زمین کے اوپر بھی مسلمانوں کی چند ہزار لاشیں محفوظ رہنی چاہئیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 03, 2013)

جیسا کہ میں نے اللہ کے فضل و کرم اور اسکی توفیق سے قرآن و حدیث اور مشاہدہ کی روشنی میں یہ تحقیق کی ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم، شہدائے اسلام اور اولیاء اللہ سمیت دیگر سچے مومنین و مومنات کی کروڑوں کی تعداد میں نعشہائے مبارکہ صدیوں سے بغیر کیمیکل استعمال ہوئے بالکل تازہ حالت میں زمین کے اندرمحفوظ ہیں جن میں سے کچھ کے واقعات منظر عام پر بھی آچکے ہیں جنکا تذکرہ میں نے شواہد کے ساتھ اپنی ویب سائٹ www.RightfulReligion.comاور دیگر مضامین کے اندر بھی کیا ہے۔اسکے علاوہ بھی بہت سے واقعات کا تذکرہ تفصیل کے خوف سے نہیں کیا کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے قیامت تک کوئی انسان بھی جھوٹا ثابت نہیں کرسکتا۔ اسکے ساتھ ہی میں نے اس بات کی بھی وضاحت اور وجہ بیان کردی ہے کہ غیر مسلموں میں سے کسی کی بھی لاش تروتازہ حالت میں حضرت محمدﷺ کے زمانے سے اب تک کیوں محفوظ نہیں ہے اور کیوں محفوظ نہیں رہتی ہے۔اب صرف یہ کام رہ گیا ہے کہ ان مذکورہ حقائق کو دنیا کے تمام انسانوں تک تمام زبانوں میں پہنچادیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت دیدے اور اتمام حجت پوری ہوجائے اور بروزِ قیامت کوئی کافر یہ نہ کہہ سکے کہ دین اسلام کی حقانیت دوسرے ادیان و مذاہب کے مقابلے میں میرے اوپر منکشف نہیں ہوئی تھی۔

مگر چونکہ یہ محفوظ لاشیں زمین کے اندر ہیں جنہیں تمام غیر مسلموں کو دکھانا مشکل ہے اور دوسری جانب میرے پاس فی الوقت اتنے وسائل بھی نہیں کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ اس علم کو پوری دنیا کے انسانوں تک پہنچا سکوں اور دنیا کے سامنے اس پر بحث کرسکوں اور دوسروں سے کرواسکوں۔ اس لئے جب میں نے اللہ کے فضل و کرم اور اسکی توفیق سے بہت غور و خوض کیا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ زمین کے اوپر بھی مسلمانوں کی چند ہزار محفوظ لاشیں رہنی چاہئیں تاکہ بغیر کدوکاوش کے یہ علم دنیا کے غیر مسلموں تک خود بخود پہنچ جائے اس لئے کہ اِس وقت پوری دنیا ایک محلہ کی طرح بنی ہوئی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں اگرکوئی حیرتناک واقعہ ظہورمیں آتا ہے تو میڈیا کے ذریعے لمحوں میں مختلف زبانوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ لہذا جب ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کی لاشیں زمین کے اوپر تروتازہ حالت میں بغیر کیمیکل استعمال کئے رکھی ہوئی ہونگی تو لامحالہ یہ خبر دنیاکے انسانوں تک میڈیا کے ذریعہ اور کانوں کان ضرور پہنچ جائے گی۔نیز چونکہ ہم نے چیلنج کردیا ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کی لاش نہ توبغیر کیمیکل استعمال کئے حضرت محمدﷺکے زمانے سے تروتازہ حالت میں محفوظ ہے اور نہ ہی محفوظ رہتی ہے اور نہ ہی محفوظ رہ سکے گی۔ لہذا اس چیلنج کی وجہ سے جب غیر مسلم دنیا اپنے غیر مسلموں میں سے کسی کی لاش بھی زمین کے اوپر محفوظ نہیں پائیں گے تو انشاء اللہ وہ لوگ ضرور بالضرور دین اسلا م میں داخل ہونگے کیونکہ دین اسلا م کی سچائی پر یہ دلیل یقیناناقابل انکاراور مشاہداتی ہوگی جبکہ دوسرے ادیان و مذاہب کی جانب سے ایسی ناقابل انکاردلیل قیامت تک نہیں آسکے گی لہذا غیر مسلموں کو دین اسلام کی سچائی کو بغیر شک و شبہ کے جاننے اور ماننے میں پریشانی نہیں ہوگی انشاء اللہ۔

دراصل جو غیر مسلم پیشوا اور اہل علم خواتین و حضرات ہیں وہ تو جانتے ہیں کہ دین اسلام ایک سچا مذہب ہے لیکن بہت سی رکاوٹیں ہیں جنکی وجہ سے وہ لوگ اپنے اپنے دین و مذہب کو چھوڑ کر دین اسلام میں داخل نہیں ہو پاتے ۔ کبھی کبھار یہ لوگ خفیہ طور پر دین اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھار اعلانیہ بھی لیکن ان میں اکثر کی یہ جرات نہیں ہوتی کہ اپنے نفس امارہ اور معاشرتی مسائل و پریشانیوں کا مقابلہ کرکے کھلے عام دین اسلام کی سچائی کا اعلان کریں یا اس میں کثیر تعداد میں داخل ہوجائیں اس لئے نہ صرف ان کیلئے اس بات سے دین اسلام میں داخل ہوجانا آسان ہوجائے گا بلکہ غیر مسلم عوام الناس کیلئے بھی جو اپنے اپنے مذہبی پیشواؤں کے بے سروپا اور غلط دلائل کی وجہ سے دین اسلا م میں داخل نہیں ہوپاتے ہیں ان کیلئے بھی ایک ناقابل انکار دلیل مہیا ہوجائے گی اور اس طرح انشاء اللہ وہ لوگ بھی دین اسلا م میں باآسانی داخل ہوسکیں گے اور شیطانی جالوں اور ہتھکنڈوں اور وسوسوں سے بچ جائیں گے۔

زمین کے اوپر ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کا پروگرام میں نے اس لئے بتایا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے میں نے اپنی زندگی کا نصب العین یہی بنایا تھا کہ کسی طرح میں غیر مسلموں کو دین اسلام کی سچائی اور دیگر ادیان و مذاہب کے باطل ہونے کے بارے میں سو فیصد مطمئن کر سکوں تاکہ وہ لوگ جہنم کے راستے سے ہٹ کر جنت کے راستے پر چلنے والے بن جائیں اور ایمان پر خاتمہ کی صورت میں جنت میں جانے کے قابل ہوجائیں۔ 

اس لئے کہ انسا ن کیلئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ جنتی بن جائے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہے۔ نیز سب سے بڑی بھلائی اگر آپ انسانوں کے ساتھ کرسکتے ہیں تو وہ یہی ہے کہ کسی طرح انہیں جنت کے راستہ پر ڈال دیں تاکہ اللہ کے فضل سے وہ جنتی بن جائیں جیسا کہ دین اسلام کی تعلیمات سے یہ بات ثابت ہے۔ اسی بنا پر میں نے انسانوں کی دنیا کی بھلائی کے ساتھ ساتھ ان کی آخرت کی کامیابی کو اپنا مشن بنالیا اور اس بارے میں غور وخوض کرنا شروع کردیا۔

غیر مسلموں کو مطمئن کرنے کیلئے جو ناقابل انکار دلائل میرے سامنے آئے وہ تین ہیں۔ میں نے اس بارے میں مکمل غیر جانبدار ی کے ساتھ تحقیق کی ہے کہ آخر وہ کونسے دلائل یا ایسی کونسی باتیں ہیں جو دین اسلام کی سچائی پر سو فیصد اور قطعی ثابت ہوں اور غیر مسلموں میں سے کوئی بھی غیر مسلم ان ناقابل انکار دلائل کا توڑ نہ کرسکے تو سچ پوچھئے یہ مندرجہ ذیل تین دلائل ایسے ہیں جو دین اسلام کی سچائی پر منہ بولتا ثبوت ہیں اورانہیں کوئی بھی غیر مسلم رد نہیں کر سکتا ۔ نیز غیر مسلموں کے پاس ان تینوں دلائل کے مقابلے میں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں ہے جو ہر قسم کے شبہ سے بالاتر اور ان کے ادیان و مذاہب کی سچائی پر ایسی قطعی اور ناقابل انکار دلیل ہو کہ ہر کوئی اس دلیل سے مطمئن ہوسکے۔

بہرحال میں سب سے پہلے تہہ دل سے اللہ کا مشکور ہوں کہ اس نے مجھے یہ دلائل دیئے اور ساتھ ہی ساتھ میں حضرت محمدﷺ سمیت ان کے اہل بیت، تمام انبیاء کرام علیہم السلام ،صحابہ کرام، شہدائے اسلام، اولیاء کرام ،دین و دنیا کے دیگر اساتذہ کرام، میرے جنات و مؤکلات اور خصوصاًاپنے ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، پھوپھا ، پھوپھی، چچا، چچی اور بھائی بہن نیز مخلص دوستوں کا مشکور ہوں کہ جن کی دعاؤں، تعاون اور فیوض کی برکت سے اس قابل ہوسکا کہ یہ تینوں دلائل اکٹھا کرسکا۔

پہلی دلیل یہ کہ آج بھی الحمداللہ بہت سے مسلمان دنیا میں زندہ ہیں جو بغیر کیمیکل استعمال کئے آگ میں داخل ہوجائیں اور نہ جلیں لیکن آج بھی ایسا کوئی غیر مسلم نہیں جو بغیر کیمیکل استعمال کئے آگ میں داخل ہوجائے اور نہ جلے۔ گویا یہ آگ کا فیصلہ ہے کہ واقعی دین اسلا م ہی سچا مذہب ہے اور دوسرے ادیان و مذاہب منسوخ و باطل ہیں۔ اس لئے کہ آگ ایک غیر جانبدار مخلوق ہے جو زبان تو نہیں رکھتی مگر اللہ کے اذن اور اسکے حکم سے اپنی تاثیر سے فیصلے سنا دیتی ہے ۔

دوسری دلیل زمین کے اندر کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کی لاشوں کا تروتازہ حالت میں صدیوں سے محفوظ رہ جانا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کسی بھی غیر مسلم کا بغیر کیمیکل استعمال کئے تروتازہ حالت میں محفوظ نہ رہنا ہے۔جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صرف دین اسلام ہی سچا دین و مذہب ہے اور دوسرے ادیان و مذاہب باطل یا منسوخ ہیں۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں اللہ کے اذن اور اس کے حکم سے مسلمانوں کی لاشیں زمین کے اوپر بغیر کیمیکل استعمال کئے محفوظ رہ سکتی ہیں اور اس کے لئے تیاری شروع کردی گئی ہے اور میرا یقین ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ کیونکہ اگر اللہ روحانی غذا دے کر مسلمانوں کی لاشوں کو صدیوں سے تروتازہ حالت میں زمین کے اندر رکھ سکتا ہے وہ اس بات پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے کہ اپنے نیک بندے اور بندیوں کی نعشوں کو روحانی غذا فراہم کرکے زمین کے اوپر بھی تروتازہ حالت میں محفوظ رکھے انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ سے میری پرخلوص دعا ہے کہ یا اللہ اپنی قدرت کاملہ کے اظہار اور غیر مسلموں پر اپنے دین مبین کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے میری یہ دعا قبول کر اورایسا کردے تاکہ حق اپنی پوری طاقت کے ساتھ ساری دنیا کے سامنے ظاہر ہوجائے اور باطل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نیست و نابود ہوجائے۔

نعوذ باللہ زمین کے اوپر لاشوں کے محفوظ رکھنے سے میرا مقصد حضرت محمدﷺ کی سنت کی خلاف ورزی ہرگز نہیں بلکہ اربوں سنتوں، واجبات و فرائض کے حصول کیلئے ایک ادنی سی کوشش ہے۔ اس لئے کہ اربوں غیر مسلم انشاء اللہ اس دلیل سے مطمئن ہوکر جب مسلمان ہوں گے تو اس طرح اربوں فرائض، واجبات و سنن کی ادائیگی کا ثواب ملے گا نیز وہ دنیا اور شیطانوں کی اربوں چالوں اور فتنوں سے بچ سکیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تو بہت ہی سستا سودا ہے کہ آسانی سے دین اسلام غالب ہوجائے اور دنیا سے غربت و جہالت ، دہشت گردی اور جنگ کا خاتمہ بھی ہوجائے (کیونکہ مختلف ادیان و مذاہب کی وجہ سے ہی دنیا حالت جنگ میں مبتلاہے اور ہر مذہب کا پیروکار دوسرے مذہب کے پیروکار کو ختم کرنا چاہتا ہے )اوردین کا صرف معمولی سا نقصان ہو کہ سنتِ تدفین رہ گئی اور اس میں کوئی بڑا خطرہ نہیں اس لئے کہ ہم کروڑوں مسلمان روزانہ کروڑوں سنتوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ لہذابلا ضرورت تدفین کی سنت ادا نہ کرنے پرتنقید نہ کی جائے اور نہ ہی اعتراض کرکے وقت برباد کیا جائے۔ نیز اس کو فتنہ بھی نہ کہا جائے اور نہ ہی ایسا کرنے والوں کو فرقہ پرست یا گمراہ کہا جائے۔ یہ محض رضائے الٰہی کیلئے ایک کوشش ہے اور کوئی فرقہ پیدا کرنا یا گمراہی پھیلانا مقصود نہیں ہے۔

اگر خدانخواستہ اللہ کو منظور نہ ہوا اوراس نے میری دعا قبول نہیں کی تو پھر وہ کسی مسلمان کی لاش کو زمین کے اوپر محفوظ ہی نہیں رہنے دے گا کیونکہ اسکی اجازت کے بغیر کوئی لاش محفوظ نہیں رہ سکتی۔مگر اِس کے باوجود اگر زمین کے اوپر لاشیں محفوظ رہیں تو گویا اس طرف اشارہ ہوگا کہ میری دعا قبول ہوگئی اور اللہ کی رضا بھی اس کام میں شامل ہے۔ لہذا میں علمائے کرام اورمفتیان عظام سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اسے فتنہ نہ کہیں گے اور اس معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیں گے کیونکہ سارے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

Coronavirus Cure Pakistan