(+0092) 3116622218   
RightfulReligion

سچا دین
یہ مضمون انگریزی زبان میں بھی موجود ہے۔

ہے کوئی مسلم جو تمام انسانوں کے بارے میں تین دعوے غلط ثابت کر سکے؟

تحریر: مولانا ابرار عالم (April 20, 2019)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
(1) دعوی:
تمام انسان بالواسطہ حضرت آدم و حواء علیہما السلام کے اولاد ہیں۔ یعنی بالواسطہ طور پر آپس میں بھائی بہن کی طرح ہیں۔

ثبوت:

اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان ( یعنی حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی (حواء علیہا السلام) پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔
(قرآن کریم سورہ النساء سورہ نمبر 4 آیت نمب 1)

(2) دعوی :
ان تمام انسانوں میں سے جو اللہ تعالی یا ان کے کسی بھی پیغمبر کو نہیں مانتے وہ پکے کافر ہیں۔

ثبوت:

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ) کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔ ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔
( قرآن کریم سورہ النساء سورہ نمبر 4 آیت نمبر 150، 151)

(3) دعوی:
بقول قرآن کریم تمام کفار کفر کی حالت میں مرنے کی صورت میں ہمیشہ کے لئے درد ناک عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
عقل اور کامن سینس کے مطابق انسان جسم و روح کا نام ہے۔ اسلئے یہ درد ناک عذاب جسم و روح دونوں کو ہوتا ہے۔ اسی لئے کسی بھی کافر کی لاش فطری حالت میں بوسیدہ ہونے سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اس کا روح کسی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی لا علاج بیماری کا علاج کر سکتی ہے۔

ثبوت:

"بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہے
وہ ہمیشہ اسی پھٹکار میں رہیں گے، نہ ان پر سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی"۔

(قرآن کریم سورہ البقرہ سورہ نمبر 2 آیت نمبر 161، 162)۔

"جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے"۔

(قرآن کریم سورہ آل عمران سورہ نمبر 3 آیت نمبر 91)۔

استلال:
قرآن کریم کی مذکورہ آیات سے ثابت ہوا کہ اس وقت کے تمام انسان بالواسطہ حضرت آدم و حواء علیہما السلام کے اولاد ہیں اور اس اعتبار سے تمام انسان آپس میں بھائی بہن کی طرح ہیں۔ لہذا یہ سب سے بڑی انسانیت اور اپنے کافر بھائیوں اور بہنوں کی مدد ہوگی اگر ہم مسلمان ان کو مرنے کے بعد درد ناک عذاب اور تکلیف سے بچالیں۔

کیا ہے کوئی مسلم جو مذکورہ باتوں کو غلط ثابت کر سکے یا پہر ان کو مسلم بنانے کے لئے ہمارا ساتھ دے؟


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba