عقل والوں کیلئے مومن اور کافر کی لاش اللہ کی واضح نشانی ہے

تحریر: مسلم مین (September 29, 2015)

کائنات کی ہر شے اللہ کی نشانیوں میں سے ہے مگر کسی احمق، جاہل، ہٹ دھرم، ضدی اور بے وقوف کیلئے یہ سب بے معنی ہے۔ملحد اور کافر تو ایک طرف، بہت سے پڑھے لکھے اور دینی علوم کے دعویدار مسلمانوں کے شعور کا یہ عالم ہے کہ وہ لاش کو اللہ کی نشانی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ لاش حق و باطل کے درمیان کوئی حیثیت نہیں رکھتی جبکہ مومن اور کافر کی لاش میں واضح فرق ہوتا ہے اور یہ بھی عقل والوں کیلئے اللہ کی نشانیوں میں سے واضح نشانی ہے۔

نافرمان انسان کی سڑی ہوئی محفوظ لاش بھی اللہ کی نشانی ہے

(اے فرعون!) سو آج ہم تیرے (بے جان) جسم کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے (عبرت کا) نشان ہوسکے اور بیشک اکثر لوگ ہماری نشانیوں (کو سمجھنے) سے غافل ہیں (10:92)

اس آیت کے تحت استدلال :
۱) کسی کافر کی لاش بھی اللہ مکمل ختم ہونے سے محفوظ کرسکتا ہے مگر اس کی حالت سڑی گلی ہوگی۔
۲) کافرکی لاش صرف اور صرف دنیا والوں کے لئے بطور عبرت ہی بچائی جاتی ہے۔
۳) سڑی ہوئی لاش اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
۴) لوگوں کی اکثریت اللہ کی نشانیوں سے غافل ہے۔

مومن کی تروتازہ لاش بھی اللہ کی نشانی ہے (تازہ خون ہونا،لاش تروتازہ رہنا)

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مْردہ ہیں، (وہ مْردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں (2:154)

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے (3:169)

وہ (حیاتِ جاودانی کی) ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرما رکھی ہیں اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے (انہیں ایمان اور طاعت کی راہ پر دیکھ کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے (3:170)

وہ اللہ کی (تجلیّاتِ قْرب کی) نعمت اور (لذّاتِ وصال کے) فضل سے مسرور رہتے ہیں اور اس پر (بھی) کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا (3:171)

اللہ نے فرمایا تھا کہ وہ اپنی نشانیاں انسان کی ذات میں دکھائے گا

ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اْن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اْن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب (آپ کی حقانیت کی تصدیق کے لئے) کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی)ہے (41:53)

لاش کو نشانی نہ سمجھنے والے روگردانی کررہے ہیں، سمجھتے نہیں،عقل سے کام نہیں لیتے

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی نہیں آتی مگر (یہ کہ) وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں (6:4)

فرما دیجئے: تم لوگ دیکھو تو (سہی) آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں قدرتِ الٰہیہ کی کیا کیا نشانیاں ہیں اور (یہ) نشانیاں اور (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والے (پیغمبر) ایسے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو ایمان لانا ہی نہیں چاہتے (10:101)

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رْوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گے (18:57)

اور بیشک ہم نے جہنم کے لئے جِنّوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد) کو پیدا فرمایا وہ دل (و دماغ) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں (7:179)

اور کسی شخص کو (اَز خود یہ) قدرت نہیں کہ وہ بغیر اِذنِ الٰہی کے ایمان لے آئے۔ وہ (یعنی اللہ تعالی) کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو (حق کو سمجھنے کے لئے) عقل سے کام نہیں لیتے (10:100)

اس لئے جتنے بھی غیر مسلموں کی لاشیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں (جیسا کہ کیتھولک ، بدھست )جو کہ سڑی ہوئی حالت میں ملی تھیں اور کیمیکل و مسالاجات لگاکر انکے ظاہر کوانسانی عمل دخل سے درست کردیا گیا وہ یقیناًاللہ کے بہت سخت نافرمان اور غدا ر تھے اسی لئے ان کی سڑی ہوئی لاشیں بطور عبرت محفوظ رکھی گئیں۔

۱) ان کی لاشیں زندہ انسان کی طرح نرم نہیں ہیں
۲) ان کی لاشیں زندہ انسا ن کی طرح تروتازہ نہیں ہیں
۳) ان کی لاشوں میں تازہ خون نہیں ہے
۴) ان کی لاشوں پرکسی نہ کسی قسم کا کیمیکل استعمال کیا گیا ہے
۵) ان کی لاشوں کو تروتازہ دکھانے کیلئے انسانی کوشش کا عمل دخل ہے

دوسری جانب جتنے بھی مسلمانوں کی بغیر کیمیکل استعمال ہوئے تروتازہ لاشیں ہیں وہ سب کے سب اللہ کے فرمانبردار تھے اور یقیناًاللہ ان سے راضی ہے ۔

۱) ان کی نعشیں زندہ انسان کی طرح نرم و ملائم ہیں
۲) ان کی نعشیں زندہ انسا ن کی طرح تروتازہ ہیں 
۳) ان کی نعشوں میں تازہ خون موجود ہے 
۴) ان کی نعشوں پرکوئی بھی کیمیکل استعمال نہیں ہوا
۵) ان کی نعشوں کو تازہ خون سمیت تروتازہ رکھنا اللہ کی طاقت ہے 

لہذا یہ ثابت ہوا کہ لاش کوئی بے معنی یا فضول چیز نہیں بلکہ لاش حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی قدرتی، غیر جانبدار، قابل مشاہدہ اور ناقابل شکست نشانی ہے کیونکہ یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔اس لئے فرمانبرداروں (انبیاء کرام، صحابہ کرام، شہدائے اسلام، اولیائے کرام اور سچے مسلمانوں)اور نافرمانوں(کافروں،فاسق و فاجر مسلمانوں، مرتدوں،وغیرہ)کی لاش پر مرنے کے بعد مرتب ہونے والے اثرات اللہ ہی کے حکم کے تحت ہوتے ہیں ۔

Coronavirus Cure Pakistan