ہر دور میں دین اسلام کو غالب کرنے اور رکھنے کا کام

تحریر: مولانا ابرار عالم (April 12, 2016)

۱) دنیا کے انسانوں تک تروتازہ لاشوں کے واقعات پہنچانا:
تمام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام، اولیاء کرام، شہداء اسلام اور دیگر سچے مسلمان خواتین و حضرات کے صدیوں سے تروتازہ حالت میں لاشیں محفوظ رہنے کے واقعات کو تمام زبانوں میں دنیا کے تمام مسلم و غیر مسلم انسانوں تک ہر زبان میں پہنچانا تاکہ مسلمانوں کا یقین مضبوط ہو اور غیر مسلم عوام دین اسلام میں داخل ہوسکیں۔

۲) نار نمرود جلاکر تمام غیر مسلموں کو چیلنج کرنا:
جب دین اسلام کو غالب کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو کسی وسیع و عریض میدان میں نار نمرود کی طرح آگ جلاکر تمام غیر مسلموں کو چیلنج کرنا کہ چند مسلمان بغیر کیمیکل استعمال کئے آگ میں جانے کیلئے تیار ہیں اگر کوئی غیر مسلم یہ کہتا ہے کہ اس کا مذہب سچا ہے تو وہ بھی ان مسلمانوں کے ساتھ آگ میں جانے کیلئے تیار ہوجائے تاکہ دنیا کے انسانوں کے سامنے یہ بات کھل کر آجائے کہ کس کا دین و مذہب واقعی میں سچا ہے۔کیونکہ یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں زندہ گئے اور نہیں جلے۔تاریخ میں ایسے سچے مسلمانوں کے واقعات موجود ہیں جو آگ میں نہیں جلے۔آج بھی ایسے مسلمان ہیں جو آگ میں باذن الٰہی نہیں جل سکتے۔جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام ہی واقعی میں سچا دین ہے کہ آگ بھی اس کی گواہی دیتی ہے۔

۳) دنیا کے سچے مسلمانوں سے ایک وصیت کرنے کی اپیل:
میں دنیا کے تمام سچے مسلمان خواتین و حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ وصیت کرجائیں اور یہ وصیت حرام اور ناجائز نہیں بلکہ دین اسلام کو غالب کرنے کیلئے جائز ہے اس لئے کہ مسلم مُردہ کو زمین میں دفنانا سنت ہے تاکہ اس لاش کی بے حرمتی نہ ہو نیز اس کے پھولنے اور پھٹنے کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف وغیرہ نہ ہو۔لہذا اگر کسی مسلمان مرد و عورت کی لاش سڑنے گلنے سے محفوظ رہے تو میرا نظریہ اور طرز فکر یہ ہے کہ اس لاش کو نہ دفنایا جائے کہ اس صورت میں یہ لاش اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک معجزہ ہے اور اس میت کی کرامت اور خرق عادت(Miracle) ہے جسے دین اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔اور اس دلیل کو جادو یا نظر بندی کہہ کر نہیں جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایسا کچھ ثابت کیا جاسکے گا کیونکہ یہ دلیل نہ صرف قابل مشاہدہ ہے بلکہ اسے چیک بھی کیا جاسکتا ہے۔انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اورہاتھوں سے چھوسکتا ہے ۔لہذا دین اسلام کی سچائی پر اس سے زیادہ واضح اور قوی ترین دلیل موجود نہیں جو غیر مسلم عوام کو بھی مطمئن کردے۔اس لئے ایسا کرنا جائز ہے نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے زمین میں اپنی لاش کو نہ دفنانے کی وصیت کی تھی جو کہ خلیفہ راشد داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہم زلف اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے سسر تھے۔بہرحال ایک عظیم مقصد کیلئے اپنی لاش کو نہ دفنانے کی وصیت کرنا جائز ہے۔وصیت کرنے کا مقصد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس معجزہ کو دیکھنے کے ذریعہ غیر مسلموں کو قیامت تک ہدایت دیتا رہے ۔آمین یا رب العالمین۔

غیر مسلم عوام کائنات کی نشانیوں، قرآن کریم کے دلائل سے مطمئن نہیں ہورہے ہیں اور پڑھے لکھے غیر مسلم ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین اسلام کی سچائی کو قبول نہیں کررہے ہیں۔اس لئے مجبور ہوکر یہ ایک کوشش ہے اور ہدایت دینا پھر بھی اللہ ہی کا کام ہے۔

وصیت کے الفاظ:
میں_____________ بن/بنت وصیت کرتا/کرتی ہوں کہ مجھے مرنے کے بعد غسل و کفن اور جنازے کی نماز کے بعد دفنایا نہ جائے بلکہ میری لاش مذہبی اقوام متحدہ کو اطلاع کرکے اس کے حوالے کردیا جائے یا میرے وارثین اپنی سہولت کے مطابق میری لاش کو جنازے کی لکڑی یا کسی چوکی پر رکھ کر کسی بند کمرہ میں رکھ دیں اور زیادہ سے زیادہ تین دن یا ایک ہفتہ انتظار کریں اگر بغیر کسی برف خانے میں رکھے ہوئے یا بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے میری لاش بدبودار نہ ہو یا نہ پھولے پھٹے تو سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرلی ہے اور میری لاش محفوظ رہے گی لہذا میری لاش کو دفنایا نہ جائے اور لوگوں کی عبرت کیلئے صبح فجرکی نماز کے بعد سے رات کے بارہ بجے تک کھلا رکھا جائے اور کوئی بھی ایک شخص نگرانی رکھے۔انشاء اللہ تعالیٰ میری لاش بھی دین اسلام کی سچائی کی تبلیغ کرے گی۔اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دینا چاہے گا اس تک میری خبر پہنچ جائے گی اور میری لاش کو دیکھ اور چھوکر انشاء اللہ تعالیٰ مسلمان خواتین و حضرات کا ایمان مضبوط ہوگا اور دین پر چلنا ان کیلئے آسان ہوگا جبکہ غیر مسلم خواتین و حضرات دین اسلام میں داخل ہونے لگیں گے۔

دین اسلام کے مطابق اور اجماعی فتوے کی روشنی میں کوئی بھی فعل اور حرکت میری لاش کے قریب منع ہوگی۔اور مندرجہ ذلیل ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہے۔

۱) ڈھول اور کوئی بھی باجا گانا نہیں بجانا۔
۲) یہاں محفل نہیں لگانا اور نہ ہی بیٹھناہے۔کھڑے کھڑے آکر دیدار کرکے جاسکتے ہیں۔
۳) مجھ سے مخاطب ہوکر کچھ نہ مانگا جائے البتہ میرے وسیلے سے مانگا جاسکتا ہے۔
۴) بغیر لائن بنائے کوئی نہ آنے پائے اور نہ ہی دھکم پیل کرے ورنہ فیض سے محرومی ہوگی۔
۵) عورتیں عورتوں کی لاش کو دیکھیں اور مرد حضرات مردوں کی لاشوں کو دیکھیں تاکہ پردہ کا مکمل اہتمام رہے۔
۶) خلاف شرع کسی بھی کام یا عمل کو روکنے کی بھرپور اجازت ہے ۔

وقت کے تقاضے کے مطابق میں دنیا کے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مذکورہ وصیت کرجائیں تاکہ دین اسلام ہمیشہ غالب رہے باذن اللہ تعالیٰ۔واللہ اعلم بالصواب۔

۴) تمام مذاہب کے ماہر پیشواؤں کو جمع کرکے ناقابل شکست دلیل مانگی جائے:
دین اسلام کو غالب کرنے اور رکھنے کا چوتھا طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے تمام ماہر مذہبی پیشواؤں کو مذہبی اقوام متحدہ کے ذریعہ جمع کرکے ان سب سے صرف یہ سوال کیا جائے کہ آپ سب متفقہ طور پر یہ بتائیں کہ دنیا میں سات یا اس سے بھی زائد ادیان و مذاہب میں سے سچا مذہب حقیقت میں کونسا ہے؟ اگر آپ سب متفقہ طور پر اس کا جواب نہیں دے سکتے تو دنیا کے عوام کے سامنے ہر ایک اپنے اپنے مذہب کی سچائی پر ناقابل شکست دلائل دے جو ہر اعتبار سے بلا شک و شبہ ہر ایک کے نزدیک قابل قبول ہو۔یقینی بات ہے کہ صرف دین اسلام کے پاس ہی کروڑوں محفوظ لاشوں کا ثبوت ہے جو کہ معجزہ ہے اور دوسرے تمام مذاہب کے پاس نہیں۔لہذا دین اسلام جیت جائے گا اور اس طرح دین اسلام غالب ہوجائے گا۔

Coronavirus Cure Pakistan