مسلمان مُردوں سے خرق عادات و کرامات کا صدور

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 05, 2016)

چونکہ سحر و جادو اور معجزہ و کرامت کے مابین تمیز کرنا عوام الناس کیلئے مشکل ہوتا ہے اور بسا اوقات مسلمانوں کی طرح غیر مسلم بھی اپنی استدراجی قوت، جادوئی کمالات اور شیطانی اولاد کے ذریعے بظاہر خرق عادت کا اظہار کردیتا ہے اور عوام الناس یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ ان ساحروں اور جادوگروں کا دین و مذہب سچا اورخالق کائنات کے نزدیک پسندیدہ ہے تبھی تو ان سے ایسی خرق عادات کا صدور ہورہا ہے۔اور اس طرح دین اسلام کی سچائی اور دیگر ادیان و مذاہب کے باطل ہونے کے درمیان الجھن پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے غیر مسلم پیشوا اور رہنما اپنی عوام کو اپنے باطل ادیان و مذاہب پر مطمئن کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور مسلمانوں کے دین اسلام پر سچائی کے دلائل اتنے کارگر اور مؤثر نہیں ہوپاتے جتنا کہ ہونا چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ دین اسلام غالب نہیں رہ سکا اور آج 1434 ؁ھ بمطابق 2012 ؁ء دین اسلام مغلوب اور نہایت ہی کمزور ہے ۔غیر مسلم دنیا پر حاوی و قابض ہیں اور مسلمانوں کا بس نہیں چلتا ۔اگرچہ کہ اس میں مسلم عوام کی بھی کوتاہی اور غلطی ہے کہ ان میں اکثر دین اسلام پر عمل نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کہاں سے ملے گی؟ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بجا اور حق ہے کہ دین اسلام کی سچائی کے ناقابل شکست دلائل جن سے ہر غیر مسلم مطمئن ہوسکے اور ان دلائل پر سحر و جادو وغیرہ کاالزام نہ آتا ہو اور نہ ہی سحر و جادو کی الجھن پیدا ہوتی ہو حقیقت میں ایسے قدرتی اور ناقابل شکست دلائل تمام غیر مسلموں کے سامنے نہیں آسکے اس لئے کہ ماضی میں ایسا مشکل اور ناممکن بھی تھا کہ ایسے دلائل تمام غیر مسلموں تک پہنچ جائیں مگر آج جبکہ پوری دنیا جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک محلہ نما بن چکی ہے اس لئے ایسے ناقابل شکست دلائل جن سے دین اسلام کی سچائی اور دوسرے ادیان کے باطل ہونے کے بارے میں تمام غیر مسلم مطمئن ہوسکیں تمام غیر مسلموں کے سامنے آجانا آسان اور ممکن ہے جس کی بنا پر دین اسلام میں لوگ جوق در جوق داخل ہوں اور اس طرح دین اسلام غالب ہو اور دنیا کے مسائل حل ہوں جو بیک وقت بہت سے ادیان و مذاہب کی موجودگی اور ان کے درمیان تصادم کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
اس لئے میری دلی خواہش رہی کہ میں ایسے دلائل کو ڈھونڈ نکالوں جن سے غیر مسلم عوام بآسانی مطمئن ہوسکیں۔چنانچہ جب میں نے غور و خوض کیا تو صرف ایک دلیل ایسی سامنے آئی کہ مسلمان زندہ ہوتے ہوئے اگر وہ دلیل غیر مسلموں کے سامنے دین اسلام کی سچائی پر دے تو واقعی غیر مسلم عوام اس دلیل کو بلاکسی شبہ اور جادو کے الزام کے قبول کرلے گی اور وہ دلیل یہ ہے کہ بغیر کیمیکل استعمال کئے مسلمان آگ میں داخل ہوجائے اور اس سے محفوظ نکل آئے۔
اس لئے کہ کوئی بھی غیر مسلم ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ آگ صرف خالق کائنات کی بات مانتی ہے بقول قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ تمام غیر مسلموں سے ناراض ہے اس بنا پروہ آگ کو ہرگز یہ حکم نہیں دے گا کہ کسی بھی کافر کو اپنے اندر جلنے نہ دے اس بنا پر کوئی بھی کافر و غیر مسلم اس خرق عادت کامظاہرہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی کرسکے گا جبکہ دنیا میں چند مسلمان ہی سہی جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو وہ اس خرق عادت (Miracle)کا مظاہر ہ کرسکتے ہیں۔چنانچہ اس خرق عادت کے مظاہرے کیلئے میں نے انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ RightfulReligion.comپر کرامت کے ذریعے دین اسلام کو غالب کرنے کا آسان طریقہ  بتا دیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ چاہے گا چند مسلمان یہ مظاہرہ کرکے دنیا کے غیر مسلموں پر دین اسلام کی سچائی اور دوسرے ادیان و مذاہب کے باطل ہونے کو ثابت کردیں گے۔

بہرحال یہ وہ واحد دلیل اس بندہ کو نظر آئی جس کا کوئی غیر مسلم مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ دیگر خرق عادات و اشیاء میں غیر مسلم چونکہ مسلمانوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اس لئے صرف دین اسلام کی سچائی کے دلائل اشتباہ میں چلے جاتے ہیں اور غیر مسلم سحر و جادو وغیرہ کا الزام لگا سکتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔

بہر کیف زندہ ہوتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم دونوں کچھ خرق عادات کے اظہار کا چونکہ مظاہرہ کرسکتے ہیں (سوائے آگ میں جانے کی دلیل کے) اس لئے میں یہ چاہتا تھا کہ کاش کوئی ایسی دلیل مل جائے کہ مسلمانوں کے مرجانے کے بعد بھی ان سے خرق عادات کا صدور ہوا ہو اورصدورجاری رہیں تاکہ اس دلیل پر سحر و جادو اور نظر بندی وغیرہ کا الزام غیر مسلموں کی جانب سے نہ آسکے اور وہ سب مجبور ہوکر اس دلیل کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور دین اسلام میں داخل ہونا ان کیلئے آسان ہوجائے اس لئے کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کی ریاضت و مجاہدہ اور نفس کشی و چلہ کشی کی وجہ سے اور اخلاق و معاملات کو درست سمت میں چلانے کی وجہ سے جو وہ محنت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا پھل اور صلہ اس دنیا میں انہیں دے دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ بھی باذن الٰہی خرق عادات کے اظہار پر کچھ حد تک قادر ہوجاتے ہیں لیکن مرنے کے بعد ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہتی اور نہ ہی انکی ریاضت و مجاہدہ نفس کی طاقت رہتی ہے اس لئے وہ لوگ مرنے کے بعد کسی بھی خرق عادت کے اظہار پر ہرگزہرگز قادر نہیں ہوپاتے جبکہ مسلمانوں کی ریاضت و مجاہد ہ نفس کا صلہ اور دین اسلام پر چلنے کا صلہ ان کے مرنے کے بعد بھی باقی رہتا ہے اسی لئے سچے مسلمان مرنے کے بعد بھی خرق عادات کے اظہار پر باذن الٰہی قادر ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ اس لئے اس بندہ نے چاہا کہ مسلمانوں کے مرجانے کے بعد جو خرق عادات ان سے صادر ہوئے ان کو جمع کروں تاکہ غیر مسلم مجبور ہوکر ان دلائل کو مان کر مطمئن ہوسکیں اور دین اسلام میں داخل ہوسکیں۔اس لئے میں نے اس مضمون کا عنوان’مسلم مُردوں سے خرق عادات و کرامات کا صدور‘ رکھا اور اب میں ان خرق عادات کوجمع کررہا ہوں تاکہ مسلمانوں کو ترغیب بھی ملے کہ وہ ریاضت شاقہ کرکے مرنے کے بعد بھی غیر مسلموں کو دین اسلام کی سچائی کی جانب دعوت دیں تاکہ غیر مسلم پیشواء ان کا مقابلہ نہ کرسکیں اور منہ دیکھتے رہ جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھ سے مسلم مُردوں سے ظاہر ہونے والی خرق عادات کو جمع کرنے کی توفیق دیدے۔آمین یا رب العالمین

مسلم مُردوں سے صادر ہونے والی کچھ خرق عادات یہ ہیں :

۱) بارش کا پانی مزار کے اند ر نہیں آتا:
محلہ غلام اللہ پوسٹ آفس و ضلع ٹھٹھہ سندہ پاکستان میں حضرت پیر درس داد رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ان کے مزار کی چھت بالکل نہیں ہے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو پانی ان کے مزار کے اندر نہیں آتا جو کہ ان بزرگ کی کرامت ہے۔یہ ایسی خرق عادت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی غیر مسلم ایسا نہیں کرسکتا۔اس محلہ میں یہ بات مشہور ہے ۔آپ جاکر اس کی تحقیق کرسکتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دین اسلام ایک سچا مذہب ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کے ماننے والے میں روحانی طاقت رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا خیال کرتا ہے۔لہذا غیر مسلم اس قابل مشاہدہ کرامت و خرق عادت کو دیکھ کر اسلام قبول کریں اور مسلمان اپنی اصلاح کریں۔

۲) قبر سے پاؤں باہر نکالنا:

مولانا عبدالرحمان نعیمی صاحب (سیاحت کا ذوق رکھتے ہیں )نے اپنے استادمفتی محمد اشرف القادری صاحب (مفتی اعظم پاکستان، بانی جامعتہ الاشرفیہ گجرات پاکستان)کو شیخ ایوب کردی رحمتہ اللہ علیہ کے پاؤں کا ناخن تحفہ دیااور اس سفر کی داستان سنائی ۔ ان سب واقعات کو مفتی اشرف صاحب نے ویڈیو میں کچھ یوں بیان کیا کہ:

’شیخ ایوب کردی کے ایک مرید سے کسی یہودی نے پوچھا کہ مرنے کے بعد تمہارے نبی (محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) کس طرح زندہ ہیں؟مرید نے کہا کہ میرا ایمان ہے اس بات پر کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے نیک بندے وفات کے بعد زندہ ہوتے ہیں اور یہ برزخی زندگی دنیا کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔چونکہ میں زیادہ علم نہیں جانتا اس لئے میرے شیخ کے پاس چلو۔جب یہ دونوں شیخ ایوب کے پاس گئے تو شیخ ایوب نے انہیں تین دن بعد آنے کیلئے کہا کہ میں اس دن صحیح طرح اس کا جواب دوں گا۔اگلے ہی دن شیخ ایوب کردی کا وصال ہوگیا۔یہودی کو باتیں بنانے کا موقع مل گیا۔اس نے طرح طرح کی باتیں کی۔مرید نے اسے کہا کہ تجھے شبہ ہوسکتا ہے مگر مجھے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں۔ہم تین دن بعد جائیں گے اور شیخ یہ مسئلہ حل کردیں گے۔یہودی نے اعتراض کیا کہ شیخ ایوب تو مرچکے ہیں وہ کس طرح مسئلہ حل کریں گے؟ بہرحال تین دن بعد مرید اس یہودی کے ساتھ شیخ ایوب کی قبر پر گیا اور انہیں سارا ماجرا عرض کیا کہ اس مسئلہ کو حل کریں یا کسی بھی طریقہ سے بتائیں۔اچانک قبر پاؤں کی طرف سے پھٹی اور شیخ ایوب کردی رحمتہ اللہ علیہ نے پنڈلی تک اپنا پاؤں قبر سے باہر نکال دیا اور مرید صادق کو مخاطب کرکے کہا کہ اس یہودی کو کہہ دے جو پوچھتا تھا کہ تمہارے نبی وفات کے بعد کیسے زندہ ہیں؟اس کو کہہ دے کہ وہ ایسے زندہ ہیں۔اس نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کے غلام بھی زندہ ہیں۔اس کے بعد ان کا پاؤں مبارک قبر کے باہر ہی رہا اور اندر نہیں گیا۔یہودی یہ دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔‘

مولانا عبدالرحمان نعیمی صاحب نے بتایا کہ جب میں نے وہاں ان کے مزار پر حاضری دی تو سوچا کہ چاہے تو شیخ ایوب مجھے کچھ کر ہی دیں مگر میری کوشش یہ ہوئی کہ شیخ ایوب کو قبر سے باہر نکالوں۔لہذ ا اس نیت کے ساتھ میں نے فاتحہ وغیرہ پڑھ کرشیخ ایوب سے معافی وغیرہ مانگی کہ میں آپ کا عقیدت مند ہوں اور آپ کی زیارت کرنا چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر ان کا پاؤں اپنے سینے سے لگاکر بازؤں سے پکڑ کر کھینچا مگر پاؤں زور کے ساتھ پیچھے کی طرف نکلا اور قبر کے اندر ایسی جگہ پہنچ گیا کہ نظر تو آتا تھا مگر میں پکڑ نہیں سکتا تھا۔پھر وہ کہتے ہیں کہ میں جب واپس آگیا توبعض لوگوں میرا رابطہ تھا ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ شیخ ایوب نے پھر پہلے کی طرح پاؤں نکال لیا ہے۔

ملک شام کے محکمہ اوقاف کے زیر نگرانی کچھ عرصہ بعد محکمہ کے افسران و علماء و مشائخ جمع ہوتے ہیں اور شیخ ایوب کردی رحمتہ اللہ علیہ کے پاؤں کے ناخن کاٹتے ہیں جو کہ بڑھتے ہیں۔مولانا عبدالرحمان نعیمی صاحب نے بتایا کہ یہ انگوٹھے مبارک کا ناخن ہیں ۔میں وہاں ایک موقع پر موجود تھا تو میں نے ان سے مانگا تو یہ مجھے ملا جسے میں نے آپ کو تحفہ دیا ۔

اسی طرح اس واقعہ کے متعلق بلوچستان میں نورانی بابا کے مزار پر ایک صاحب نے مجھے بتایا مگر وہ روایت کچھ اور طرح سے بیان کی گئی تھی اس لئے اس واقعہ کو ذکر نہیں کررہا۔مختصراً یہ کہ پاؤں کو اندر کرنے کی بہت کوشش کی گئی مگر وہ پاؤں اندر نہ ہوسکا۔آج بھی زائرین وہاں جاکر زیارت کرتے اور تاثرات لکھتے ہیں۔میڈیکل ڈاکٹر کے مطابق پاؤں میں آج بھی جان ہے۔ان صاحب کے مطابق غیر مسلم اس پاؤں کو دیکھ کر اسلام بھی قبول کرچکے ہیں۔

بہرحال یہ واقعہ کس طرح پیش آیا اس سے قطع نظر یہ بات دونوں روایت ،واقعات و مشاہدے سے ثابت ہے کہ پاؤں قبر سے باہر ہے مگر استدلال اس واقعہ سے یہ ہے کہ دین اسلام واقعی ایک سچا مذہب ہے اور اس کا شہید بقول قرآن کریم سورہ البقرہ آیت نمبر154اور سورہ آل عمران آیت نمبر 169کے مطابق زندہ ہوتا ہے۔

میرا کہنا یہ ہے کہ مرنے کے بعد مسلمان سے ایک خرق عادت کا صدور ہوا۔لیکن میرا یہ دعوی ہے کہ اس قسم کی کوئی خرق عادت کسی بھی غیر مسلم سے صادر نہیں ہوسکتی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دین اسلام کے سوا تمام ادیان و مذاہب باطل یا منسوخ ہیں۔اللہ تعالیٰ غیر مسلموں کو سوچنے کی توفیق دے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں اور مسلمانوں کو توفیق دے کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔یہ مذکورہ واقعہ میرا چشم دید نہیں مگر اس واقعہ کے چشم دید گواہ مولانا عبدالرحمان نعیمی صاحب ہیں جن کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔اس لئے آپ اس بارے میں تحقیق کرسکتے ہیں۔ویسے کسی کو کیا غرض کہ یہ جھوٹا واقعہ بیان کرے؟ واللہ اعلم بالصواب ۔

۳) قبر مسمار نہ کی جاسکی:
پاکستان میں واقع اسٹیل مل جو کہ بہت مشہور ہے جب یہ تعمیر ہورہا تھا تو اس کے مین گیٹ پر ایک مزار پڑ رہا تھا۔حکم دیا گیا کہ اس قبر کو مسمار کردیا جائے لیکن واقعہ بیان کرنے والے نے مجھے بتایا کہ جب ڈرائیور بلڈوزر لے کر گیا تو وہ کام کرنا چھوڑگیا۔دوسری مرتبہ ڈرائیور نے غصہ میں آکر بلڈوزر کو چلانا چاہا تو اس کی چین ٹوٹ گئی مگر وہ قبر مسمار نہیں کی جاسکی۔بالآخر حکام نے مجبور ہوکرفیصلہ کیا کہ اس قبر کو وہیں رہنے دیا جائے اور آج بھی وہ قبر وہاں موجود ہے ۔آپ اگر چاہیں تو تصدیق کیلئے وہاں جاکر معلومات کرسکتے ہیں۔

استدلال اس واقعہ سے یہ ہے کہ آخر قبر میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ وہ مسمار نہیں کی جاسکی؟ دراصل بات یہ نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس قبر میں کوئی نیک مسلمان تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی قبر کو مسمار نہیں ہونے دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سچے مسلمانوں کے مرنے کے بعد بھی باذن الٰہی ان سے خرق عادت اور کرامت کا ظہور ہوتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دین اسلام ایک سچا مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ماننے والے سچے مسلمانوں کی نیکیوں کی وجہ سے ان کا خیال کرتا ہے۔ کیا کسی بھی غیر مسلم نے مرنے کے بعد اس طرح خرق عادت کا اظہار کیا ہے؟

میرے علم کے مطابق تو جواب ’نہیں ‘ہے۔لہذا ہم غیر مسلموں کو دعوت غور و فکر دیتے ہیں کہ اب بھی آنکھیں کھولیں اور باطل ادیان سے نکل کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں کیونکہ مرنے کے بعد کوئی ساتھ نہیں دے گا اور اس کے بعد پچھتانے سے بھی کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ لہذا ان مذہبی پیشواؤں کے غلط ہتھکنڈوں سے جان چھڑائیں اور اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آجائیں۔

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

ساتھ ہی ساتھ میں مسلم مذہبی پیشواؤں ، مبلغین، علماء کرام، صوفیاء کرام اور مجاہدین اسلام سے درخواست کرتا ہوں کہ دین اسلام کی سچائی پر ان ناقابل شکست دلائل کو دنیا کی تمام زبانوں میں دنیا کے تمام غیر مسلموں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں۔

۴) جنازہ ہوا میں روانہ ہوگیا:
نام کتاب’ہشت بہشت‘ پبلشرز:اللہ والے کی قومی دکان رجسٹرڈ کشمیری بازار لاہور سے نقل شدہ واقعہ۔
حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’راحتہ القلوب‘ میں اپنے شیخ حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے سنی ہوئی باتوں اور واقعات کو ذکر کیا ہے جو کہ کتاب مذکور’ہشت بہشت‘ کا ایک حصہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’پھر فرمایا کہ جس روز خواجہ قطب الدین مودودچشتی رحمتہ اللہ علیہ نے انتقال فرمایا ۔اس روز آپ کا جسم لاغر ہوگیا تھا۔معہ اصحاب بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص ریشمی کاغذ ہاتھ میں لئے حاضر خدمت ہوا۔اور سلام کہہ کر کاغذ دکھایا۔جونہی خواجہ صاحب نے اس پر بسم اللہ لکھا دیکھا فی الفور انتقال فرماگئے۔ شور برپا ہوا کہ خواجہ صاحب قطب الدین رحلت فرماگئے۔ الغرض غسل دے کر جنازہ تیار کیا۔کسی کی مجال نہ تھی کہ اٹھائے ۔ سب حیران تھے۔کچھ دیر بعد آواز آئی توخلقت نے نماز ادا کی۔جب چاہا کہ جنازہ اٹھائیں تو حکم الٰہی سے خود بخود ہوا میں آگے آگے روانہ ہوا اور خلقت پیچھے پیچھے۔جتنے بے دین تھے سب آکر مسلمان ہوئے۔ان سے پوچھا گیا کہ کس سبب سے مسلمان ہوئے؟ کہا ہم نے بچشم خود دیکھا ہے کہ خواجہ صاحب کا جنازہ فرشتے اٹھائے لئے جارہے ہیں۔(کتاب راحتہ القلوب،ص104)

قارئین گرامی! مذکورہ واقعہ سے واضح طور سے مسلم مُردہ سے خرق عادت کا صادر ہونا ثابت ہوا کیونکہ ان کا جنازہ خود بخود آگے آگے ہوا میں معلق ہوکر جارہا تھا اور پیچھے پیچھے خلقت تھی۔لہذا ثابت ہوا کہ دین اسلام ایک سچا مذہب ہے کہ اگر کوئی مسلمان خلوص دل سے کامل دین اسلام کی پیروی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جو کہ خالق کائنات ہے اس سے اس حد تک خوش ہوجاتا ہے کہ اس کے اکرام کے طور پر اس کے مرنے کے بعد اس کے ہاتھوں کرامت اور خرق عادت کا ظہور کردیتا ہے جس کو دیکھ کر غیر مسلم مجبور ہوکر مسلمان ہوجاتے ہیں جیسا کہ اوپر کے واقعہ میں ہوا۔اور یہی میرا مقصود ہے کہ غیر مسلموں کے سامنے اس قسم کے خرق عادات پیش کئے جائیں تاکہ وہ سب ان ناقابل شکست دلائل کو دیکھ کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اس لئے کہ غیر مسلموں میں کوئی مذہبی پیشوا اپنے کفر و شرک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقام کو نہیں پا سکتا اور اسی وجہ سے اپنے مرنے کے بعد ان میں سے کسی سے اس قسم کی خرق عادت کا صدور نہیں ہوتا۔اور میں دنیا کے انسانوں کے سامنے اسی بات کو ثابت کرنا چاہتا ہوں تاکہ حق اور باطل اور دین حق اور دین باطل و منسوخ میں بالکل التباس نہ ہو۔واللہ اعلم بالصواب۔

۵) کفن سے ہاتھ نکال کرآنکھیں کھولیں اور یہودی کوکلمہ پڑھوایا:
بعد ازاں زبان مبارک سے فرمایا کہ جب خواجہ سہل تستری بن عبداللہ تستری رحمتہ اللہ علیہ فوت ہوئے تو جنازہ باہر لایا گیا۔یہودیوں کے گروہ کا سردارجو نہایت منکر تھا ننگے پاؤں جنازہ کے نزدیک آیا اور کہا جنازہ نیچے اتارو تاکہ میں مسلمان ہوجاؤں۔جب جنازہ نیچے اتارا گیا تو وہ یہودی خواجہ صاحب کے پاس کھڑا ہوا اور عرض کی کہ خواجہ صاحب مجھے تلقین کلمہ فرمائیں تاکہ میں مسلمان ہوجاؤں۔وہ سردار معہ یہودیوں کے آیا تھا۔یہ سن کر خواجہ صاحب نے کفن سے ہاتھ باہر نکالا اور آنکھ کھول کر فرمایا ’اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ‘ کہو۔جونہی اس نے کہا پھر کفن میں ہاتھ کرلیا اور آنکھ بند کرلی۔یہودی مسلمان ہوگیا ۔لوگوں نے اس سے وجہ پوچھی تو کہا ۔جس وقت تم جنازہ لئے باہر آرہے تھے میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو سخت آواز سنی۔میں نے کہا یہ کیسی آواز ہے؟ جب دوسری طرف آسمان کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ آسمان کے سارے فرشتے نوری طبق ہاتھوں میں لئے گروہ در گروہ نیچے آرہے ہیں اور خواجہ سہل بن عبداللہ تستری کے جنازے پر نثار کررہے ہیں۔میں اس وجہ سے مسلمان ہوا ہوں کیونکہ دین محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے لوگ بھی ہیں ۔
(کتاب راحتہ القلوب،ص103)

قارئین گرامی! مذکورہ واقعہ میں ایک مسلمان ولی کے مرنے کے بعد ان کا کسی یہودی کی بات سن کر اپنا ہاتھ کفن سے نکالنا، آنکھ کھولنا اور پھر خود کلمہ شہادت پڑھ کر اس یہودی کو پڑھنے کی تلقین کرنا پھر ہاتھ کفن میں کرلینا اور آنکھ بند کرلینا اس مسلمان میت کی ایک خرق عادت اور کرامت ہے نیز فرشتوں کا نوری طبق لے کر نازل ہونا اور اس جنازے پر نثار کرنا بھی ایک خرق عادت اور کرامت ہے جس سے میرا مقصود ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد کسی مسلمان سے خرق عادت کا صدور کسی غیر مسلم کے دین اسلام میں داخل ہونے کا بآسانی سبب بن جاتا ہے کیونکہ اگر وہ مسلم میت زندہ ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ اس نے نظر بندی کردی ہے اس لئے ہمیں ایسا نظر آرہا ہے یا ہم پر جادو و سحر کردیا ہے یا جادو و سحر کے ذریعہ ایسا کیا جارہا ہے۔لیکن مرجانے کے بعد یہ سارے شبہات چو نکہ یکسر ختم ہوجاتے ہیں اس لئے غیر مسلم کسی مسلمان کے مرجانے کے بعد اس سے خرق عادت اور کرامت کے ظہور کے بعد دین اسلام کی سچائی سے مطمئن ہوکر اس میں داخل ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ تب انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
چنانچہ مذکورہ واقعہ میں بھی حضرت سہل تستری رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے پر فرشتوں کا نوری طبق نثار کرنے کو دیکھ کر وہ یہودی مسلمان ہوگیا اور یہی میرا مقصود ہے کیونکہ دین اسلام کی سچائی پر یہ خالص دلیل ہے۔اس جیسی خرق عادت کا صدور کسی بھی غیر مسلم سے اس کے مرنے کے بعد صادر نہیں ہوسکتا چاہے وہ اپنی زندگی میں کتنا ہی بڑا پاکباز اور نیک کیوں نہ ہو اور عوام الناس میں وہ بھلے کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو۔اس لئے کہ اس کے دین کے سچا نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ خرق عادت، کرامت اور معجزہ خالصتہً اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو کسی نبی یا ولی یعنی اللہ کے نیک بندوں ہی سے صادر ہوسکتا ہے اس لئے کہ ان کے عقائد اور اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یا اللہ غیر مسلموں کو ہدایت دے کہ وہ مُردہ مسلمانوں کی کرامتوں پر غور کریں ۔آمین۔

۶) کفن سے ہاتھ نکال کر شہادت دینا:
بعدازاں خواجہ ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کی بابت فرمایا کہ خواجہ صاحب ایک روز معہ اصحاب بیٹھے تھے اور اولیاء کی موت کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔اتنے میں ایک خوبصورت جوان سبز پوش سیب لے آیا اور آداب بجا لاکر بیٹھ گیا۔خواجہ صاحب ہر بار فرماتے کہ ’خوش آمدی و نیکو آمدی و صفا آوردی‘کچھ دیر بعد وہ سیب خواجہ صاحب کو دیا۔خواجہ صاحب نے دونوں ہاتھوں سے سیب لیا اور مسکرا کر فرمایا کہ تم چلے جاؤں۔ جب وہ چلا گیا تو لوگوں کو بھی رخصت کیا۔ کچھ دیر بعد رو قبلہ ہوکر قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔جونہی قرآن مجید ختم کیا ،اس سیب کو سونگھا اورجان بحق تسلیم ہوئے۔بعدازاں آپ کا جنازہ مسجد کے پاس لائے تاکہ جنازہ ادا کرسکیں۔اس وقت اذان ہورہی تھی ۔جب مؤذن ’اشھد ان لا الہ الا اللہ ‘پر پہنچا تو خواجہ صاحب نے کفن سے ہاتھ باہر نکال کر انگشت شہادت اٹھا کر فرمایا’اشھد ان محمدا رسول اللہ‘۔انگشت مبارک کھڑی رہی۔لوگوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح نیچے ہو لیکن نہ ہوسکی۔ آواز آئی کہ جس انگلی کو ذوالنون رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کھڑا کیا ہے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کادست مبارک نہ پکڑے گی نیچے نہ ہوگی بعدازاں شیخ الاسلام زار زار روئے۔
(کتاب راحتہ القلوب،ص102)

اس مذکورہ واقعہ سے استدلال صرف اتنا ہے کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ نے مرنے کے بعد بھی کفن سے ہاتھ نکال کر اپنی انگشت شہادت کھڑی کرکے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی۔جو کہ ایک خرق عادت اور ان کی کرامت ہے۔اور یہ صرف مسلمانوں سے ہی ان کے مرنے کے بعد صادر ہونا ممکن ہے چونکہ ان کا دین برحق ہے ۔کسی بھی غیر مسلم سے مرنے کے بعد اس قسم کی خرق عادت کا صدور نہیں ہوسکتا جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا دین و مذہب باطل یا منسوخ ہے۔اور مرنے کے بعد اعمال حسنہ سے خالی ہے اور اس کی طاقت سے بھی محروم ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النور آیت نمبر39اور 40میں کافروں کے اعمال د و مثالیں دے کر سمجھایا ہے ۔ان دونوں آیات کا ترجمہ یہ ہے ’اور کافروں کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہیں جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتااللہ کو اپنے پاس پایا مگر اللہ نے اس کا پورا حساب چکا دیا تھا، اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔(39) یا اس گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مانند ہیں جسے موج نے ڈھانپا ہوا ہو اس کے اوپر ایک اور موج ہو اس کے اوپر بادل ہوں تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جب اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے دیکھ نہ سکے، اور جس کے لئے اللہ ہی نے نورِ نہیں بنایا تو اس کے لئے نور نہیں ہوتا(40)

ان دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعمال کو چمکتے ہوئے ریت جسے پیاسا پانی سمجھتا ہو یا اندھیرے سے تشبیہ دے کر بتا دیا کہ مرنے کے بعد ان کے اعمال کسی کام کے نہیں ہوتے۔اسی بنا پر ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔اور یہی میرا استدلال ہے کہ اسی وجہ سے مرنے کے بعد کافروں سے خرق عادت کا صدور نہیں ہوسکتا اور نا ہی اب تک ہوا ہے۔ہاں کفر کی حالت میں ہوتے ہوئے جو اعمال خیر کرتے ہیں مثلاً جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ نہیں دیتے، ناپ تول میں کمی نہیں کرتے یا ایزا رسانی وغیرہ کا کام نہیں کرتے یا انسانوں و جانوروں کی بھلائی کیلئے کچھ خدمات سرانجام دیتے ہیں تو ایسے اعمال کی وجہ سے انہیں کچھ بدلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور کچھ کا بدلہ جہنم کی سزا کم کرکے دیا جاتا ہے کیونکہ جہنم میں کافروں کے سزا کے اعتبار سے مختلف درجات ہیں۔

وہاں ان کے اچھے کاموں کی وجہ سے جہنم میں اعلیٰ درجہ کی سزا نہ ہوگی بلکہ ادنیٰ درجے کی سزا ہوگی۔جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے تعاون کی وجہ سے (کہ ایک کار خیر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو جہنم میں سب سے ادنیٰ درجے کا عذاب ہوگا۔مطلب یہ کہ کفر کی حالت میں موت کی صورت میں کفر کی سزا تو ملنی ہی ہے لیکن کافر کافر میں فرق ہوتا ہے۔مثلاً ایک کافر کافر بھی ہے اور ظالم بھی ہے اور دوسرا کافر صرف کافر ہے ظالم نہیں۔یا ایک کافر نے انسانوں کی بھلائی اور دین اسلام کی بھلائی کے کام بھی کئے ہیں جبکہ دوسرے کافر نے دین اسلام کا تعاون نہیں کیا اور نہ ہی کسی انسان کی بھلائی کے لئے کام کئے تو ظاہر سی بات ہے کہ جہنم میں دونوں کے درجات یکساں نہیں ہونگے۔

بہرحال مطلب یہ ہے کہ کفر کی حالت میں انتقال کی صورت میں کسی کافر سے خرق عادت کا صدور نہیں ہوسکتا کیونکہ اسے ہر حال میں مرتے ہی جہنم کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس پر عذاب شروع ہوجاتا ہے بھلے وہ دنیا میں کتنا ہی دین اسلام کا تعاون بھی کرچکا ہو یا انسانوں کی بھلائی کے کام کرچکا ہو۔

سورہ البقرہ آیت نمبر62میں وہ یہودی ،عیسائی اور صابئی مراد ہیں جو مسلمان ہوگئے اور یہاں عام قانون کا بیان ہے کہ خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم جو بھی دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے گا اس کا اس کو صلہ ملے گا۔حالانکہ مسلمان تو پیروی کر ہی رہا ہوتا ہے ۔اصل میں یہ بتانا ہے کہ مسلمانوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ دین اسلام کو ماننے اور اس کی پیروی کی وجہ سے صلہ ملے گا۔اسی طرح اہل کتاب اور صابئی کو دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی وجہ سے صلہ ملے گا۔یعنی یہاں عام قانون کا بیان ہے۔دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کی پیروی کا صلہ ملے گا۔لیکن دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو یہودی، عیسائی اور صابئی ہیں جو اپنے اپنے زمانے میں دین حق کی پیروی کرتے تھے ان کو بھی ان کا صلہ ملے گا کیونکہ ان کے زمانے میں وہی دین حق تھا۔

مذکورہ آیت میں دونوں تفسیرمراد لینی جائز ہوگی۔کیونکہ اگر صرف یہ مراد لی جائے کہ مسلمان کی طرح محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار نبوت کے بعد یہودی عیسائی اور صابئی بھی اپنے اپنے دین یعنی عیسائیت، یہودیت اورصابئیت پر مرنے کے بعد اہل جنت ہوں گے تو یہ درست نہ ہوگا کیونکہ سورہ آل عمران آیت نمبر85(اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا )سے دین اسلام سے پہلے کے تمام ادیان و مذاہب منسوخ ہوگئے ہیں۔

لہذا سورہ البقرہ کی مذکورہ آیت نمبر 62 سے کسی کو اشتباہ نہ رہے کہ آجکل کے یہودی ،عیسائی اور صابئی اپنے اپنے دین پر فوت ہونے کی صورت میں مسلمانوں کی طرح سے اہل جنت ہوں گے ۔

اسی طرح سورہ آل عمران آیت نمبر113،114اور 115میں ہے کہ’یہ سب برابر نہیں ہیں، اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ حق پر قائم ہیں وہ رات کی ساعتوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سر بسجود رہتے ہیں(113) وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں (114) اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں اس کی ناقدری نہیں کی جائے گے اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جاننے والا ہے(115)‘۔

تو ان آیات میں بالاتفاق مومنین اہل کتاب کی مدح ہے آجکل کے یہودی، عیسائی مراد نہیں جو قرآن کے منکر اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے منکر ہیں۔لہذا کوئی ان آیات کی وجہ سے اشتباہ میں نہ رہے کہ جب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار نبوت کے بعد دین اسلام میں داخل نہ ہونے والے یہودی اور عیسائی کافر ٹھہرے تو پھر ان آیات میں ان اہل کتاب کی مدح کیسے کی گئی ہے۔کیونکہ یہاں مراد وہ اہل کتاب ہیں جو ایمان لائے تفصیل کیلئے ان آیات کی تفسیر دیکھ لیں۔

اسی طرح سورہ آل عمران آیت نمبر199میں ہے کہ ’اور بیشک کچھ اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اور ان کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کے عوض قلیل دام وصول نہیں کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے‘

تو ان آیات میں بھی مراد مومنین اہل کتاب یعنی عیسائیوں کی مدح ہے جس طرح سورہ آل عمران کی گذشتہ آیات نمبر113،114اور 115 میں نو مسلم یہودیوں سے متعلق باتیں تھیں۔لہذا مذکورہ آیات کو بنیاد بناکر کوئی یہ نہ کہے کہ منکر قرآن یا منکر رسالت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی مدح کی گئی ہے اور ایسے اہل کتاب بھی جنت میں جائیں گے۔ایسا ہرگزنہیں ہے کیونکہ منکر قرآن اور منکر رسالت محمدصلی اللہ علیہ وسلم یہودی اورعیسائی بالاتفاق قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں کافر ہیں جیسا کہ سورہ آل عمران آیت نمبر85میں مذکور ہوا ۔

اسی طرح سورہ المائدہ آیت نمبر69میں ہے کہ’بیشک (خود کو) مسلمان (کہنے والے) اور یہودی اور صابی (یعنی ستارہ پرست) اور نصرانی جو بھی (سچے دل سے تعلیماتِ محمدی کے مطابق) اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘۔

اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہودی، عیسائی اور صابی ،مسلمانوں کی طرح جنت میں جائیں گے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔یہاں پر بھی ایک عام قانون الٰہی کا ذکر ہے جو اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سبھی کو شامل ہے کہ جو بھی شریعت محمدی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عمل صالح کرے گا وہ خوف و حزن سے نجات پائے گا یعنی جنت میں جائے گا ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ جو یہودی، عیسائی اور صابی ،شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر عمل صالح کرے گا تو وہ بروز قیامت نجات پائے گا کیونکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار نبوت کے بعد تمام ادیان و مذاہب منسوخ ہوگئے جیسا کہ سورہ آل عمران آیت نمبر85میں ہے اور وہی عمل صالح قابل قبول ہوگا جو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوگا۔اور اسی عمل صالح کی بنا پر جہنم سے نجات ممکن ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی کئی آیات میں قرآن کے منکر کو اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے منکر کو کافر کہا گیا ہے اور ہر کافر جو کفر پر مرا ہو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے لہذا ایسے تمام یہودی، عیسائی اور صابی بروز قیامت خوف و حزن سے نجات نہیں پائیں گے۔ لہذا مذکورہ آیات کے ظاہری مفہوم سے یہ نہ سمجھا جائے کہ منکر قرآن کریم اور منکر رسالت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی طرح کفر پر مرنے کی صورت میں جہنم سے نجات پاسکیں گے ۔البتہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے سے پہلے جتنے بھی یہودی، عیسائی اور صابی وغیرہ فرقے تھے اگر وہ واقعی اپنے اپنے دین حق کے مطابق اپنے زمانے میں عمل کرتے تھے تو بلاشبہ وہ اپنے اپنے زمانے میں چونکہ اہل حق تھے اس لئے وہ لوگ انشاء اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات پائیں گے۔

بہرحال قرآن و حدیث کی روشنی میں میری یہ تحقیق بالاتفاق امت مسلمہ کے عقائد کے مطابق ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار نبوت کے بعد تمام ادیان و مذاہب خواہ وہ آسمانی ہوں یا غیر آسمانی منسوخ ہوگئے ۔اب صرف اور صرف دین اسلام ہی تا قیامت سچا دین رہ گیا ہے۔ اور اس کی تائید اس بات سے بخوبی ہوجاتی ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار نبوت کے بعد کروڑوں سچے مسلمانوں، شہیدوں اور ولیوں کی لاشیں تو بغیر کیمیکل استعمال ہوئے تروتازہ تازہ حالت میں صدیوں سے محفوظ ہیں نیز سچے مسلمانوں سے مرنے کے بعد بھی خرق عادات کا صدور بھی ہوتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار نبوت کے بعد نہ تو کسی غیر مسلم کی لاش بغیر کیمیکل استعمال ہوئے تروتازہ تازہ حالت میں محفوظ ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے مرنے کے بعد خرق عادات کا صدور ہوا (اور نہ ہی ہوگا)۔اور یہی میرا مقصود بھی ہے کہ جیسا قرآن و حدیث سے دین اسلام کا سچا ہونا اور دین اسلام کے علاوہ تمام ادیان و مذاہب کا بطلان ثابت ہے اسی طرح الحمداللہ عملی اور مشاہداتی طور پر بھی ثابت ہورہا ہے کہ مرنے کے بعد صرف مسلمانوں کی ہی لاشیں محفوظ رہی ہیں اور انہی سے کرامات و خرق عادات کا بھی صدور ہورہا ہے ۔اس سے ایک یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمان مرگیا، اس جہان فانی سے کوچ کرگیا ، جسمانی حرکت ختم ہوگئی، جسمانی طور پر کوئی بھی عمل نہیں کررہا ہے تو پھر آخرا یسا کیوں ہورہا ہے کہ صرف انہی میں سے سچے مسلمانوں کی لاشیں بھی محفوظ ہورہی ہیں اور صرف انہیں میں سے سچے مسلمانوں سے کرامات کا ظہور کیوں ہورہا ہے؟دراصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف انہی کے دین یعنی اسلام سے خوش ہے اس کے علاوہ کسی بھی دین و مذہب سے خوش نہیں ہے۔ایسا اس لئے ہورہا ہے کہ غیر مسلم کفر کی حالت میں باطل یا منسوخ ادیان و مذاہب کی پیروی کرتے ہوئے مرگئے تو چونکہ اللہ تعالیٰ ان سے خوش نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نہ تو ان میں سے کسی کی لاش کو محفوظ رکھتا ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے خرق عادت کا صدور ہونے دیتا ہے تاکہ اس کے فرمانبرداربندوں اور باغی بندوں میں امتیازقائم ہوجائے اور جاری رہے۔

مگر افسوس صد افسوس کی بات ہے کہ اس حد تک حق و باطل اور اسلام و کفر میں امتیاز کے باوجود غیر مسلم غور نہیں کرتے اور نہ ہی دین اسلام میں داخل ہونے کی زحمت گوارا کرتے ہیں بلکہ الٹا شیطانوں کی اور شیطان نما انسانوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ہمیشہ کی آخرت والی زندگی کو تباہ و بربادکئے جارہے ہیں۔اس سے بڑھ کر اب کونسی دلیل پیش کی جائے جس سے کہ غیر مسلم مطمئن ہوسکیں؟

یہ بات نہایت ہی قابل غور ہے اس مسلمانوں کیلئے بھی جو مزارات اولیاء پر جانے کو برا سمجھتے ہیں اور ان غیر مسلموں کیلئے بھی جو اولیاء اللہ کی کرامتوں کو ان کے مرنے کے بعد بھی صادر ہونے پر غور نہیں کرتے۔میں صرف مسلم اولیاء اللہ کے ان مزارات کی بات کررہا ہوں جہاں ان کے جسد خاکی دفن ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے مزارات پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ کیوں جاتے ہیں جبکہ جانے والوں میں کچھ منصف مزاج ہندو،سکھ، عیسائی اور یہودی وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔لیکن جہاں غیر مسلموں کے پیشوا دفن ہیں وہاں لوگ ہزاروں کی تعداد میں کیوں نہیں جاتے؟ مثلاً عیسائیوں کی قبر پر، یہودیوں کی قبر پر اور ہندوؤں کے مُردوں کے مسان گھاٹ(جلائے جانے کا مقام) پر کیوں نہیں جاتے؟ 

بات اصل میں وہی ہے کہ غیر مسلم پیشواؤں کے مرنے کے بعد ان کے جسم میں کوئی جان اور روحانی طاقت باقی نہیں رہتی کہ ان سے کرامتوں(Miracles) کا صدور ہو یا اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے وہاں آنے والوں کی دعائیں قبول کرے۔جبکہ مسلم پیشوااور اولیاء اللہ کے انتقال کرجانے کے بعد بھی ان کی روحانی طاقت باذن اللہ کچھ کام کرتی ہے اور لوگوں کو فیض پہنچاتی ہے اس لئے وہاں لوگ جاتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کی بات نہیں کررہا جو وہاں جاکر خلاف شرع کام کرتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کی بات کررہا ہوں جو صرف ان اولیاء اللہ سے عشق و محبت کی وجہ سے ان کی درگاہ جاتے ہیں اور ان کی دعائیں وہاں جانے سے قبول ہوتی ہیں جیسا کہ دارالعلوم دیوبند انڈیا کا فتوی ہے کہ اولیاء اللہ کے مزارات پر دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں۔مثلاً داتا صاحب، بابا فرید صاحب، لال شہباز قلندر صاحب،سید بلاول شاہ نورانی صاحب، شاہ عقیق بابا ، خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ و دیگر اولیاء اللہ خصوصاً انبیاء کرام میں سے اللہ کے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ کے مزارات پر فیض پانے لوگ صدیوں سے جارہے ہیں۔لہذا غیر مسلم اس بارے میں ضرور غور کریں۔

Coronavirus Cure Pakistan