کروڑوں سچے مسلمانوں کی لاشوں کے محفوظ رہنے پرقرآن و حدیث سے دلائل اورتصدیق کرنے کے طریقے

تحریر: مولانا ابرار عالم (July 20, 2013)

میں سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے مندرجہ ذیل تحقیق کی توفیق دی۔ پھرمیں درودوسلام پیش کرتا ہوں حضرت آدم علیہ السلام کی اولادوں کے سردار محمد صلی اﷲ علیہ وسلم،ان کی تمام آل و اولاداور اصحاب پر جن کے ذریعے دین اسلام ہم مسلمانوں تک پہنچا۔ میری تحقیق کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد صلی اﷲ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام علیہم السلا م کاجسم مبارک زمین میں قبروں کے اندر بالکل صحیح و سالم اور محفوظ ہے اور انکی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے( صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم زمین میں مدفون نہیں ہے جیسا کی قرآن کریم کی سورۃ النسا ء آیت نمبر157اور158میں ہے کہ انہیں نہ تو قتل کیا گیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا گیا بلکہ اﷲ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا)۔اس بنا پر سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت موجود ہے کہ ا نبیاء کرام علیہم السلام کے نعشہا ئے مبا رکہ محفوظ ہیں۔ثبوت کے طور پر جمع الفوائد جلد نمبرایک ، حدیث نمبر1924میں باب وقت الجمعۃ ونداء ھا و خطبتھا و ما یتعلق بذالک کے تحت ابو داؤد اورنسائی شریف کے حوالے سے ایک صحیح حدیث ہے جسے حضرت اوس بن اوس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے روا یت کیا ہے کہ آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’ تمھارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کادن ہے کیونکہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن ان کا وفات بھی ہوا اسی دن صور پھونکا جا ئے گا اور اسی دن تمام انسان بیہوش ہو جا ئیں گے ۔ اسی لئے اس دن تم لوگ مجھ پر کثرت سے درور بھیجنا کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جا ئے گا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے پوچھا کہ اے اﷲ کے رسول ( صلی اﷲ علیہ وسلم)ہما را درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ تو زمین میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے زمین کو انبیاء کرام علیہم السلام کے جسموں کو کھا نے سے منع کر دیا ہے۔ (ابو داؤد جلد نمبر 1، کتاب الصلوٰ ۃ باب ابواب تفریع الجمعۃ)

لہٰذا مذکورہ حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے نعشہا ئے مبارکہ زمین میں قبروں کے اندر باذن الہٰی صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔اسی طرح 1 ؁ ھ کے بعد سے لے کر 1433 ؁ھ تک جتنے بھی صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم،تابعین،تبع تابعین اور دیگر مسلم خواتین و حضرات جواﷲ کے راستہ میں شہید ہوئے ان سب کی نعشہا ئے مبارکہ بھی زمین میں قبروں کے اندر صدیوں اور سالوں سے بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے تروتازہ حالت میں سوئے ہوئے انسانوں کی طرح صحیح و سالم اور محفوظ ہیں۔چودہ سو بتیس سالوں میں تخمینہ لگا ئیں تو شہدائے اسلام کی تعداد لاکھوں میں بنتی ہے۔ موجودہ حالات میں تو تعداد خصوصی طور پر بہت زیادہ بڑھ گئی ہے یعنی امریکہ کے خلاف عراق میں ،افغا نستان میں لڑتے ہو ئے جتنے بھی قتل ہو ئے وہ سب شہید ہیں۔ اسی طرح روس کے خلاف لڑتے ہوئے جتنے بھی مجا ہدین افغا نستان میں قتل ہو ئے وہ سب شہید ہیں۔اسی طرح ہندوستان کے خلاف لڑ تے ہو ئے جتنے بھی مسلمان قتل ہوئے وہ سب شہید ہیں کیو نکہ یہ سب مجا ہدین اﷲ تعالیٰ کے راستے میں یعنی دین اسلام کی خاطر شہید ہوئے تھے۔لہٰذا ان سب شہداء کی نعشیں بھی محفوظ ہیں۔ لہٰذا اُن کی تعداد کا بھی اندازہ لگا ئیں کہ وہ کتنے ہوں گے؟ اسی طرح فلسطین میں ،مقبو ضہ کشمیر میں اور دیگر ممالک مثلاً بوسنیاہ،چیچنیا وغیرہ میں جتنے بھی مسلمان قتل ہوئے وہ سب شہید ہیں اور شہدائے اسلام جسمانی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی زندہ ہیں جیسے ہم لوگ مرنے سے پہلے زندہ ہو تے ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہما رے اعضاء بیداری کی حالت میں حر کت کر تے ہیں اور وہ لوگ حر کت نہیں کر سکتے مگر جب ہم زندہ لوگ سو جا تے ہیں توہما ری حالت بھی جسمانی طور پر ان شہداء کی طرح ہو جا تی ہے جو قبروں میں صدیوں اور سالوں سے محفوظ اور لیٹے ہوئے ہیں فرق اس صورت میں صرف اتنا ہے کہ ہماری نبض حرکت کر رہی ہو تی ہے جب کہ ان کی نبض حرکت میں نہیں ہوتی۔ شہدائے اسلام کے جسم کے محفوظ رہنے کا ثبوت سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر154 میں ہے جس میں ہے کہ شہداء اسلام زندہ ہیں ۔تر جمہ مع مختصر تفسیر پیش ہے ۔ 


’’اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں یعنی دین کے واسطے قتل کئے جا تے ہیں ان کی ایسی فضیلت ہے کہ ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ معمولی لوگوں کی طرح مر دے ہیں بلکہ وہ لوگ ایک ممتاز حیات کے ساتھ زندہ ہیں لیکن تم ان حواس سے اس حیات کا ادراک نہیں کر سکتے‘‘۔ (بیان القر آن مولانا اشرف علی تھا نویؒ )


مذکورہ آ یت میں واضح ہے کہ شہدائے اسلام عالم برزخ میں جسمانی طور پر بھی زندہ ہیں ورنہ صرف روح کا زندہ رہنا عالم برزخ میں تو عام مسلمانوں کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ نیز سو ر ۃ آل عمران کی آ یت نمبر169میں شہدائے اسلام کی زندگی کی مزید وضاحت ہے ۔تر جمہ مع تفسیر پیش ہے۔

’’اور اے مخاطب جو لوگ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں یعنی دین کے واسطے قتل کئے گئے ان کو اور مر دوں کی طرح مت خیال کرو بلکہ وہ لوگ ایک ممتاز حیات کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنے پر ور دگار کے مقرب یعنی مقبول ہیں ان کو رزق بھی ملتا ہے‘‘۔

مذکورہ آ یت میں بالکل وضا حت ہے کہ شہدائے اسلام کو رزق یعنی معنوی کھانا پینا بھی دیا جا تا ہے ظا ہر سی بات ہے کہ رزق تو جسم کی ضرورت ہے نہ کہ روح کی ۔ اسی بنا پر مشا ہدات بھی ہیں کہ شہدائے اسلام کی نعشہا ئے مبارکہ بالکل صحت منداور محفوظ ہیں۔


آخر میں حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ؒ کی شہدائے اسلام سے متعلق سورۃ البقرۃ کی آ یت نمبر154 کے تحت تفسیری عبارت پیش کرتا ہوں جس سے یہ ثا بت ہو تا ہے کہ نہ صرف شہدائے اسلام کے جسم محفوظ ہیں بلکہ دیگر اولیاء اﷲ اور صالحین کے جسم محفوظ ہونے کے بھی ثبوت ملے ہیں۔یہاں پرمیری پوری توجہ قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل و ثبوت پیش کرنے پر ہے ورنہ ظاہری حقائق و مشاہدات سے تو ویسے ہی کروڑوں مسلمانوں کی نعشوں کا محفوظ رہناثا بت ہے جس کی تفصیل بعدمیں انشاء اﷲ تعالیٰ کردوں گا۔


حضرت مولانا موصوف فرما تے ہیں۔’’ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت کو یوں کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جا ئز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مُردوں کی سی موت سمجھنے کی مما نعت کی گئی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات ہر شخص کی روح کو حاصل ہے اوراسی سے جزا و سزاکا ادراک ہو تا ہے لیکن شہید کو اس حیات میں اور مر دوں سے ایک گونہ امتیاز ہو تا ہے کہ اس کی یہ حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے جسطرح انملہ یعنی سرانگشت میں ذکا ء حس کہ آثا ر حیات سے ہے بہ نسبت عقب یعنی پاشنہ کے طبا و حسا قوی ہے حتی کہ شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر بر خلاف معمولی مردوں کے اس جسد ظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسد باوجود مجمو عہ گو شت و پوست ہونے کے خاک سے متا ثر نہیں ہو تا اور مثل جسد زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے جیسا کہ احا دیث اور مشاہدات شاہد ہیں۔ 


پس اس امتیاز کی وجہ سے شہداء کو احیا ء کہا گیا اور ان کو دوسرے اموات کے برابر اموات کہنے کی ممانعت کی گئی اور یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء علیہم السلام شہداء سے بھی زیا دہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں حتی کے بعد موت ظاہری کے سلامت جسم کے ساتھ ایک اثر اس حیات کا اس عالم کے احکام میں یہ بھی ظاہر ہو تا ہے کے مثل ازواج احیاء کے ان کی ازواج سے کسی کو نکاح جائز نہیں ہو تا اور ان کا مال میراث میں تقسیم نہیں ہو تا پس اس حیات میں سب سے قوی تر انبیاء علیہم السلام ہیں پھر شہداء پھر اور معمولی مردے ۔ البتہ بعض احا دیث سے معلوم ہو تا ہے کہ بعض اولیاء و صالحین بھی اس فضیلت میں شہداء کے شریک ہیں سو مجا ہدۂ نفس میں مرنے کو بھی معنی شہا دت میں سمجھیں گے۔اس طور پر وہ بھی شہداء ہو ئے یا یوں کہا جا ئے کہ تخصیص شہداء کی عام مردوں کے اعتبار سے اضافی ہے ان خواص کے اعتبار سے حقیقی نہیں۔


اور اگر کسی شخص نے کسی شہید کی لاش کو خاک خوردہ پایا ہو تو سمجھ لے کہ اس کی نیت خالص نہ ہو گی جس پر مدار ہے قتل کے شہادت ہو نے کا اور صرف قتل شہا دت نہیں ہے اور اگر فر ضاً ایسا شہید خاک خوردہ پایا جا ئے جس کا قتل فی سبیل اﷲ اور اس کا جامع شرائط شہا دت ہو نا دلیل قطعی تو اتر وغیرہ سے ثا بت ہو( جس کا شبہ صاحب روح المعانی کو ہو گیا ہے) تو اس کی وجہ میں کہا جا ئے گا کہ حدیث میں حرمت جسد شہید علی الارض وارد ہے غیر ارض سے غیر متا ثر ہو نا وارد نہیں چنانچہ دوسرے اجسام مرکّبہ مثل اسلحہ وادویہ،اغذیہ واخلاط و اجسام بسیطہ مثل آب و آتش و باد کی تا ثیرا نبیاء علیہم السلام کے اجسام میں ثابت ہے اور شہداء کی حیات بعد الممات انبیاء کی حیات قبل الممات سے اقویٰ نہیں اور بعض حصہ ارض میں بعض اجزا ئے غیر ارضیہ بھی شا مل ہو جا تے ہیں جس طرح دوسرے عناصر میں بھی مخالف عنا صر شامل ہو جا تے ہیں سو اگر ان اجزاء غیر ارضیہ سے ان کے اجساد متا ثر ہو جا ئیں تو اس سے ان احادیث پر اشکال نہیں ہو تا جن میں حرمت اجساد علی الارض وارد ہے اور ایک جواب یہ ہے کہ امتیاز اجساد شہداء کے لئے یہ بھی کا فی ہے کہ دوسرے اموات سے زیا دہ مدت تک ان کے اجساد خاک سے متا ثر نہ ہوں گو کسی وقت میں ہوجا ئیں اور احادیث سے یہی امرمقصودکہا جا ئے کہ ان کی محفوظیت اجساد کی خارق عادت ہے اور خرق عا دت کی دونوں صورتیں ہیں حفظ موبد اور حفظ طویل اور چونکہ برزخ حواس سے مدرک نہیں ہو تا اس لئے لا تشعروں فرمایا گیا‘‘۔


مذکورہ تفسیری عبارت سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام اورشہدائے اسلام کے نعشہا ئے مبارکہ صدیوں اور سالوں سے زمین میں محفوظ ہیں اور یہی میرا مقصود تھا ۔نیز مذکورہ عبارت میں دیگر اولیاء اﷲ اور صالحین کی نعشوں کے بھی محفوظ ہونے کے ثبوت دئے گئے کہ جس طرح شہدائے اسلام جہاد اصغر میں شریک ہو کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہید ہو تے ہیں اسی طرح اولیاء اﷲ اور اﷲ تعالیٰ کے صالح خواتین و حضرات جہا د اکبر یعنی مجا ہدہ نفس کے ذریعہ بھی اﷲ تعالیٰ کا وہ مقام رضا و قرب حاصل کر لیتے ہیں جو شہدائے اسلام کو حاصل ہو تا ہے اور اس کی بنا پر اﷲ تعالیٰ اُن کی نعشوں کے محفوظ رہنے کا حکم زمین کو جا ری کرتا ہے۔


بہر حال میں نے اوپر عنوان میں دعویٰ کیا تھا کہ کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کی نعشیں محفوظ ہیں الحمدﷲ قرآن و سنت اور تفسیر کی روشنی میں اس پر دلائل وثبوت پیش کر دئیے گئے۔مزید تفصیل کے لئے کتب تفا سیر و احادیث کی جا نب رجوع کیا جا سکتا ہے تا کہ انبیاء ، شہداء اور دیگر اولیا ء اﷲ و صالحین کی نعشوں کے محفوظ رہنے کے ثبوت مل سکیں۔


مشاہداتی طور پرتحقیق اور تصدیق کرنے کے طریقے:

لیکن اگر کوئی شخص مشاہداتی اور تحقیقی طور پر معلوم کرنا چا ہے کہ کیا واقعی انبیاء کرام علیہم السلام سمیت کروڑوں مسلمانوں کی نعشہائے مبارکہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک محفوظ اور صحیح و سالم ہیں یا نہیں تو اس کے چند طریقے ہیں۔ 


1) پہلا طریقہ یہ ہے کہ دین اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذا ہب کے ماننے والے مذہبی پیشواؤں،پنڈتوں،پادریوں اور پو پوں میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو گیان و دھیان، روحانی استخارہ،جنات و مؤ کلات اور کشف کے ذریعے تین ماہ کے اندر اندر یہ بات باآسانی معلوم کر سکتے ہیں ۔ 


2) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے مسلم قبرستانوں کے گورکنوں سے ملاقات کرکے یہ بات معلوم کی جاسکتی ہے کہ قبروں کی کھدا ئی کے دوران یا قبرستان میں ملازمت کے عرصہ میں انہوں نے کوئی محفو ظ لاش دیکھی ہے یا نہیں؟ 


ایسا کرنے سے بھی میرا مذکورہ دعویٰ سچ ثابت ہوجائے گاکیونکہ یہ بندہ مسمّی ابرار عالم ولد محمد صدیق ساکن کراچی اور میرے ایک شاگرد ذیشان ارشد ساکن لاہور ،ہم دونوں نے پاکستان میں راولپنڈی، لاہور اور کراچی شہرکے تقریباً پندرہ سے زائدقبرستانوں کے گورکنوں سے ملاقات کی تو دس قبرستانوں سے مسلمانوں کی محفوظ لاشوں کے واقعات کے بارے میں ہمیں بتایا گیا جن کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہماری ویب سائٹ(www.RightfulReligion.com) پرویڈیوزسمیت موجود ہے۔ اس ویب سائٹ میں گورکنوں کے انٹر ویوز،محفوظ لاشوں کی قبروں کے ویڈیوزاور انکی نشاندہی مع مکمل پتہ موجود ہے۔دس قبرستانوں کے گورکن حضرات زیادہ سے زیادہ 25سالوں سے قبروں کی کھدائی کا کام کر رہے تھے کہ انہیں 10محفوظ لاشوں کے بارے میں علم ہوا ۔اب اگرپوری دنیا کے تمام مسلم قبرستانوں میں چودہ سو بتیس سالوں میں کتنے مسلمانوں کے نعشہا ئے مبارکہ محفوظ ہوں گے اس کا اندازہ اورتخمینہ لگا ئیں تو کیا کروڑوں کی تعداد نہیں بنتی ہے؟جبکہ اسلام و کفر کی جنگوں میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے سے صرف شہداء کی تعداد ہی کروڑوں میں ہوگی جبکہ دیگر اولیاء اﷲ اور صالح مومنین و مومنات کی تعداد اسکے علاوہ ہے اوروہ بھی بہت زیا دہ ہیں۔ 


3) تیسرا طریقہ تحقیق کا یہ ہے کہ اس جدید دور میں ایسے کیمرے موجود ہیں جن کی مدد سے آپ با آسانی چھ سات فٹ تک زمین کے اندر دیکھ سکتے ہیں بلکہ تصاویر اور ویڈیوز تک بنا سکتے ہیں کہ یہاں زمین میں کوئلہ ، لوہا وغیرہ وغیرہ ہے ۔ اگر کوئی چاہے تو ایسے کیمروں کی مدد سے مسلم قبرستانوں کی تمام قبروں کو دیکھ لے انشاء اﷲ تعالیٰ کم از کم ہر ایک قبرستان میں ایک دو لاشیں صحیح اور محفوظ ضرور نظر آئیں گی۔میرا مقصد (نعوذ با ﷲ ) لاشوں کی بے حرمتی اور بے پردگی نہیں ہے۔ صرف زمین کے اوپر رہ کر کیمرہ سے قبر کے اندر جھانکنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔جس قبر میں لاش محفوظ ہو اس کو شمار کر لیا جا ئے ۔اس طرح بھی انشاء اﷲ ثابت ہو جا ئے گا کہ کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کی نعشیں محفوظ ہیں۔تحقیق کر نے کے لئے میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ یہ معاملہ نہا یت ہی حیران کن اور تعجب خیز ہے کیونکہ میری تحقیق کے مطابق محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر اب تک ایک بھی یہودی،عیسائی ،ہندو ،پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں سے کسی کی لاش بھی زمین میں تروتازہ حالت میں بغیرکیمیکل استعمال کئے ہوئے محفوظ اور صحیح و سالم نہیں ہے۔محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے سے پہلے سے صرف ایک کافر یعنی فرعون کی لاش محفوظ چلی آ رہی ہے مگر وہ بھی مسلمانوں کی طرح تروتازہ حالت میں نہیں ہے نیز بقول قر آن کریم اس کی حفاظت بھی بطور اعزاز و اکرام نہیں بلکہ ظالم و متکبر کافروں کی عبرت کے لئے کی گئی ہے جیسا کہ سورۃ یونس آ یت نمبر92میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے’’سو آج ہم تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو ان کی لئے موجب عبرت ہو جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آد می ہماری عبرتوں سے غافل ہیں ‘‘۔


خلا صہ کلام مذکورہ قرآ ن و حدیث اور تفسیری دلائل کا یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ،شہدائے اسلام اور صالح مسلمان مردوں اورعورتوں کے نعشہا ئے مبارکہ محفوظ رہتے ہیں اور مٹی اور قبر کے کیڑے مکوڑے انہیں نہیں کھا تے اور چودہ سو بتیس سالوں میں ان کی تعداد تخمینی طور پر کروڑوں میں ہے ۔جبکہ ایک بھی غیر مسلم کی لاش بغیر کیمیکل استعمال کئے ہوئے تروتازہ حالت میں محفوظ نہیں ہے جس کے جسم میں تازہ خون ہویا جس کے جسم سے خوشبو آرہی ہو۔ جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ مکمل دین جو آخری نبی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجا گیا صرف دین اسلام ہے اور اﷲ تعالیٰ یعنی خالق کائنات کا سچا اور پسندیدہ مذہب ہے جیسا کہ سورۃ المائدہ آیت نمبر3میں اﷲ تعالیٰ فرما تا ہے کہ ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کو کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمھارے دین بننے کے لئے پسند کر لیا‘‘۔ 


اس سے واضح ہوا کہ دین اسلام محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل ہوا اگر چہ یہ دین حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے چلا آ رہا تھا مگر بنیادی عقائد و اصول کے علاوہ احکام شرعیہ میں ترمیم و تنسیخ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے سے پہلے سے ہوتی آ رہی ہے جسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل کر دیا ۔ جیسے کوئی بچہ پیدا ہو تا ہے تو آہستہ آہستہ وہ بڑھتاہے اور اس کا لباس بھی اس کے قد کے اعتبار سے بڑا بنا نا پڑ تا ہے لیکن جب بچہ کا مل ہو جا تا اور قد بڑھنا بند ہو جا تا ہے تو پھر لباس کا جو سائز بچپن سے بڑھانا پڑتاتھا بچہ کے قد بڑھنے کی وجہ سے اب اسے نہیں بڑھانا پڑ تا۔اور وہ بچہ جوان ہو نے کے بعد بھی ایک ہی ہستی رہتا ہے ایسا نہیں کہ وہ بچہ جوان ہو کر دوسرا انسان بن جا تا ہے ۔اسی طرح دین اسلام کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہوئی اورپھر نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم و اسماعیل و دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے ذ ریعے حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام تک پہنچا ۔اس دوران اسلام کے بنیادی عقائد یعنی اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت ،یوم آخرت اورمرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا عقیدہ وغیرہ ایک ہی رہا لیکن اسلام کے احکام شرعیہ آہستہ آہستہ اترتے رہے۔یکبارگی تمام احکام اسلام نہیں اتا رے گئے تا کہ امت آسانی سے عمل کر سکے ورنہ یکبارگی احکامات آجانے سے امت عمل نہیں کر پا تی وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ دین اسلام اپنے عقا ئد و احکام دونوں اعتبار سے مکمل ہو گیا لیکن بنیادی طور پر حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم تک دین اسلام ہی مذہب کے طور پر چلا آ رہا تھا ۔البتہ اضا فت کے طور پر اسے کبھی دین ابراہیمی اور کبھی دین موسوی و عیسوی کہا جا تا رہا۔جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دین اسلام مکمل ہو گیاتو قرآن کریم کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے اعلان کر دیا کہ آج کے دن دین اسلام مکمل ہو گیا ہے اور دین اسلام کے دین بننے کے لئے میں راضی ہو گیا اسی بنا پر میں نے کہا کہ اب دین اسلام ہی سچا اور اﷲ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب ہے۔جیسا کہ اس کی تائید سورۂآل عمران کی آیت نمبر19سے بھی ہو تی ہے کہ ا ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقیناًً دین اﷲ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔ اور سورۂ آل عمران کی آیت نمبر85میں ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کوطلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہو گا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے(جہنمی ) ہو گا۔ 


اس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ دین اسلام کے علاوہ کسی بھی دین و مذہب سے راضی نہیں اور یہ کہ کوئی بھی دین و مذہب بروز قیامت قابل قبول نہیں ہو گا سوا ئے دین اسلام کے جو محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجا گیا اور مکمل کیا گیا۔یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے سے دین اسلام کے سوا تمام ادیان و مذاہب خواہ آسمانی ہی کیوں نہ ہوں جیسے یہودیت و عیسائیت وغیرہ سب اﷲ تعالیٰ کے حکم اور اپنے نامکمل ہو نے کی وجہ سے منسوخ ہوگئے ۔ 


مذکورہ تینوں آ یا ت کو سامنے رکھنے سے اور پھر صرف مسلمانوں کی نعشوں کے محفوظ رہنے سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ واقعی دین اسلام ہی سچا مذہب ہے۔اور کسی بھی غیر مسلم یہودی و عیسا ئی اور ہندو وغیرہ کی لاش محفوظ نہ رہنے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ دین اسلام کے سوا تمام ادیان و مذاہب نامکمل ہیں اور منسوخ ہو گئے ہیں۔


اس بات کی تائید قرآن و حدیث کے علاوہ کروڑوں مسلمانوں کی محفوظ نعشوں سے نیز مٹی اور قبر کے کیڑے مکوڑے کے نعشوں کے نہ کھا نے سے بھی ہو تی ہے کہ اﷲ تعا لیٰ کے فضل سے یہ قبر کے مٹی اور کیڑے مکوڑے بھی سمجھتے ہیں کہ دین اسلام ایک سچا اور اﷲ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب ہے اور اسکے عقا ئد و اعمال صحیح ہیں اور یہ کہ جس مسلمان نے اخلاص نیت کے ساتھ دین اسلام پر عمل کیا ہے ان کے نعشوں کو سڑنے گلنے نہ دو اور نہ ہی اپنے غذا بناؤ ۔جبکہ دوسرے اربوں نام کے مسلمانوں کی نعشیں سڑ گل جا تی ہیں کیونکہ ان کی زندگی اسلام کے مطابق نہیں ہو تی۔ نیز تمام غیر مسلموں کی نعشیں بھی سڑ گل جا تی ہیں کیونکہ ان کے عقائد و اعمال صحیح نہیں ہو تے اور نا مکمل ہو تے ہیں اس بنا پر اﷲ تعالیٰ بھی ان سے ناراض ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر91میں ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے سو ان میں سے کسی کا زمین بھر سونا بھی نہ لیا جا ئے گا اگر چہ وہ معاوضہ میں اس کودینا بھی چاہے ان لوگوں کو سزا ئے درد ناک ہو گی اور ان کے کو ئی حامی بھی نہ ہوں گے۔اس آیت سے ثابت ہوا کہ کفر پر مرنے والے کافروں کیلئے درد ناک عذاب ہے اسی بنا پر ان کی لاشیں محفوظ نہیں رہتیں اور نہ ہی رہیں گی کیونکہ جسم و روح دونوں کو قبر ہی سے عذاب شروع ہوجا تا ہے لہٰذا ایسی حالت میں اس کا جسم محفوظ کیسے رہ سکتا ہے جبکہ ان کے برعکس انبیاء کرام علیہم السلام مرتے ہی جنت میں چلے جا تے ہیں اور قبر ہی سے راحت شروع ہو جا تی ہے اس بنا پر ان کی نعشیں سڑتی گلتی نہیں ۔اسی طرح شہداء کو قرآن کریم نے زندہ کہا ہے یعنی انکا جسم و روح دونوں زندہ رہتے ہیں لیکن ان کی وہ زندگی شعوروادراک میں نہیں آسکتی۔اس بنا پر ان کی نعشیں بھی محفوظ رہتی ہیں اور محفوظ ہیں کیونکہ غیب سے انکو معنوی غذا فراہم کی جا تی ہے۔اسی طرح اولیاء اﷲ بھی مجا ہدہ نفس کے ذریعے بلند درجات پالیتے ہیں اس بنا پر اﷲ تعالیٰ ان کی نعشوں کو محفوظ کر دیتا ہے۔ مگر جو غیر مسلم کفر سے تو بہ نہ کرسکے اور زندگی میں اسلام میں داخل نہ ہوسکے اور کفر کی حالت میں ہی مر جا تا ہے اسے عذاب قبر شروع ہو جا تا ہے ۔بلکہ سورۂ البقرۃ کی آیت نمبر162/161میں ہے کہ ایسے کافروں پر اﷲ تعالیٰ کی،فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو تی ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جا ئیں گے۔ان سے نہ تو عذاب میں کمی آ ئے گی اور نہ ہی انہیں عذاب سے مہلت ملے گی۔ 


لعنت کامطلب اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کے ہیں ۔تو جب کفر کی حالت میں مرنے والے کفار پر اﷲ تعالیٰ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو توبھلا بتائیں ان کی نعشیں محفوظ کیسے رہ سکتی ہیں؟ نیز یہ صرف قرآن نہیں بلکہ مشاہداتی و تحقیقاتی رپورٹ بھی اس کی تائید کرتی ہے۔غرضیکہ اب تک دلائل و براھین اور مسلمانوں کی محفوظ نعشوں سے ثابت ہوا کہ دین اسلام ہی سچا مذہب ہے۔نیزقرآن کریم کے دلائل مذکورہ اور غیر مسلموں کی لاشوں کے محفوظ نہ رہنے سے ثابت ہوا کہ دین اسلام کے سوا تمام ادیان و مذاہب نا مکمل ،منسوخ یا باطل ہیں۔زندگی رہی تو آئندہ میں مسلمانوں کی محفوظ نعشوں کے چند واقعات ذکر کروں گاانشاء اللہ۔

Coronavirus Cure Pakistan