غیر مسلموں نے حضرت محمدﷺ کے بارے میں انصاف نہیں کیا

تحریر: مولانا ابرار عالم (October 11, 2012)

"اگر دنیا کے انسان خصوصاً غیر مسلم انصاف کریں اور حقیقت میں کھلے دل و دماغ کے ساتھ محمدﷺ کی ذات اور انکی صفات پر غور کریں تو ان کے اوپر آپﷺ کی ذات کی صفائی و پاکیزگی کھل کر سامنے آجائے گی لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ دانستہ طور پر حسد و بغاوت میں آپﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہیں اسکے ثبوت کیلئے مندرجہ ذیل مضمون کا غور سے مطالعہ کریں"

میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ مضمون لکھنے کی توفیق دی اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ موقع و محل کے اعتبار سے حق بات لکھوادے اور درود و سلام پیش کرتا ہوں اس صادق وامین ہستی پر جن کاجسد مبارک 1400سال سے زائد عرصہ سے قبر میں زمین کے اندر صحیح و سالم اورتازہ خون سمیت بالکل محفوظ ہے۔

آج تمام مسلمان پوری دنیا میں اپنے آخری نبی و رسول محمدﷺ کی توہین و گستاخی پر سیخ پا ہیں اور بالکل ہونا چاہئے کیونکہ کوئی بلا وجہ ہماری ماں بہن کو گالی دے اور ہم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والی صورتحال میں رہیں تو یہ ہماری بزدلی بھی ہے اور بے غیرتی بھی ہے چہ جائیکہ کوئی ایسی ہستی کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا اور توہین آمیز فلم تک بنا ڈالے جوہمارے ایمان، آخرت کی کامیاب زندگی کا مدار اور کائنات کی تمام چیزوں حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوں اور ہم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والی صورتحال میں رہیں؟
آج یہ جرات ان ذلیل و گھٹیا انسانوں کو اس لئے ہوئی کہ ہم مسلمانوں نے ماضی میں اپنی ذمہ داری اخلاص سے نہیں نبھائی اور وہ یہ کہ ہم صداقت اسلام، صداقت قرآن اور محمدﷺ کی ذات سے متعلق صداقت و حقانیت کو لے کر ان غیر مسلموں تک نہیں گئے جو میڈیا سے بھی دور ہیں۔ بھلا بتائیے کہ وہ غیر مسلم کسی طرح اسلام کی جانب راغب ہوں گے؟ نیز جو غیر مسلم میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں میڈیا کے ان کے ہاتھوں میں یرغمال ہونے کی وجہ سے ان کے ذہن کو ہم نے اسلام، قرآن اور محمدﷺ کی ذات سے متعلق صاف نہیں کیا۔ اس پر مزید یہ ہوا کہ دین اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی اور میدان جنگ میں مجاہدین کے ہاتھوں شکست و خواری کی وجہ سے غیر مسلم خفیہ ادارے اور ایجنسیاں وغیرہ نے مل کر حسد کی آگ میں جل کر ذلیل اور گھٹیا لوگوں کو کبھی قرآن اور کبھی محمدﷺ کی ذات کے خلاف اکساکر ہم مسلمانوں کو ازحدمشتعل ہونے پر مجبور کردیا۔
ہم مسلمان مل کر یہ عہد کرلیں کے سنت رسولﷺ کے مطابق صداقت اسلام کو لے کر بلاواسطہ غیر مسلموں تک جائیں گے اور ان سے باتیں کریں گے اوران کو باطل ادیان کے اندھیروں سے نکال کر دین اسلام، قرآن اور محمدﷺ کی صداقت کی روشنی کی طرف لانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ حضور نبی کریم محمدﷺ کی سنت ہے کہ وہ دین کو لے کر غیر مسلموں تک بھی گئے۔ کبھی وفود بھیج کر تو کبھی خطوط بھیج کر وغیرہ وغیرہ۔آج مسلم پیشواء و رہنما و صوفیا و علماء وغیرہ اپنی ساری طاقت دو ارب مسلمانوں پر ہی وعظ و نصیحت کرنے میں خرچ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پانچ ارب انسان جو غیر مسلم ہیں دین اسلام کے شفاف پانی کو ترس رہے ہیں اور کوئی ان کی پیاس بجھانے کو تیار نہیں ہے۔
کچھ لوگ صرف میڈیا پر زبانی جمع خرچ کرتے ہیں مگر تقریباً تین ارب غیر مسلم تو میڈیا سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ ہم کم از کم کلمہ گو تو ہیں کسی نہ کسی طرح انشاء اللہ کچھ ہزار سال جہنم کی جیل میں سزا کاٹ کر یا حضرت محمدﷺ کی سفارش سے جنت میں چلے ہی جائیں گے اگر ہمارا خاتمہ اسلام و ایمان پر ہوا۔لیکن پانچ ارب غیر مسلم جو کہ سرے سے کلمہ گو ہیں ہی نہیں ان کو کلمہ گو کون بنائے گا؟ لہذا ہمیں اس طرف بھی خصوصی طور پر توجہ دینی ہوگی۔ دنیا میں ہمیشہ کیلئے امن و دین اسلام کو غالب کرنے کے یقینی اور ناقابل انکار طریقے کو جاننے کیلئے مطالعہ کریں میری ویب سائٹس :
RightfulReligion.com | PeaceinWorld.com | ReligiousUN.org
بہرکیف جہاں ان غیر مسلموں کی غلطی ہے وہیں ہم مسلمانوں کو بھی بہت سی کوتاہیاں ہیں۔اب میں ایسی دلیل پیش کرنے جارہا ہوں جس سے آپ کسی بھی غیر مسلم کو محمدﷺ کی ذات سے متعلق، ان کی صداقت و حقانیت اور پارسائی وغیرہ سے متعلق مطمئن کرسکتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ جمع الفوائد جلد نمبر ایک حدیث نمبر 1924میں ابو داؤد شریف اور نسائی شریف کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے کہ ابو داؤد میں کتاب الصلوٰۃ باب ابواب تفریع الجمعۃ میں حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ جمہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجنا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ حضورﷺ آپ تو(مرنے کے بعد مٹی میں) بوسیدہ ہوچکے ہوں گے؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ نے زمین کو انبیاء کے جسد کو کھانے سے منع کردیا ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تمام انبیاء کرام کا جسم محفوظ ہے نیز محمدﷺ کا جسم بھی محفوظ ہے۔زمین میں بذات خود کسی جسم انسانی کو اپنے اندر محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو دوسرے فاسق و فاجر اربوں مسلمانوں نیز یہود و نصاری و دیگر غیر مسلموں کی لاشیں بھی زمین میں محفوظ رہتیں اور چند سالوں ہی میں سٹر گل نہیں جاتیں۔ نیز یہ حفاظت کسی فرشتہ یا جن کی جانب سے بھی نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی ثبوت ابھی تک کسی کے پاس نہیں ہے۔
لہذا اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ حفاظت زمین کے خالق و مالک کی جانب سے ہواور سو فیصد ایسا ہی ہے جس کی جانب خود محمدﷺ نے واضح الفاظ میں اشارہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ(خالق کائنات) نے مجھ سمیت انبیاء کرام علیہم السلام کے جسم کو کھانے سے منع کردیا ہے اس لئے ان کا جسد مبارک کبھی بھی زمین میں بوسیدہ نہیں ہوگا لہذا تم لوگ کثرت سے جمہ کے دن مجھ پر درود بھیجنا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ محمدﷺ اور انبیاء کرام سے خوش اور راضی ہے اسی بنا پر اس نے اپنے محبوب و انبیاء کرام کے جسموں کو سڑنے گلنے سے بچانے کیلئے مٹی کو حکم دیدیا کہ ان ہستیوں کو مت کھانا۔
جب یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ (جسے ہم انگریزی میںGod/Lord، فارسی میں خدا اور ہندی میں ایشور کہتے ہیں) محمدﷺ سے خوش ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ واقعی سچے اور آخری نبی و رسول ہیں اور وہ اس طرح کہ آپﷺ اپنی زندگی میں دو اہم دعوے کرتے تھے۔ اول یہ کہ وہ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی بن کر نہیں آئے گا ۔ دوئم یہ کہ جبریل امین (فرشتہ) کے ذریعے اللہ کی جانب سے ان پر قرآن نازل ہوتا ہے۔اگر خدانخواستہ محمدﷺاپنے مذکورہ دونوں دعوؤں میں سے کسی کے اندربھی معاذاللہ جھوٹے ہوتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اتنا بڑا جھوٹا دعویٰ کرنے والے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائے اور اس حد تک خوش ہوکہ مٹی کو ان کی نعش کھانے سے بھی منع کردے؟ کیونکہ ہم جھوٹے مسلمانوں کا حشر دیکھ رہے ہیں کہ ان کی لاشیں چند سالوں ہی میں سٹر گل جاتی ہیں کیونکہ جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے جیساکہ قرآن میں ہے اور ایسے لوگوں کا شمار فاسقوں اور فاجروں میں ہوتا ہے یا ان میں فسق و فجور کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔ لہذا ثابت ہوا کہ حضرت محمدﷺاپنے مذکورہ دونوں دعوؤں میں سچے تھے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ اپنے دونوں دعوؤں میں سچے تھے تو ثابت ہوا کہ آپ ﷺحقیقت میں اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں نیز واقعی قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو جبریل امین علیہ السلام کے ذریعے آپﷺ پر 23سالوں میں اترتا رہا۔اور جب یہ ثابت ہوا کہ آپﷺ واقعی آخری نبی و رسول ہیں تو لازم ہے کہ غیر مسلم اس بات کو مان لیں اور ان کی کسی بھی طرح توہین نہ کریں ورنہ وہ واجب القتل ہوں گے اور مسلمانوں پر فرض ہوگا کہ ایسے کافروں کو فوراً قتل کردیں تاکہ فساد کا خاتمہ ہو۔
نیز جب یہ ثابت ہوا کہ قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے تو پھر دین اسلام کی سچائی بھی ثابت ہوگئی اس لئے کہ دین اسلام کی اصل قرآن ہی ہے اور دوئم اساس اقوال رسولﷺاورانکے افعال و تقاریر ہیں۔
بہرحال یہ ایک ایسی دلیل ہے جو کہ ناقابل انکار ہے اس لئے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک معجزہ ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ جسم انسانی کا زمین کے اندر بغیر کھائے پیئے صدیوں سے محفوظ رہناکوئی معمولی بات نہیں بلکہ معجزہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔
یہ دلیل اس لئے بھی موثر ہے کہ اگر ہم مسلمان براہِ راست غیرمسلموں کو مطمئن کرنے کیلئے قرآن و حدیث کے دلائل پیش کرتے ہیں تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ جب مسلمان ہی نہیں ہیں تو وہ کیونکر قرآن و حدیث کی باتوں کو مان کرمحمدﷺ کو آخری نبی مان لیں گے اوران کا ادب و احترام حضرت عیسیٰ و موسیٰ علیہم السلام کی طرح کرنے لگیں گے؟ اس لئے مذکورہ طریقہ سے ان کے ذہنوں کو صاف کرنا غالباً زیادہ آسان ہوگا۔
اگر غیر مسلم یہ اعتراض کریں کہ مذکورہ بات تو حدیث سے ثابت ہے لہذا ہم کیسے مان لیں کہ حضرت محمدﷺ کا جسم محفوظ ہے؟ تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے حاکم نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے میں حضرت محمدﷺ نے انکے خواب میں آکر انہیں بتایا تھا کہ دو یہودی(ذلیل کتے )میری نعش تک پہنچنا چاہتے ہیں انہیں روکو ۔ اور آپﷺ نے حاکم کو ان دونوں یہودیوں کی شکل و صورت بھی دکھا دی تھی۔چناچہ حضرت نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ نے مدینہ منورہ کے تمام لوگوں سے ملاقات کی تو وہ ان دونوں یہودیوں کو پہچان گئے اور ان کو گرفتار کرکے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ واقعی وہ دونوں زیرزمین سرنگ کھود کر آپﷺ کے جسم کے قریب پہنچ چکے تھے اور مقصدآپﷺکی نعش مبارک کو نکال کر لے جانا تھا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہواکہ یہ دونوں نہایت ہی پاکباز اور زاہدمسلمانوں کے روپ میں تھے اور مسجد نبویﷺ میں کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے۔رات کو سرنگ کھودتے اور لوگوں کے بیدار ہونے پر سرنگ کے منہ پر مصلّی بچھاکر نماز پڑھاکرتے تھے مگر بالآخروہ پکڑے گئے۔
یہ واقعہ بہت مشہورہے اور اس کی تصدیق کیلئے سعودی عرب کی حکومت اورا ہل مدینہ سے بھی رابطہ کرکے پوچھا جاسکتا ہے۔اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ یہودیوں کو معلوم تھا کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود آپﷺ کا جسد مبارک محفوظ ہے۔ لہذا غیر مسلم اپنے ہی لوگوں کی دلیل کو مان لیں ۔ کیونکہ اگر جسد مبارک محفوظ نہ تھا تووہ دونوں سرنگ کھود کرکیا نکال کر لے جانا چاہتے تھے؟
اس کے بعد سعودی حکومت نے آپﷺ اور آپﷺ کے دونوں ساتھی حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کے چاروں جانب شیشہ پلائی ہوئی دیوار قائم کردی تاکہ آئندہ نہ کوئی ایسی گھٹیا و گھناؤنی حرکت کرسکے اور نہ ہی کامیاب ہوسکے۔
نیز اگر وہاں جسد مبارک محفوظ نہ ہوتا تو سعودی عرب کی حکومت مذکورہ دیوار قائم کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتی۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ واقعی حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی و رسول ہیں کہ اپنے انتقال کے ہزاروں سال بعد بھی روحانی طور پر اتنے طاقتور ہیں کہ حاکم وقت کے خواب میں آکر خفیہ معلومات فراہم کردیں اوردونوں یہودی کتوں کی شکل و صورت کو بھی دکھا دیا تاکہ باآسانی وہ دونوں پکڑے جاسکیں۔ اگر خدانخواستہ اللہ تعالیٰ آپﷺ سے آپ کے جھوٹے نبی ہونے کی وجہ سے(نعوذباللہ)ناراض ہوتااور تو آپ ﷺکبھی بھی اس بات کی اطلاع نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کو نہیں دے پاتے۔اس لئے کہ جس سے اللہ ناراض ہوجائے وہ تو مرنے کے بعد سزا اور عذاب میں گرفتار ہوجاتا ہے نہ کہ اس کی روح میں اتنی طاقت پیدا ہوجائے کہ زمین کے اوپر کیا ہورہا ہے اس کے بارے میں پتہ لگا لے اور روحانی طاقت کو استعمال کرکے زندہ انسان کی طرح کسی کو اطلاع پہنچائے؟
اگر غیر مسلم اس دلیل کو بھی نہ مانیں تو دوسرا جواب یہ ہے کہ آج دنیا میں بہت سے غیر مسلم جادوگر اور استدراجی طاقت رکھنے والے ہیں جو اپنی شیطانی اور استدراجی طاقت سے بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔ لہذا اگر ان کوسچائی کی تلاش ہے اور یقیناًہونی چاہئے تاکہ مرنے کے بعد والی زندگی کو تباہ ہونے سے بچالیں تو انہیں چاہئے کہ چند سال تک اپنے تمام ماہر و کامل جادگروں اور استدراجی و شیطانی طاقت رکھنے والوں سے معلوم کریں کہ کیا واقعی حضرت محمدﷺ کا جسد مبارک صدیوں سے تازہ حالت میں محفوظ اور صحیح و سالم ہے یا نہیں؟میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ سب تصدیق کریں گے کہ واقعی حضرت محمدﷺ کا جسد مبارک محفوظ ہے بشرطیکہ وہ لوگ جھوٹ نہ بولیں۔
لیکن اگر غیر مسلم پھر بھی مطمئن نہ ہوں تو سمجھ لیں کہ یہ لوگ ہٹ دھرم ہیں اور اللہ کا عذاب ہی ان کا مقدر ہے۔ اور ایسے ہٹ دھرموں کیلئے میراچیلنج ہے کہ اگر یہ لوگ سو فیصد ثبوت سے ثابت کردیں کہ آپﷺ کا جسد مبارک محفوظ نہیں ہے تو میں انہیں ایک لاکھ ڈالرز انعام دوں گا یا اپنے آپ کو انکے حوالے کردوں گا۔مگر وہ قیامت تک ایسا ثابت نہیں کرپائیں گے ۔ یا پھر تمام غیر مسلم مباہلہ کیلئے میدان میں آجائیں اور ہم مسلمان بھی میدان میں آجائیں اور اللہ کے عذاب کو دعوت دیں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو ان پر اپنا عذاب اور قہر نازل فرما تاکہ حق و باطل کا انصاف ہوجائے۔
مگر میرا یہ دعویٰ ہے کہ غیر مسلم اس پر بھی تیا ر نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے مذہبی پیشواؤں کو علم ہے کہ حضرت محمدﷺ واقعی آخری نبی و رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سچے بندے ہیں۔ البتہ ان کے عوام کو علم نہیں ہے اور وہ لوگ اندھیرے میں ہیں۔ ہم مسلمانوں کو ان کے عوام تک پہنچ کر ان کومذکورہ طریقوں سے سمجھانا چاہئے۔
آخر میں مسلمانوں سے گزارش ہے کہ ظاہر و باطن دونوں میں دین اسلام کی مکمل پیروی شروع کردیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت نازل ہو اور ایک بار پھردین اسلام غالب ہوسکے جیسا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں ہوا تھا۔ بغیر عمل صالح اور ترکِ حرام کے ان فتنوں میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل نہیں ہوسکتی چاہے ہم کچھ بھی کرلیں۔
دورنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوجا
سراسر موج ہو یا سنگ ہوجا

Coronavirus Cure Pakistan