دین اسلام کے سوا کسی بھی مذہب کے پیروکار سے اللہ راضی نہیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 09, 2016)

قرآن کریم کے دلائل اور کروڑوں مسلمانوں کی محفوظ لاشوں کی روشنی میں میرا یہ دعویٰ ہے کہ دین اسلام کے سوا کسی بھی مذہب کا کوئی بھی پیروکار خالق کائنات (یعنی اللہ تعالیٰ، ایشور، خدا، God،Lord) کے نزدیک مقرب اور پسندیدہ نہیں ہے نیز دنیا میں یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، بدھ متوں، سکھوں ،پارسیوں اور دیگر تمام ادیان و مذاہب میں سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج 1433ھ تک ایک بھی ایسا پیروکار اور پیشوا پیدا نہیں ہوا جس کے مرنے کے بعد اس کی لاش بغیر کیمیکل استعمال کئے تروتازہ حالت میں محفوظ رہی ہو۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ درحقیقت ان کا دین و مذہب ہی نامکمل اور منسوخ ہے اسی وجہ سے وہ دنیا میں جو بھی عبادات و اعمال سرانجام دیتے ہیں اس کا نتیجہ اور اثر نامکمل ہوتاہے اور مرنے کے بعد ان کی نامکمل عبادتوں کے اثرات میں اتنی قوت و طاقت باقی نہیں رہتی کہ ان کے مردہ جسم میں جان ڈال سکے۔ورنہ آخرکیا وجہ ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں صرف سچے مسلمانوں کی نعشیں تروتازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال ہوئے محفوظ ہیں اورغیر مسلموں میں سے کسی ایک کی بھی نہیں ہے؟

دراصل دنیا میں غیر مسلم پیروکار یا پیشوا جو بھی شفا یابی کا کارنامہ سرانجام دیتے ہیں یا اپنی عبادات و ریاضت کے ذریعے جو بھی مخفی معلومات فراہم کرتے ہیںیا خرق عادات کا اظہار کرتے ہیں وہ سب ان کے دین کے بعض درست عقائد اور بعض اچھے اعمال کے اختیار کرنے کی وجہ سے ہے یا جسمانی ریاضت کی وجہ سے ہے ۔لہذا مرتے ہی چونکہ جسمانی کارکردگی ختم ہوجاتی ہے اس لئے انکی شفایابی کی طاقت یا خرق عادت کے اظہار کی طاقت بھی ختم ہوجاتی ہے ۔اس کے علاوہ باطل یا نامکمل دین پر چلنے کی وجہ سے مرنے کے بعد ان کے جو اچھے اعمال ہونگے ان کا صلہ عذاب میں کمی ہونے سے مل جائے گا اور ان کے باطل اعمال ضائع ہوجائیں گے۔جیسا کہ قرآن کریم کی تعلیمات سے ثابت ہے کہ جو غیر مسلم دنیا میں نیکیاں اور اچھے اعمال کرتے ہیں ان کا صلہ ان کو دنیا ہی میں مل جاتا ہے یا آخرت میں ان کو جہنم میں ادنی درجے کی سزا دی جاتی ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت ابو طالب کو جہنم میں سب سے ادنی سزا دی جائے گی کیونکہ انہوں نے اگرچہ دین اسلام قبول نہ کیا مگرمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاون کیا تھا جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

معلوم ہوا کہ کافروں کے بعض اچھے اعمال یا دین اسلام کا تعاون کرنے کی وجہ سے آخرت میں ان کو صلہ تو ملے گا لیکن کفر کی وجہ سے جہنم سے نجات نہیں پاسکے گا۔لہذا کفر پر مرنے کی وجہ سے فوراً ہی عذاب شروع ہوجاتا ہے اس بنا پر ان کے اندر اتنی روحانی و جسمانی طاقت نہیں رہتی کہ ان کا جسم سڑنے گلنے سے محفوظ رہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوتا ہے کہ مٹی کو حکم دے کہ ان کے مردہ جسم کو محفوظ رکھے۔

اوپر جو میں نے کہا کہ کافر خواہ کفر پر ہوتے ہوئے کتنا ہی معاشرے کی اصلاح، اپنے نفس کی اصلاح یا دیگر خدمت انسانیت یا عمدہ اخلاق اختیار کرنا مثلاًسچ بولنا، جھوٹ نہ بولنا، دھوکہ نہ دینا، مخلوق خدا کو ایذاء رسانی نہ پہنچانااور اسی طرح کے دیگر اچھے کام اختیار کرلیں جو دین اسلام میں محمود ہیں مگر ان سب اعمال کے باوجود وہ جنت میں نہیں جاسکتے اور نہ ہی جہنم سے نجات پاسکیں گے اور ان کے اعمال سراب ثابت ہونگے ۔تفصیل کیلئے قرآن کریم میں سورہ نور کی آیت نمبر 39-40 دیکھئے ۔نیز میں نے اوپر کہا ہے کہ دین اسلام کے سوا تمام ادیان ومذاہب کے پیروکار اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب اور پسندیدہ نہیں ہیں تو اس کا ثبوت قرآن کریم میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر19اور آیت نمبر85ہے ۔اور سورہ المائدہ کی آیت نمبر 3ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ کانزدیک ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے مرنے کے بعد غیر مسلموں کے جسموں سے خرق عادت کا صدور ممکن نہیں ہوتا۔

Coronavirus Cure Pakistan