سچا دین

کیا کبھی ہندووں کے خداووں نے کسی ایک ہندو کی لاش آگ میں جلنے سے محفوظ رکھی؟

تحریر: مولانا ابرار عالم (September 11, 2018)

مسلمان جب مسلم لاشوں کو زمین میں دفن کرکے ان کے خدا اللہ تعالی کے حوالے کرتا ہے تو ان میں سے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو ان کے قبروں میں بوسیدہ ہونے سے بچا لیتا ہے مگر اگر ہندوئوں کے خدا الگ ہیں تو ان کے خدا نے کسی ایک ہندو کی لاش کو اب تک جلنے سے کیوں نہیں بچایا؟ یا کیوں نہیں بچاتا؟

کیا کوئی ہندو یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس کا خدا کسی بھی نیک ہندو کی لاش کو مستقبل میں جلنے سے بچالےگا؟ نہیں ہر گز نہیں۔

لیکن میں دعوی کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا خدا اللہ تعالی مستقبل میں بھی اپنے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو محفوظ کرتا رہےگا۔

کیا کوئی ہندو ہے جو میرے اس چیلنج کو قبول کرے؟ نہیں بالکل بھی نہیں اور کبھی بھی نہیں۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم سورہ آل عمران سورہ نمبر 3 آیت نمبر 91 میں دعوی ہے کہ وہ ہمییشہ کافروں کی لاشوں کو عذاب دے کر سڑاتا گلاتا کرتا رہےگا اور قرآن کریم سور آل عمران سورہ نمبر 3 آیت نمبر 169 کے مطابق مسلمانوں کے خدا اللہ تعالی نے دعوی کیا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کی لاشوں کو باطنی غذا دے کر بوسیدہ ہونے سے محفوظ کرتا رہےگا۔

دنیا میں کوئ ہندو، بدہھست، یہودی، عیسائی، سکھ، جینی، آتش پرست، قادیانی اور شیعہ کبھی بھی میرے مذکورہ دعووں کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کرسکتا اور یہ میری پیشین گوئی ہے کہ کوئی کبھی میرے مذکورہ دعووں کو غلط ثابت بھی نہیں کرسکتا۔

اس مذکورہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیچر مٹی نے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو نہ کھاکر یہ ثابت کردیا کہ صرف دین اسلام ہی خدا کے نزدیک سچا دین و مذہب ہے جبکہ دوسرے ادیان و مذاہب منسوِخ یا باطل ہیں کیوں کہ ان میں سے کسی کی لاش کو بھی نیچر بوسیدہ ہونے سے نہیں بچاتی۔

ہندو لوگ اپنی لاشوں کو قبروں میں دفن نہیں کرتے بلکہ منوں لکڑیوں کے اندر رکھ کر ان پر گھی اور تیل چھڑک کر انہیں سنگدلی اور بے مروتی سے آگ لگا کر جلا دیتے ہیں حالانکہ مرنے کے بعد تو انسان زیادہ احترام اور محبت کے مستحق ہوتے ہیں مگر ان کے دماغوں پر شیاطین قابض ہوتے ہیں اور ان کے اندر سے رحم دلی چھین لیتا ہے۔

بہر حال یہاں نیچر آگ نے ہندووں کی لاشوں میں سے کسی بھی لاش کو جلنے سے نہ بچا کر یہ گواہی دے دی ہے اور اوپر قرآن کریم کا دعوی سچ ثابت کردیا کہ ہندو لوگ مرنے کے بعد عذاب میں چلے جاتے ہیں ۔ اس لئے ان میں سی کسی کی لاش بھی جلنے سے محفوظ نہیں رہتی۔

جلنے کے موضوع کی مناسبت سے بتادوں کہ سورہ نمبر 21 آیت نمبر 69 کے مطابق اللہ تعالی نے ایک زندہ انسان یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نار نمرود میں جلنے سے بچا لیا تھا۔ جبکہ آج بھی کوئی کافر یہ عملی طور پر ثابت نہیں کر سکتا کہ ان میں سے کسی کو بھی مسلمانوں کے مقابلے میں ان کا خدا آگ میں جلنے سے بچا سکتا ہے۔


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

تلاش کریں

Natural, Neutral and Irrefutable Proofs on Truth of Islam
کتاب ڈاون لوڈ کریں

Shah Yaqeeq Baba