دنیا کے ہر مذہب کے چھ مذاہب دشمن ہیں

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 28, 2013)

اس وقت دنیا میں سات مشہور ادیان و مذاہب ہیں۔اسلام، ہندومت، بدھ مت،عیسائیت، یہودیت، سکھ ازم، پارسی ازم۔ اگر غور کیا جائے تومعلوم ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک مذہب کے دیگر چھ ادیان و مذاہب دشمن ہیں جسکا لازمی نتیجہ یہ ہواکہ ہر مذہب کے پیروکاروں کے دیگر چھ ادیان و مذاہب کے پیروکار دشمن ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ دنیا کے ہر انسان کے چھ انسان دشمن ہیں کیونکہ دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں کسی مذہب کو نہیں مانتا تو یہ آٹھواں مذہب ہوگا اور دیگر سات ادیان و مذاہب کے پیروکار اسکے دشمن ہونگے کیونکہ وہ بھی کسی نہ کسی کے مذہب کے ماننے والے ہی ہونگے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہندو مت کے چھ مذاہب یعنی اسلام ، بدھ مت، عیسائیت، یہودیت، سکھ ازم اور پارسی ازم دشمن ہیں اور اسی طرح بدھ مت کے چھ مذاہب یعنی اسلام ، ہندو مت، عیسائیت، یہودیت، سکھ ازم اور پارسی ازم دشمن ہیں۔ غرضیکہ مذکورہ ساتوں مذاہب میں سے ہر مذہب کے چھ مذاہب دشمن ہیں۔ 

اب اس صورتحال میں کہ پاکستان یا کوئی بھی اسلامی ملک کس طرح دیرپا طور پر پرامن اور ترقی یافتہ رہ سکتا ہے جبکہ چھ مذاہب کے پیروکار اس کے دشمن ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب تک پر امن اور ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔ اسی طرح فرض کریں کہ کوئی غیر مسلم ملک کس طرح دیرپا طور پر پرامن اور ترقی یافتہ رہ سکتا ہے جبکہ اس کے چھ مذاہب کے پیروکار دشمن ہیں۔اس لئے کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک کے بارے میں مستقبل کے حوالے سے یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہمیشہ پر امن اور ترقی یافتہ رہے گا کیونکہ موقع ملتے ہی اس کے چھ مذاہب کے دشمن پیروکار جو گھات میں ہیں اسے تنزلی کی راہ دکھا سکتے ہیں اور یہی سب ماضی میں ہوا اورہورہا ہے۔

اس لئے میں دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے پیروکاروں سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر یہ سب مستقبل میں پر امن و پر سکون اور خوشحال زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس کا واحدحل صرف اور صرف یہی ہے کہ تمام ادیان و مذاہب کے مذہبی پیشواء مل بیٹھ کر اس ایک مذہب کو ان ساتوں مذاہب میں سے ڈھونڈ نکالیں جوحقیقت میں خالق کائنات کے نزدیک سچا اور پسندیدہ ہے کیونکہ ان سب کا دعویٰ ہے کہ ان ساتوں میں سے کوئی ایک مذہب ہی سچا ہے۔نہ تو ساتوں مذاہب سچے ہیں اور نہ ہی ساتوں مذاہب جھوٹے ہیں۔ اگر اس حقیقت کو قبول نہیں کریں گے تو کسی بھی صورت میں کوئی بھی اسلامی یا غیر اسلامی ملک بم دھماکوں، خود کش حملوں، گوریلا جنگوں، ایٹمی جنگوں، غربت و جہالت و دیگر پریشانیوں سے نجات نہیں پائے گا جیسا کہ ماضی کی تاریخ گواہ ہے اور حال کو ہم خود دیکھ بھی رہے ہیں۔امید ہے کہ دنیا کے انسان خصوصاً مذہبی و سیاسی پیشواء اس طرف توجہ دیں گے۔

Coronavirus Cure Pakistan