آگ میں جاکردین اسلام کی سچائی ثابت کرنا

تحریر: مسلم مین (February 24, 2014)

آگ ایک فطرت ہے اور یہ خالق کائنات یعنی اللہ کا حکم مانتی ہے۔ یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ انبیائے کرام، صحابہ کرام اوراولیائے کرام نے بھی معجزات و کرامتوں کا استعمال کیا ہے نیزدین اسلام کی سچائی ثابت کرنے کیلئے ماضی میں اکثر اولیائے کرام نے آگ میں نہ جلنے کی کرامت دکھائی جس کے نتیجے میں غیرمسلموں نے اسلام قبول کیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں جب بھی جادوگروں اور اللہ کے مومنوں کا مقابلہ ہوا ہے ہمیشہ باطل نے شکست کھائی ہے۔آج مسلمانوں کی اکثریت اپنی بے عملی کے سبب بے یقینی میں مبتلا ہے اور اس حد تک کہ انہیں اس بات پر بھی یقین نہیں رہا کہ حق کی صداقت کیلئے آج بھی اللہ اپنے نیک بندوں کوغیر مسلموں کے سامنے آگ میں جلنے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا دار مسلمان تو ایک طرف بلکہ مذہبی ذہنیت رکھنے والے مسلمانوں میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ دین اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کو صرف دعوت و تبلیغ کے ذریعے بتایا جائے اور آگ میں جا کر دین اسلام کی سچائی ثابت کرنے کوایک غیر اسلامی اور قرآن و حدیث کے خلاف فعل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے واضح طور پر ایمان والوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کاواقعہ سنا کر اپنی نشانی بتایا۔

وہ بولے:اس کو جلادو اور اپنے(تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم(کچھ) کرنے والے ہو۔
ہم نے فرمایا:اے آگ! تو ابراہیم (علیہ السلام )پرٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہوجا ۔
اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام )کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کردیا۔
 (الانبیاء، سورۃ21، آیت 68-70)

سو قوم ابراہیم(علیہ السلام ) کاجواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے : تم اسے قتل کرڈالو یا اسے جلا دو، پھر اللہ نے اسے (نمرود کی) آگ سے نجات بخشی، بے شک اس (واقعہ)میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو ایمان لائے ہیں۔
(العنکبوت ، سورۃ29، آیت 24)

اس آیت میں اللہ نے کافروں کو نہیں بلکہ ایسے لوگوں کو دعوت دی جو ایمان لاچکے ہیں ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان اس آیت پر غور و فکر کرتے تاکہ اللہ کی کامل قدرت پر یقین حاصل ہوتامگر جنہیں قرآن کھول کر سمجھنے اورعمل کرنے کی بھی فرصت نہیں وہ بھلا اس میں کیا غور و فکر کریں گے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی جہالت کا علاج کرنے کے بجائے نقطہ چینی و اعتراضات کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہم(مذہبی اقوام متحدہ پاکستان) آگ میں نہ جلنے کی کرامت کے ذریعے دنیا کے پانچ ارب غیر مسلموں کو دین اسلام کی سچائی کیوں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

بہرحال میں یہاں ایسے چند واقعات بطور ثبوت پیش کررہا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس طر ح آگ میں نہ جلنے کے ذریعے اللہ کے نیک بندوں یعنی باعمل مومنوں نے دین اسلام کی سچائی کو ثابت کیااوریاد رکھئے کہ آگ میں نہ جلنا صرف اللہ کے حکم سے ہوتا ہے لہذا یہ سو فیصد ثابت ہوتا ہے کہ اللہ اس پر مکمل راضی تھا اسی لئے کرامتیں ظہور میں آئیں ورنہ اللہ کی مدد کے بغیریہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ نیز ا س سے یہبھی ثابت ہوتا ہے کہ جن چیزوں کی نسبت مومنوں سے ہوتی ہے ان پر بھی اللہ کا انعام و اکرام ہوتا ہے۔ 

آخری بات یہ کہ ماضی میں سیٹیلائٹ ،کیمرے ، وائرلیس وغیرہ نہیں تھے اس لئے کرامت کے ظہور کے وقت موجود غیر مسلموں نے ہی اسلام قبول کیا۔ آج اتنے زبردست وسائل حاصل ہونے کے بعداور خصوصاً ہر طرف سے مسلمانوں پر کافروں کی یلغار ہونے کی وجہ سے بہت سخت ضرورت ہے کہ دنیا کے پانچ ارب غیرمسلموں پر عالمی میڈیا کے ذریعے براہِ راست آگ میں جاکر نہ جلنے کی کرامت کے ذریعے اسلام کی صداقت ثابت کی جائے تاکہ اربوں غیر مسلم اللہ کے حکم سے اسلام میں داخل ہوسکیں اوردین اسلام غالب کیا جاسکے کیونکہ مسلمانوں کے پاس اتنی مادی قوت نہیں کہ غیرمسلموں کا مقابلہ کرسکیں۔

fire-immune-prophet-ibrahim


fire-immune-zoaib-kholani


fire-immune-usman-harooni


fire-immune-moinuddin-chishti

Coronavirus Cure Pakistan