Human Helping Center
سچا دین

عملی طور پر خدا کا وجود ثابت کرنا کیوں کر ممکن ہے اور کیوں ضروری ہے؟

تحریر: محمد نوح (June 11, 2019)

آپ مسلم ہیں لیکن یہ مضمون پڑھنے سے پہلے خود کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ غیرجانبدار ہوکر تیار کرلیں کیونکہ اسے پڑھنا اور اس کی گہرائی کو سمجھنا آپ کے لیے شاید آسان نہ ہوگا۔

اللہ کو یا کسی بھی مذہب کے خدا کو پریکٹیکل سے خالق کائنات ثابت کرنا ہی ضروری ہے۔ اس لیے کہ قرآن کی اہمیت صرف مسلم کے نزدیک ہے۔ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے نزدیک ان کی اپنی کتاب کی اہمیت ہے۔

تصوراتی خدا صرف کتابوں میں ہی ملتے ہیں۔ لہذا اگر ہم مسلم اپنا خدا صرف کتاب سے ماننے کے محتاج ہیں تو ہمیں ان غیرمسلموں پر بھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے جو صرف کتاب کی بنیاد پر اپنے خداوں کو مانتے ہیں۔

اسی طرح ملحدین پر بھی اعتراض کرنا غیرمناسب ہے جو مسلم و غیرمسلم کے خداوں پر تنقید و سوالات اٹھاتے ہیں اور پھر کتنے ہی مذہبی پیروکار تسلی بخش ثبوت نہ ہونے کے سبب خود ہی شک میں پھنس جاتے ہیں اور بالآخر اپنے کتابی خدا کو چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک طرف تو کتابوں کہانیوں والے خدا کے واقعات سنائیں جائیں اور اس کے اختیارات کی باتیں کی جائیں لیکن عملی ثبوت کی بات آئے تو صرف کتابوں کی بات کو ماننے پر اصرار کرنا کیونکہ کتابوں میں لکھا ہے؟

یہ عجیب و غریب حرکت ہے۔

اگر کتابی اصول پر ہی خدا محتاج ہے تو پھر تمام ادیان و مذاہب کے پیروکار ایک دوسرے پر تبلیغ کرنا بند کردیں۔ ایک دوسرے سے نفرت کرنا ختم کردیں۔ ایک دوسرے کے خداوں کی عزت کریں۔ ایک دوسرے کی کتابوں کو سچ مانیں۔ ایک دوسرے کے خلاف فساد اور دہشت گردی روک دیں۔ ایک دوسرے سے ڈرنے اور مارنے کے لیے کھربوں ڈالرز ہتھیاروں پر برباد کرنے کے بجائے تین ارب سے ذائد غریب انسانوں کی بنیادی ضروریات پر خرچ کریں۔

بغیر کتاب سچے خدا کا وجود پریکٹیکل سے ثابت ہونا لازمی ہے اور یہ سو فیصد ممکن ہے ورنہ اللہ اور دیگر خداوں کے تصوراتی اور کتابی خدا ہونے میں کوئی فرق نہیں ہوگا اور جس خدا کے وجود پر عملی ثبوت نہ ہو وہ اصلی خدا نہیں ہوسکتا بلکہ صرف تصوراتی خدا ہوگا۔

مثال کے طور پر اگر ایک انسان کا وجود ہے اور وہ بے پناہ طاقتوں کا ملک ہو اپنی لکھی ہوئی کتاب کے ساتھ تو اسے اپنی طاقت کا انکار کرنے والوں پر اپنی طاقت دکھانے منوانے کے لیے صرف کتاب کی محتاجی نہ ہوگی کیونکہ اس کا اپنا جیتا جاگتا وجود ہے۔ لیکن اگر کسی فرضی کردار کو گھڑلیا گیا ہو تو وہ صرف کتاب میں ہی ملے گا، کتاب کے بغیر اس کا کوئی حقیقی وجود نہ ہوگا اور اسی لیے اس فرضی کردار کو حقیقی ماننا محض جہالت و گمراہی ہوگی اور اس کردار سے حقیقی دنیا میں کوئ اختیار دیکھنے کی خواہش کبھی پوری نہ ہوگی۔

لہذا جب بھی عملی ٹیسٹ ہوگا تو اصلی انسان تو اپنے وجود کو منوالے گا لیکن فرضی کردار کہاں سے خود کو منوائے گا؟ یہ کبھی بھی ممکن ہی نہ ہوگا۔

اب میں دین اسلام سے مثال پیش کرتا ہوں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی ہونے اور اللہ پر یقین کے باوجود دل کے اطمینان کے لیے مردے کو ذندہ کرکے دکھانے کی خواہش کی جو اللہ نے پوری کرکے دکھائی۔

لہذا جب ایک نبی کو دل کے اطمینان کی خاطر اللہ کی قدرت پر ظاہری مشاہدہ کی ضرورت پڑی تو کیا 1400 سال بعد آج دنیا بھر میں پانچ ارب غیرمسلم و ملحدین نیز بے عمل مسلمانوں کی۔اکثریت کو اللہ پر یقین اور دل کے اطمینان کے لیے صرف کتاب اور کہانیاں کافی ہیں؟

ہرگز نہیں۔

اطمینان تو چھوڑیں اس دور میں تو یقین بھی ٹوٹ رہے ہیں۔

اسی لیے ماضی میں معجزات و کرامات بھی اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا ایک اہم حصہ رہے ہیں لیکن آج کے دور میں جنات، فرشتوں اور معجزات کو بھی مذاق بنایا جاتا ہے کیونکہ اکثر مسلم علماء کو اللہ کی قدرت پر وہ یقین کامل حاصل نہیں جو ماضی میں اللہ کے مومن بندوں (مثلا شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی، شاہ عقیق بابا، حضرت سلطان باہو، سید علی ہجویری وغیرہ) کو حاصل تھا۔ ان مومن بندوں نے معاشرے کے حالات کے مطابق قرآن کے علاوہ کرامات بھی استعمال کیں۔

یہاں تک کہ اگر صرف کتابوں کے قصوں کی بنیاد پر بات کی جائے تو حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے خلیفہ ہارون رشید کے دور میں سات منجھے ہوئے عیسائی راہبوں کو پانی پر کھڑے ہوکر مناظرے کی دعوت سے شکست دی تھی جو اس وقت کے مسلم علماء کو کتابی دلائل کے ساتھ بے بس کرچکے تھے، اور وہ تمام عیسائ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

اسی طرح خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ نے ہندووں کے مذہبی پیشواوں اور جادوگروں کو  کتاب سے نہیں بلکہ روحانی طاقت سے شکست دی تھی اور لاکھوں ہندووں کو اسلام قبول کروایا۔

ماضی میں ہوائ جہاز، فاسٹ ٹریول، ویڈیو کیمرے، لائیو اسٹریمنگ، گلوبل ولیج دنیا نہ تھی ورنہ یہ اللہ کے بندے دنیا بھر کے غیرمسلموں کو معجزات و کرامات سے ہی اسلام میں داخل کرکے اسلام غالب کروادیتے۔

لہذا اب یہ سب محض کتابوں میں قصوں کہانیوں کے طور پر رہ گیا۔

آج کی نسل پوچھتی ہے کدھر ہیں یہ پریکٹیکل ثبوت؟ کہاں ہیں معجزات و کرامات؟ کیمروں کے دور میں کدھر گم ہوگئے سب؟ 

مزید ستم یہ کہ کالے پیلے نیلے جادوگروں کے اشتہارات، دو نمبر جعلی عاملوں کی اکثریت اور ظاہر پرستی کے گدی نشین پیروں نے آج کی نسل پر شک و شبہات کی مزید کیلیں گاڑ دیں کہ کتابیں بھی مشکوک اور روحانیت بھی مشکوک۔

تبلیغ کرنے والے بہت سے مسلم اور علماء اعتراف نہیں کرتے کیونکہ عوام کے سامنے شرمندگی و ذلت اٹھانی پڑجائے لیکن وہ خود بھی کتاب کے سہارے اندر سے ڈرے سہمے رہتے ہیں۔ آپ چیک کرکے دیکھ لیں کہ جب انہیں خدا کے وجود پر خطرناک سوالات کا سامنا ہو تو ذاتیات پر اتر آتے ہیں، یا برا بھلا کہتے ہیں یا سوال کرنے والے کو کفر کا فتوی جھاڑ کر جان بچاتے ہیں۔ یہ ہے یقین و اطمینان نہ ہونے کا اثر۔

لہذا اکیسویں صدی میں تو پریکٹیکل ثبوت بہت ہی اہم ہے کیونکہ جدید دور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے جہاں ورچوئل ریلیٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجینس اور گرافکس و ویڈیو ایفیکٹس کے ذریعے بہت کچھ دکھادیا جاتا ہے۔ اس لیے خدا کو ثابت کرنے کے لیے کتاب اور ویڈیو کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔

یہاں مشاہدہ اور پریکٹیکل مانا جائے گا جو جادو، شعبدہ، کہانی، ویڈیو ایڈیٹنگ و دیگر تمام فضولیات سے پاک اور اعلی درجہ کا ہو۔

اسے دیکھ کر چیک کرنا اور دل مطمئن ہونا ضروری ہے اور وہ ثبوت اللہ کے وجود کو ثابت کرکے تمام خداوں کے وجود کو غلط بھی ثابت کرے۔

دنیا بھر میں اکثر مسلم پیشوا اور ان کے پیروکار اللہ کے وجود کو قرآن کی باتوں سے منوانا چاہتے ہیں جب کہ اسی قرآن پر رکھ کر اگر غیرجانبدار انسان کہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ بے اثر کرنے والی آیت سچ ثابت کرو تو بعض مسلم تلملاتے نظر آتے ہیں کہ بس لکھا ہے تو مانو۔ ہم نبی نہیں، معجزات اب نہیں ہوتے اور فلانہ ڈھمکانہ۔

اسی طرح ہندو، یہودی، عیسائی، آتش پرست، سکھ وغیرہ بھی اپنے خداوں کو کتابوں کہانیوں سے منوانے پر تلے ہیں۔ بلکہ انتہا تو یہ ہے کہ آپ دیکھ لیں کہ اسلام کے نام پر ہی کتنے گروپس قرآن کو استعمال کرتے ہیں اور سنی، شیعہ، قادیانی، بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث، منکر حدیث اور ناجانے کتنے فرقوں میں تقسیم ہوچکے ہیں جن میں کتابوں سے جنتی جہنمی ہونے اور حق و باطل کا فیصلہ نہیں ہوپارہا۔

اگر کتاب میں لکھی باتوں تک ہی لاجک چلانی ہے تو پھر کہانی قصے ہر مذہبی کتاب میں بھرے پڑے ہیں۔ پھر مسلم بھی ان سب کو مانیں۔

ذرا اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالیں اور انصاف سے بتائیں کیا اللہ پر یقین والے مسلمانوں کا معاشرہ ایسا ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ کو ماننے والے مسلمانوں کی اکثریت بے عمل اور منافق ہے؟ کیا مسلمانوں پر ہزاروں علماء اور مبلغین تبلیغ نہیں کررہے؟

رزلٹ کیوں نہیں ہے؟

وجہ یہ ہے کہ اللہ کے وجود پر سو فیصد یقین اور اطمینان نہیں ہے اور اکثر مسلم تو قرآن کھول کر بھی نہیں دیکھتے بےچارے پریشان ہیں یہاں تک کہ نئی نسل اللہ کے بارے میں شک و شہبات میں گرفتار ہے کیونکہ ان کا ذیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزرتا ہے جہاں ان کے پیدائشی ایمان کا جنازہ ملحدین و غیرمسلم کے ہاتھوں اٹھتا ہے۔

جب پریشان ہوتے ہیں تو کتابی مسلم انہیں صرف کہانیوں سے مطمئن نہیں کرپاتے کیونکہ ایک طرف تو وہ فتوی کے ڈر سے کھل کر سوالات کرنے سے گھبراتے ہیں، کتابی جوابات سن کر بھی کنفیوز رہتے ہیں اور کوئی پریکٹیکل ثبوت نہیں ملتا جو اللہ کے وجود اور دیگر تمام خداوں کے تصوراتی ہونے پر واضح تلوار جیسی کاٹ کا وار کرے اور شیطانی شک و شبہات کو چیر کر رکھ دے۔

اب بحیثیت مسلم دین اسلام کی جانب سے میں یہ بات  کہتا ہوں کہ اللہ بغیر قرآن بھی اپنا وجود رکھتا ہے اور دیگر تمام مذاہب کے خدا محض کتاب و خیال کی حد تک ہیں۔ اللہ کے سوا تمام خدا صرف کتابوں کہانیوں میں ملیں گے لیکن اللہ اپنے وجود کو منوانے کے لیے کتاب کا محتاج نہیں اور وہ خود اپنا وجود منوارہا ہے۔

اسی لیے مذہبی کتاب کے بغیر صرف اللہ کا وجود ہی ثابت ہوگا جب بھی غیرمسلم مذہبی پیشوا اپنے خداوں کے وجود پر دلیل دینے مقابلے پر آئیں گے۔ وہ نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ اربوں غیرمسلموں کے سامنے ذلیل و خوار بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار جوق در جوق دین اسلام میں داخل بھی ہوں اللہ کے حکم سے۔

اب دنیا کے انسانوں کو ایک کام کرنا ہے کہ:

کسی ٹی وی پروگرام میں لائیو ٹاک شو یا عوام کے سامنے اسٹیج پر کم از کم ایک ایک مذہبی پیشوا (ہندو، عیسائی، یہودی، مسلم وغیرہ) لاکر ان سے اپنے اپنے خداوں کے وجود پر بغیر مذہبی کتاب صرف عملی ثبوت پر بات کروائی جائے۔ جو سچے خدا کو ثابت کردے عوام اس کے دین کو قبول کرلے۔

صرف تصوراتی خداوں کے پیروکار انسان اپنے خداوں کو منوانے کی کوشش کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ وہ بے بس رہیں گے اور ثبوت پیش کرنا ان کے لیے ناممکن ہوگا جبکہ اللہ کو منوانے کے لیے مسلم کو مجبور ہونے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہ ہوگی۔

یہ کیسے ممکن ہے؟

وہ ایسے کہ مسلم تو بس ناقابل شکست معجزات کی طرف توجہ دلائے گا۔

ترجمہ قرآن: زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے  (سورہ یوسف 12، آیت نمبر 105)

دنیا کے اکثر انسانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ آسمان و زمین میں اللہ تعالی کے وجود پر دلالت کرنے والے بہت سے کھلے معجزات اور نشانیوں کے پاس سے گزرتے ہیں لیکن ان پر غور نہیں کرتے اور صرف نظر کرجاتے ہیں۔

اللہ اپنے وجود اور قدرت پر ناقابل شکست معجزات خود ہی دکھارہا ہے۔ جن میں سے دو قابل مشاہدہ اور ناقابل شکست ثبوت اپنی راہ میں مرنے والے شہید مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی طاقت فراہم کرنا ہے۔ ان دونوں لنکس پر تفصیلات، ثبوت و شواہد موجود ہیں۔

ان معجزات کو چیک کرنا، مشاہدہ کرنا، تسلی کرکے اطمینان حاصل کرنا انسانوں کے لیے ممکن ہے۔

مسلمان پہلے ہی اللہ کو مانتے ہیں لیکن ان کا ایمان ان معجزات کو دیکھ اور جان کر مضبوط اور ناقابل شکست بن سکتا ہے کیونکہ یہ معجزات قیامت تک ناقابل شکست ہیں اور منکر ین خدا یعنی ملحدوں اور بدھستوں ہندووں، یہودیوں، عیسائیوں، پارسیوں، سکھوں، جینیوں، شیعوں، قادیانیوں اور دنیا کے دوسرے غیر مسلموں کے لیے اللہ کے مذکورہ معجزات کو غلط ثابت کرنا یا بغیر کتابوں کے نیچر سے کوئ ثبوت اپنے خدا کی سچائی پر پیش کرنا ناممکن ہے۔

اس کا عقل استعمال کرنے والے عام مسلمانوں کو سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ کوئ بھی انہیں دین اسلام اور اللہ کے وجود پر شک میں ڈالنے سے محروم رہے گا۔

البتہ یہ بات یاد رہے کہ بہت سے لوگ حسد، جلن اور انا پرستی کے سبب ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں لہذا وہ مسلم میں ہوں یا غیرمسلم میں ہدایت دینا اللہ کا کام ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کسے ہدایت دینی ہے۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے بہترین طریقے سے۔

ترجمہ قرآن: یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے (سورہ اللیل 92، آیت نمبر 4)


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba