اکیسوی صدی میں ایک سچے مذہب پر حیران کن دریافت

تحریر: مسلم مین (October 16, 2013)

(سچے مسلمانوں کی لاکھوں کی تعداد میں تازہ خون سمیت تروتازہ لاشیں)

ایک انسان محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے چودہ سو سال پہلے کچھ دعوے کئے تو آج اکیسویں صدی یا ہمیشہ کیلئے اس کی سچائی پر کیا ثبوت و شواہد ہیں جبکہ عالم کفر اسلام کے خلاف کھڑا ہوا ہے؟

دعوے :
اللہ خالق کائنات ہے
میں اللہ کا آخری رسول ہوں
قرآن اللہ کا کلام ہے
اسلام سچا دین ہے  دیگر تمام مذاہب منسوخ ہیں

ہماری تحقیق: 
اللہ کے تمام سچے نبیوں کے جسم انکی موت کے بعد تروتازہ رہتے ہیں نیز حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انہیں آخری رسول ماننے والے سچے اور شہید مسلمانوں کے جسم بھی موت کے بعد تروتازہ رہتے ہیں اور اسلام کے بعد سے آج تک(نہ صرف آج بلکہ قیامت تک)اسلام کے سوادیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے جسم موت کے بعد سڑگل جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جو مسلمان اپنی زندگیوں میں اسلام پرعمل نہیں کرتے اور فاسق و فاجر ہوتے ہیں انکے جسم بھی موت کے بعد سڑ گل جاتے ہیں

دلیل نمبر۱: قرآن
اورجولوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں(سورہ بقرہ 2:154)
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال نہ کرنا ، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے (سورہ آل عمران3:169)

دلیل نمبر۲: احادیث
اللہ نے زمین کو انبیاء کی لاشیں کھانے سے منع کردیا ہے (سنن ابن ماجہ، ج۱، حدیث 1626)
(سنن ابن ماجہ، ج۱، حدیث 1627) (ابو داؤد، ج۱، کتاب الصلوٰۃ، باب ابواب تفریع الجمعہ)
شہید کوعذاب قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے (نسائی للابانی1358/2)

قرآن و حدیث کے دلائل کا تروتازہ لاشوں سے تعلق جاننے کی تفصیل کیلئے مضمون ’کروڑوں سچے مسلمانوں کی لاشوں کے محفوظ رہنے پرقرآن و حدیث سے دلائل اورتصدیق کرنے کے طریقے‘ کا مطالعہ کیجئے۔

دلیل نمبر۳: تاریخ
دو یہودیوں نے حضرت نورالدین زنگی رحمتہ اللہ کے دور میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک نکالنے کی ناپاک جسارت کی اور ناکام ہوکر گرفتار ہوئے نیز وہ جگہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے بند کردی گئی۔
فائدہ: اسکا مطلب یہ کہ یہودی پیشواؤں کو بھی اس بات کا علم اورکامل یقین تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم تروتازہ ہے ورنہ اتنی محنت کرنے والے احمق نہ تھے۔

دلیل نمبر۴: صحابہ کرام کے واقعات
صحابہ کرام کے دور میں اور چودہ سو سالوں میں مختلف صدیوں میں کئی صحابہ کرام کے تروتازہ جسم ثابت ہوئے جنہیں اس وقت کے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

دلیل نمبر۵: شہید مسلمانوں کے واقعات
چودہ سو سالوں میں کئی مسلمانوں کے تروتازہ جسم دیکھے گئے جنکے بارے میں اخبارات ورسائل وغیرہ میں واقعات شائع ہوئے نیز ٹی وی پر بھی ثبوت و عینی شاہدین دکھائے گئے۔اس بات پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عینی شاہدین ہیں جنہوں نے تروتازہ لاشوں کو دیکھا۔

دلیل نمبر۶: عینی شاہدین سے ملاقاتیں
مذہبی اقوام متحدہ کے سرپرست اعلیٰ مولانا ابرار عالم اور جنرل سیکرٹری ذیشان ارشدپاکستان کے مختلف شہروں کے قبرستانوں میں اپنی تحقیق کے دوران کئی گورکنوں سے ملے جنہوں نے قبرستان میں ملازمت کے دوران اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کے تروتازہ جسم دیکھے تھے اوران قبروں کی نشاندہی بھی کی۔گورکن حضرات سے انٹرویو کرکے ریکارڈنگ کی گئی اوران قبروں کوبھی ریکارڈ کیا گیا جن میں تروتازہ لاشیں محفوظ پائی گئیں۔ 

اعتراضات اوروضاحت:

ان سب سے کیا ثابت ہوا؟
یہی کہ خالق کائنات صرف اللہ ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تروتازہ لاش کی جو بات بتائی وہ سچ ہے نیز قرآن اللہ کا کلام ہے،اسلام سچا دین ہے، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے اور آخری رسول ہیں اور دیگر تمام ادیان و مذاہب مکمل طورپرمنسوخ ہوچکے ہیں۔

لاشیں تروتازہ رہنے سے مذہب کا کیا تعلق ہے؟
اگر مذہب سے تعلق نہیں تو دین اسلام کے دعویدارحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انہیں ماننے والوں کی لاشیں ہی تروتازہ کیوں رہتی ہیں؟اگرمذہب سے تعلق نہیں تو اسلام کے بعد سے آج تک ہر غیر مسلم کی لاش موت کے بعد سڑگل کیوں جاتی ہے؟ اگر دین ااسلام کاخدا سے تعلق نہیں توپھران لاشوں کو کون تروتازہ رکھتا ہے؟

ممکن ہے کہ ان سب کی روحیں زمین نے رد کردیں اور یہ سب غلط اور برے لوگ تھے؟

تو کیا اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کے ماننے والے تمام پیروکار نیک ہیں؟کیا دنیا میں ستر فیصد اچھائی ہورہی ہے؟ کیا کسی مذہب میں کوئی انسان گناہ یا جرم نہیں کرتا؟ تو آپ تسلیم کرتے ہو کہ جو کچھ باقی مذاہب کے لوگ کررہے ہیں وہ جائز اور صحیح ہے؟ اگر ہاں تو پھر قانون اور سزا کن لوگوں کیلئے ہیں؟
اگر تروتازہ رہنے والے برے تھے تو پھر فاسق و فاجر مسلمانوں کے جسم کیوں سڑگل جاتے ہیں؟ لہذا یہ ماننا ہی پڑے گا کہ جن مسلمانوں کے جسم موت کے بعد تروتازہ رہتے ہیں وہ اچھے لوگ ہیں۔ جب اچھا ہونا ثابت ہوگیا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی بھی صحیح ہے اور انہیں آخری رسول ماننے والے بھی سچے ہیں۔

کیا برے لوگوں کے جسم تروتازہ نہیں رہ سکتے؟

ہر گز نہیں کیونکہ ایسا ناممکن ہے۔انسان کے مرنے کے بعد وہی زندہ ہیں جو خالق کائنات کے نزدیک اس کیلئے مارے جاتے ہیں۔ یہی بات قرآن میں شہیدوں کے بارے میں کی گئی ہے ، مذہب اسلام میں لاشیں تروتازہ رہتی ہیں اور صرف حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکاروں کی رہتی ہیں۔

اگر کوئی اس بات کو مانے گا کہ صرف گندے لوگوں کے جسم تروتازہ رہتے ہیں تو پھر ہر مذہب کے برے انسانوں کے جسم تروتازہ رہنے پرپیشنگوئیاں، تاریخ، ثبوت، شواہد موجود ہونا چاہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے لہذا یہ بات مکمل طور پرناقابل قبول اور رد ہے۔

اگر کوئی اس بات کو مانے گا کہ صرف اچھے لوگوں کے جسم تروتازہ رہتے ہیں تو پھر ہر مذہب کے اچھے انسانوں کے جسم تروتازہ رہنے پرپیشنگوئیاں، تاریخ، ثبوت، شواہد موجود ہونا چاہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

نیز صرف اچھے لوگوں کے جسم تروتازہ رہنے کو ماننے سے یہ بات ویسے ہی ثابت ہوجائے گی کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اچھے اورنیک انسا ن ہیں لہذا ان کی تمام باتیں سچ تسلیم ہوجائیں گی اوروہ آخری رسول ثابت ہوجائیں گے ۔نیزیہ بات میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ مسلمانوں میں سے صرف سچے اور اسلام پر عمل کرنے والوں کے جسم موت کے بعد تروتازہ رہتے ہیں اور برے اور فاسق و فاجر مسلمانوں کے جسم بھی سڑ گل جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ تیسری کوئی صورت نہیں ہے لہذا خالق کائنات کی پیش کردہ غیر جانبدار تروتازہ جسم کی نشانی کو تسلیم کرکے سچ کومان لو اور دین اسلام میں داخل ہوجاؤ ۔

ہوسکتاہے کہ مرنے والے مسلمانوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تروتازہ رکھا ہو؟
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہی ہیں اوردنیا کا کوئی انسان یا جن اپنے جسم کو روحانی یا جادوئی طاقت سے موت کے بعد تروتازہ نہیں رکھ سکتا۔اگریہ اعتراض درست ہے توحضرت عیسی علیہ السلام اورحضرت موسی علیہ السلام اپنے ماننے والوں میں سے سچے پیروکاروں کی لاشیں تروتازہ کیوں نہیں رکھ سکے؟ چودہ سوسالوں سے آج تک کوئی باطل مذہب کا مذہبی و روحانی پیشوا اپنے جسم کو خون سمیت تروتازہ کیوں نہ رکھ سکا؟ اگر عیسی یا موسی کو خدا کا بیٹا مانا جائے تو پھر کیا اس باطل عقیدہ کے مطابق خدا کے بیٹے ایک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نامی انسان کے سامنے ناکام ہوگئے؟ اپنی عقل کو استعمال کرو اور سوچو ۔ 

لہذا یہ ثابت ہوا کہ موت کے بعد لاش تروتازہ رکھنا صرف اسی ایک خدا کا کام ہے جو حضرت عیسی، موسی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا خالق ہے اوریہ تمام انسان صرف اسکے بندے اور سچے پیغمبرہیں۔

تروتازہ لاش سچے مذہب کی شناخت کی نشانی کیسے ہوسکتی ہے؟

یہ عقل سے سمجھنے والی بات ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ خالق کائنات نے دنیا کے انسانوں کیلئے اپنے ایک سچے مذہب کو شناخت کرنے کیلئے کوئی نشانی نہ رکھی ہو تاکہ وہ سچے مذہب کا فیصلہ نہ کرسکیں ؟ پھر تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی مرضی و خوشی سے سب مذاہب والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں اورقتل و غارت کررہے ہیں ۔ اگر ایسا ہے توپھرقانون اورسزاؤں کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے اگریہ سب خدا کی خوشی سے ہو رہا ہے؟

چودہ سو سال گزرگئے مگر مذہبی کتابوں اور مذہبی پیشواؤں سے تمام دلائل ، بحث و مباحثہ اور روحانیت و جادوئی باتوں کے باوجود فیصلہ نہ ہوسکا کہ وہ دنیا والوں کے سامنے ایک سچا مذہب ثابت کرکے غالب کرتے اسی لئے آج دنیا میں جنگیں، غربت و افلاس ، بدامنی و جہالت بڑھ رہی ہے اوردنیا کے انسان مذاہب کی وجہ سے ایٹمی جنگ طرف جارہے ہیں جس کے نتیجے میں اربوں انسان فنا ہوجائیں گے۔

لہذا ماننا پڑے گا کہ یقیناًایک ناقابل انکاراورغیرجانبدارنشانی ضرورہونی چاہئے تاکہ موت کے بعد کوئی انسان خالق کائنات کے سامنے حیلے نہ تراش سکے ۔ اس لئے موت کے بعد خدا کے حکم سے صرف سچے مسلمانوں کا ہی جسم تروتازہ رہنا اس بات پر قدرتی اورغیرجانبدار ثبوت ہے جس میں کسی انسان کا عمل دخل نہیں اور یہی وہ خدائی نشانی ہے جو سوائے اسلام کے کسی بھی مذہب میں موجود نہیں۔

اگریہی وہ دلیل ہے تو چودہ سوسالوں سے آج تک سامنے کیوں نہ آئی؟
آج سامنے آگئی ہے ۔ کیا اب بھی ماننے سے انکار کروگے؟یہ نشانی چودہ سو سالوں سے موجود ہے۔ منظر عام پر بھی آتی رہی مگر مسلمانوں نے اسے خدائی معجزے سے زیا دہ اہمیت نہ دی اور تفکر نہ کیا کہ خالق کائنات انسانوں کو یہ نشانی کیوں دکھا رہا ہے۔

ہر دور میں کوئی بھی نئی تحقیق یا دریافت ایک ہی انسان کرتا ہے، وہی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ہی بات کودو انسان دریافت کریں۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔باقی انسان اس تحقیق پر مزید غور و فکر کرتے ہیں تاکہ تفصیلات سامنے آئیں یا پھر اسے ثبوت و شواہد کے ساتھ رد کرتے ہیں۔اب تک کسی انسان نے ثبوت و گواہوں اورشواہد کے ساتھ مسلمانوں کی تروتازہ لاشوں کی تحقیق کو غلط ثابت نہیں کیا(اور قیامت تک کوئی غلط ثابت نہیں کرسکتا) بلکہ حقیقت جاننے کے بعد ہٹ دھرمی میں آکر ماننے سے انکار کردیا۔

عقل کا استعمال کرنے والوں کیلئے حرف آخر:
عقل سے سوچنے کی بات ہے کہ جس تروتازہ جسم کے عنوان پر دو افراد نے تحقیق کی وہ نہ صرف قرآن، احادیث، تاریخی واقعات اور ثبوت و شواہدسے ثابت ہوا بلکہ اکیسوی صدی میں کی گئی ریسرچ میں وہ خود عینی شاہدین سے ملے۔ ایک شخص جھوٹ بول سکتا ہے مگرمختلف شہروں کے مختلف افراد اور کئی گورکن جھوٹے نہیں ہوسکتے۔ یہ سب بذات خود تروتازہ لاش کی سچائی پر ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔

اس کی تفصیل جاننے کیلئے مضمون’ہمیں مسلمانوں کی تروتازہ نعشوں کے بارے میں کیسے علم ہوا؟‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

کسی بات کے سچ ہونے کیلئے اتنا سب کچھ کافی ہے۔ اگر کوئی احمق یہ کہے کہ میں جب تک اپنی آنکھوں سے تروتازہ لاش نہ دیکھوں تب تک نہیں مانوں گا یہ اس کی ہٹ دھرمی ہے کیونکہ کبھی بھی جان بوجھ کر کسی قبر کو لاش دیکھنے کیلئے نہیں کھولا گیا بلکہ یہ تمام واقعات اللہ کے مرضی و مشیت سے انسانوں کے سامنے مختلف عوامل و ناگہانی حادثات کی بنا پر سامنے آئے۔ مثلاً اگر راقم خود کسی تروتازہ لاش کو دیکھ لے اور کسی کو یہ خبر دے اور وہ آگے سے مطالبہ کرے کہ جب تک میں نہیں دیکھوں گا یقین نہیں کروں گا۔ اس طرح خبر سننے والا پہلے ہی یہ دعوی کررہا ہے کہ اسے جو انسان خبر دے رہا ہے وہ جھوٹا ہے۔ لہذا جب جھوٹا مانتا ہے تو پھرمطالبہ کرنے کی وجہ؟ اور اگر بالفرض مطالبہ کرنے والے کو بھی تروتازہ لاش دکھادی جائے تو پھر جب وہ خود کسی کو یہ سچائی بتائے گا اور اس سے بھی اگلا انسان یہی مطالبہ کردے کہ میں نہ مانوں گا تب یہ کیا کرے گا؟ لہذا اس قسم کے فضول مطالبات کرنا اپنے احمق ہونے پربذات خود ایک ثبوت ہے۔

یہ تمام باتیں ایمانداری اور سچائی کے ساتھ بیا ن کردی گئی ہیں اس لئے جسے اعتراض ہے وہ خودتاریخ کا مطالعہ کرے اورقبرستانوں میں جاکر تحقیق کرے تاکہ اسے اطمینان ہوجائے کہ صرف شہید مسلمانوں کے جسم تروتازہ رہنے اور تمام باطل مذاہب کے پیروکاروں کے جسم سڑگل جانے پر جوتحقیق،دعوی اور ثبوت پیش کئے گئے ہیں وہ سو فیصد حقیقت ہیں یا پھرہماری بتائی ہوئی سچائی کو تسلیم کرکے اپنے باطل مذہب سے نجات حاصل کرکے اسلام میں داخل ہوجائے اور آخرت میں برباد ہونے سے بچ جائے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

Coronavirus Cure Pakistan