میں ایسی ہستی کی پوجا کیو ں نہ کروں؟

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 05, 2013)

میں ایسی ہستی کی پوجا کیوں نہ کروں جو اپنے وفادار دوستوں کے مرجانے کے بعدان کی لاشوں کو بھی غیرمرئی اور روحانی غذادے کر تروتازہ اور صدیوں تک مٹی میں سٹر گل جانے سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ا ن کے خون اور جسم کو بھی معطر کر دیتا ہے اور جو کفن کا کپڑا ان کے جسم کو مس کر رہا ہوتا ہے وہ بھی صدیوں تک مٹی میں سڑنے گلنے سے محفوظ رہتا ہے۔

میں ایسی ہستی کی پوجا کیوں نہ کروں جو اپنے بے وفا، دھوکے باز، غدار، نافرمان، طوطا چشم، جھوٹے اور نام کے دوستوں یعنی فاسق و فاجر مسلمانوں یا اپنے باغیوں یعنی غیر مسلموں کی لاشوں کو بدبودار ہونے ، پھولنے پھٹنے اور مٹی میں سڑ گل جانے سے نہیں روکتا چاہے وہ کتنے ہی طاقتور، مالدار اور حاکم وقت ہوں۔

میں ایسی ہستی کی پوجا کیوں نہ کروں جس کی بات قبر کی مٹی اور قبر کے کیڑے مکوڑے بھی مانتے ہیں کہ اس کے دوستوں کی لاشوں کو نہیں کھاتے اور اسکے جھوٹے دوستوں اور باغیوں کی لاشوں کو کھاجاتے ہیں۔

میں ایسی ہستی کی پوجا کیوں نہ کروں جو اپنے وفادار دوستوں کو مرنے کے بعد بھی بے سہارا اور بھوکا ننگا نہیں رکھتا اور ظاہری تمام وسائل ختم ہوجانے کے باوجود ان کوروحانی غذا دینے پر قادر ہے۔

میں ایسی ہستی کی پوجا کیوں نہ کروں جواپنے وفادار دوستوں کو مرنے کے بعدبھی نہیں بھولتا اور ان کا خیال رکھتا ہے۔ وہ کتنا طاقتور ہو گا کہ قبر کی مٹی اور کیڑے مکوڑے بھی اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں اور کفن کا کپڑا تک اسکی بات مانتے ہیں۔وہ کیسا صاحب علم ہوگا جو یہ جانتا ہو کہ سڑ گل جانے والی شئی کو کیسے محفوظ رکھتا جاتا ہے اور کیسے اسے غذا دی جاسکتی ہے۔

میں ایسی ہستی کی پوجا کیوں نہ کروں جو اگراپنے وفادار دوستوں کے مرجانے کے بعد ان کی لاشوں کا اتنا خیال کرتا ہے توزندگی میں ان کی ضروریات اور آسائش کا کتنا خیال کرتا اور رکھتا ہوگا۔ کیا دنیا میں کوئی انسان یا جن موجود ہے یا ماضی میں گزرا ہے جو مذکورہ ہستی جیسا صاحب علم، طاقتور اور وفادار ہو؟ یا جس نے اپنے دوستوں کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کا دعویٰ کیا ہو ؟یا جس کی حکومت قبر کی مٹی اور اس کے کیڑے مکوڑوں پر بھی ہو؟ نہیں ، نہیں ، نہیں!

تو پھر میں کیوں نہ ایسی ہستی پر اپنی جان اور اپنا مال بلکہ اپنی تمام چیزیں قربان کردوں اور اس کی خوشی کیلئے اپنی ساری محبتیں، چاہتیں وغیرہ اس پر نثار کردوں اور وقف کردوں کیونکہ جو ایسی ہستی ہو واقعی وہ اس لائق ہے کہ میں اس کیلئے وہ سب کچھ کروں جو وہ چاہے۔

اس ہستی کو میں عربی زبان میں اللہ، فارسی میں خدا، ہندی میں ایشور اور انگریزی میں Godیا Lordکہتا ہوں اور مذکورہ خوبیوں کی وجہ سے اس کے دین اسلام کو مانتا ہوں کیونکہ اس نے دین اسلام ہی کے سچے ماننے والے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے والوں کو اپنا دوست کہا ہے اور ایسے ہی دوستوں کی نعشوں کو بھی تروتازہ حالت میں صدیوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

میں صرف اس علم سے اتنا متاثر ہوا ہوں کہ اس نے میرے دین و دنیا کے تمام تر کامیابیوں کے دروازوں کو کھول کر رکھا دیا ہے اور صرف اسی علم کی بنا پر اللہ کے فضل سے شیطان اور باطل قوتوں کے ہتھکنڈوں اور وسوسوں سے محفوظ رہا ہوں کیونکہ جب میں نے آسمان، چاند، سورج، زمین، ستارے، اسی طرح زمین کی تخلیق اور آسمان وزمین کے مابین دیگر مخلوقات پر غور کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنی چاہی تو شیطان اور شیطان نما انسانوں نے یہ شوشہ اور وسوسہ چھوڑ دیا کہ کائنات ایک دھماکے سے وجود میں آئی ہے کسی خالق کی تخلیق سے نہیں ۔

جب میں نے اپنے آپ پر غور کرکے اور انسان کی تخلیق پر غور کرکے اللہ تعالیٰ کو پانا چاہا تو یہاں بھی شیطان اور شیطان نما انسانوں نے وسوسہ چھوڑا کہ انسان تو ابتداء میں بندر تھا۔ اگرچہ میں نے مذکورہ وسوسوں کو قبول نہیں کیا مگر ایک ایسے علم کی تلاش میں تھا جس سے ان وسوسوں کے دروازوں کو بند کرسکوں اور باطل قوتوں کو مکمل اور تسلی بخش دلائل دے کر نہ صرف اپنی جان چھڑواسکوں بلکہ جو لوگ ان وسوسوں میں ابھی تک مبتلا ہیں ان کی جان بھی چھڑواسکوں تاکہ وہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں تواللہ نے میری دلی خواہش پوری کردی اور اپنے خصوصی فضل سے ایسا علم عطا کردیا جس سے میں اللہ کی معرفت حاصل کرسکا اور دشنمانِ اسلام اور اسکے باغیوں بلکہ نام کے مسلمانوں کو بھی مطمئن اور خاموش کردیا۔

اللہ نے اس علم میں اتنی گہرائی عطا کردی ہے کہ جب بھی شیطان اور شیطانی قوتوں نے صراطِ مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کی تو اللہ نے اس علم کے ذریعہ فوراً مجھے ہدایت دیدی کہ کیا کوئی ہے جو کروڑوں کی تعداد میں سچے مسلمانوں کی نعشوں کو صدیوں سے تروتازہ حالت میں محفوظ رکھ سکے اور اپنے باغیوں اور کافروں کی لاشوں کو ہر حال میں گلا سڑا کر نیست و نابود کردے؟ 

اسی سے انسان کو کامل یقین ہوجانا چاہیے کہ واقعی حضرت محمدﷺ کا لایا ہوا دین اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور واقعی اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور جن وانس ہے۔لہذا میں دونمبر کے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا آپ لوگ کم از کم اپنی ہی بھلائی کیلئے اس علم پر غور کرلیں تاکہ مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنا آسان ہوجائے اور غیر مسلموں کو دین اسلام میں داخل ہونے کی توفیق مل جائے۔

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی           تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

آپ سب اکیلے میں اللہ کے اس علم پر غور کریں اور سوچیں کہ نعوذ باللہ اگر دین اسلام سچا دین نہ ہوتا تو اس کے لانے والے حضرت محمدﷺاور پرچار کرنے والوں کا جسم صدیوں سے تروتازہ حالت میں کیسے محفوظ رہتا؟ اور اگر قرآن کسی انسان کی بنائی ہوئی کتاب ہوتی تو اس کتاب کے ماننے والوں کی لاشیں کیسے محفوظ رہ سکتی تھیں اور رہ رہی ہیں؟

Coronavirus Cure Pakistan