سچا دین
یہ مضمون انگریزی زبان میں بھی موجود ہے۔

دین اسلام کو تمام ادیان و مذاہب پر غالب کرنا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام علمائے کرام کی ذمہ داری ہے

تحریر: مولانا ابرار عالم (February 06, 2014)

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب وآخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام منسوخ اورباطل ادیان و مذاہب پردین اسلام غالب کرنے کیلئے بھیجاتھا۔اس لئے دین اسلام کو تمام منسوخ اورباطل ادیان و مذاہب پر غالب کرنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا بھر کے تمام علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔
وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کوہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کردے اگرچہ مشرکین کو برا لگے۔
(توبہ، سورہ نمبر 9، آیت نمبر33)
وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کوہدایت اور دین حق عطا فرماکربھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے اوراللہ ہی گواہ کافی ہے۔
(الفتح، سورہ نمبر 48، آیت نمبر28)
وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کوہدایت اور دین حق دے کربھیجا تاکہ اسے سب ادیان پر غالب و سربلند کردے خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کریں۔
(الصف، سورہ نمبر 61، آیت نمبر9)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ایک حدیث میں ہے کہ ’علماء انبیاء کے وارث ہیں‘ 
(یہ حدیث ترمذی، ابو داؤد، نسائی ، ابن ماجہ و دیگر کتابوں میں موجود ہے)

مندرجہ بالا قرآنی آیات اور حدیث کی روشنی میں تمام علمائے کرام کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ حالات میں دین اسلام کو غالب کرنے کیلئے ہمارا ساتھ دیں یا خودجدو جہد کریں۔

اس کیلئے ہم نے اللہ کے فضل اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض نظر سے دین اسلام کی سچائی، قرآن کریم کی سچائی اورحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی سچائی پرقدرتی، غیرجانبداراور ناقابل شکست دلائل تحقیق کرکے تیار کئے ہیں۔

ہم ان دلائل کو الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعے دنیا کے تقریباً پانچ ارب کافروں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ دین حق کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے یاسچے مذہب سے بے خبر غیرمسلموں کودین اسلام میں داخل ہونے کی توفیق مل سکے اور دین اسلام غالب ہوسکے۔

جب تک دین اسلام غالب نہیں ہوگا مسلمان اسی طرح کافروں کے ہاتھوں دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے،انکی عورتوں اور بچوں کو قتل کیاجاتا رہے گا،مسلمان ممالک پر حملے جاری رہیں گے،اکثر مسلمان جنگوں کی وجہ سے غربت و جہالت کی چکی میں پستے رہیں گے اورکافروں کی جانب سے اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنے کے واقعات،توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات ، قرآن کریم کو جلائے جانے کے واقعات اور مسلمانوں سے توہین آمیز سلوک کئے جانے کے واقعات وغیرہ پیش آتے رہیں گے۔

کیونکہ مندرجہ بالا تمام مسائل کی اصل وجہ دنیا میں ایک ہی وقت میں بہت سے ادیان و مذاہب کی موجود گی ہے۔لہذا تمام منسوخ اور باطل مذاہب کو ختم کئے بغیر دین اسلام کو غالب نہیں کیا جاسکتا۔میرے بہت غور و فکر کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر دنیا میں صرف ایک ہی سچامذہب یعنی دین اسلام ہوتا تو مسلمانوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

لہذاہم مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ ہم دین اسلام کو تمام ادیان و مذاہب پرغالب کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔اس لئے میں تمام مسلمانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ دین اسلام کی سچائی پر قدرتی، غیر جانبدار اور ناقابل شکست مندرجہ ذیل دلائل کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے دنیا کے تمام کافروں تک دنیا کی تمام مشہور زبانوں میں پہنچائیں یا پھرہمیں بطور ہدیہ رقم فراہم کرکے تعاون کریں تاکہ ہم با آسانی اس کام کوسرانجام دے سکیں۔

دین اسلام کی سچائی پر قدرتی، غیر جانبدار اور ناقابل شکست دلائل

مٹی:
مٹی ایک فطرت ہے۔یہ جھوٹ نہیں بول سکتی۔یہ جھوٹے خیالات، جھوٹے عقائد اور غلط طرز زندگی کا ساتھ نہیں دے سکتی۔یہ سو فیصد غیر جانبدار اور سچی ہے۔یہ صرف اللہ اور اسکے سچے پیروکاروں کا حکم مانتی ہے۔یہ کسی جھوٹے خداؤں ،جھوٹے خداؤں کے پیروکاروں اورکافروں کا حکم نہیں مانتی۔

مندرجہ بالادعوے پر ناقابل شکست دلیل یہ ہے کہ صدیوں اور سالوں سے زمین کے اندربغیر کیمیکل استعمال ہوئے ہزاروں کی تعداد میں شہیداور سچے مسلمانوں کی تازہ خون سمیت تروتازہ نعشیں موجود ہیں۔جب کبھی مختلف وجوہات اورقدرتی حادثات کی بنا پر انکی قبریں کھلیں تو وہ تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں پائے گئے، ہمارے ڈاکٹروں نے انہیں چیک کیانیزدنیا میں ہزاروں مسلمان ایسے واقعات کے چشم دید گوا ہ ہیں۔ہم ان کی قبروں کو ہر کافر کے کہنے پردوبارہ نہیں کھولیں گے کیونکہ اس وقت دنیا میں تقریباً پانچ ارب کافر موجود ہیں ۔ اگر فرض کریں ان میں سے ہرکافر مطالبہ کرنے لگے کہ ہمیں قبر کھول کر ان لاشوں کو دکھاؤ تب ہم یقین کریں گے تو کیا یہ ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہر کافر کی خواہش پر قبرکھول کر دکھاسکیں؟

لہذا اگر آپ واقعی سچ کی تلاش میں ہیں مگر ہماری تحقیق پر یقین نہیں کرتے تو پھر اپنے ڈاکٹروں، تحقیقی ماہرین اور میڈیا کی ٹیم کے ساتھ تروتازہ نعشوں کی تحقیق کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔اگر آپ نے ہماری تحقیق کو شکست دیکر غلط ثابت کردیا توہم آپ کو ایک لاکھ ڈالرزانعام دیں گے اور دنیا والوں کے سامنے ہر قسم کی سزا کیلئے تیاررہیں گے ورنہ ہماری تحقیق قبول کرکے دین اسلام میں داخل ہوجائیے۔ بے عمل مسلمانوں کی اکثریت کو مت دیکھئے کیونکہ اسلام ایک مکمل اورسچا مذہب ہے جبکہ ہر مسلمان کامل باعمل نہیں ہوسکتا۔

میری تحقیق کے مطابق بغیر کیمیکل استعمال ہوئے کسی بھی کافر کی لاش تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں نہ زمین کے اندر ہے اور نہ ہی زمین کے اوپر ہے جو سڑنے گلنے سے محفوظ رہی ہو۔ لہذا یہ اس بات پر سو فیصد دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں اور زمین بھی ایک فطرت ہونے کے باوجود کسی باطل خداؤں کے حکم کونہیں مانتی اور باطل خداؤں کے ماننے والوں یعنی کافروں کا حکم بھی نہیں مانتی۔

ہوا:
ہوا ایک فطرت ہے۔یہ جھوٹ نہیں بول سکتی۔یہ جھوٹے خیالات، جھوٹے عقائد اور غلط طرز زندگی کا ساتھ نہیں دے سکتی۔یہ سو فیصد غیر جانبدار اور سچی ہے۔یہ صرف سچے خدا اور اسکے سچے پیروکاروں کا حکم مانتی ہے۔یہ کسی جھوٹے خداؤں ،جھوٹے خداؤں کے پیروکاروں اورکافروں کا حکم نہیں مانتی۔

اس دعوے پر سو فیصد دلیل یہ ہے کہ اگرہم خداؤں اورمذہب کے نام پرآپس میں لڑکر مرنے والے فوجیوں کی لاشوں کوزمین کے اوپر رہنے دیں تو مسلمانوں کی نعشیں تازہ خون سمیت تروتازہ رہیں گی جبکہ انکے دشمنوں کی لاشیں سڑگل کر ختم ہوجائیں گی۔تفصیل اور ثبوت کیلئے انڈیا اور پاکستان کی جنگ نیزافغانستان میں طالبان اور امریکہ کی جنگ کے دوران قتل ہونے والے کافروں کی لاشیں اور شہید ہونے والے مسلمانوں کی نعشوں کی تحقیقات کیجئے ۔ آپ کوخود حقیقت معلوم ہوجائے گی۔

یہاں تمام کافروں سے دو سوال ہیں:

۱) جو مسلم فوجی اسلام کی راہ میں شہید ہوئے انکی نعشیں موت کے بعد تازہ خون سمیت تروتازہ کیوں رہیں ؟ اور جتنے بھی کافر اپنے مذہب کی راہ میں مارے گئے ان سب کی لاشیں موت کے بعد تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں کیوں نہیں رہیں اورکیوں نہیں رہتیں؟

۲) آپکے خدا نے آپکے فوجیوں کی لاشیں محفوظ کیوں نہیں رکھیں جو اسکے لئے قربان ہوئے؟ اور ہمارے مذہب اسلام کے اللہ نے مسلمانوں کی نعشیں تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں کیوں محفوظ رکھیں جو اسکے لئے قربان ہوئے؟

آگ :
یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ آگ بھی فطرت ہے۔ اس میں کسی بھی انسان کوجلنے سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہرگز نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلمان اپنے جسم پربغیر کیمیکل استعمال کئے عالمی میڈیا کے سامنے آگ میں جاکر جلنے سے محفوظ رہتا ہے تو یہ دین اسلام کے سچے ہونے پرسو فیصد دلیل اور کرامت ہوگی ۔ اب ذراکافروں کی ہٹ دھرمی کا اندازہ لگائیے کہ ایک طر ف تویہ لوگ اپنے جسم پربغیر کیمیکل استعمال کئے اپنے اپنے مذہب کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے عالمی میڈیا کے سامنے آگ میں جانے کیلئے تیار نہیں ہوتے اور جب ہم مسلمان اپنے دین اسلام کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے آگ میں جانے کیلئے تیار ہیں تو ہمارے آگ میں محفوظ رہ جانے کی صورت میں یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے کیلئے بھی تیا ر نہیں ہوتے۔

لہذامیں تمام غیر مسلموں سے صرف ایک سوال کرتا ہوں کہ اگر کوئی مسلمان اپنے جسم پر بغیر کیمیکل استعمال کئے عالمی میڈیا کے سامنے آگ میں جائے اور جلنے سے محفوظ رہے تو کیا آپ سب دین اسلام میں داخل ہوں گے؟

اگرہاں! تو پھر ایک تاریخ ، وقت اورجگہ متعین کرلیجئے اور اس بات کا دنیا بھر میں اعلان کروائیے کیونکہ دنیا میں اس وقت تقریباً پانچ ارب غیرمسلم ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ ہر غیر مسلم کیلئے بار بار آگ میں داخل ہوا جائے۔

پانی:
پانی ایک فطرت ہے۔ ہمارا دعوی ہے کہ یہ صرف دین اسلام کے اللہ اور اسکے سچے پیروکاروں کا حکم مانتا ہے۔ لہذا ہمارے دعوے پر مندرجہ ذیل تحقیق اس بات پر ثبوت ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور انکے پیروکار مصر سے (فرعون کے ظلم سے نجات کیلئے)نکل رہے تھے۔جب وہ دریائے نیل پر پہنچے تو انہوں نے اللہ سے دعا کی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ وہ اپنا عصا دریا پر ماریں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا پر اپنا عصا مارا تو وہ دوحصوں میں تقسیم ہوگیا اورحضرت موسیٰ علیہ السلام اور انکے ساتھی دریا کے پار چلے گئے۔

فرعون او ر اسکے ساتھی جب حضرت موسی علیہ السلام کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے نیل پر پہنچے تو انہیں کھلاہوا راستہ ملااور وہ اس راستے پرچل پڑے مگر جیسے ہی وہ سب درمیان میں پہنچے اللہ کے حکم سے دریا پھر سے بند ہوگیا اور وہ سب اس میں غرق ہوگئے۔اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو کافروں کیلئے قیامت تک بطور عبرت بناکر محفوظ کردیا۔

آثار قدیمہ اور علم الاعضاء کے ڈیپارٹمنٹ کے انچارج پروفیسرمورس بوسیلی (اس واقعہ پر تحقیق کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا) کی تحقیق کے مطابق اور قرآن کریم کے مطابق فرعون حضرت موسی علیہ السلام اور انکے ساتھیوں کا تعاقب کرتے ہوئے ہلاک ہوا تھا۔

اس واقعہ پر پروفیسرمورس بوسیلی کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات کیلئےمضمون ’فرعون کی لاش‘ کا مطالعہ کیجئے۔

اس واقعہ سے استدلال:
۱)یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے۔ لہذا یہ واقعہ اللہ کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ ہی کے حکم پر دریائے نیل پر عصا مارا تھا اور دریانے حضرت موسی علیہ السلام اور انکے خدا یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم مانا۔
۲) یہ واقعہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ پانی اللہ اوراسکے سچے پیروکاروں کا حکم مانتا ہے کیونکہ جب حضرت موسی علیہ السلام نے پانی پر عصا مارا تو پانی نے دوحصوں میں تقسیم ہوکرانہیں اور انکے ساتھیوں کو راستہ دے دیا۔
۳) اس وقت بھی ایسے سچے مسلمان موجود ہیں جواللہ کے حکم سے عالمی میڈیا کے سامنے دریائے نیل کودوحصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہوگی کہ پانچ ارب غیر مسلم اس کرامت کو دیکھ کراسلام قبول کرنے کیلئے راضی ہوجائیں۔
۴) میرا ہمیشہ کیلئے یہ چیلنج ہے کہ دین اسلام کے اللہ کے علاوہ کسی خدا کا وجود نہیں ہے۔ اگر کوئی بھی غیر مسلم اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود ہے تو وہ اپنے دعوے کو قدرتی، غیرجانبدار اور ناقابل شکست دلائل کے ساتھ عالمی میڈیا کے سامنے ثابت کرے۔
۵) میں ہمیشہ کیلئے یہ بھی چیلنج کرتا ہوں کہ غیر مسلموں میں سے کوئی اس بات کا دعوی کرکے ثابت نہیں کرسکتا کہ پانی اسکا حکم مانے گا۔

قرآن کریم کے حوالہ جات:
اورہم بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے گئے پس فرعون اور اسکے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدی سے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب اسے (یعنی فرعون کو)ڈوبنے نے آلیا وہ کہنے لگا: میں اس پر ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس (معبود)کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں(اب) مسلمانوں میں سے ہوں۔
(جواب دیا گیا کہ) اب(ایمان لاتا ہے؟)، حالانکہ تو پہلے (مسلسل)نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد بپا کرنے والوں میں سے تھا۔
(اے فرعون) سو آج ہم تیرے (بے جان)جسم کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کیلئے (عبرت کا)نشان ہوسکے اور بے شک اکثر لوگ ہماری نشانیوں (کو سمجھنے)سے غافل ہیں۔

(یونس، سورہ نمبر 10، آیت نمبر90-92)
ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اطراف عالم میں اور خود انکی ذاتوں میں دکھادیں گے یہاں تک کہ ان پرظاہر ہوجائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی)ہے۔
(حم السجدۃ، سورہ نمبر 41، آیت نمبر53)
اور بیشک ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد )کو پیدا فرمایا وہ دل (ودماغ)رکھتے ہیں (مگر)وہ ان سے(حق کو) سمجھ نہیں سکتے اوروہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر)وہ ان سے (حق کو)دیکھ نہیں سکتے اوروہ کان(بھی) رکھتے ہیں(مگر) وہ ان سے(حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ(ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں۔
(الاعراف، سورہ نمبر 7، آیت نمبر179)


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

تلاش کریں

Natural, Neutral and Irrefutable Proofs on Truth of Islam
کتاب ڈاون لوڈ کریں

Shah Yaqeeq Baba