ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہے

تحریر: مولانا ابرار عالم (June 03, 2013)

میری تحقیق کے مطابق ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہے اور یہ کہنا درست نہیں کہ میں کسی مذہب کا پیروکار نہیں۔ وہ اس طرح کہ ہر انسان کے ماں باپ ہوتے ہیں کیونکہ ان دونوں کے ملاپ سے ہی اسکی پیدائش ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کس طرح آپس میں میاں بیوی بنے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کسی نہ کسی مذہب کی ہدایت کے مطابق ہی وہ دونوں میاں بیوی بنے ہوں گے۔ لہذا ایسی صورت میں جو بچہ بھی پیدا ہوگا اپنے ماں باپ کے تابع ہوکر کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ضرور ہوگا۔ پھر اس بچہ کی پرورش شروع ہوئی تو اس کے ماں باپ نے کسی نہ کسی مذہب کے ماتحت رہ کر ہی اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت شروع کی ہوگی۔نیز جب بچہ اسکول جانے لگا ہوگا تو پھر اس کا استادبھی کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہوگا جو اس کو اس مذہب کے مطابق تعلیم دے گا۔

اسی طرح جب بچہ بالغ ہوگا ، پھرجوان ہوگا ، پھر شادی کرے گا تو ضرور کسی نہ کسی مذہب کی ہدایت و نگرانی میں بہت سے کام سرانجام دے گا۔ غرضیکہ وہ کچھ بھی سوچے گا یا کچھ بھی کرے گا تو اس وقت سوچ اور کام کے بہت سے اختیارات ہونگے جن میں سے کسی ایک کو اختیار اور پسند کرے گا۔ اسطرح وہ اس مذہب کا پیروکار ہوگا۔ کیونکہ ہر مذہب میں کچھ عقائد و اعمال ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کو محیط ہوتے ہیں اور کوئی بھی انسان عقائد اور اعمال میں کسی مذہب سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔لہذایہ ثابت ہوا کہ ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہوتا ہے اور ایسا کوئی نہیں ہوسکتا جو کسی مذہب کا پیروکار نہ ہو۔ اور اگر ایسا ہوا بھی تو اسے بھی ایک اورمذہب مان لیا جائے گا۔جب یہ ثابت ہوگیاکہ ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہوتا ہے تو لازم ہوا کہ وہ سارے ادیان و مذاہب کو سچا نہیں مانے گا۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ وہ ہر مذہب کے ہر عقیدے کو اختیار کرے یا کسی بھی کام کے طریقوں میں سے بہت سے طریقوں کو اختیا رکرے۔ یعنی اگر کوئی ہر مذہب کو سچا سمجھے گا تو اس کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ ایک دن مسجد جائے ، دوسرے دن مندر جائے، تیسرے دن یہودیوں کے عبادت خانہ جائے، چوتھے دن عیسائیوں کے گرجا خانہ جائے،پانچوں دن بدھستوں کے عبادت خانہ جائے، چھٹے دن سکھوں کے گرودوار میں جائے اور ساتوں دن پارسیوں کے آتش کدہ جائے وغیرہ وغیرہ تاکہ تمام ادیان و مذاہب پر عمل ہوجائے کیونکہ اس کے نزدیک ہر دین و مذہب سچا ہے۔

نیز اگر ہر انسان یا کوئی انسان تمام ادیان و مذاہب کو جھوٹا سمجھتا ہو تواس صورت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ کسی بھی دین و مذہب کی پیروی نہ کرے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔جیسا کہ میں پہلے ہی بیان کرچکا ہوں کہ ماں باپ کسی نہ کسی مذہب کے پیروکار ہوتے ہیں جسکے مطابق وہ شادی کرتے ہیں۔پھر بچہ کی پیدائش کے بعد اس کی تعلیم و تربیت بھی کسی نہ کسی مذہب کے ماتحت کرتے ہیں نیز بہت سے مذہبی رسومات بھی ادا کرتے ہیں جو کہ بالکل واضح اور ناقابل انکار بات ہے۔

بہرحال مذکورہ بحث سے یہ لازم ہوا کہ ہر انسان صر ف کسی ایک ہی مذہب کو سچا جانتا اور مانتا ہے البتہ اس میں تمام انسانوں کا اختلاف ہے ۔لہذا ہر ایک اپنے اپنے مذہب کو ہی سچا مانتا ہے ۔ حقیقت میںیہ بات ناممکن ہے اس لئے کہ اِس صورت میں ہر مذہب جھوٹا ہو رہا ہے۔ لہذا میری دلیل یہی ہے کہ دنیا کے انسان اس جہالت سے نکلیں اور اس ایک سچے مذہب کو تلاش کریں ایسے ناقابل انکار دلائل کی روشنی میں جو تمام انسانوں کے نزدیک قابل قبول ہو اور ہر قسم کے شبہ سے بالاتر ہو۔

میں سمجھتا ہوں کہ تقریباً ساڑھے پانچ ارب انسان یقیناًجہنم کے راستہ پر چل رہے ہیں اور اسی مقدار میں دنیا کے انسان بھی غربت و جہالت اور دیگر دنیاوی پابندیوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور یہ دنیا جہنم بنی ہوئی ہے۔اگر دنیا کے تمام انسان کے مل کر اس ایک مذہب کو تلاش کرلیں تو یہ دنیا جنت نما بن جائے اور کسی حکومت، فوج، ملک، تنظیم وغیرہ کا کوئی جانی و مالی نقصان بھی نہ ہو۔لیکن افسوس صد افسوس کی بات ہے کہ انسانی دماغ اِس وقت اس طرف مائل نہیں ہو رہا ہے۔معلوم نہیں کہ لوگوں کو سمجھانے اور اس بات پر قائل کرنے کیلئے اور کتنا وقت لگے گا مگر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یا اللہ ہم انسانوں کو اس بات کی توفیق دے۔آمین

Coronavirus Cure Pakistan