کرامت کے ذریعے دین اسلام کو غالب کرنے کا آسان طریقہ

تحریر: مولانا ابرار عالم (August 18, 2012)

مجاہدین اسلام، مبلغین اسلام،علمائے کرام،صوفیا کرام اور دیگر مذہبی لوگوں کا مقصد چونکہ دین اسلام کو غالب کرنا ہی ہے لیکن موجودہ حالات میں مسلمانوں کے منتشر ہونے اور دنیا میں مادی طاقت میں نہایت ہی کمزور ہونے کی وجہ سے بظاہر اسلام کو مختصر وقت میں غالب کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ اس لئے میری رائے کے مطابق دین اسلام کو غالب کرنے کا سب سے آسان طریقہ کرامت کا ہے جیسا کہ میں ذکر کرنے جارہا ہوں۔

کسی بہت بڑے وسیع و عریض میدان میں جہاں لوگ باآسانی پہنچ سکتے ہوں حکومت یا زمین کے مالک سے اجازت لے کر نارِ نمرود کی طرح آگ روشن کرنے کیلئے کئی ٹن لکڑیاں اور کم ازکم ایک ہزار بکرے جمع کرلئے جائیں ۔ پھر الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں یہ اعلان کیا جائے کہ ایسے مسلمان اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جو مقام رضائے الٰہی حاصل کرنے کی وجہ سے اپنے بدن پر بغیر کیمیکل استعمال کئے آگ میں داخل ہوکر نہ جلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ہم سے رابطہ کریں کیونکہ ہم اسلام و کفر کا مقابلہ منعقد کروانے جارہے ہیں ۔پھر جتنے بھی اولیاء اللہ رابطہ کریں ان کا نام مع ولدیت ،پتہ اور رابطہ نمبر لے لیا جائے اور جب یہ لوگ آگ میں داخل ہونے کیلئے جانے لگیں تو ان سب کی جانوں کی طرف سے ان تمام بکروں کو ذبح کرکے صدقہ کی نیت سے غریبوں میں تقسیم کیلئے بھیج دیا جائے اور دعا کی جائے کہ یا اللہ اسلام و کفر کا مقابلہ ہونے جارہا ہے اس آگ میں داخل ہونے والے مسلمانوں کو آگ میں جلنے سے بچالے ۔خوب اخلاص اور گریہ و زاری سے دعا کی جائے۔ پھر جب یہ سب مسلمان تیا رہوجائیں تو دنیا کے تمام مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت، ہندومت، بدھ مت، سکھ ازم اور پارسی ازم کے پیشواؤں اور پیروکاروں کو دعوت دی جائے کہ وہ لوگ بھی اپنے بدن پر کیمیکل استعمال کئے بغیر اس آگ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھیں اگر انہیں یقین ہے کہ ان سب کا دین و مذب خالق کائنات کے نزدیک حق اور سچ ہے۔

میرا یقین کامل ہے کہ اس وقت بھی پوری دنیا میں بہت سے اولیا ء اللہ اور اللہ کے ایسے دوست مل جائیں گے جو اس آگ میں داخل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں گے۔لیکن ایک بھی غیر مسلم ایسا نہیں ہوگا جو اس آگ میں داخل ہونے کیلئے تیار ہوسکے اس طرح پوری دنیا کے غیر مسلموں پر دین اسلام کی صداقت و حقانیت کھل کر سامنے آجائے گی اور کوئی بھی غیر مسلم مذہبی پیشوا اپنے عوام کو نہ تو اندھیرے اور دھوکے میں رکھ سکے گا اور نہ ہی غیر مسلم عوام کو دین اسلام میں داخل ہونے سے روک سکے گا۔

نیز کم ازکم پانچ مسلم ڈاکٹر اورپانچ غیر مسلم ڈاکٹر دخول آگ کے وقت موجود ہوں جو متفقہ طور پر آگ میں داخل ہونے والے مسلم اور غیر مسلم دونوں کے بدن کوچیک کرکے یہ سرٹیفیکیٹ جاری کریں گے کہ آگ میں کودنے والے ان افراد کے جسموں کو ہم نے چیک کرلیا ہے اورانہوں نے اپنے بدن پر آگ سے بچاؤ کیلئے کوئی کیمیکل یا حفاظتی سامان استعمال نہیں کیا ہے۔ پھر میڈیا کے سامنے یہ لوگ آگ میں داخل ہوں۔

نیز جب تک غیرمسلموں میں سے کوئی بھی آگ میں جانے کیلئے تیار نہ ہو اس وقت تک کوئی بھی مسلم آگ میں نہ جائے کیونکہ ہمارا مقصد حق و باطل اور اسلام و کفر کی سچائی کو جانچنا اور پرکھنا ہے نہ کہ دکھاوا کرنایادنیا کے انسانوں کے سامنے اپنی شہرت کروانا ۔ لہذا اسلام و کفر کی سچائی کو اسی وقت جانچا اور پرکھا جاسکتا ہے اور دنیا کے انسانوں پر دونوں میں سے کسی ایک کی سچائی اسی وقت کھل کر سامنے آسکتی ہے جب کہ فریقین یعنی مسلم کے ساتھ غیر مسلم بھی اس جانچ اور پرکھ کو تسلیم کریں اور آگ میں جانے کیلئے مذکورہ طریقے سے تیار ہوں ۔ اس لئے میدان مہیاہونے ،لکڑیاں اکٹھی ہونے اور بکروں کے انتظام ہو جانے کے بعدبھرپور طریقے سے بذریعہ میڈیا دنیا بھر میں اس مقابلہ کی تشہیر کی جائے تاکہ دنیا کے تمام انسانوں تک اس مقابلہ کی خبر پہنچ جائے اور جب تک غیر مسلم تیار نہ ہوجائے آگ روشن کرنے یا آگ میں داخل ہونے کی تاریخ اور وقت طے نہ کیا جائے۔ بلکہ آگ روشن ہونے یا تاریخ مقابلہ طے ہونے کے بعد بھی جب تک غیر مسلم آگ میں جانے کیلئے تیار نہ ہو مسلمان آگ میں نہ جائے اورانتظار کرے۔

میرا یقین ہے کہ اگر میری مذکورہ بات پر عمل ہوا تو آگ روشن کرنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی اور غیر مسلم عوام دین اسلام میں تیزی سے داخل ہونے لگیں گے اور اس طرح آسانی سے دین اسلام غالب ہوجائے گا انشاء اللہ۔ کیونکہ غیر مسلم پیشواؤں کو یہ جرات ہی نہیں ہوگی کہ وہ آگ میں جانے کیلئے تیار ہوجائیں اس لئے کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ دین اسلام ہی سچا مذہب ہے مگر وہ لوگ شرم ،معاشرے کے خوف یا حسد و بغاوت کی وجہ سے دین اسلام میں داخل نہیں ہوپاتے اور اپنے عوام کو بھی اندھیرے اور دھوکے میں رکھتے ہیں ۔ لہذا جب مذہبی پیشوا جانتے ہیں کہ سچا مذہب صرف دین اسلام ہی رہ گیا ہے اور یہ کہ ان کا مذہب منسوخ ہے تو بھلا بتائیے کہ وہ کیونکر آگ میں جانے کیلئے تیا رہونگے؟ اور اگر بالفرض کوئی اپنے مذہب کی لاج رکھنے کیلئے جوش اور جذبے کے تحت آگ میں داخل ہوبھی جائے تو وہ یقیناًآگ میں جل جائے گا اور اس سے واپس ہی نہیں لوٹ پائے گا تو پھر اس کے مذہب کی سچائی کیسے ثابت ہوگی؟ بلکہ اس سے تو اس کے مذہب کامنسوخ و باطل ہونا ثابت ہوجائے گااور یہی ہمارا مقصد ہے۔

اور اگر کوئی غیر مسلم مذہبی پیشوا آگ میں جانے کیلئے آگے نہیں آئے گا تو ہم مسلمانوں کو للکارنے اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف بلانے میں آسانی ہوجائے گی کہ دیکھو غیر مسلموں میں سے کوئی بھی مذہبی پیشوا مسلمانوں کے مقابلے کیلئے نہیں آرہا ۔اس طرح غیرمسلم دنیا پر دین اسلام کی صداقت و حقانیت روز روشن کی طرح ثابت ہوجائے گی۔ نیز غیر مسلم عوام اپنے مذہبی پیشواؤں کو خود کہیں گے کہ تم ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ اسلام سچامذہب نہیں ہے اور ہمارا مذہب ہی سچا ہے تو جاؤ مقابلہ کرو، اب کیوں چھپتے ہو؟ اس طرح غیر مسلم عوام کو دین اسلام میں داخل ہونے کا باآسانی موقع مل جائے گا۔

اب صرف یہ بات رہ گئی کہ لوگ شاید اعتراض کریں کہ یہ مسلمان جادو کی وجہ سے آگ میں نہیں جل رہے ۔ اس کا جواب یہ دیا جائے کہ غیر مسلم دنیا جو کہ تقریباً 5.5ارب پر مشتمل ہے جتنا چاہیں وقت لے لیں اور اپنے پورے جادو کو استعمال کرکے اس آگ میں جانے کیلئے تیا رہوں۔ ہم مسلمان ان کی مرضی کے مطابق انہیں وقت اور مہلت دیں گے پھر مقابلہ ہوگا۔وہ جتنا بھی وقت لے لیں یہ مقابلہ ہرگز نہیں جیت سکیں گے اور اس طرح بھی ہماری ہی جیت ہوجائے گی کہ اگر جادو ہے تو لے آؤ۔لیکن چونکہ یہ جادو نہیں ہے لہذا وہ کچھ بھی کرلیں آگ میں جلنے سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے اور جل جائیں گے جبکہ مسلمان انشاء اللہ آگ میں جلنے سے محفوظ رہیں گے۔

ہر ملک کی اسلامی جماعتوں اور اولیاء کرام سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے ملک میں مذکورہ طریقے کے مطابق دین اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کریں ورنہ مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھوں اسی طرح ذلیل و خواراور قتل ہوتے رہیں گے۔

Coronavirus Cure Pakistan