Human Helping Center
سچا دین

حضرت محمد ﷺ کا جسم مبارک انتقال کے بعد بھی دو دن زمین کے اوپر تروتازہ رہا

تحریر: مولانا ابرار عالم (May 11, 2019)

کتاب (الرحیق المختوم، ترجمہ و تصنیف مولانا صفی الرحمان مبارکپوری صفحہ نمبر632-633) میں مذکورہ روایات کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے پہلے ہی آپ ﷺکی جانشینی کے معاملے میں اختلاف پڑگیا۔سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان بحث و مناقشہ ہوا،مجادلہ و گفتگو ہوئی،تردید و تنقید ہوئی اور بالآخر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اتفاق ہوگیا۔اس کام میں دوشنبہ کا باقیماندہ دن گزرگیا اور رات آگئی۔

یہاں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس کے مطابق دوشنبہ دن کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور بدھ کی شب آدھی رات کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی۔

 استدلال: محمدﷺ کا جسم مبارک کم از کم دو دن تک زمین پر رکھا گیا۔خلافت کے قیام کے فیصلے کے لیے ۔کیونکہ خلافت ایک اہم چیز ہے۔اس کے بغیر نظام سلطنت و مملکت نہیں چل سکتا۔
لہذا کم از کم دو دن تک تواس مقصد کے لیے شہدائے اسلام کی لاشوں کو زمین پر رکھنے کا جواز مل گیا۔
آج پوری دنیا جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک محلہ نما بن چکی ہے ۔غیر مسلموں کو دو دن کے اندر شہدائے اسلام کی تازہ لاشیں دکھاکر مطمئن کرنا آسان ہوگا ۔
ممکن ہے کہ کفر ختم ہوجائے یا پھر کفر مغلوب تو بہرحال ہو جائے گا۔اس کی وجہ سے جنگیں رک جائیں گی، کروڑوں معصوم انسان قتل ہونے سے بچ جائیں گے اور جو دولت مذاہب کے اختلافات کے سبب جنگوں پر خرچ ہورہی ہے وہ غربت و جہالت کے خاتمے پر خرچ ہونے لگے گی ۔نیز پانچ ارب کافر وں کو مسلمان بناکر جہنم سے بچالینا یہ قیام خلافت کے مسئلہ سے کوئی معمولی کام نہیں ہے۔
لہذا اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شہدائے اسلام کی چند لاشوں کو زمین پر رکھنا جائز ہوگا۔اس سلسلے میں مردے کودفن کرنے سے متعلق یا جلد دفن کرنے سے متعلق تمام احادیث پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف سے عمل نہیں کیا گیا ۔ لہذا ہم بھی اس مقصد کے لیے ان احادیث پر عمل نہیں کریں گے


اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں:

Shah Yaqeeq Baba