سچا دین

سوالات و جوابات

خوش آمدید۔اگر آپ کے ذہن میں کوئی شک یاسوال ہے تو اس صفحہ پر اس کا جواب ہونا چاہیے۔اگر آپ کے سوال کا جواب یہا ں پر موجود نہیں ہے تو  نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنا پیغام پوسٹ کردیں۔ہم وقتاً فوقتاً اس صفحہ پر نئے سوالات کے جوابات شامل کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔


اعتراض:  اسلام نے ہمیں ایسے طریقوںمثلاً کرامات، محفوظ لاشوں اور آگ میں جلنے کے چیلنج کرنے سے تبلیغ کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے اس طرح کوئی کام کیا

اللہ نے اسلام کو غالب کرنے کیلئے کو ئی مخصوص طریقہ طے نہیں کر رکھا۔جو طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں استعمال نہیں کیا لازمی نہیں کہ کوئی کبھی دین اسلام کی سچائی ثابت کرنے کیلئے ایسا طریقہ استعمال نہیں کرسکتا۔صحابہ کرام سے لے کر آج تک ہر دور میں انبیاء کرام، صحابہ کرام، اولیا ء کرام اور شہدائے اسلام نے اپنے اپنے طریقوں اور دلائل سے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔جسمانی مشقتوں سے لے کر روحانی کرامت و معجزات تک تاریخ میں بھرے پڑے ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے بندوں میں سے جس سے جتنا کام لینا چاہتا ہے اسے اسکے مطابق علم اور دلائل دے کر تیار کرتا ہے۔اسلام مغلوب ہے اور کتابوں سے فیصلہ نہیں ہورہا لہذا ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے عطا کردہ خاک و آگ کے طریقے کو بطور دلیل استعمال کیا ہے ۔ یہ کہنا کہ کرامات کے ذریعے کام نہیں کیا جاتا محض جہالت اور لا علمی کی بات ہے ۔

سوال: حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح محفوظ لاشوں اور آگ میں جلنے کا کوئی چیلنج کیوں نہیں دیا؟

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نگران کے عیسائیوں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ سب ایک میدان میں آجائیں اور ہم مسلمان بھی آئیں گے اور اللہ فیصلہ کرے گا۔(سورہ آل عمران ، آیت نمبر61دیکھئے)۔ہم بھی تمام غیر مسلموں کو ایک میدان میں بلارہے ہیں مگر فیصلہ اللہ کرے گا۔ اس وقت بھی قدرت الٰہی سے فیصلہ کروانا تھا اور اس وقت بھی ایسا ہی کرنا ہے نیز یہ بات لازمی نہیں کہ ہر کام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کرتے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد بہت سے کام صحابہ کرام اور اولیاء کرام نے کئے۔

سوال: جو لوگ آگ میں جل جاتے ہیں، جو سمندر میں ڈوب جاتے ہیں،جن کو جانور کھا جاتے ہیں  یا  گولہ باری سے ختم ہوجاتے ہیں۔ ان کا کیا ہوگا؟

جواب : پہلی بات یہ کہ ایسے تمام مسلمانوں کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے اور اللہ ہی انکی نیتیں اور اعمال بہتر جانتا ہے لہذا انکے شہید ہونے یا نہ ہونے پرحتمی فتوی نہیں لگایا جاسکتا۔ البتہ شریعت میں بہت سی حالتوں میں مرنے والوں کو شہید کہا گیا ہے اس لئے شریعت کی رو سے شہید کہنا بالکل جائز ہوگا مگر اس صورت میں کسی مرنے والے کو سو فیصد جنتی یا جہنمی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ جبکہ جن مسلمانوں کی نعشیں صدیوں اور سالوں سے موت کے بعد تروتازہ رہیں وہ یقیناًشہید ہیں اور شہید ہونے کی وجہ سے جنتی ہیں۔

دوسر ی بات یہ کہ اللہ نے مٹی کوحکم دیا ہے کہ انبیاء کے نعشوں کو نہ کھائے اور شہدائے کرام کے بارے میں قرآن میں بھی آیا ہے کہ وہ زندہ ہیں ، انہیں غذا فراہم کی جاتی ہے اور وہ اپنے رب کے پاس ہیں جس سے ہمارا موقف ثابت ہوتا ہے کہ وہ شہید ہیں اور یقیناًجنتی ہیں نیزیہ بات تاریخی واقعات، شواہد، گواہوں اور ثبوتوں سے بھی ثابت ہے ۔لہذا اگر کوئی مسلمان اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے تب اسکی نعش کو زمین کے اوپر رہنے دیا جائے یا زمین کے اندر، دونوں صورت میں نعش تروتازہ رہے گی ۔اگر مرنے والے کی نیت میں فتور ہوگا یا وہ شہید نہ ہوا تب اسکی نعش سڑ گل کر ختم ہونا شروع ہوجائے گی۔

ایک اصول یاد رکھا جائے کہ اگر کسی بیرونی قوت سے نعش پر دباؤ ڈالا جائے تب وہ محفوظ نہیں رہے گی(مثلاً کسی نعش کو آگ میں جلایا جائے، جانور کھاجائے، بم سے پھٹ جائے،پانی میں مچھلی کھاجائے ، چھری سے ٹکڑے کردیا جائے۔ وغیرہ) یہاں تک کہ اگرکسی تروتازہ نعش کو زمین سے نکال کرجلایا جائے ، کاٹا جائے، پھاڑ دیا جائے تو ایسا ہوجائے گا کیونکہ اللہ نے اس قسم کی بیرونی قوتوں سے انبیاء اور شہیدوں کی نعشوں کی حفاظت کا وعدہ نہیں کیانیز یہاں پرایک شبہ بھی ہوتا ہے کہ مرنے والے دین اسلام کیلئے نہ جلے ہوں،دین اسلام کیلئے بم سے نہ پھٹے ہوں ،وغیرہ۔ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے ’کروڑوں سچے مسلمانوں کی لاشوں کے محفوظ رہنے پرقرآن و حدیث سے دلائل اورتصدیق کرنے کے طریقے ‘کا مطالعہ کرلیجئے۔

اعتراض: بھائی اگرایک کروڑ روپے سے ساری دنیا مسلمان ہو جائے اور دین الحق غالب ہوجائے تو یہ سودا برا نہیں ، لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی الکتاب کئی آیات باطل ثابت ہو جائیں گی جن میں سے ایک (11:118) بھی ہے 

جو آیت آپ نے پیش کی ہے اس سے اگلی آیت بھی پڑھئے اور پھر دونوں آیات میں غیر جانبداری اور اخلاص کے ساتھ تفکر کیجئے تاکہ آپ کو اللہ کے فضل اس کی گہرائی سمجھ آجائے۔نیزآپ کا کیا خیال ہے کہ اسلام پھیلانا چھوڑ دیا جائے اورہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھ جائیں؟ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ غزوات کیو ں کئے؟ کیاحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علمائے کرام اور امت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ غیر مسلموں کو صحیح راستہ دکھائیں؟

اللہ کی کوئی آیت باطل نہیں ہورہی کیونکہ دین اسلام کے غالب ہونے اور تمام انسانوں کے مسلمان ہونے میں فرق ہے۔ایسا دعوی نہیں کیا گیا کہ ساری دنیا مسلمان کردی جائے گی۔بے وقوف، بے عقل اور مذہبی ہٹ دھرم لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں۔

البتہ دنیا کے تقریباًپانچ ارب غیرمسلموں پر دین اسلام کی سچائی ثابت کرکے اتنا ضرور ممکن ہے کہ اگرپانچ ارب سے زائد غیر مسلموں کی آدھی تعداد بھی اسلام قبول کرگئی تو اسلام مغلوبیت سے نکل کر دنیا کے ادیان و مذاہب پرغالب ہوجائے گا ۔

ہمیں اللہ نے دین اسلام غالب کرنے کی کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا مگر ہمیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے کیونکہ پھراللہ ہماری مدد کرے گا اور یہ بھی اللہ ہی نے کہا ہے۔(سورہ محمد ، آیت نمبر7)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دین اسلام کو غالب کرنے کیلئے کام جاری رکھا اور تقریباً آدھی دنیا میں غلبہ پہنچا دیا۔ یہ تو مسلمانوں کی نااہلی ہے کہ آج دین اسلام کے غلبہ کو چھوڑ کر اپنے فرقوں کے غلبہ میں لگ گئے ۔

سوال: جب مسلمان ہی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں تو آپ اپنے ناقابل شکست دلائل سے غیر مسلموں کے بجائے مسلمانوں کی اصلاح و اتحاد کیلئے کام کیوں نہیں کرتے؟

پانچ ارب سے زائد انسان غیرمسلم ہیں اور ہزاروں لاکھوں علمائے کرام مسلمانوں پر کام کررہے ہیں جس کا عملی نتیجہ بمشکل چند فیصد ہے اورہمارا ایمان ہے کہ مسلمان خواہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو بشرطیکہ کہ اسکے بنیادی دینی عقائد اسلام کے مطابق ہوں جو اسلام نے سکھائے ہیں اگر اسکا خاتمہ ایمان پر ہو ا تووہ مرنے کے بعدبے شک جہنم میں چلا جائے مگرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے یا اپنی سزا کاٹ کر ایک نہ ایک دن جنت میں چلا جائے گا۔ مگر تمام غیر مسلم جو کہ ایک طرح سے ہمارے بہن بھائی ہیں اور حضرت آدم و حوا علیہم اسلام کی اولاد ہیں وہ ہمیشہ کیلئے جہنم میں چلے جائیں گے۔لہذاوہ بھی ایک طرح سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ کم از کم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہی ہوجائیں تاکہ ہمیشہ کیلئے جہنم میں جانے سے بچ جائیں۔ اسی لئے ہم غیر مسلموں پر کام کررہے ہیں۔





اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں: