موت کے بعد انسانوں کا علاج کرنے والا مردہ مسلمان شاہ عقیق بابا روحانی سرجن

تحریر: مسلم مین (January 01, 2016)

موت کے بعد قبر سے ہماری دنیا تک صرف سچا مومن (اللہ کے حکم سے)ہی زندہ انسانوں سے روحانی طور پر رابطہ رکھ سکتا ہے، ان کا علاج کرسکتا ہے اور انہیں اللہ کے اذن سے شفاء مل جاتی ہے ۔بالکل اسی طرح جیسے ایک ڈاکٹر یا سرجن علاج کرسکتا ہے اور اللہ کے اذن سے شفاء مل جاتی ہے۔موت کے بعد قبر سے ہماری دنیا میں رابطہ رکھ کر کوئی کافر ایسا نہیں کرسکتاخواہ وہ نام کا بے عمل مسلمان ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ایسے لوگوں کو دردناک سزائیں دی جاتی ہیں اور انکی تمام روحانی و جسمانی طاقتیں ختم ہوجاتی ہیں۔مثال کے طورپر شہید مسلمان شاہ عقیق بابا رحمتہ اللہ علیہ کی میڈیا رپورٹس ملاحظہ کیجئے ۔

پاکستان میڈیا رپورٹس:

سما نیوز:

جیو نیوز:

کچھ تو ہے (March 2, 2013):

عوام کی آواز (September 28, 2012):

میرا مشورہ:

میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ صرف میری باتوں یا میڈیا رپورٹس پر ہی یقین کرلیں بلکہ میں آ پ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ خود بھی وہاں جاکر اس بارے تحقیق کرلیجئے۔

لہذا وہاں جاکر کم از کم تین دن قیام کیجئے۔شاہ عقیق بابا بذریعہ خواب آپریشن یا علاج سے متعلق ہدایات وغیرہ کے بارے میں جیسا مناسب سمجھیں گے آپ سے معاملہ کرلیں گے۔جب اپنے گھر واپس آجائیں تو میڈیکل ٹیسٹ رپورٹس کے ذریعے اپنی بیماری کا حال معلوم کریں۔انشاء اللہ ٹیسٹ رپورٹ میں بہترفرق ہوگا۔

شاہ عقیق بابا کے بارے میں مزید تفصیلات اور ایڈریس جاننے کیلئے یہاں پڑھئے۔

کیا کوئی کافر ہے جو موت کے بعد دنیا کے کسی انسان کا علاج کرسکے؟

اب اگر کوئی دعوی کرتا ہے کہ کافر بھی موت کے بعدایسا کرسکتا ہے تو پھر میں اسے چیلنج دیتا ہوں کہ کسی بھی ملحد،عیسائی، یہودی، ہندو،سکھ، بدھست، پارسی، قادیانی یا دیگر تمام ادیان و مذاہب والوں میں سے کسی ایک کے بارے میں ثبوت اور تفصیلات پیش کرے اگر سچا ہے ورنہ مان لے کہ دین اسلام کا سچا پیروکار موت کے بعد جسمانی طور پر نہ صرف تروتازہ رہتا ہے بلکہ روحانی طور پر اللہ کے حکم سے دنیا والوں کا علاج بھی کرسکتا ہے۔یہ اس دین کی صداقت کی کھلی نشانی ہے۔

Coronavirus Cure Pakistan