سچا دین

شہدائے اسلام کےچند تروتازہ اجسام کو زمین کے اوپر کافروں کو مطمئن کرنے کے لیے رکھنا قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے

665 تحریر: مولانا ابرار عالم (August 21, 2017 | www.rightfulreligion.com)


یہ ایک حقیقت ہے کہ شہدائے اسلام کے اجسام موت کا ذائقہ چکھنے کے بعدصدیوں سے خون سمیت تروتازہ حالت میں قبروں کے اندر صحیح و سالم اور تروتازہ حالت میں موجود ہیں ۔یہ اجسام دنیا والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اسکی قدرت کو کافروں پر ثابت کرنے کے لیے ایک فطری، غیر جانبدار اور قابل مشاہدہ معجزہ یعنی اللہ کی قدرت پرواضح نشانی اور ثبوت ہے۔نیز یہ اجسام اللہ کے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی سچائی ، قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے اور دین اسلام کی صداقت پر ناقابل شکست ثبوت بھی ہیں کیونکہ دوسری جانب تمام کافروں کی لاشیں موت کے بعد بدبودار ہوکرسڑگل جاتی ہیں(یہاں تک کہ کچھ مذاہب میں کافروں کی لاشیں کیمیکل مسالہ جات لگاکر محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ سب انسانی مداخلت کے ذریعے تیار کردہ خون سے خالی سوکھے سڑے ڈھانچے ہیں )
 
لہذا اگر چند شہدائے اسلام کے اجسام زمین کے اوپر رکھ دیے جائیں اور دنیا بھر کے کافروں کو دعوت عام دے دی جائی تو وہ اس نشانی کو آنکھوں سے دیکھ کران شاء اللہ ضرور مطمئن ہوں گے اور جنہیں ہدایت کی تلاش ہے اجسام شہدا کے ذریعے انہیں ہدایت نصیب ہوگی۔
 
قرآن و سنت کی روشنی میںشہدائے اسلام کے اجسام زمین کے اوپر رکھنا بالکل جائز ہے۔اس کی دلیل میں چند باتیں پیش کررہا ہوں۔

۱) حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش مبارکہ

ترجمہ ۔سورہ البقرہ 2،آیت259: یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اللہ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا، سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ کرانے کے لئے) اللہ نے اسے سو برس تک مردہ رکھا پھر اسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ توسو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیّر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جس کی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جْنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔
 
استدلال: اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش کو سوسال تک زمین پر رکھا۔ہوسکتا ہے کہ اس وقت کے مسلمانوں نے بھی ان کی نعش کو دیکھا ہو اور غیر مسلموں نے بھی دیکھا ہو۔بہرحال اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دکھانے کے لیے تروتازہ لاش کو زمین پر رکھنا جائز ہے۔کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سو سال تک حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش زمین پر رکھی رہی اور کسی مسلم و غیر مسلم نے اسے نہیں دیکھا۔اور اگر کسی نے دیکھا تو پھر ہمارا مدعا ثابت ہے کہ غیر مسلموں کو تروتازہ لاش دکھانا جائز ہے۔

۲) حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش مبارکہ

ترجمہ ۔سورہ سبا34،آیت14: پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اْن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اْن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے۔
 
استدلال: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش زمین پر کچھ عرصہ کے لیے موجود رہی جو کہ سڑنے گلنے سے محفوظ رہی ۔لیکن قرآن کریم کی کسی بھی آیت میں یا حضور نبی کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا جس سے ثابت ہوتا کہ اس لاش کے زمین پر رہنے پر تنقید کی گئی یا منع کیا گیا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کی تروتازہ لاش کا زمین پر کسی خاص مقصد کے لیے رکھنا جائز ہے ۔لہذا ہمارے لیے بھی زمین پر چند شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشوں کو رکھنا جائز ہے تاکہ غیر مسلموں کو دکھاکر دین اسلام کی سچائی کے بارے میں مطمئن کرسکیں۔

۳) زمین کھود کر نشانی نکالنے کی دعوت

ترجمہ۔سورہ انعام6،آیت35: اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا۔
 
استدلال: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین سے کوئی ایسی اللہ کی قدرت کی نشانی نکالنا تاکہ غیر مسلموں کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں دکھاسکیں جائز ہے۔میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی وہ نشانی اشارتاً قبر کے اندر شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشیں ہیں۔جب تک یہ محفوظ لاشیں قبروں کے اندر رہیں گی تو ہم غیر مسلموں کو کیسے دکھائیں گے؟ لہذا ضروری ہے کہ چند ایسی لاشیں دفن ہی نہ کی جائیں اور زمین پر رہنے دی جائیں تاکہ غیر مسلم انہیں دیکھ کر مطمئن ہوں اور دین اسلام قبول کریں۔

۴) اللہ انسان کی ذات میں نشانیاں دکھائے گا

ترجمہ ۔سورہ فصلت41،آیت53: ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اْن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اْن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہے۔
 
استدلال: اس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشوں کو زمین پر رکھنا جائز ہے تاکہ دین اسلام کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے انہیں غیر مسلموں کو دکھاسکیں ۔کیونکہ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ہم ایسی نشانیاں انسانی جانوں میں دکھائیں گے جس سے دین اسلام کا سچا ہونا اور کفر کا باطل ہونا واضح طور سے نظر آجائے گا۔یہاں تک کہ کافر بھی بول پڑیں گے کہ واقعی اسلام ہی سچا دین ہے۔
 
میری نظر میں وہ نشانی یہی تروتازہ لاشیں ہیں۔کیونکہ دوسری جانب کسی بھی غیر مسلم کی لاش سڑنے گلنے سے محفوظ نہیں رہتی۔اس آیت کے اندر نشانی دکھانے سے متعلق کوئی اور نشانی بھی ہوسکتی ہے لیکن لاش کی نشانی کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ مفتی اعظم پاکستان محمد تقی عثمانی صاحب نے اپنے سفرنامہ’ جہاں دیدہ‘ میں صفحہ نمبر 54پر خود اسی آیت سے اسلام کی سچائی پراستدلال کیا ہے جہاں پر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تروتازہ نعشوں کوزمین سے نکالنے ،مسلم و غیر مسلموں کو دکھانے اور دوسری جگہ منتقل کرنے کا تذکرہ کیا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تروتازہ لاشیں زمین پر رکھنا جائز ہے۔

۵) حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک انتقال کے بعد دودن زمین پر

کتاب الرحیق المختوم، ترجمہ و تصنیف مولانا صفی الرحمان مبارکپوری صفحہ نمبر632-633: اس کتاب میں مذکورہ روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے پہلے ہی آپ ﷺکی جانشینی کے معاملے میں اختلاف پڑگیا۔سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان بحث و مناقشہ ہوا،مجادلہ و گفتگو ہوئی،تردید و تنقید ہوئی اور بالآخر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اتفاق ہوگیا۔اس کام میں دوشنبہ کا باقیماندہ دن گزرگیا اور رات آگئی۔ یہاں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس کے مطابق دوشنبہ دن کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور بدھ کی شب آدھی رات کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی۔
 
استدلال: محمدﷺ کا جسم مبارک کم از کم دو دن تک زمین پر رکھا گیا۔خلافت کے قیام کے فیصلے کے لیے ۔کیونکہ خلافت ایک اہم چیز ہے۔اس کے بغیر نظام سلطنت و مملکت نہیں چل سکتا۔ لہذا کم از کم دو دن تک تواس مقصد کے لیے شہدائے اسلام کی لاشوں کو زمین پر رکھنے کا جواز مل گیا۔ آج پوری دنیا جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک محلہ نما بن چکی ہے ۔غیر مسلموں کو دو دن کے اندر شہدائے اسلام کی تازہ لاشیں دکھاکر مطمئن کرنا آسان ہوگا ۔ممکن ہے کہ کفر ختم ہوجائے یا پھر کفر مغلوب تو بہرحال ہو جائے گا۔اس کی وجہ سے جنگیں رک جائیںگی، کروڑوں معصوم انسان قتل ہونے سے بچ جائیں گے اور جو دولت مذاہب کے اختلافات کے سبب جنگوں پر خرچ ہورہی ہے وہ غربت و جہالت کے خاتمے پر خرچ ہونے لگے گی ۔نیز پانچ ارب کافر وں کو مسلمان بناکر جہنم سے بچالینا یہ قیام خلافت کے مسئلہ سے کوئی معمولی کام نہیں ہے۔لہذا اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شہدائے اسلام کی چند لاشوں کو زمین پر رکھنا جائز ہوگا۔اس سلسلے میں مردے کودفن کرنے سے متعلق یا جلد دفن کرنے سے متعلق تمام احادیث پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف سے عمل نہیں کیا گیا ۔ لہذا ہم بھی اس مقصد کے لیے ان احادیث پر عمل نہیں کریں گے۔

۶) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش زمین پر رکھنے کی خواہش

المعجم الکبیر للطبرانی حدیث نمبر 6556 غزوہ احد جمع الفوائد المجلد الثانی ۙ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت
 
 
 
ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حمزہ رضی اللہ عنہ قتل کیے گئے تو صفیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں یہ پوچھنے کے لئے کہ کیا ہوا؟ وہ حضرت علی اور زبیر رضی اللہ عنھما سے ملیں مگر ان دونوں نے ان کو وہم میں ڈال دیا کہ وہ دونوں نہیں جانتے ہیں اس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور کہا کہ مجھے ان کی عقل ( کے نقصان) کا خوف ہے ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا تو انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوے اور کہا کہ اگر عورتوں کے جزع و فزع کا خوف نہ ہوتا تو ان کو( حمزہ رضی اللہ عنہ ) اسی حال میں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ ( بروز محشر ) درندوں اور پرندوں کے پیٹوں سے نکلتے۔
 
استدلال: محمدﷺ نے خود یہ خواہش ظاہر کی کہ سید الشہدا ء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش کو زمین پر رکھ دیا جائے تاکہ چرند پرند ان کے جسم کو کھالیں ۔اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شہدائے اسلام کے جسم کو زمین پر رکھنا جائز ہوگا۔حضور ﷺ نے ایسا نہیں کیا تھا اس لیے کہ ان کی بہن اور آپﷺ کی پھوپھی کے دل کوشدید صدمہ پہنچنے اور گریہ زاری کا خوف تھا۔لیکن جن شہدائے اسلام کی لاشوں کو ہم زمین پر رکھیں گے ان کے ورثا کوہم سو فیصد مطمئن کرچکے ہوں گے۔لہذا یہاں وہ خوف نہ ہونے کی وجہ سے زمین پررکھنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ سنت بھی ہوگا۔کیونکہ محمدﷺ نے محرم الحرام کا صرف ایک روزہ رکھا تھا ۔جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہودی بھی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں تو آپﷺ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر آئندہ سال زندہ رہے تو ہم دو روزے رکھیں گے ۔اور آج بھی مفتی حضرات آپ ﷺکی اسی خواہش کو سنت کا درجہ دے کر یہ فتوی صادر کرتے ہیں کہ محرم میں ایک نہیں بلکہ دوروزے رکھنا سنت ہے۔لہذا ہم بھی محمدﷺ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چند شہدائے اسلام کی لاشوں کا زمین پر رکھنا مذکورہ مقصد کے لیے جائز ہوگا۔

 ۧ۷) جوتے پہننے کی سنت کی خلاف ورزی

یہودی چونکے ننگے پیر نماز پڑھتے ہیں اس لیے ان کی مخالفت کے سبب محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی اور ایسا کرنا سنت ہے۔ (ابو دائود652،صحیح البانی، صحیح ابی دائود607)۔جب ڈاڑھی رکھنے کو واجب قرار دیا گیا اور مشرکین کی مخالفت کے تحت اب تک اس پر اتنا زور دیا جاتا ہے تو جوتے پہن کر نماز پڑھنے پر زور کیوں نہیں دیا جاتا؟ لہذا جب شریعت کے عمل جائز ہے تو اسی طرح لاش کا نہ دفنانا بھی جائز ہے ۔

۸) اجتہاد

تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور حضور نبی کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق مردوں کو دفنانے کی تعلیم ہے۔اس کی چند حکمتیں ہیں ۔
اگر دفن نہ کیا جائے تو:
۱) ورثا ء کا رونا دھونا تسلسل کے ساتھ برقرار رہے گا جو کہ نقصان دہ ہے۔
۲) دفن نہ کرنے سے جو لاشیں سڑگل جانے والی ہیں ان سے معاشرے میں بدبو پیدا ہوگی اور لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
۳) دفن نہ کرنے کی وجہ سے جن لوگوں کے پاس اپنی زمین نہیں ہے ان کے لیے مسائل پیدا ہوتے کہ وہ ان لاشوں کو کہاں رکھتے۔
۴) اب تک زمین لاشوں سے تنگ پڑجاتی ۔
۵) گناہ گاروں کی پردہ داری بھی مقصود ہے کہ لاشوں کے سڑنے گلنے سے عوام میں ان کی خفت ہوتی ۔
۶) ہم نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ بعض جانور سے بدتر انسان لاشوں کو میڈیکل تجربات کے لیے بیچتے ہیں ،ان سے زنا کرتے ہیں،ان کا گوشت کھالیتے ہیں،ان کا کفن چرالیتے ہیں، ان کے اعضا ء کو جادو وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
 
میرے خیال میں مذکورہ حکمتوں کی وجہ سے عمومی طور پردفن کرنے کا حکم ہے اورحضور نبی کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔لیکن شہدائے اسلام کی چند لاشوں کو زمین پر رکھنے سے ہمارے مذکورہ نہایت ہی اہم مقاصد کے لیے بالکل جائز ہوگا۔اور بیان کرد ہ حکمتوں کی مخالفت بھی نہیں ہوگی۔اگر اہل بصیرت مسلمان غور کریںتو ہماری بیان کردہ تمام باتوں سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ شہدائے اسلام کی تازہ لاشوں کو زمین پر رکھنا تاکہ غیرمسلم انہیں میڈیاکے ذریعے آنکھوں سے دیکھ کر دین اسلام کی سچائی کے بارے میں مطمئن ہوسکیں اور اسلام میں داخل ہوںبالکل درست ہے۔
 
جب دین اسلام غالب ہوجائے اور میرا خیال ہے کہ چند لاشوں کو زمین پر ایک د و سال کے لیے رکھنے سے ان شاء اللہ دین اسلام غالب ہوجائے گاجو کہ ہمارا مقصد ہے ۔پھر اس کے بعد ان لاشوں کو دفن کردیا جائے تواس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔اگر ہمارا مقصد ایک ماہ میں ہی پورا ہوجاتا ہے تو ہم انہیں تب ہی دفن کردیں گے۔
 
لہذا اب میں آپ مفتیان کرام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ باتوں کی روشنی میںہمارا ایسا کرنا آپ کی نگاہ میں کیسا ہے اور دین اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو حاظر ناظر جانتے ہوئے سو فیصد اخلاص اور پورے غور وفکر کے ساتھ ہمارے اس سوال کا جواب دیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔
 

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں: