Human Helping Center
سچا دین

کیا کوئی کافر یا ملحد میرے ان سوالوں کے جواب دے سکتا ہے؟

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 04, 2019)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دین اسلام کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی 1400 سو سال پرانی لاش دیکھنے کے لئے مندرجہ ذیل مضمون کا مطالعہ کریں۔

(1) اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی نہیں تو انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کیسے دعوی کردیا کہ ان کا جسم مرنے کے بعد کبھی بھی فطری حالت میں بوسیدہ نہیں ہوگا اور عملا ایسا ہوا بھی کہ ان کا جسم سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں قبر کے اندر اب تک محفوظ ہے جبکہ سائنس کہتی ہے کہ ہر لاش مٹی کے اندر بوسیدہ ہوجاتی ہے۔

لہذا ان کی قبر کی مٹی (نیچر) نے ثابت کردیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے سچے نبی ہیں۔

(2) نیز مسلمانوں کے خدا "اللہ" کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیوں کہ مٹی میں بذات خود لاش کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

لہذا ثابت ہوا کہ اللہ کے حکم سے مٹی نے ان کے جسم کو نہیں کھایا۔ لہذا اللہ کا وجود ثابت ہوا۔

(3) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل حدیث میں خود دعوی کیا ہے کہ اللہ تعالی نے مٹی کو انبیاء کرام (علیہم السلام) کے جسموں کو بوسیدہ کرنے سے منع کردیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کسی بھی کافر کا جسم فطری حالت میں نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی محفوظ رہ سکتا ہے۔

لیکن یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے ہے کہ پہلے ثابت تو کیجئے کہ ان کا جسم قبر میں اب تک صحیح و سالم ہے؟

جواب: اگر کافر اور ملحد ان کے جسم کو زمین کے اوپر اس وقت اپنی آنکھوں سے فطری حالت میں محوظ دیکھ لے تو کیا کافر اور ملحد اللہ کے وجود کو، اس کے واقعی خالق کائنات ہونے کو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سچے خدا کے سچے نبی ہونے کو مان لیں گے؟

اگر مان لیں گے تو ہم دکھاتے ہیں۔

(4) آپ کیسے دکھائیں گے؟

جواب: اس سوال کا جواب میرے اس سوال کے جواب پر منحصر ہے۔ سوال یہ ہے کہ سر کے آنکھوں اور کیمرہ کے ذریعہ دیکھنے میں کیا فرق ہے؟

اگر یہ کہیں گے کہ کوئی فرق نہیں تو میں کہوں گا wall machine / prism 200 لیں اور سعودی عرب کے شہر مدینہ جاکر ان کی قبر کے اندر ان جدید سائنسی مشینوں کے ذریعے کیمرہ سے دیکھ لیں؟

اور اگر یہ کفار اور ملحدین یہ کہتے ہیں کہ سر کی آنکھوں سے دیکھنا ثبوت ہے اور کیمرے کی آنکھوں سے دیکھنا ثبوت نہیں تو یہ بات ہی غلط ہے کہ ساری دنیا کے عقل رکھنے والے لوگ کیمرہ کے ذریعہ دیکھی ہوئی چیز کا وجود مانتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ میں ایک کافر یا ملحد کی بات مانوں یا ساری دنیا کے انسانوں کی بات مانوں؟

نیز فرض کریں کہ روڈ پر اس ملحد کا کوئی بیٹا قتل ہو جاتا ہے اور عینی شاہد کوئی نہیں سوائے سی سی ٹی وی فوٹیج کے تو سوال یہ ہے کہ کیا اس قاتل کو یہ ملحد قاتل نہیں مانےگا؟

اگر مانے گا تو پھر ہمارے مسئلے میں بھی اس کو ماننا ہوگا اور اگر نہیں مانے گا تو دنیا کی عدالتوں کا کیا کریں گے کہ یہ سب تو کیمرہ کے ذریعہ دیکھی ہوئی چیز کے وجود کو مانتے ہیں؟

(5) لہذا اب میں ملحدوں اور کافروں سے کہتا ہوں کہ یا تو اللہ کے وجود کو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی کو مانیں یا پھر میرے مذکورہ سوالات کے جوابات دیں۔

(6) وہ حدیث یہ ہے۔

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک مرفوع حدیث ہے جو ابو داؤد شریف اور نسائی شریف کے حوالے سے جمع الفوائد جلد نمبر ۱ حدیث نمبر۱۹۲۴ کے تحت مذکور ہے۔اس حدیث کا ترجمہ و مفہوم یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے کیونکہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن ان کا انتقال ہوا۔اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن تمام انسان بے ہوش ہوجائیں گے لہذا جمہ کے دن تم لوگ میرے اوپر کثرت سے درود بھیجنا کیونکہ تم لوگوں کا درودمجھ پر پیش کیا جائے گا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺ ہم سب کا درود آپﷺ پر کیسے پیش کیا جائے گا حالانکہ آپﷺ تو زمین میں گل سڑ چکے ہونگے؟آپﷺ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی نعشوں کوسڑانے گلانے سے منع کردیا ہے۔

( ابودائود جلد اول کتاب الصلوة باب ابواب تفریع الجمعة وخطبتہا)۔


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba