آگ اور لاشوں کے ذریعے اسلام و کفر کا مقابلہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 09, 2016)

۱) زندہ مسلمانوں کا زندہ غیر مسلموں سے بذریعہ دخول آگ مقابلہ:

جب زندہ مسلمانوں کا زندہ غیر مسلموں سے مقابلہ کروایا تو زندہ غیر مسلم شکست کھاگئے اور زندہ مسلمان جیت گئے۔وہ اس طرح کہ اس بندہ نے چیلنج کیا کہ چند مسلمان بغیر کوئی کیمیکل استعمال کئے آگ میں جانے کیلئے تیار ہیں۔اگر کوئی غیر مسلم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا دین و مذہب بھی خدا کے نزدیک اس وقت سچا ہے تو وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ بغیر کیمیکل استعمال کئے آگ میں جانے کیلئے تیار ہوجائے۔مگر کوئی بھی کافر و مشرک جو قرآن کے کلام الٰہی ہونے یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا منکر ہے اس مقابلہ کیلئے تیار نہیں ہوا (نہ ہی انشاء اللہ تا قیامت اس مقابلہ کیلئے تیار ہوگا)۔اوربالفرض اگر کوئی غیر مسلم جوش جذبات میں آکر تیار ہو بھی گیا تو وہ غیر مسلم آگ میں جاکر صحیح و سالم نہیں نکل سکے گا جبکہ کوئی نہ کوئی مسلمان انشاء اللہ آگ میں جاکر  صحیح و سالم نکل آئے گا ۔اگر کسی کو میری باتوں پر یقین نہ ہو تو یہ مقابلہ کرواکر دیکھ لے۔بہرحال اب تک تو کوئی کافر اس مقابلہ کیلئے نہیں آیا جس سے ثابت ہوگیا کہ زندہ غیر مسلم زندہ مسلمانوں سے ہار گئے یعنی دین اسلام اس مقابلہ میں جیت گیا اور اس کے علاوہ تمام ادیان و مذاہب ہار گئے۔

۲) زمین کے اندر مسلم مُردوں کا غیر مسلم مُردوں سے مقابلہ:

مرجانے کے بعد زمین میں دفن ہوجانے کے بعدجب مسلم مُردوں اورغیر مسلم مُردوں کے درمیان مقابلہ منعقد کروایا گیا تو مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوئے۔

۱) مسلمانوں کے انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشیں محفوظ رہیں اور زمین میں صدیاں گزرجانے کے بعد بھی سڑنے گلنے سے محفوظ رہیں جبکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد سے ان کا انکار کرنے والوں کے تمام پیروکار بمعہ مذہبی پیشوا زمین میں سڑنے گلنے سے محفوظ نہ رہ سکے۔چاہے یہ پیشوا یہودیوں، عیسائیوں ہی کے کیوں نہ ہوں ۔نیزہندوؤں کے رہنما بھی جو پانی میں بہائے جاتے یا آگ میں جلائے جاتے محفوظ نہیں رہ پاتے۔جبکہ میرے پاس مولوی محمدعیسیٰ بھینس کالونی بس اسٹاپ نمبر9کے حوالے سے رپورٹ ہے کہ ایک قرآن حافظ کی لاش یا کسی سچے مسلمان کی لاش سیلاب کی وجہ سے پانی پر تیرتی رہی اور سڑنے گلنے سے محفوظ رہی تھی جبکہ وہ کئی سال پرانی لاش تھی۔نیز مجھے CPLCہیڈ آفس ناظم آباد کراچی پاکستان کے رہنے والے ایک شخص نے اپنے محلہ کا واقعہ بتایا کہ مذکورہ محلہ کا ایک نیا مسلمان (جوپہلے ہندو تھا ) جلنے سے محفوظ رہ گیا تھا اور آگ سے نہیں جلا تھا۔

۲) صرف محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد یعنی تمام صحابہ کرام کی نعشیں زمین میں محفوظ رہیں جبکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں میں سے دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھیوںیا دیگر پیشواؤں کے ساتھیوں اور پیروکاروں کی لاشیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے سڑنے گلنے سے محفوظ نہیں رہیں۔

۳) وہ مسلمان خواتین و حضرات جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں یعنی جہاد میں یعنی  دفاع اسلام کیلئے قتل ہوئے ان کی لاشیں تروتازہ حالت میں محفوظ رہیں۔بعض کی لاشوں سے خوشبو پھوٹ رہی ہے جیسے لال مسجد اسلام آباد۔بعض کی لاشوں میں تازہ خون پایا گیا ہے جیسے مفتی عتیق الرحمان شہید جامعہ بنوریہ کراچی پاکستان ۔جبکہ وہ غیر مسلم جو اپنے اپنے دین و مذہب کے دفاع کیلئے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد سے قتل ہوئے ان کی لاشیں تازہ حالت میں محفوظ نہ رہ سکیں اور نہ ہی رہتی ہیں۔جو چاہے تحقیقات کرکے دیکھ لے۔میں نے اس بارے میں تحقیق کرلی ہے۔

۴) وہ مسلم فوجی جو اسلامی ملک کے دفاع کیلئے قتل ہوئے ان میں سے بعض کی لاشیں تو سڑنے گلنے سے محفوظ رہیں لیکن وہ تمام غیر مسلم فوجی جو کسی غیر مسلم ملک کے دفاع میں قتل ہوئے ان میں سے کسی کی لاش بھی محفوظ نہ رہ سکی اور نہ ہی رہتی ہے۔

۵) مسلم اولیاء کرام یا سچے مسلمان خواتین و حضرات جو مجاہدہ نفس کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے ان میں سے بہت سے مسلمانوں کی لاشیں تروتازہ حالت میں محفوظ ہیں۔لیکن وہ تمام غیر مسلم خواتین و حضرات جو مجاہدہ نفس اور چلہ کشی کرتے ہوئے اس دنیا سے انتقال کرگئے تو ان میں سے کسی ایک کی لاش بھی سڑنے گلنے سے محفوظ نہ رہ سکی۔

مذکورہ پانچ نتائج کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوگیا کہ زمین کے اندر مسلم مُردے بھی غیر مسلم مُردوں کو شکست دے چکے اور ثابت ہوا کہ صرف اسلام ہی سچا دین ہے۔

۳) زمین کے اوپر مسلم مُردوں کا غیر مسلم مُردوں سے مقابلہ:

میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر سچے مسلمان خواتین و حضرات اپنی لاشوں کو نہ دفنانے کی وصیت کریں تو ان میں سے بہت سے ایسے مُردے مل جائیں گے جن کی لاشیں زمین کے اوپر بھی تروتازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے محفوظ رہیں گی۔جبکہ کوئی بھی غیر مسلم جب اپنی لاش کو زمین پر رکھنے اور نہ دفنانے کی وصیت کرے گا تو ان میں سے کسی کی لاش بھی سڑنے گلنے سے محفوظ نہیں رہے گی۔آزماکراور تجربہ کرکے دیکھ لیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق اور اس پر توکل کرتے ہوئے اس بندہ نے اپنی لاش کو مرنے کے بعد نہ دفنانے کی وصیت کی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ میری لاش انشاء اللہ تعالیٰ باذن اللہ سڑنے گلنے سے محفوظ رہے گی ۔یہی نہیں بلکہ میں اپنے مریدین و معتقدین اور سچے مسلمان خواتین و حضرات کو تلقین کررہا ہوں اور باضابطہ ایک تحریک کی شکل دیدی ہے کہ وہ زندگی بھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد ان کی لاشوں کو سڑنے گلنے سے محفوظ رکھے۔اگر اللہ تعالیٰ صرف 100مسلمانوں کی دعا بھی قبول کرے اور زمین کے اوپر کم ازکم 100مُردہ مسلمانوں کی لاشیں بغیر کیمیکل استعمال ہوئے تروتازہ حالت میں محفوظ رہ گئیں تو انشاء اللہ تعالیٰ دین اسلام کو دنیا میں غالب ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔جبکہ کوئی بھی غیر مسلم اس وصیت کی جرات نہیں کرسکتا اور اگر کر بھی لے تو اس کی لاش بغیر کیمیکل استعمال ہوئے تازہ حالت میں محفوظ نہیں رہے گی۔تجربہ کرکے دیکھ لیں۔
بہرحال زمین کے اوپر بھی مسلم مُردوں نے غیر مسلم مُردوں کو شکست دیدی جس سے ثابت ہوا کہ واقعی صرف اسلام ہی سچا دین ہے اور باقی تمام ادیان ومذاہب منسوخ ، نامکمل یا باطل ہیں۔

دنیا میں غیر مسلم پنڈت، پادری، جادوگر، چلہ کشی کرنے والے ،دوسری قسم کی نفس امارہ کی ریاضتوں میں شرکت کرنے والے اور دیگر شعبہ جات سے متعلق افراداپنے اپنے مذہب کی سچائی ثابت کرنے کیلئے کبھی دست شفاء، کبھی فضاؤں میں پرواز اور کبھی دیگر شیطانی اور استدراجی طاقتوں اور جسمانی ریاضتوں کے ذریعہ مسلم اور غیر مسلم عوام کو دھوکہ دیتے رہے کہ ان کا مذہب ہی سچا ہے ۔اور بہت سے لوگ دھوکہ میں آجاتے تھے۔

اس بنا پر مذہب کی سچائی جاننے کا میں نے یہ طریقہ نکالا کہ اگر واقعی غیر مسلم لوگوں کا مذہب سچا ہے تو پھر مرنے کے بعد اپنی طاقت ،شفا ،کرامت اورخرق عادت کا مظاہرہ بھی کرکے دکھائیں ۔مگر وہ لوگ اس میں ناکام ہوگئے اور تاقیامت ناکام ہوتے رہیں گے کیونکہ یہ سب مظاہرے ان کے جسمانی کرتب اور نفسی ریاضتوں کے کرشمے تھے جو مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوگئے مگر چونکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف اسلام ہی کامل اور سچا دین ہے اس لئے اس کے عقائد اور اعمال میں ایسی روحانی اور ابدی طاقت ہے کہ اگر کوئی مسلمان اخلاص کے ساتھ اسے اختیار کرے تو نہ صرف یہ کہ زندگی میں کرامتوں کا صدور ہوگا بلکہ مرنے کے بعد بھی اس کی حاصل کردہ روحانی طاقت کام آتی رہے گی۔چونکہ یہ طاقت اللہ تعالیٰ یعنی خالق کائنات کی عطا کردہ ہے۔چنانچہ میں نے محلہ غلام اللہ پوسٹ آفس و ضلع ٹھٹھہ سندھ پاکستان میں ایک مزار پیر درس داد رحمتہ اللہ علیہ کا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ان کے مزار کی چھت نہیں ہے لیکن جب بارش ہوتی ہے تو بارش کا قطرہ ان کے مزار کے اندر نہیں گرتا۔یہ صاحب مزار کی کرامت اور خرق عادت ہے۔جو کوئی چاہے جاکر دیکھ سکتا ہے۔

بہرکیف اس تیسرے مقابلے یعنی زمین پر مسلم مُردوں کا غیر مسلم مُردوں سے مقابلہ پر یہ بات سو فیصد سچ ثابت ہوجائے گی کہ واقعی صرف اسلام ہی ابدی سچا دین ہے نیزہر قسم کی ملاوٹ اور شک و شبہ سے بالاتر ہے۔میرا چیلنج ہے کہ اگر کوئی کافر اس مقابلہ میں شرکت کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی لاش کو نہ دفنانے کی وصیت کرجائے جبکہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی وصیت کرچکا ہوں۔دنیاوالے میری موت کے بعد میرے چیلنج کو سچا ماننے پر مجبور ہونگے۔انشاء اللہ تعالیٰ ۔جو دین اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست ، قابل مشاہدہ ، قدرتی اور غیر جانبدار ثبوت ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب۔

نوٹ: زمین کے اوپر محفوظ مسلمانوں کی لاشوں کی دیکھ بھال ہمارا ادراہ ’مذہبی اقوام متحدہ‘ کرے گا چاہے وہ لاش کہیں بھی ہو۔اس لئے زمین کے اوپر بغیر کیمیکل استعمال ہوئے تروتازہ لاش ہمارے ادارے کے حوالے کی جاسکتی ہے۔

Coronavirus Cure Pakistan