جسم انسانی کا زمین میں بوسیدہ نہ ہونا ایک معجزہ کیسے؟

تحریر: مولانا ابرار عالم (March 01, 2016)

یہ ایک حقیقت ہے اور دوسو فیصد سچ ہے کہ کروڑوں مسلمان جن میں انبیاء کرام، صحابہ کرام، شہداء اسلام، اولیاء اللہ اور مسلم فوجی شامل ہیں کی نعش ہائے مبارکہ صدیوں اور سالوں سے زمین کے اندر قبروں میں بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے تروتازہ حالت میں صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔ان میں سے بعض کے جسم میں تازہ خون موجود ہے، بعض کے جسم سے خوشبو آرہی ہے، اور ظاہری کھانا پانی کھائے پئے بغیر صدیوں اور سالوں سے زندہ انسانوں کی طرح صحتمند حالت میں موجود اور محفوظ ہیں۔

میرا یہ دعوی اس وقت انشاء اللہ سچ ثابت ہوگا جب دنیا کے تمام روحانی اشخاص، یا دنیا کے تمام غیر مسلم ماہر جادوگر اپنے گیان و دھیان کے ذریعے تحقیق کریں گے ، یا کسی زمین کے اندر دیکھنے والی جدید مشین کے ذریعہ تمام مسلم قبرستانوں کا سروے کیا جائے گا اور قبر کھولے بغیر اس مشین کے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ لاشوں کا پتہ چلایا جائے گا یا پھر تمام مسلم قبرستانوں کے عینی شاہدین گورکنوں نے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ان کی باتوں پر اعتبار کیا جائے گا۔

بہرحال میں اس وقت یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ اس طرح جسم انسانی کا زمین میں محفوظ رہنا اور صدیاں گزرجانے کے باوجود بھی بغیر کیمیکل استعمال کئے تروتازہ حالت میں رہنا، بوسیدہ نہ ہونا ایک معجزہ، کرامت اور خرق عادت (Miracle) ہے اور جن کی بھی لاشیں محفوظ ہیں ان کے لئے اعزاز و اکرام کی بات اور ان کے عقائد و اعمال کی سچائی پر واضح ثبوت ہے۔

اس بات کو میں نے معجزہ یا کرامت اس لئے کہا ہے کہ تمام انسانوں کا خصوصاً میڈیکل ڈاکٹروں، سائنسدانوں اور عقل رکھنے والوں کا اتفاق ہے کہ جسم انسانی صدیوں اور سالوں تک بغیر کیمیکل استعمال کئے زمین میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح تمام انسانوں کا اتفاق ہے کہ جانوروں کا جسم بھی بغیر کسی کیمیکل استعمال کئے زمین میں صدیوں اور سالوں محفوظ نہیں رہ سکتا۔گویا یہ ایک عام قانون اور عادت ہے۔تمام انسانوں کا اس بات میں بھی اتفاق ہے کہ جو واقعہ عام قانون اور عادت سے ہٹ کر پیش آئے وہ معجزہ ، کرامت اور خرق عادت (Miracle)ہے۔نیز تمام انسانوں کا اس بات میں بھی اتفاق ہے کہ وہ خرق عادت (Miracle)جو کسی انسان یا جن کے بس میں نہ ہواور اس کی طاقت سے باہر ہو یقیناًاس خرق عادت میں خالق کائنات (اللہ تعالیٰ ،خدا، ایشور، God، Lord) کا ہاتھ ہوتا ہے۔

چنانچہ تمام جانوروں کی لاشوں کا زمین میں سڑگل جانا، تمام غیر مسلموں کی لاشوں کا زمین میں سڑگل جانا، فاسق و فاجر اور جھوٹے اربوں مسلمانوں کی لاشوں کازمین میں سڑگل جانا مگر دوسری جانب کروڑوں سچے مسلمانوں کی لاشوں کا صدیوں اور سالوں سے بغیر کیمیکل استعمال کئے زمین میں تروتازہ حالت میں محفوظ رہ جانا معجزہ ،کرامت اور خرق عادت(Miracle)نہیں تو اور کیا ہے؟

اگر یہ تحقیق سچ ہے (اور یقیناًسچ ہے) جیسا کہ میں نے دعوی کیا ہے تو تمام انسانوں کا اتفاق ہوگا کہ ان کروڑوں مسلمانوں کی لاشوں کو صرف اور صرف خالق کائنات (یعنی اللہ تعالیٰ ، خدا، ایشور،God،Lord) نے محفوظ کیا ہے۔کیونکہ آج تک کسی انسان نے یہ دعوی نہیں کیا کہ میں کسی کی لاش کو زمین میں صدیوں اور سالوں بغیر کیمیکل استعمال کئے محفوظ رکھ سکتا ہوں۔ اگر کوئی ایسا انسان دنیا میں ہے تو وہ میرے اس اعلان کے بعد اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرے اور اگر وہ شخص مرگیا ہے تو پھر وہ اپنے مرنے کے بعد دوسرے مسلمانوں کی لاشوں کو کیسے محفوظ رکھے گا؟حالانکہ سچے مسلمانوں اور شہیدوں کی نعشیں تا قیامت اسی طرح محفوظ رہتی رہیں گی۔مگر پھر بھی اگر کوئی دعوی کرتا ہے کہ کوئی انسان مرنے کے بعد بھی یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ دوسروں کی لاشوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے تو یہ ناقابل فہم بات ہے ۔نیز اس پر واضح دلیل و ثبوت چاہئے جو کہ ناممکن ہے ۔

اسی طرح کسی بھی جن نے آج تک یہ دعوی نہیں کیا کہ میرے اندر انسانی لاش کو صدیوں اور سالوں زمین میں بغیر کیمیکل استعمال کئے محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے۔اگر کوئی جن ایسا کرسکتا ہے تو وہ دنیا والوں کے سامنے آکر اس دعوی کو ثابت کرے۔

اسی طرح آج تک کسی فرشتہ نے بھی مذکورہ دعوی نہیں کیا ہے۔ اگر کوئی فرشتہ ایسا کرسکتا ہے تو وہ دنیا والوں کے سامنے آکر اس دعوی کو ثابت کرے۔

نیز اس بات میں بھی تمام انسانوں کا اتفاق ہے کہ بذات خود زمین بھی کسی جانور یا انسان کی لاش کو اپنے اندر محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔اگر ایسا ہوتا تو آج تک جتنے بھی انسانوں(مسلموں اور غیر مسلموں) کی لاشیں زمین میں دفنائی گئیں ان سب کی لاشیں بغیر کیمیکل استعمال کئے صدیوں اور سالوں سے محفوظ رہنی چاہئیں جبکہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ تحقیقات و مشاہدات سے بالاتفاق ثابت ہے۔

لہذا ہم تمام انسانوں کو یہ بات مان لینی چاہے کہ بغیر کوئی کیمیکل استعمال ہوئے کروڑوں مسلمانوں کی لاشوں کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے حکم اور اسکی مرضی سے ہی ہے جیسا کہ جمع الفوائد جلدنمبرایک کی حدیث نمبر1924سے ثابت ہوتا ہے ۔اسی طرح قرآن کریم سورہ نمبر2آیت نمبر154اور سورہ نمبر 3آیت نمبر169سے ثابت ہوتا ہے۔نیز اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف اسلام ہی سچا دین ہے کہ جو مسلمان صدق نیت اور اخلاص سے اس کے عقائد و اعمال کو قبول کرتے ہیں اور اس کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوکر ان کے جسموں کو بھی سڑنے گلنے سے محفوظ کردیتا ہے۔البتہ ایسے مسلمان جو صدق نیت اور اخلاص سے مکمل دین اسلام کی پیروی نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے مکمل راضی نہیں ہوتا اس لئے ان کی لاشوں کو بھی محفوظ نہیں رہنے دیتا۔اور جہاں تک بات غیر مسلموں کی ہے تو اللہ کے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے بعد ان کے ادیان منسوخ ہوگئے کیونکہ نامکمل تھے۔اس لئے یہ لوگ چونکہ نامکمل اور منسوخ ادیان و مذاہب کی پیروی کرتے آرہے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان سے خوش نہیں ہوتا اور ان کو کفر کی حالت پر مرنے کی وجہ سے جہنمی قراردے دیا ہے اور مرنے کے ساتھ ہی ان کے جسم و روح کو سزا شروع ہوگئی اس لئے ان میں سے کسی کی لاش بھی بغیر کیمیکل استعمال کئے تازہ حالت میں محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی تا قیامت ان میں سے کسی کی لاش محفوظ رہے گی۔

لہذا میری غیر مسلموں سے گزارش ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کو قبول کرلیں اور ہٹ دھرمی نہ دکھائیں۔کیونکہ دین اسلام کی سچائی پر یہ دو سو فیصد یقینی ثبوت ہے اور خرق عادت(Miracle) ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ نیز یہ علامت ہے کہ ایسے تمام مسلمان جنتی ہیں۔ 

Coronavirus Cure Pakistan