو مکمل کردیا جیسا کہ اوپر میں نے حوالہ دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نعش ہائے مبارکہ (سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ اللہ تعالیٰ نے زندہ ہی انہیں آسمان پر اٹھالیا )زمین میں تروتازہ حالت میں محفوظ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سب سے خوش ہے اس لئے کہ وہ سب اپنے اپنے زمانے میں دین اسلام کے جو بھی عقائد و اعمال تھے پورے خلوص سے ان پر عمل کرتے رہے۔

محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اسلام کے مکمل اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہونے کی وجہ سے جن مسلمانوں نے بھی صدق دل اور اخلاص سے اس دین کی پوری پیروی کی خواہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہوں، شہداء اسلام ہوں یا دیگر مومنین و مومنات اور اولیاء اللہ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے خوش ہوکر ان کی نعشوں کو بھی صدیوں سے ان کی قبروں میں تروتازہ حالت میں محفوظ رکھاہوا ہے۔یہی نہیں بلکہ ان کی نعشوں سے دیگر خرق عادات کا صدور و ظہور بھی ہوتا رہتا ہے جیسے کفن سے ہاتھ نکالنا، آنکھ کھول دینا، کلمہ شہادت پڑھکر دوسرے کو مسلمان بنانا، قبر کی مٹی کا باذن الٰہی شفا کا ذریعہ ہونا اور قبروں سے خوشبو آنا وغیرہ وغیرہ۔

جبکہ دوسری جانب اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران آیت نمبر85میں صاف اعلان کردیا ہے کہ اب جو بھی دین اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین و مذہب کو اختیار کرے گا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں ہوگا یعنی اس کا پیروکار اس دین پر مرنے کی صورت میں جہنم سے نجات نہیں پائے گا۔ساتھ ہی ساتھ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے یہ دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ کسی بھی یہودی، عیسائی، ہندو، بدھست، سکھ اور پارسی کی لاش تروتازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے محفوظ نہیں رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے عقائد و اعمال سے خوش نہیں ہے۔اس بنا پر غیر مسلموں پر مرتے ہی عذاب شروع ہوجاتا ہے جو کہ جسم و روح دونوں کو ہوتا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی لاش اپنی روح سمیت عذاب میں گرفتار ہوجائے تو اس کے جسم کو روحانی طاقت کہاں سے ملے گی جس سے کہ وہ تروتازہ حالت میں محفوظ رہ سکے؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیر مسلموں سے ناراض ہے۔اس وقت2013ء کے مطابق غیر مسلموں کی تعداد تقریباً پانچ ارب ہے اور مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ارب ہے۔لہذا یہ پانچ ارب غیر مسلم کم از کم قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی نہ ہونے کے تو ضرور منکر ہیں اور یہی دو باتیں ان کے کافر ہونے کیلئے کافی ہیں۔اگرچہ ان کے باقی عقائد دین اسلام کے مطابق ہی کیوں نہ ہوں یعنی ان پانچ ارب کافروں سے تو بالاتفاق قرآن کی روشنی میں اللہ تعالیٰ ناراض اور ناخوش ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت سات ارب انسانوں میں سے پانچ ارب تو ویسے ہی اکثریت میں ہوگئے جس سے میرا دعوی ثابت ہوگیا جو میں نے اپنے عنوان میں کیا ہے۔

نیم اس پر چڑھا کر کریلا ستم یہ ہوگیا کہ اگر ہم ان دو ارب مسلمانوں کا بھی تجزیہ کریں تو ان میں سے بھی اکثریعنی نہایت محتاط اندازے کے مطابق 75فیصد مسلمانوں سے بھی اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔آئیے ذرا ہم تجزیہ کرکے دیکھتے ہیں۔

اس وقت یقینی طور پر پوری دنیا میں 75فیصد مسلمان نماز بالکل ہی نہیں پڑھتے حالانکہ نماز ارکان اسلام میں سے ہے اگر کوئی اس کو پانچ وقت ادا نہیں کرتا تو گویا دین اسلام کا وہ گھر جو پانچ ارکان یعنی پانچ ستونوں پر قائم ہے ان میں سے ایک ستون کو خود ہی ڈھا رہا ہے نیز یہ کہ اس کی ادائیگی ہر عاقل، بالغ مرد و عورت ، مریض و مسافر اور غریب و امیر پر فرض ہے۔اسلام و کفر کے درمیان نماز ہی ایک حد فاصل ہے کیونکہ حدیث صحیح میں ہے کہ جان بوجھ کر نماز کا تارک کفر والا عمل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔معلوم ہوا کہ 75فیصد بے نمازی مسلمانوں سے بھی اللہ تعالیٰ ناراض ہے کہ وہ اس کے دین کے ایک اہم ترین ستون کوگرارہے ہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم بھی خوش نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہورہی ہے۔

اب جو باقی 25فیصد مسلمان رہ گئے تو ان میں سے بھی 5فیصد ایسے ہیں جو مسائل نماز سے بالکل ہی واقف نہیں ہیں۔اب ظاہر سی بات ہے کہ جب نماز کی ادائیگی کا طریقہ ہی معلوم نہ ہو تو پھر وہ نماز تو نماز نہ رہی۔20فیصد نمازی مسلمانوں میں سے 5فیصد ایسے مسلمانوں کی ضرور ہے جو پانچ اوقات جماعت سے نماز نہیں پڑھتے یعنی یا تو اکیلے پڑھ لیتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔اور دونوں صورتوں میں وعید ہے۔

رہ گئے 15فیصد نمازی مسلمان تو ان میں سے بھی 5فیصد مسلمان ایسے ضرور ہیں جن کا جسم تو نماز میں ہوتا ہے لیکن ان کی روح نماز میں نہیں ہوتی اور ان کا دھیان خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جانب ہونے کے بجائے چپل، دکان، کاروبار، آفس، گھر اور دیگر الجھنوں میں پھنسا رہتا ہے گویا کہ 5فیصد مسلمان ایسے ہیں جو محض جسمانی ورزش کررہے ہوتے ہیں یا خانہ پری کررہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح اس ذمہ داری سے جان چھڑاؤ وغیرہ وغیرہ۔

حاصل کلام یہ کہ 90فیصد مسلمانوں سے بھی اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہے۔اب جو 10فیصد باقی رہ گئے تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان میں سے بھی 5فیصد ایسے ہیں جو یا تو غلط عقائد یعنی مخفی شرک یا دیگر غلط عبادات یاغلط اخلاق یا غلط معاملات میں ملوث ہیں یعنی ہر اعتبار سے کامل مومن نہیں ہیں اور صرف ظاہری طور پر نام کے مسلمان ہیں۔جس کا مطلب واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت 95فیصد مسلمانوں سے ناراض ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم بھی ناراض ہیں کیونکہ انہوں نے اس دین کیلئے تمام انسانوں اور جناتوں میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔غرضیکہ بمشکل 5فیصد مسلمان دنیا میں مومن کامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم مطمئن اور خوش ہیں۔

یہ میرا نہایت احتیاطی تجزیہ ہے اگر میں سختی سے تجزیہ کروں تو ان 5فیصد میں سے بھی ایسے ضرور ہونگے جو محرمات، جرائم اور ظلم وجور میں حد سے گزرے ہوئے ہونگے جنہیں میں حسن ظن اور اپنے تجزیہ میں گنجائش کا خیال رکھتے ہوئے ترک کررہا ہوں۔باقی اللہ تعالیٰ ہی علام الغیوب ہے۔اس بندہ نے تو دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی سوچ، مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر یہ سب عرض کیا ہے۔حقیقت حال سے تو اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے۔میں نے اس تجزیہ میں کسی مسلک، طبقہ،فرقہ یا فرد کا نام نہیں لیا ہے ۔تاہم اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگر کہیں غلطی ہوئی تو معاف کردے۔آمین۔

اب قارئین گرامی دوارب مسلمانوں میں سے 5فیصد کامل مسلمان دس کروڑ بنتے ہیں۔گویا مسلم و غیر مسلم دونوں کو ملاکر دیکھا جائے تو سات ارب انسانوں میں سے اس وقت اللہ تعالیٰ صرف دس کروڑ مسلمانوں سے مکمل خوش اور راضی ہوگا۔اس صورتحال میں خود غور کریں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوگا؟یہی وجہ ہے کہ اب یہ دنیا جہنم نما بنی ہوئی ہے اور لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تیسری جنگ عظیم کو کیسے روکا جائے یعنی دنیا کو ایٹمی تباہی سے کیسے بچایا جائے۔

اس بندہ کے نزدیک ابھی بھی وقت ہے کہ دنیا کے سات مشہور اور بڑے ادیان ومذاہب میں سے صرف 10ماہر ترین مذہبی پیشوا ہمارے ادار ے ’مذہبی اقوام متحدہ ‘یا کسی بھی پلیٹ فارم پر جمع ہوکر دین اسلام کی سچائی کے معجزاتی اور ناقابل شکست دلائل کو قبول کرتے ہوئے دنیا کے سامنے یہ اعلان کریں کہ سچا دین صرف اور صرف اسلام ہی ہے اور کروڑوں مسلمانوں کی محفوظ لاشوں پر تحقیقات کرکے اس کو دین اسلام کی سچائی پر قابل مشاہدہ دلیل بنادیں۔پھر جس کا دل چاہے دین اسلام میں داخل ہو اور جس کا جی چاہے وہ نہ داخل ہو کیونکہ دین اسلام میں جبر و اکراہ نہیں ہے۔

انشاء اللہ تعالیٰ میرا یقین کامل ہے کہ جب دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے پیشوا ایسا کرلیں گے تو ضروراس دنیا کے اکثر انسانوں کا دین صرف اسلام ہی رہ جائے گا۔اس طرح دنیا کے اکثر انسانوں کا مذہب ایک ہونے کی وجہ سے ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان جو تصادم و عداوت ہے وہ ختم ہوجائے گااور جنگوں اور ان کی تیاری پر خرچ ہونے والی اربوں کھربوں ڈالرز کی رقم غربت و جہالت کے خاتمے پرخرچ ہونے لگے گی۔اس طرح غریبوں اور مریضوں کی داد رسی ہوگی اور ان کی دعائیںآسمان کی طرف جائیں گی اور پھر اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول کرکے اپنی رحمتوں کا نزول کرے گا جس سے یہ دنیا جنت نما بن جائے گی ۔انشاء اللہ۔نیز دنیا کے اکثر انسانوں کے ایک ہی دین پر ہونے کی وجہ سے یہ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی۔انسانی فطرت کی وجہ سے معمولی لڑائی جھگڑے، فتنہ فساد وغیرہ کو عدالتیں اور فوج سنبھال لیں گی۔

اس کے علاوہ دنیا کو پرسکون بنانے اور پانچ ارب غیر مسلموں کو جہنم سے بچانے کا میرے پاس بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دل سے دعا ہے کہ یا اللہ میری زندگی میں کوئی بھی نیکی آپ کو پسند آئی ہو تو اسی کے صدقے میں میری دعا قبول فرماتے ہوئے ایک بار پھر میری سوچ کے مطابق دین اسلام کو غالب فرماکر دنیا کوجنت نما بنادے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Coronavirus Cure Pakistan